حضرت علی (ع) کی شخصیت انتہائی متوازن، حکیمانہ اور متواضع تھی، جس کی بدولت نہ صرف آپ کے پیروکار آپ سے والہانہ محبت کرتے تھے، بلکہ مخالفین بھی آپ کی بلند فضیلتوں کے معترف تھے۔ انہی میں سے ایک سعد بن وقاص تھا، جو اگرچہ باطن میں حضرت علی (ع) سے شدید عداوت رکھتا تھا، مگر معاویہ کے سامنے خیبر کے موقع پر آپ کی نمایاں فضیلتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوا۔ خاص طور پر جب حضرت علی (ع) نے خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک سے علمِ جنگ حاصل کیا، تو یہ منظر دیکھ کر سعد بن وقاص کے دل میں رشک کی ایک لہر دوڑ گئی۔
امام حسن مجتبیٰ (ع) کی شہادت کے بعد معاویہ کو فرصت ملی کہ خود اپنی زندگی میں اپنے بیٹے یزید کی خلافت کےلئے زمین ہموار کرے اور بزرگ صحابیوں اور رسول ﷺ کے دوستوں سے جو مکہ اور مدینہ میں زندگی بسر کرر ہے تھے، یزید کی بیعت لے، تاکہ اس کا بیٹا خلیفة المسلمین اور پیغمبر ﷺ کا جانشین معین ہوجائے۔
اسی مقصد کےلئے معاویہ سرزمین شام سے خدا کے گھر کی زیارت کےلئے روانہ ہوا اور اپنے قیام کے دوران حجاز کے دینی مراکز اور پیغمبر اکرم ﷺ کے دوستوں سے ملاقاتیں کیں اور جب کعبہ کے طواف سے فارغ ہوا تو ’’دار الندوہ‘‘ جس میں جاہلیت کے زمانے میں قریش کے بزرگ افراد جمع ہوتے تھے، میں تھوڑی دیر آرام کیا اور سعد بن وقاص اور دوسری اسلامی شخصیتوں سے ملاقات کی جن کی مرضی کے بغیر اس زمانے میں یزید کی خلافت و جانشینی ممکن نہ تھی۔
وہ اس تخت پر بیٹھا جو دار الندوہ میں اسی کےلئے رکھا گیا تھا اور سعد بن وقاص کو بھی اپنے ساتھ بیٹھایا۔ اس نے جلسہ کے ماحول کو دیکھا اور امیر المومنین (ع) کو برا اور ناسزا کہنے لگا یہ برا کام، اور وہ بھی خدا کے گھر کے پاس، اور وہ بھی اس صحابی پیغمبر ﷺ کے سامنے جس نے حضرت علی (ع) کی جاں نثاریوں اور قربانیوں کو بہت نزدیک سے دیکھا تھا اور جس کے فضائل و کمالات سے مکمل آگاہ تھا ایسی حرکت کرنا آسان کام نہ تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کچھ ہی دنوں پہلے کعبہ کے سامنے کعبے کے اندر اور باہر بہت سے باطل خدا پناہ لئے ہوئے تھے۔
اور حضرت علی (ع) کے ہاتھوں ہی وہ ہمیشہ کےلئے سرنگوں ہوئے تھے اور اس نے پیغمبر ﷺ کے حکم سے پیغمبر ﷺ کے کاندھوں پر قدم رکھا تھا اور ان بتوں کو جس کی خود معاویہ اور اس کے باپ دادا بہت زمانے تک عبادت کیا کرتے تھے اسے عزت کے منارے سے ذلت کے گڑھے میں گرایا اور سب کو تو ڑ ڈالاتھا۔[1]
معاویہ چاہتا تھا کہ توحید اور وحدانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ توحید کے بزرگ جاں نثار، کہ جس کی قربانیوں اور فداکاریوں کے صدقے میں توحید کے درخت نے لوگوں کے دلوں میں و حدانیت کی بنیاد رکھی اور اس کے اثرات مرتب ہوگئے، ایسی شخصیت پر تنقید کرے اور اسے برا اور ناسزا ک ہے۔
سعد بن وقاص باطنی طور پر حضرت علی (ع) کے دشمنوں میں سے تھا اور آپ کے معنوی مقامات اور ظاہری افتخارات سے حسد کرتا تھا۔ جس دن عثمان مصریوں کے ہجوم کی وجہ سے قتل ہوئے سب لوگوں نے تہہ دل سے امیرالمومنین (ع) کو خلافت اور زعامت کےلئے انتخاب کیا۔ سوائے چند افراد کے جنھوں نے آپ (ع) کی بیعت کرنے سے انکار کردیا تھا کہ سعد بن وقاص بھی انہیں میں سے ایک تھا۔ جب عمار نے اسے حضرت علی (ع) کی بیعت کےلئے دعوت دی تو اس نے بہت خراب جواب دیا۔ عمار نے اس واقعے کو امام (ع) کی خدمت میں عرض کیا۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا: حسد نے اس کو میری بیعت اور میرا ساتھ دینے سے روک دیا ہے۔
سعد، حضرت علی (ع) کا اتنا سخت مخالف تھا کہ ایک دن خلیفہ دوم نے شورائے خلافت تشکیل دینے کا حکم دیا اور شوری کے چھ آدمیوں کا خود انتخاب کیا اور سعد بن وقاص اور عبد الرحمن بن عوف، سعد کا چچازاد بھائی اور عثمان کا بہنوئی، کو شوری کے عہدہ داروں میں قرار دیا۔ شوری کے علاوہ دوسرے افراد نے بڑی باریک بینی سے کہا کہ عمر، شوری تشکیل دیکر کہ جس میں سعد و عبد الرحمن جیسے افراد بھی شامل ہیں، چاہتا ہے کہ تیسری مرتبہ خلافت کو حضرت علی (ع) کے ہاتھوں سے چھین لے اور آخر میں نتیجہ بھی یہی ہوا کہ جس کی پیشنگوئی ہوئی تھی۔
سعد بن وقاص کی تین فضیلتوں کی حسرت
سعد نے، حضرت علی (ع) سے عداوت و دشمنی رکھنے کے باوجود جب دیکھا کہ معاویہ، علی (ع) کو برے اور نازیبا الفاظ سے یاد کررہا ہے تو تلملا اٹھا اور معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مجھے اپنے تخت پر بٹھا کر میرے سامنے علی کو برا کہتا ہے؟ خدا کی قسم اگر ان تین فضیلتوں میں سے جو علی کے پاس تھیں ایک بھی فضیلت میرے پاس ہوتی تو اس سے بہتر ہوتی کہ وہ ساری چیزیں جن پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں میری ملکیت میں ہوتیں۔
پہلی فضیلت
جس دن پیغمبر ﷺ نے مدینے میں اسے اپنا جانشین بنایا اور خود جنگ تبوک پر چلے گئے اور علی (ع) سے اس طرح فرمایا: تمہاری نسبت مجھ سے ایسی ہی ہے جیسے ہارون کو موسی (ع) سے تھی سوائے اس کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
دوسری فضیلت
جس دن نصارائے نجران کے ساتھ مباہلہ تھا تو پیغمبر ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن و حسین کا ہاتھ پکڑا اور کہا: پروردگارا یہی میرے اہلبیت ہیں۔
تیسری فضیلت
جس دن مسلمانوں نے یہودیوں کے اہم ترین قلعہ خیبر کے بعض حصوں کو فتح کیا تھا لیکن قلعہ ’’قموص’‘ جو سب سے بڑا قلعہ اور یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا آٹھ دن تک اسلامی فوج کے محاصرے میں تھا اور اسلام کے مجاہدین میں اسے فتح کرنے اور کھولنے کی صلاحیت نہ تھی، اور رسول ﷺ اسلام کے سر میں اتنا شدید درد تھا کہ وہ بہ نفس نفیس جنگ میں حاضر نہیں ہوسکتے تھے تاکہ فوج کی سپہ سالاری اپنے ہاتھوں میں لیتے، روزانہ آپ عَلَم کو لیتے اور فوج کے بزرگوں کو دیتے تھے اور وہ سب کے سب بغیر نتیجہ کے واپس آجاتے تھے۔
ایک دن عَلَم کو ابوبکر کے ہاتھ میں دیا پھر دوسرے دن عمر کو دیا لیکن دونوں کسی شجاعت کا مظاہرہ کئے بغیر پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں واپس آگئے۔ اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، اس طرح کی ناکامی پیغمبر اکرم ﷺ کےلئے بہت سخت تھی، لہٰذا آپ نے فرمایا: کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو ہرگز جنگ کرنے سے فرار نہیں کرے گا اور دشمن کو اپنی پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اس کو خدا اور پیغمبر اکرم ﷺ دوست رکھتے ہوں گے اور خداوند عالم اس قلعہ کو اس کے ہاتھوں سے فتح کرائے گا۔
جب پیغمبر ﷺ کی بات کو حضرت علی (ع) سے نقل کیا گیا تو آپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا ’’اللّهمّ لا معطي لما منعت ولا مانع لما أعطيت‘‘ یعنی پروردگارا، جو کچھ عطا کرے گا اسے کوئی لینے والا نہیں ہے اور جو کچھ تو نہیں دے گا اس کا دینے والا کوئی نہ ہوگا۔
(سعد کا بیان ہے ) جب سورج نکلا تو اصحاب پیغمبر ﷺ آپ کے خیمے کے اطراف میں جمع ہوگئے تاکہ دیکھیں کہ یہ افتخار رسول ﷺ کے کس صحابی کو نصیب ہوتا ہے جب پیغمبر ﷺ خیمے سے باہر آئے سب سر اٹھا اٹھا کر ان کی طرف دیکھنے لگے میں (سعد) پیغمبر ﷺ کے بغل میں کھڑا تھا کہ شاید اس افتخار کا مصداق میں بن جاؤں، اور شیخین سب سے زیادہ خواہشمند تھے کہ یہ افتخار ان کو نصیب ہوجائے۔ اسی اثناء میں پیغمبر ﷺ نے پوچھا علی کہاں ہیں؟ لوگوں نے حضرت سے کہا: وہ آشوب چشم کی وجہ سے آرام کر رہے ہیں۔
پیغمبر ﷺ کے حکم سے سلمہ بن اکوع حضرت علی (ع) کے خیمے میں گئے اور ان کے ہاتھ کو پکڑ کر پیغمبر ﷺ کی خدمت میں لائے۔ پیغمبر ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی اور آپ کی دعا ان کے حق میں مستجاب ہوئی اس وقت پیغمبر ﷺ نے اپنی زرہ حضرت علی (ع) کو پہنایا۔
ذوالفقار ان کی کمر میں باندھا اور علم ان کے ہاتھوں میں دیا اور فرمایا کہ جنگ کرنے سے پہلے اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا، اور اگر یہ قبول نہ کریں تو ان تک یہ پیغام دینا کہ اگر وہ چاہیں تو اسلام کے پرچم تلے جزیہ دیں اور اسلحہ اتار کر آزادانہ زندگی بسر کریں۔ اور اپنے مذہب پر باقی رہیں۔
اور اگر کسی چیز کو قبول نہ کریں تو پھر ان سے جنگ کرنا، اور جان لو کہ جب بھی خداوند عالم تمہارے ذریعے کسی کی راہنمائی کرے اس سے بہتر یہ ہے کہ سرخ بالوں والے اونٹ تمہارا مال ہوں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ کردو۔[2] سعد بن وقاص نے ان واقعات کو جن کو میں نے تفصیل سے بیان کیا ہے مختصر طور پر بیان کیا اور احتجاج کے طور پر معاویہ کی مجلس ترک کری۔
خیبر میں اسلام کی تابناک کامیابی
اس مرتبہ بھی مسلمانوں نے حضرت امیر المومنین (ع) کی جاں نثاریوں کے طفیل عظیم الشان کامیابی و فتح حاصل کرلی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی (ع) کو ’’فاتح خیبر‘‘ کہتے ہیں۔ جب حضرت علی (ع) ایک گروہ کے ساتھ جو آپ کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا قلعہ کے پاس پہونچے تو آپ نے علم کو زمین (پتھر) میں نصب کردیا۔
اس وقت قلعہ میں موجود تمام سپاہی باہر چلے گئے۔ مرحب کا بھائی حارث نعرہ لگاتا ہوا حضرت علی (ع) کی طرف دوڑا اس کا نعرہ اتنا شدید تھا کہ جو سپاہی حضرت علی (ع) کے ہمراہ تھے وہ پیچھے ہٹ گئے اور حارث نے بھوکے شیر کی طرح حضرت علی (ع) پر حملہ کیا لیکن کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ اس کا بے جان جسم زمین پر گر پڑا۔
بھائی کی موت نے مرحب کو بہت زیادہ متاثر کیا، وہ اپنے بھائی کا بدلہ لینے کےلئے حضرت علی (ع) کے سامنے میدان میں آیا، وہ اسلحوں سے لیس تھا۔ لو ہے کی بہترین زرہ اور پتھر کا خول اپنے سر پر رکھے تھا اور ایک اور خول اس کے اوپر سے پہن رکھا تھا، دونوں طرف سے رجز پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
اسلام و یہودی کے دو بہادروں کی تلوار اور نیزے کی آواز نے دیکھنے والوں کے دلوں میں عجیب و حشت ڈال رکھی تھی اچانک اسلام کے جانباز کی برق شرر بار تلوار مرحب کے سر سے داخل ہوئی اور اس کو دو ٹکڑے کرتے ہوئے زمین پر گرا دیا۔ یہودی بہادر کا جو مرحب کے پیچھے کھڑے تھا وہ بھاگ گیا اور وہ گروہ جو حضرت علی (ع) سے مقابلہ کرنا چاہتا تھا ان لوگوں نے فرداً فرداً جنگ کیا اور سب کے سب ذلت کے ساتھ قتل ہوگئے۔
اب وہ وقت آن پہونچا کہ حضرت علی (ع) قلعہ میں داخل ہوں مگر بند دروازہ حضرت علی (ع) اور سپاہیوں کےلئے مانع ہوا۔ غیبی طاقت سے آپ نے باب خیبر کو اپنی جگہ سے اکھاڑا اور سپاہیوں کے داخل ہونے کےلئے راستہ ہموار کردیا اور اس طرح سے فساد و بربریت کے آخری گھر کو اجاڑ دیا اور مسلمانوں کو اس شر یر اور خطرناک عناصر جو ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے دل میں رکھتے یا رکھے ہیں آسودہ کردیا۔
محدثین اور سیرت لکھنے والوں نے فتح خیبر کی خصوصیات اور حضرت علی کے قلعہ میں داخل ہونے اور اس و اقعہ کے دوسرے حادثات کو بہت تفصیل سے لکھا ہے دلچسپی اور تفصیلات کے خواہشمند افراد ان کتابوں کی طرف مراجعہ کریں جو سیرت پیغمبر ﷺ پر لکھی گئی ہیں۔
خاتمہ
امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کے بعد، معاویہ نے یزید کو جانشین بنانے کے لیے سعد بن وقاص کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ لیکن جب معاویہ نے حضرت علی (ع) کی برائی کی، تو سعد نے خیبر میں آپ کی فضیلت یاد دلا کر معاویہ کو خاموش کر دیا۔ خیبر کے معرکے میں حضرت علی (ع) نے مرحب کو ایک ضرب سے ہلاک کر کے اپنی بے مثال شجاعت ثابت کی۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ حضرت علی (ع) کی عظمت دوست و دشمن سب کے لیے مسلم تھی۔
منابع
[1]۔ حاکم نیشابوری، مستدرک حاکم، ج۲، ص۳۶۷؛ دیاربکری، تاریخ الخمیس، ج۲، ص۹۵۔
[2] ۔ بخاری، صحیح بخاری ج۵، ص ۲۲-۲۳؛ مسلم، صحیح مسلم ج۷، ص۱۲۰؛ دیاربکری، تاریخ الخمیس، ج۲، ص۹۵؛شوشتری، قاموس الرجال، ج۴، ص۳۲۴، منقول از مروج الذہب۔
کتابیات
1۔ بخاری، محمد بن اسماعیل، صحيح البخاري، بیروت، دار ابن کثير ۱۴۲۳ھ ق۔
2۔ حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دار الكتب العلمية،1411ھ ق۔
3۔ دیاربکری، حسین بن محمد، تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس، بیروت، دار صادر، بدون تاریخ۔
4۔ شوشتری، محمدتقی، قاموس الرجال، تهران، مرکز نشر الکتاب، ۱۳۷۹ق۔
5۔ مسلم بن حجاج، صحيح مسلم، بیروت، مؤسسة عزالدين، ۱۴۰۷ھ ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، ساتویں فصل، ص ۱۰۰ تا ۱۰۴، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔