عباسیوں کے زمانے میں شیعوں اور علویوں کا قیام

شیعوں اور علویوں کا قیام اور عباسی دور حکومت

کپی کردن لینک

عباسی خلافت کے دوران، شیعہ اور علویوں کو شدید ظلم و ستم کا سامنا رہا۔ حکمرانوں کی ظالمانہ سیاست اور سیاسی دباؤ کے باعث، اہل بیت (ع) کے پیروکاروں نے مختلف ادوار میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے قیام کیے، جن میں علویوں کا قیام بھی شامل ہے۔ علویوں کا قیام عموماً دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتے ہیں:

1: منظم اور منصوبہ بند قیام، جیسے زیدیوں کا قیام۔

2: غیر منظم اور فردی قیام، جو کہ ظلم کے فوری ردعمل میں بغیر منصوبہ بندی کے وجود میں آئے۔

علویوں کے ان قیاموں نے عباسی خلافت کے جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت کی فضا قائم کی، لیکن زیادہ تر ناکامی سے دوچار ہوئے۔

اس قسم کے قیام بغیر کسی پروگرام اور پلاننگ کے ایک فرد کے عزم و ارادے سے وجود میں آئے ہیں اور اکثر خلفاء و حکام کی طرف سے شیعوں اور علویوں پر ہونے والے ظلم و جور کے مقابلے میں رد عمل کے طور پر وجود میں آئے۔

علویوں کے اہم ترین قیام

تاریخ میں رونما ہونے والے علویوں کے چند قیام درج ذیل ہیں:

شہید فخ کا قیام

علویوں کے قیام کرنے والوں میں سے ایک حسین بن علی حسنی تھے۔ آپ شہید فخ کے نام سے مشہور تھے جنہوں نے ہادی عباسی کے دور حکومت میں قیام کیا ان کا خروج، خلیفہ وقت کی طرف سے علویوں اور شیعوں پر بے حد ظلم و ستم کے مقابلے میں تھا، یعقوبی کا بیان ہے: خلیفہ عباسی موسیٰ ہادی نے طالبیوں کو تلاش کیا، ان کو شدت سے ڈرایا اور ان کے حقوق کو قطع کر دیا اور مختلف علاقوں میں یہ لکھ بھیجا کہ علویوں پر سختی کی جائے۔[1]

ہادی عباسی نے مدینہ میں عمر کے پوتے کو حاکم بنایا تھا جو کہ علویوں پر بے حد سختی کرتا تھا، اور ہر روز علویوں کی تلاشی لیتا تھا، اس ظلم کے مقابلے میں حسین بن علی حسنی نے قیام کیا اور حکم دیا کہ مدینہ کی اذان میں ”حی علیٰ خیر العمل” کہا جائے اور کتاب خدا اور سنت پیغمبر (ص) کی بنیاد پر لوگوں سے بیعت لی اور لوگوں کو ”الرضا من آل محمد (ص)” یعنی اولاد رسول (ص) سے ایک معین شخص کی رہبری کی طرف دعوت دی، ان کی روش امام کاظم (ع) کی مرضی کے مطابق تھی، ان سے امام (ع) نے فرمایا تھا: تم قتل کر دئے جاؤ گے۔[2]

اس وجہ سے زیدی ان سے دور ہوگئے اور وہ پانچ سو سے کم افراد کے ساتھ عباسی سپاہیوں کے مقابلے میں کہ جن کا سردار سلیمان بن ابی جعفر تھا کھڑے ہوگئے آخر کار مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کہ جس کا نام فخ ہے وہاں اپنے دوست اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوگئے۔[3]

امام رضا (ع) نے فرمایا: کربلا کے بعد فخ سے زیادہ عظیم اور بڑی مصیبت کوئی نہیں تھی،[4] بطور کلی علوی رہنماؤں کے قیام میں محمد بن عبداللہ نفس زکیہ کے علاوہ عمومیت کے ساتھ مقبولیت کے حامل نہیں تھے، شیعیان اور اصحاب ائمہ اطہار میں سے چند تن کے علاوہ ان تحریکوں میں زیادہ شریک نہیں تھے۔

محمد بن قاسم کا قیام

محمد بن قاسم کا خروج ٢١٩ھ میں واقع ہوا وہ امام سجاد (ع) کے پوتوں میں سے تھے اور کوفہ میں ساکن تھے یہ علوی سادات میں عابد و زاہد و پرہیزگار شمار ہوتے تھے، معتصم کی جانب سے فشار بڑھا تو مجبور ہوئے کہ کوفہ چھوڑ کر خراسان کی طرف چلے جائیں یہی فشار قیام کا باعث بنا، جیسا کہ مسعودی کا بیان ہے اس سال یعنی ٢١٩ھ میں معتصم نے محمد بن قاسم کو ڈرایا وہ بہت زیادہ زاہد اور پرہیزگار تھے جس وقت معتصم کی جانب سے جان کا خطرہ ہوا تو آپ نے خراسان کی طرف کوچ کیا اور خراسان کے مختلف شہروں جیسے مرو، سرخس، طالقان اور نسا میں گھومتے رہے۔[5]

ابوالفرج کی نقل کے مطابق ٤٠ ہزار کے قریب افراد ان کے اطراف میں جمع ہوگئے تھے ایسے حالات میں بھی ان کا قیام کسی نتیجہ کو نہیں پہنچا اور یہ جمعیت ان کے اطراف سے منتشر ہوگئی آخر میں طاہریوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے اور اس کے بعد سامرہ کی جانب روانہ ہوئے اور وہیں پر ان کو زندان میں ڈال دیا گیا۔[6]

البتہ شیعوں اور اپنے چاہنے والوں کی وجہ سے آزاد ہوگئے لیکن اس کے بعد کوئی خبر ان کے بارے میں نہیں ملتی اور گمنام طریقہ سے دنیا سے چلے گئے۔[7]

یحییٰ بن عمر طالبی کا قیام

یحییٰ بن عمر جعفر طیار کے پوتوں میں سے تھے آپ نے کوفہ کے لوگوں میں اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے بلند مقام حاصل کرلیا تھا، متوکل عباسی اور ترکی فوجیوں کی طرف سے جو ذلت آمیز مظالم آپ پر ہوئے اس کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ کوفہ میں ان کے خلاف قیام کریں، جب تک امور کی زمام آپ کے ہاتھ میں تھی آپ نے عدل و انصاف سے کام لیا یہی وجہ ہے کہ کوفہ کے لوگوں میں آپ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوگئی لیکن آپ کا قیام محمد بن عبد اللہ بن طاہر کے ہاتھوں شکست کھا گیا اور لوگوں نے آپ کی مجلس عزا میں بہت زیادہ رنج و غم کا مظاہرہ کیا۔[8]

جیسا کہ مسعودی کا کہنا ہے: دور اور نزدیک کے لوگوں نے ان کے لئے مرثیہ کہا چھوٹے بڑوں نے ان پر گریہ کیا۔[9]

ابو الفرج اصفہانی کے مطابق وہ علوی جو دوران عباسی شہید ہوئے تھے ان میں کسی ایک کے لئے بھی اتنے مرثیہ نہیں کہے گئے۔[10]

علویوں کا قیام اور انقلاب کے شکست کے اسباب

علویوں کا قیام اور اس کے شکست کے اسباب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلا سبب

ایک تو علوی قیادت اور رہبری کا سُست ہونا اور دوسرا فوج کا ہم آہنگ نہ ہونا۔ غالباً اس طرح کے انقلاب کے اکثر رہنما اور قائد صحیح طریقہ سے پلاننگ نہیں کرتے تھے اور علویوں کا قیام، صحیح طرح سے اسلامی اصول و طریقوں پر استوار نہیں تھے اسی وجہ سے ان میں سے بہت سے انقلاب ایسے تھے کہ جسے امام معصوم کی طرف سے حمایت اور تائید حاصل نہیں تھی، دوسرے بعض قیام کی ناکامی، اگرچہ ان کے رہنما قابل اطمینان اور مؤثق افراد تھے، لیکن ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ان کی پلاننگ ایسی تھی کہ جن کی شکست پہلے سے قابل ملاحظہ تھی ایسی صورت میں اگر امام واضح طور پر ان کی تائید کر دیتے تو قیام کی شکست کے بعد تشیع کی بنیاد اور امامت خطرہ میں پڑ جاتی۔

دوسرا سبب

دوسری طرف یہ قیام آپس میں ہم آہنگ نہیں تھے اگرچہ ان کے درمیان حقیقی اور مخلص شیعہ موجود تھے جو آخری دم تک اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرتے رہے، ان میں سے اکثر لوگوں کا ہدف ایمانی نہیں تھا یا تو ان کا علوی رہبروں کے ساتھ توافق نہ ہوسکا یا زیادہ تر لوگوں نے میدان جنگ میں اپنے کمانڈروں کا ساتھ چھوڑ دیا۔

علامہ جعفر مرتضیٰ اس بارے میں لکھتے ہیں:

علوی قیام کی شکست کی علت اس کے علاوہ کچھ نہیں تھی کہ زیدیوں کے قیام سب سے پہلے، سیاسی محرکات رکھتے تھے۔ ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ خاندان پیغمبر (ص) میں سے جس نے بھی حکومت کے مقابلے میں تلوار کھینچی اس کو دعوت دیتے تھے، ان کے اندر ایمانی فکر اور اعتمادی وجدان نہیں تھا بغیر سوچے سمجھے اٹھ جاتے تھے، اپنے مردہ احساسات اور خشک و فرسودہ ثقافت پر اس قدر بھروسہ کرتے تھے کہ احساسات اور وجدان میں ہم آہنگی باقی نہیں رہ گئی تھی کہ ایک مضبوط و محکم سر چشمہ سے اپنی رسالت و پیغام کو اخذ کرسکیں انہیں وجوہ کی بنا پر ان کی کشتی شکشت کے گرداب میں پھنس جاتی اور جانیں مفت میں تلف ہو جاتی تھیں۔

بلکہ خود اندرونی طور پر انقلاب سے روکنے کا جذبہ ان میں ابھرتا تھا، ایسی طاقتوں پر اتنا ہی اعتماد تھا جتنا پیاسے کو سراب پر ہوتا ہے، یہ وہ نکتہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ لوگ حادثات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے اور جب پانی سر سے گذر جاتا تھا اور پھل تیار ہو جاتے تھے تو وہ عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے۔[11]

خاتمہ

عباسی دور میں شیعوں اور علویوں کا قیام، بیشتر ظلم کے رد عمل میں بغیر منصوبہ بندی اور مضبوط قیادت کے انجام پائے، جس کے باعث علویوں کا قیام ناکام ہوا۔ آئمہ معصومین (ع) نے علویوں اور ان کے قیاموں کی تائید اس لئے نہیں کی کہ ان کی شکست سے تشیع کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اگرچہ زیدی تحریک کو ایک حد تک استثناء حاصل تھا، مگر وہ بھی فکری گہرائی سے محروم تھی اور جلد زوال کا شکار ہو گئی۔

حوالہ جات

[1] احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٠٤۔

[2] ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٣٧٢۔

[3] ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٣٨٠،٣٨١۔

[4] کیاء گیلانی، سراج الانساب، ص٦٦۔

[5] مسعودی، مروج الذہب، ج٤، ص٦٠۔

[6] ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٤٦٤۔ ٦٤٧۔

[7] مسعودی، مروج الذہب، ج٤، ص١٦٠۔

[8] مسعودی، مروج الذہب، ج٤، ص١٦٠۔

[9] مسعودی، مروج الذہب، ج٤، ص١٦٠۔

[10] ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٥١١۔

[11] حسینی، ترجمہ زندگی سیاسی امام جواد علیہ السلام، ص١٩۔

فہرست منابع

۱- ابو الفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبین، قم، منشورات الشریف الرضی، ١٤١٦ھ۔

۲- احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، قم، منشورات شریف الرضی، ١٤١٧ھ۔

۳- حسینی، سید محمد، ترجمہ: کتاب زندگی سیاسی امام جواد علیہ السلام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع ہشتم، ١٣٧٥ھ۔

۴- کیاء گیلانی، سید احمد بن محمد، سراج الانساب، قم، منشورات مکتبة آیة اللہ العظمیٰ المرعشی النجفی، ١٤٠٩ھ۔

۵- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، طبع اول، ١٤١١ھ۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

محرمی غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ: سید نسیم رضا آصف، چوتھی فصل، ص183-179، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، طبع اول: ١٤٢٩ھ۔

 

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔