صحیفہ سجادیہ، حضرت امام علی ابن الحسین زین العابدین (ع) کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی دعاؤں اور مناجاتوں کا ایک بے مثال مجموعہ ہے جو آپ کی عظیم المرتبت روح اور ذاتِ الٰہی سے گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ محض دعائیہ کلمات کا مجموعہ نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات، اخلاقیات، عرفان اور خدا شناسی کا ایک گہرا سمندر ہے۔ ان دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تقدیس، حمد و شکر، اس کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری، گناہوں کا اعتراف، بندگی میں کوتاہی کا احساس، خدا کے دائمی لطف و کرم کی امید اور اس کے بے پایاں حسن و جمال سے عشق کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ یہ صحیفہ خداوندمتعال سے خیر و سعادت، توفیق و ہدایت طلب کرنے، برائی و بدبختی اور غضب و عذاب سے نجات پانے، اور نفسِ امّارہ و مکار شیطان کے شر سے خدا کی پناہ مانگنے کا بہترین وسیلہ ہے۔
صحیفہ سجادیہ کی قدر و منزلت
صحیفہ سجادیہ اپنے اعتقادی، اخلاقی، فلسفیانہ، نصیحت آموز اور اجتماعی مضامین کے ساتھ ساتھ اپنے بے نظیر ادبی و بلاغی اسلوب کی وجہ سے دیگر دینی کتب میں ایک ممتاز اور بلند مقام رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات علماء، عرفاء، حکماء، ادباء اور اہل نظر حضرات کے لیے ہمیشہ مرکزِ توجہ رہی ہیں۔
اسے کئی قدر افزا ناموں سے یاد کیا جاتا ہے:
اخت القرآن (قرآن کی بہن): یہ نام اس کے بلند پایہ مضامین اور قرآن حکیم سے گہری مطابقت کی بناء پر دیا گیا ہے۔
زبور آلِ محمد (ص): جس طرح حضرت داؤد (ع) کی کتاب "زبور” مناجات اور دعاؤں پر مشتمل ہے، اسی طرح صحیفہ سجادیہ بھی آلِ محمد (ص) کی مناجات کا خزینہ ہونے کی وجہ سے اس نام سے موسوم ہے۔
انجیل اہل بیت (ع): جس طرح حضرت عیسیٰ (ع) کی کتاب "انجیل” مواعظ اور نصیحتوں پر مشتمل ہے، صحیفہ سجادیہ میں بھی مؤثر ترین مواعظ و نصائح موجود ہیں، جس کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا۔
صحیفہ کاملہ: یہ نام اس لیے بھی معروف ہے کیونکہ زیدیوں کے پاس اس کا ایک مختصر نسخہ موجود ہے، جبکہ شیعہ امامیہ کے پاس دستیاب نسخہ زیادہ جامع اور کامل ہے۔[1]
علماء اور محدثین کی نظر میں صحیفہ
صدیوں سے صحیفہ سجادیہ علماء و عرفاء کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
شیخ مفید اپنی کتاب "الارشاد” میں امام سجاد (ع) کے فضائل و مناقب میں فرماتے ہیں کہ اہل سنت کے فقہاء نے امام (ع) سے بے شمار علوم نقل کیے ہیں، جن میں مواعظ، دعائیں، فضائل قرآن، حلال و حرام کے مسائل اور تاریخی واقعات شامل ہیں، جو علماء کے درمیان مشہور ہیں۔[2]
نجاشی نے اپنی کتاب "رجال” میں متوکل بن عمیر کے حالات میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے یحییٰ بن زید سے صحیفہ کی دعا روایت کی۔[3]
شیخ طوسی نے اپنی دعاؤں کی کتاب "المصباح المتہجد” میں مختلف مناسبتوں سے صحیفہ سجادیہ کی دعائیں نقل کی ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ دیگر ائمہ (ع) کی دعائیں ان کے نام کے ساتھ نقل کرتے ہیں، لیکن امام سجاد (ع) کی دعاؤں کا ذکر صرف دعا کے عنوان سے کرتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دعائیں علماء کے نزدیک کس قدر مشہور و معتبر تھیں۔
صحیفہ کی روایت اور اسناد
صحیفہ سجادیہ کے پہلے راوی متوکل ابن ہارون ہیں۔ ان کی ملاقات حضرت یحییٰ ابن زید ابن علی (ع) سے ان کے والد کی شہادت کے بعد ہوئی جب وہ خراسان روانہ ہو رہے تھے۔ ایک طویل گفتگو کے دوران، جس میں حضرت امام جعفر صادق (ع) کا بھی ذکر آیا، حضرت یحییٰ نے متوکل کو صحیفہ سجادیہ عطا کیا جو انہیں اپنے والد حضرت زید شہید سے اور حضرت زید کو اپنے والد امام زین العابدین (ع) سے ملا تھا۔ حضرت یحییٰ نے اس صحیفے کو نا اہل افراد سے محفوظ رکھنے کی تاکید فرمائی، خصوصاً اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ علم بنی امیہ کے ہاتھ نہ لگے۔[4]
بعد ازاں، متوکل ابن ہارون مدینہ میں حضرت امام جعفر صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں وہ صحیفہ پیش کیا۔ امام صادق (ع) نے اس کی تصدیق فرمائی کہ یہ واقعی ان کے دادا امام علی ابن الحسین (ع) کی دعائیں اور ان کے چچا زید کی تحریر ہے۔ امام صادق (ع) نے اپنے بیٹے اسماعیل کو بھی ایک صحیفہ لانے کا حکم دیا جو بالکل یحییٰ کے صحیفے جیسا تھا۔ متوکل نے دونوں نسخوں کا موازنہ کیا تو ان میں ایک حرف کا بھی فرق نہ پایا، جو اس کی کامل حفاظت اور اعتبار کی دلیل ہے۔[5]
صحیفہ کی دعاؤں کی تعداد اور ملحقات
موجودہ نسخوں میں صحیفہ سجادیہ عموماً 54 دعاؤں پر مشتمل ہے، حالانکہ صحیفہ سجادیہ کے مقدمے میں 75 دعاؤں کا ذکر ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صحیفہ سجادیہ گیارہ دعائیں خود راوی سے گم ہوئیں اور بقیہ دیگر راویوں سے۔ تاہم، "مطہری” سے منقول دیگر اسناد میں 75 میں سے گیارہ ابواب کے گم ہونے کا تذکرہ نہیں بلکہ 55 ابواب کو تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
ان 54 دعاؤں کے علاوہ، صحیفہ سجادیہ کے شائع شدہ اور قلمی نسخوں کے آخر میں ایک فصل "صحیفہ کے ملحقات” کے نام سے موجود ہے، جس میں امام (ع) سے منقول دیگر دعائیں اور مناجات شامل ہیں: تسبیح، تحمید، آلِ محمد (ص) کا ذکر، حضرت آدم (ع) پر درود و سلام، الکرب و الاقالۃ (غم اور معافی کی دعا)، ممّا یحذر و یخاف (جن چیزوں سے ڈرا اور خوف کیا جائے)، التذلّل (عاجزی کی دعا)، ادعیۃ الاسبوع (ہفتے کے دنوں کی دعائیں، جو شیخ عباس قمی نے "مفاتیح الجنان” کے شروع میں نقل کی ہیں)، مناجات خمسۃ عشر (پندرہ مناجات): یہ پندرہ گانہ مناجاتیں عرفان و سلوک کے مسافروں کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہیں، جنہیں شیخ حر عاملی نے "صحیفہ ثانیہ” میں بھی ذکر کیا ہے۔ ان میں مناجاۃ التائبین، الشاکین، الخائفین، الراجین، الراغبین، الشاکرین، المطیعین، المریدین، المحبین، المتوسلین، المفتقرین، العارفین، الذاکرین، المعتصمین، اور الزاھدین شامل ہیں۔[6]
صحیفہ سجادیہ کی دعاؤں کے بنیادی عناوین
صحیفہ سجادیہ کی 54 دعاؤں کو مختلف موضوعات اور ضروریات کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے، جو انسانی زندگی کے تقریباً تمام روحانی، اخلاقی، اجتماعی اور انفرادی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ چند اہم عناوین یہ ہیں:
- حمد اور شکرِ الٰہی: (مثلاً دعا نمبر 1، 37)،
- صلوات و سلام: محمد و آلِ محمد (ص) پر، حاملینِ عرش اور مقرب فرشتوں پر، اور انبیاء کے پیروکاروں پر۔ (مثلاً دعا نمبر 2، 3، 4)،
- دنیوی ضروریات اور حالات کے بارے میں دعائیں: اہم امور، مصائب، بیماری، رزق کی تنگی، قرض کی ادائیگی اور غموں سے نجات کے لیے۔ (مثلاً دعا نمبر 7، 13، 15، 18، 21، 22، 23، 29، 30، 54)،
- معنوی حاجات، روحانی و اخلاقی اصلاح: اپنے اور اپنے خاص لوگوں کے لیے، ناپسندیدہ حالات و اخلاق سے پناہ، طلبِ مغفرت، خدا کی بارگاہ میں التجا، انجام بخیر ہونے، اعترافِ قصور و طلبِ توبہ، مکارمِ اخلاق، استخارہ، گناہوں کی رسوائی سے بچنے، تقدیرِ الٰہی پر رضا، بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی معذرت، طلبِ عفو و رحمت، موت کی یاد، پردہ پوشی، خوفِ خدا، اور بارگاہِ الٰہی میں اصرار کے ساتھ دعا۔ (مثلاً دعا نمبر 5، 8، 9، 10، 11، 12، 16، 20، 28، 31، 33، 34، 35، 38، 39، 40، 50، 51، 52)۔
- نمازِ شب اور قرآن سے متعلق دعائیں: نمازِ شب کے بعد اعترافِ گناہ اور ختمِ قرآن کے موقع پر۔ (مثلاً دعا نمبر 32، 42)،
- دوسروں کے لیے دعائیں: والدین، اولاد، ہمسایوں، دوستوں اور سرحدوں کے محافظین کے حق میں۔ (مثلاً دعا نمبر 24، 25، 26، 27)،
- مخصوص اوقات کی دعائیں: صبح و شام، ماہِ رمضان کے آغاز و وداع، عید الفطر، روزِ جمعہ، یومِ عرفہ، اور عید الاضحیٰ کے لیے۔ (مثلاً دعا نمبر 6، 44، 45، 46، 47، 48)،
- طبیعی حوادث اور آسمانی نشانیوں کے وقت دعائیں: قحط کے بعد بارش، بادل، بجلی، گرج چمک اور چاند دیکھنے کے وقت۔ (مثلاً دعا نمبر 19، 43)،
- دشمنوں کی سازشوں اور شیطان کی مکاریوں سے بچنے کی دعائیں: ظلم و زیادتی سے بچاؤ، دشمنوں کے مکر و حملوں کا توڑ، اور شیطان کی دشمنی و مکر سے پناہ۔ (مثلاً دعا نمبر 14، 17، 49)۔
نتیجہ
صحیفہ سجادیہ نہ صرف عبد اور معبود کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرنے والا ایک جامع دستور العمل بھی ہے۔ اس کے مضامین کی گہرائی اور روحانی اثر انگیزی ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
حوالہ جات
[1] آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ، ج15، ص18-19۔
[2] الارشاد، ص260 ۔261۔
[3] رجال نجاشی، شمارہ 1144۔
[4] طباطبایی، تاریخ حدیث شیعہ، ج1، ص134۔
[5] الکامل فی التاریخ ، ابن اثیر ، ج5 ،ص127۔
[6] ترابی، امام سجاد (ع) جمال نیایشگران، ص286-287۔
فہرست منابع
1۔ آقابزرگ تهرانی، الذریعۃ إلى تصانیف الشیعۃ، ج۱۵، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۰۳ق، ص ۱۸–۱۹.
2۔ ابن اثیر، عزالدین، الکامل فی التاریخ، ج۵، بیروت، دارصادر، ۱۳۹۵ق، ص ۱۲۷.
3۔ الارشاد، شیخ مفید، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۲۶۰–۲۶۱.
3۔ ترابی، محمدرضا، امام سجاد(ع) جمال نیایشگران، قم، انتشارات معارف، ۱۳۹۰ش، ص ۲۸۶–۲۸۷.
4۔ حیدر، اسد، الامام الصادق(ع) و المذاهب الاربعۃ، ج۱، قم، دارالتعارف، ۱۴۰۴ق، ص۱۲۹.
5۔ رجال نجاشی، احمد بن علی، شمارہ ۱۱۴۴، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۶ق.
6۔ طباطبایی، سید مرتضی، تاریخ حدیث شیعہ، ج۱، قم، دارالحکمۃ، ۱۳۸۵ش، ص۱۳۴.
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
علی بن حسین (ع)، امام چهارم، مجدفقیهی، محمدعلی. ۱۳۸۵. آشنایی با صحیفه سجادیه. ج۱. قم – ایران: جامعۃ المصطفی العالميۃ۔