امام مہدی (ع) کی توقیعات (مبارک خطوط) شیعہ عقائد اور معارف کا ایک ایسا گراں قدر خزانہ ہیں جو دورِ غیبت میں رہنمائی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زمین کبھی بھی حجتِ الہٰی سے خالی نہیں رہتی اور لوگوں پر اتمامِ حجت کے لیے ہمیشہ ایک معصوم ہستی موجود رہی ہے جو احکامِ الہٰی کی تبیین و تشریح کرتی ہے۔ حضرت امام مہدی (ع) کے پردۂ غیبت میں ہونے کے باوجود، آپ (ع) کے فیوض و برکات امتِ اسلامی، بالخصوص شیعیانِ اہل بیت (ع)، پر مسلسل جاری و ساری ہیں۔ اس فیض رسانی کا ایک اہم ذریعہ وہ دستخطی پیغامات اور خطوط تھے جو آپ (ع) اپنے جلیل القدر اور موردِ اعتماد اصحاب کو تحریر فرماتے تھے۔ امام مہدی (ع) کی توقیعات کہلانے والے یہ خطوط درحقیقت دورِ غیبت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک الہٰی دستور العمل فراہم کرتے ہیں۔
توقیع کا مفہوم
لفظ ‘توقیع’ عربی زبان میں بنیادی طور پر ‘حاشیہ نویسی’ یا کسی تحریر پر دستخط کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اصطلاحاً، یہ خلفاء اور بادشاہوں کے ان احکامات یا خطوط کو کہا جاتا تھا جو وہ مختلف افراد کے نام جاری کرتے تھے [۱]۔ البتہ، شیعہ علماء کی کتب اور اصطلاح میں ‘توقیع’ سے مراد خاص طور پر وہ فرامین اور مکتوبات ہیں جو غیبت کے زمانے میں حضرت امام مہدی (ع) کی جانب سے آپ (ع) کے پیروکاروں کو موصول ہوئے۔ اس مقالے میں بھی جب ہم امام مہدی (ع) کی توقیعات کا ذکر کریں گے تو ہماری مراد یہی مخصوص خطوط ہوں گے۔
توقیعات کی اقسام
حضرت امام مہدی (ع) کی توقیعات کو زمانی اور نوعی اعتبار سے دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱. غیبت صغریٰ کی توقیعات
غیبت صغریٰ کا محدود دور، جو ۲۵۵ ہجری سے ۳۲۹ ہجری تک تقریباً ۷۴ سال پر محیط ہے، وہ زمانہ تھا جب امام (ع) اپنے چار مخصوص نائبین (نوابِ اربعہ) کے ذریعے امت سے رابطے میں تھے۔ یہ نائبین بالترتیب حضرت عثمان بن سعید (رض)، حضرت محمد بن عثمان (رض)، حضرت حسین بن روح (رض) اور حضرت علی بن محمد سمری (رض) تھے۔ اس دور میں امام مہدی (ع) کی توقیعات عموماً انہی نائبین کے واسطے سے سوالات اور شبہات کے جواب میں صادر ہوتی تھیں۔
ان توقیعات کا بنیادی مضمون شیعیانِ اہل بیت (ع) کے لیے شرعی ذمہ داریوں کا تعین کرنا تھا اور حضرت (ع) کی کوشش تھی کہ انہیں فکری انتشار اور گمراہی سے محفوظ رکھا جائے۔ اس دور کی سب سے اہم اور تاریخ ساز توقیع وہ ہے جو آپ (ع) نے اپنے آخری نائب، علی بن محمد سمری (رض)، کے نام ان کی وفات سے کچھ روز قبل ارسال فرمائی۔ یہ توقیع غیبت صغریٰ کے خاتمے اور غیبت کبریٰ کے آغاز کا باضابطہ اعلان تھی:
"بسم اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیم۔ اے علی بن محمد سمری! اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں تمہارے بھائیوں (دوستوں) کو اجر عظیم عطا فرمائے؛ کیونکہ تم چھ دن کے اندر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے۔ اپنے معاملات کو سمیٹ لو اور اپنی جانشینی کے لیے کسی کو بھی وصیت مت کرنا؛ کیونکہ اب غیبتِ تامہ (کبریٰ) واقع ہو چکی ہے۔ اب ظہور نہیں ہوگا مگر اللہ عز و جل کے اذن کے بعد، اور وہ بھی ایک طویل مدت، دلوں کی سختی اور زمین کے ظلم و ستم سے بھر جانے کے بعد ہوگا۔ عنقریب میرے شیعوں میں سے کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو (مجھ سے) مشاہدے (ملاقات) کا دعویٰ کریں گے۔ آگاہ رہو! جو کوئی بھی سفیانی کے خروج اور آسمانی چیخ (صیحہ) سے پہلے (مجھ سے) مشاہدے کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے۔ اور اللہ بلند و عظیم کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔” [۲]
امام مہدی (ع) کی توقیعات میں سے یہ خط اس لیے منفرد ہے کہ یہ نہ صرف ایک غیبی خبر (جناب سمری کی وفات) پر مشتمل ہے بلکہ ایک پورے دور کے خاتمے اور نئے دور کے آغاز کا اعلان بھی ہے۔ اس نے مستقبل میں جھوٹے دعویداروں کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔
۲. غیبت کبریٰ کی توقیعات
حضرت امام مہدی (ع) کی طویل غیبت (غیبت کبریٰ) کے زمانے میں، یہ امر یقینی ہے کہ شیعوں کا اپنے امام (ع) سے رابطہ بلاواسطہ نہیں بلکہ بالواسطہ قائم ہے۔ اس رابطے کا ایک اہم ذریعہ ان عظیم اور خاص شیعہ بزرگوں اور علماء کے نام امام مہدی (ع) کی توقیعات کا صادر ہونا ہے۔ غیبت کبریٰ کے زمانے کی توقیعات میں دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں:
اولاً، اس دور کی توقیعات، سوائے انتہائی ضرورت کے مواقع کے، قابلِ افشاء نہیں تھیں اور ہر کس و ناکس کو ان کے مضامین تک رسائی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ ثانیاً، ان توقیعات کے بنیادی محور علمی شبہات کا ازالہ، شخصیات کی جرح و تعدیل (یعنی کسی کے قابلِ اعتماد ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی)، اور درپیش مسائل کا تجزیہ کرنا تھا۔
امام (ع) کا دستِ مبارک اور توقیعات
امام مہدی (ع) کی توقیعات کے حوالے سے ایک اہم سوال جو ہمیشہ زیرِ بحث رہا ہے، وہ یہ ہے کہ کیا یہ توقیعات خود امام (ع) کے اپنے دستِ مبارک سے تحریر کردہ تھیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ نہ تو ہم تمام توقیعات کے بارے میں یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ امام (ع) کے خط میں تھیں اور نہ ہی اس بات کا انکار کیا جا سکتا ہے کہ ان میں سے بعض خود حضرت (ع) کے اپنے دستِ مبارک سے لکھی گئی تھیں۔ بعض علماء کا ماننا ہے کہ ان توقیعات کے کاتب خود حضرت (ع) تھے اور یہاں تک کہ آپ (ع) کا خطِ مبارک خواص اصحاب اور اس وقت کے علماء کے درمیان معروف تھا اور وہ اسے بخوبی پہچانتے تھے۔ اس دعوے کے حق میں چند شواہد پیش کیے جاتے ہیں:
۱. اسحاق بن یعقوب بیان کرتے ہیں: "مجھے کچھ مشکلات درپیش تھیں، میں نے ایک خط لکھا اور اسے محمد بن عثمان (رض) کے ذریعے حضرت مہدی (ع) کی خدمت میں بھجوایا۔ اس کا جواب خود حضرت (ع) کے دستِ مبارک سے لکھا ہوا موصول ہوا۔” [۳]
۲. جناب شیخ صدوق (رح) سے منقول ہے: "وہ توقیع جو امام زمانہ (ع) کے خط میں میرے والد (علی بن بابویہ قمی) کے لیے صادر ہوئی تھی، وہ اس وقت میرے پاس موجود ہے۔” [۴]
۳. شیخ ابو عمر عامری کہتے ہیں: "ابن ابی غانم قزوینی اور شیعوں کی ایک جماعت کے درمیان ایک موضوع پر اختلاف اور جھگڑا ہو گیا۔ اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے ناحیہ مقدسہ کی طرف ایک خط لکھا گیا اور سارا ماجرا حضرت (ع) کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ اس خط کا جواب امام (ع) کے دستِ مبارک سے صادر ہوا۔” [۵]
اس کے برعکس، بعض دیگر قرائن کی بنیاد پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام مہدی (ع) کی توقیعات آپ (ع) کے اپنے خط میں نہیں تھیں، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے بعض امام مہدی (ع) کی توقیعات خود امام (ع) کے اپنے دستِ مبارک سے صادر ہوئی ہوں اور بعض دیگر امام (ع) کے املاء پر کسی اور معتمد شخص (جیسے نائبینِ خاص) کی کتابت میں جاری ہوئی ہوں۔ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے اور نہ ہی اس سے حضرت بقیۃ اللہ (ع) کی طرف سے اصل توقیعات کے صدور پر کوئی حرف آتا ہے۔
توقیعات شریف کے کچھ اہم نکات
امام مہدی (ع) کی توقیعات میں موجود آپ (ع) کے فرامین اور ارشادات مختلف جہتوں اور خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہ خطوط صرف ذاتی پیغامات نہیں بلکہ عقیدہ، فقہ، اخلاق اور مستقبل کے لائحہ عمل کا مجموعہ ہیں۔ ذیل میں ہم ان کے چند اہم نکات کا جائزہ لیتے ہیں:
۱. ائمہ (ع) کے بارے میں شکوک و شبہات کا ازالہ
شیعوں کے ایک گروہ کو جب یہ گمان ہوا کہ امام حسن عسکری (ع) نے کوئی جانشین نہیں چھوڑا، تو آپ (ع) کی طرف سے ایک توقیع صادر ہوئی جس نے ان کے شکوک کو دور کر دیا: "مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے ایک گروہ نے دین کے معاملے میں شک کیا ہے اور اپنے صاحبانِ امر (ائمہ) کے بارے میں تحیّر کا شکار ہو گئے ہو۔ ہم اس موضوع پر تمہاری خاطر غمگین ہوئے، نہ کہ اپنی خاطر؛ کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے۔ ہمیں دوسروں کی حاجت نہیں… اے لوگو! تم کیوں شک میں پڑ گئے ہو اور تحیر کا شکار ہو؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ پروردگار نے فرمایا:
‘اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (ص) کی اور تم میں سے جو اولی الامر ہیں ان کی اطاعت کرو’ [۶]؟… جب امام حسن عسکری (ع) رحلت فرما گئے… تو تم نے گمان کیا کہ پروردگار نے اپنے دین کو باطل کر دیا اور اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطے کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ایسا ہوگا… امامِ گذشتہ (امام عسکری (ع)) سعادت کے ساتھ رخصت ہوئے… لیکن ان کی وصیت، ان کا علم، ان کا فرزند اور ان کا جانشین ہمارے درمیان موجود ہے اور ظالم گنہگار کے سوا کوئی اس بارے میں ہم سے نزاع نہیں کرتا…” [۷]۔
۲. فقہائے شیعہ کی فتاویٰ میں مدد
امام مہدی (ع) کی توقیعات کا ایک حیرت انگیز پہلو علماء اور فقہاء کی غیبی دستگیری ہے۔ نقل ہوا ہے کہ شیخ مفید (رح) کے زمانے میں، جو اپنے وقت کے جلیل القدر عالم تھے، ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا: "ایک حاملہ عورت کا انتقال ہو گیا ہے لیکن اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہے۔ کیا اسے بچے سمیت دفن کر دیں یا اس کا شکم چاک کر کے بچے کو باہر نکالیں؟” شیخ مفید (رح) نے جواب دیا: "اسے بچے سمیت دفن کر دو۔” وہ شخص واپس پلٹا۔ راستے میں اسے ایک سوار ملا جس نے اسے روک کر کہا: "شیخ نے فرمایا ہے کہ عورت کا شکم چاک کرو اور بچے کو باہر نکالو۔”
اس شخص نے ایسا ہی کیا۔ کچھ عرصے بعد اس نے یہ ماجرا شیخ مفید (رح) کو سنایا۔ شیخ (رح) نے فرمایا: "میں نے تو کسی کو نہیں بھیجا تھا، معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوار حضرت ولی عصر (ع) ہی تھے۔ اب چونکہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، میں اب فتویٰ نہیں دوں گا۔” اور انہوں نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا۔ کچھ مدت بعد شیخ (رح) کی خدمت میں امام مہدی (ع) کی توقیعات میں سے ایک توقیع پہنچی جس میں تحریر تھا: "اے شیخ! آپ لوگوں کے لیے فتویٰ دیں اور ہم اسے تکمیل تک پہنچائیں گے اور آپ کو خطا اور اشتباہ نہیں کرنے دیں گے۔” [۸]۔
۳. دعا اور توسل کی تعلیم
عبداللہ بن جعفر حمیری نے امام (ع) سے دعا اور توسل کا طریقہ دریافت کیا تو آپ (ع) نے ایک توقیع کے ذریعے انہیں وہ دعا سکھائی جو آج "زیارتِ آلِ یاسین” کے نام سے معروف ہے: "جب بھی تم ہماری وساطت سے خدا کی طرف اور ہماری طرف متوجہ ہونا چاہو تو اس طرح کہو جیسا کہ خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا ہے: ‘سلامٌ عَلیٰ آلِ یاسینَ، اَلسَّلامُ عَلیکَ یا داعِیَ اللهِ وَ رَبّانی آیاتِهِ…'” [۹]۔
۴. شبہات اور فقہی احکام کا جواب
محمد بن یعقوب کلینی (رح) نے اسحاق بن یعقوب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مشکل مسائل ایک خط میں لکھ کر محمد بن عثمان (رض) کے حوالے کیے۔ جواب میں جو توقیع صادر ہوئی اس کے چند اہم نکات یہ تھے:
"…جان لو کہ خدا اور لوگوں کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے، جو میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔.. رہا میرے چچا جعفر (کذاب) اور اس کے بیٹوں کا معاملہ، تو وہ برادرانِ یوسف (ع) جیسا ہے۔.. البتہ فقاع (جو کی شراب) پینا حرام ہے۔.. جہاں تک تمہارے اموال کا تعلق ہے تو ہم انہیں صرف اس لیے قبول کرتے ہیں تاکہ تم پاکیزہ ہو جاؤ… لیکن جہاں تک پیش آنے والے نئے واقعات (حوادثِ واقعہ) کا تعلق ہے، تو ان میں ہمارے راویانِ حدیث (علماء) کی طرف رجوع کرو؛ کیونکہ وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے ان پر حجت ہوں۔” [۱۰]۔
امام مہدی (ع) کی توقیعات میں سے یہ نکتہ (حوادثِ واقعہ) غیبت کبریٰ میں ‘تقلید’ اور ‘مرجعیت’ کے نظام کے لیے بنیادی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔
۵. مخالفین اور بدعت گزاروں کی تردید
آپ (ع) نے ایک توقیع میں محمد بن علی شلمغانی، جو "ابن ابی العزاقر” کے نام سے معروف تھا، پر لعنت اور اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ شلمغانی ابتداء میں شیعہ تھا لیکن بعد میں منحرف ہو گیا اور ایک جعلی مذہب ایجاد کیا۔ آپ (ع) نے اس کے بارے میں فرمایا: "…محمد بن علی شلمغانی (خدا اس کے عذاب میں جلدی کرے) اسلام سے پھر گیا اور اس سے جدا ہو گیا… اس نے خدا پر جھوٹ اور بہتان باندھا… ہم اس سے خدا اور اس کے رسول (ص) کی بارگاہ میں بیزار ہیں اور ہم نے اس پر لعنت کی ہے، اور خدا کی لعنتیں پے در پے اس پر اور اس کے پیروکاروں پر ہوں…” [۱۱]۔ امام مہدی (ع) کی توقیعات نے یوں دین کو داخلی تحریف سے بھی محفوظ رکھا۔
۶. ظہور و فرج کے لیے دعا کی درخواست
امام مہدی (ع) کی توقیعات کا ایک دائمی پیغام آپ (ع) کے ظہور کے لیے دعا کرنا ہے۔ آپ (ع) نے اسحاق بن یعقوب کے نام توقیع میں فرمایا: "میں اہلِ زمین کے لیے امان ہوں، جس طرح آسمان کے ستارے اہلِ آسمان کے لیے امان ہیں… میرے ظہور اور فرج میں تعجیل (جلدی) کے لیے کثرت سے دعا کرو؛ کیونکہ اسی میں تمہاری کشادگی اور راحت ہے۔..” [۱۲]۔
نتیجہ
امام مہدی (ع) کی توقیعات محض تاریخی خطوط نہیں ہیں، بلکہ یہ دورِ غیبت میں شیعہ معاشرے کی بقاء، رہنمائی اور تحفظ کا ایک الہٰی نظام ہیں۔ یہ معارف کا وہ گنجینہ ہیں جنہوں نے غیبت کبریٰ کے طویل دور کا فکری اور عملی ڈھانچہ فراہم کیا۔ ان توقیعات نے نہ صرف جھوٹے دعویداروں کا راستہ بند کیا بلکہ ‘حوادثِ واقعہ’ میں فقہاء اور علماء کرام کی طرف رجوع کرنے کا حکم دے کر مرجعیت کے مقدس ادارے کو قائم فرمایا۔ ہمارے لیے امام مہدی (ع) کی توقیعات کا مطالعہ اس یقین کو پختہ کرتا ہے کہ ہمارا امام (ع) غیبت کے پردے میں ہونے کے باوجود اپنے ماننے والوں کے حالات سے باخبر، ان کا محافظ اور ان کے لیے دعا گو ہے۔ یہ توقیعات ہمیں تقویٰ، اہل بیت (ع) سے محبت اور سب سے بڑھ کر، امام (ع) کے ظہورِ پرنور کے لیے کثرت سے دعا کرنے کا درس دیتی ہیں، کیونکہ اسی ظہور میں انسانیت کی حقیقی نجات اور کشادگی مضمر ہے۔
حوالہ جات
[۱] طاهری، سیمای آفتاب، ص۲۴۲۔
[۲] صدوق، کمال الدّین، ج۲، ص۵۱۶۔
[۳] مجلسی، بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۴۹۔
[۴] جزایری، انوار النعمانیۃ، ج۳، ص۲۴۔
[۵] مجلسی، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۸۔
[۶] سورہ نساء آیت۵۹۔
[۷] طبرسی، احتجاج، ج۲، ص۲۷۸۔
[۸] تنکابنی، قصص العلماء، ص۳۹۹۔
[۹] مجلسی، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۱۔
[۱۰] طبرسی، احتجاج، ج۲، ص۲۸۳۔
[۱۱] مجلسی، بحار الانوار، ج۲، ص۲۹۰۔
[۱۲] طبرسی، احتجاج، ج۲، ص۲۸۳۔
فہرست منابع
۱. الجزائری، سید نعمت الله بن عبدالله، الأنوار النعمانیۃ۔ بیروت: دارالقاری، ۱۴۲۹ق۔
2. تنبکنی، محمد بن سلیمان، قصص العلماء۔ تهران: انتشارات علمیہ اسلامیۃ۔
3. طاهری، حبیب الله۔ سیمای آفتاب: سیری در زندگانی حضرت مهدی (عج)، قم: زائر، ۱۳۸۰ش۔
4. طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اهل اللجاج، تحقیق و تصحیح محمدباقر خرسان، مشہد: نشر مرتضی، ۱۴۰۳ق۔
5. صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ۔ تحقیق، تصحیح و تعلیق: علی أکبر الغفاری، قم: جامعہ مدرسین، ۱۴۰۵ق۔
6. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار۔ بیروت: مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
صالحی، غلامرضا، ماهیتشناسی توقیعات حضرت مهدی (ع) (حضرت مہدی (ع) کے توقیعات کی ماہیت کا مطالعہ)، فرهنگ کوثر، تابستان ۱۳۸۹، نمبر ۸۲، صفحہ ۹۴-۱۰۱۔