انسان کی فطرت میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ مشکل، خوف اور بےبسی کے لمحوں میں وہ کسی مضبوط پناہ گاہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ دعا اور توحید کا بنیادی درس بھی یہی ہے کہ حقیقی پناہ، حقیقی مدد اور حقیقی نجات صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ امام علی (ع) دعائے کمیل میں اس حقیقت کو نہایت لطیف اور گہری تعبیر میں بیان فرماتے ہیں، جہاں بندہ اپنے اضطرار، کمزوری، بےچارگی اور محتاجی کا اعتراف کرتے ہوئے براہِ راست پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہے۔ یہی اضطرار ایک ایسا وسیلہ ہے جو بندے کے دل کو رب کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ اس کے سوا کوئی پناہ گاہ موجود نہیں۔
دعائے کمیل مومنین کے درمیان بڑی مشہور و معروف دعا ہے، جسے مومنین ہر شبِ جمعہ پڑھا کرتے ہیں۔ دعائے کمیل حضرت امیرالمومنین (ع) سے منسوب ہے، جو آپ (ع) نے کمیل بن زیاد نخعی کو تعلیم فرمائی تھی۔ اسی طرح دعائے کمیل ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں مومنین تک پہنچتی رہی ہے۔ دعائے کمیل عبودیت، فروتنی اور انکساری کے مفاہیم کے لحاظ سے انمول خزانہ، نیز زندہ اشکال میں تضرع اور فریادخواہی کا موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ دعائے کمیل تین مخصوص مرحلوں پر مشتمل ہے اور ہر مرحلہ آنے والے مرحلے میں شمار ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کی اساس و بنیاد دعائے کمیل کی کیفیت سے درک ہوتی ہے۔ یہ ہمارے دعا پڑھنے، اس میں بیان شدہ مفاہیم و افکار پر غور و فکر کرنے اور ان سے متأثر ہونے میں بہت مدد کرتی ہے۔ شاید پروردگار عالم اس جدوجہد اور کوشش کو ان مومنین کےلئے نفع بخش قرار دے جنہوں نے دعائے کمیل کو پڑھنے کی عادت بنا لی ہے۔
اب ہم دعائے کمیل کے چار وسائل کے سلسلے میں بحث کرتے ہیں۔
پہلا وسیلہ
خداوندِ عالم نے اپنے بندے پر پہلے ہی اپنا فضل و کرم فرما دیا ہے۔ جب بندہ اپنے عمل و کوشش میں عاجز ہو جاتا ہے اور اس کے اور الله کے درمیان پردے حائل ہو جاتے ہیں تو خدا کا سابق فضل اور اس کی رحمت، خدا تک پہنچنے کےلئے بندے کی شافع ہوتی ہے۔ خدا کا بندے پر سابق فضل اور رحمت نازل کرنا، الله کی بندے سے محبت کی علامت ہے۔ اسی حبّ الٰہی کے ذریعے بندہ خداوندِ عالم کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتا ہے۔ جب بندہ خدا کی رحمت کا مستحق نہیں ہوتا تو الله کی محبت اسے اپنی رحمت اور فضل کا اہل بنا دیتی ہے اور اسے مقامِ اجابت تک پہنچاتی ہے
امام (ع) اس وسیلہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
يَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِي وَ ذِكْرِي وَ تَرْبِيَتِي وَ بِرِّيِ وَ تَغْذِيَتِي هَبْنِي لِابْتِدَاءِ كَرَمِكَ وَ سَالِفِ بِرِّكَ بِي۔
اے میرے پیدا کرنے والے! اے میرے تربیت دینے والے! اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گزشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرما دے۔
ہماری پیدائش بھی الله سے سوال کرنے سے پہلے نیکی کے ذکر، خلق اور تربیت کے ذریعے ہوئی ہے، جبکہ ہم اس کے مستحق نہیں تھے۔ جب ہمارے گناہ اور ہماری برائیاں الله کی نیکی اور اس کی رحمت کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں تو الله کی محبت ہماری شفاعت کرتی ہے اور ہمیں الله کے روبرو اور اس کی رحمت کے مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔
دوسرا وسیلہ
ہماری خدا سے محبت، اس کی ہمارے لیے کامیاب محبت کا وسیلہ ہے۔ امام (ع) نے پہلے وسیلہ میں خدا کی محبت کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد خداوندِ عالم سے اپنی محبت کو وسیلہ قرار دیا ہے۔ اس وسیلہ کے سیاق میں ہمارا خدا کی وحدانیت کا اقرار، اس کی بارگاہ میں خضوع و خشوع، ہماری نمازیں، سجدے، ذکر، شہادت (گواہی)، اس کی ربوبیت کا اقرار اور اس کی عبودیت کا اعتراف شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں کی بازگشت دو ہی اصولوں کی طرف ہے: ہمارا اس سے محبت کرنا اور اس کی توحید کا اقرار کرنا۔ بے شک حبّ اور توحید دونوں ایسے سرمائے ہیں جنہیں الله رد نہیں کرتا، اور ہمیں بھی ان دونوں امور میں لمحے بھر کےلئے شک نہیں کرنا چاہیے۔
امام (ع) اس وسیلہ سے متوسل ہونے کےلئے فرماتے ہیں:
أَ تُرَاكَ مُعَذِّبِي بِنَارِكَ بَعْدَ تَوْحِيدِكَ وَ بَعْدَ مَا انْطَوَى عَلَيْهِ قَلْبِي مِنْ مَعْرِفَتِكَ وَ لَهِجَ بِهِ لِسَانِي مِنْ ذِكْرِكَ وَ اعْتَقَدَهُ ضَمِيرِي مِنْ حُبِّكَ وَ بَعْدَ صِدْقِ اعْتِرَافِي وَ دُعَائِي خَاضِعاً لِرُبُوبِيَّتِكَ۔
"کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدۂ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے؟ یا میرے دل میں تیری معرفت کے باوجود مجھے موردِ عذاب قرار دے؟ حالانکہ میری زبان پر تیرا ذکر جاری رہا اور میرے دل میں تیری محبت جاگزین رہی۔ میں صدقِ دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ہوں۔”
یہاں ہم دعا کے اس فقرے سے متعلق ایک واقعہ نقل کرتے ہیں:
کہا جاتا ہے کہ جب خداوندِ عالم نے حضرت یوسف (ع) کو مصر کی حکومت عطا کی تو آپ ایک دن اپنے گھر کے سامنے تخت پر ایک ایسے صالح بندے کے ساتھ تشریف فرما تھے، جسے الله نے علم اور نور عطا کیا تھا۔ اسی وقت اس تخت کے پاس سے ایک نوجوان گزرا۔ اس صالح بندے نے حضرت یوسف (ع) سے عرض کیا: کیا آپ اس جوان کو پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ اس صالح نے کہا: یہ وہی بچہ ہے جس نے اُس وقت آپ کی پاکیزگی کی گواہی دی تھی جب عزیزِ مصر کی زوجہ نے آپ پر الزام لگایا تھا۔
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَاذِبِينَ وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ[۱]
اور اس پر اس کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا سامنے سے پھٹا ہے تو وہ سچی ہے اور یہ جھوٹوں میں سے ہے، اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو وہ جھوٹی ہے اور یہ سچوں میں سے ہے۔
یہ وہی شیرخوار بچہ تھا جس نے گہوارے میں آپ کی گواہی دی تھی اور اب جوان ہو چکا ہے۔ حضرت یوسف (ع) نے اسے بلایا، اپنے پاس بٹھایا اور اس کا احترام کیا۔ وہ صالح بندہ متعجب ہو کر اس منظر کو دیکھتا رہا۔ حضرت یوسف (ع) نے اس صالح سے فرمایا: کیا تم میرے اس جوان کے اکرام پر تعجب کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں؛ لیکن اس جوان کی آپ کے بےگناہ ہونے کی گواہی کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں۔ خدا نے اسے قوتِ گویائی عطا کی حالانکہ اس میں خود کوئی فضیلت نہ تھی۔ پھر بھی آپ نے اسے اتنی عزت دی۔
پھر وہ صالح بولا: تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی بندہ خدا کے سامنے طویل سجدے کرے اور الله اسے جہنم میں جلائے؟ یا اس دل کو جلائے جو اس کی محبت سے لبریز ہے؟ یا اس زبان کو جو اسے بکثرت یاد کرتی رہی؟ یا اس بندے کو جس نے اس کی وحدانیت کی گواہی دی اور شرک سے انکار کیا؟
حضرت امیرالمومنین (ع) اسی سلسلے میں فرماتے ہیں:
لَيْتَ شِعْرِي يَا سَيِّدِي وَ إِلَهِي وَ مَوْلَايَ أَ تُسَلِّطُ النَّارَ عَلَى وُجُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِكَ سَاجِدَةً وَ عَلَى أَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِيدِكَ صَادِقَةً وَ بِشُكْرِكَ مَادِحَةً وَ عَلَى قُلُوبٍ اعْتَرَفَتْ بِإِلَهِيَّتِكَ مُحَقِّقَةً وَ عَلَى ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِكَ حَتَّى صَارَتْ خَاشِعَةً وَ عَلَى جَوَارِحَ سَعَتْ إِلَى أَوْطَانِ تَعَبُّدِكَ طَائِعَةً وَ أَشَارَتْ بِاسْتِغْفَارِكَ مُذْعِنَةً مَا هَكَذَا الظَّنُّ بِكَ وَ لَا أُخْبِرْنَا بِفَضْلِكَ عَنْكَ يَا كَرِيمُ۔
میرے سردار، میرے خدا، میرے مولا! کیا یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ جن چہروں نے تیرے حضور سجدہ کیا ہو، ان پر بھی تو آگ مسلط کرے؟ یا وہ زبانیں جو صدقِ دل سے توحید کے کلمات ادا کرتی رہیں اور تیری حمد و ثنا بیان کرتی رہیں؟ یا وہ دل جنہوں نے تحقیق کے ساتھ تیری الوہیت کا اعتراف کیا؟ یا وہ ضمیر جو تیرے علم کے سامنے خاضع رہے؟ یا وہ اعضاء جو تیرے مراکزِ عبادت کی طرف خوشی سے دوڑتے رہے اور یقین کے ساتھ تیرے استغفار کو اختیار کرتے رہے ان پر بھی تو عذاب کرے؟ ہرگز تیرے بارے میں ایسا گمان نہیں کیا جا سکتا، نہ تیرے فضل و کرم کے بارے میں ایسی کوئی خبر ملی ہے۔
تیسرا وسیلہ
عذاب برداشت کرنے کے مقابلے میں ہمارا کمزور ہونا، ہماری کھال کا باریک ہونا، ہماری ہڈیوں کا نازک ہونا، ہم میں صبر اور قوتِ برداشت کا کم ہونا یہ سب ہماری کمزوری کو قوی و متین تک پہنچنے کا ایک کامیاب وسیلہ بناتے ہیں۔ ہر کمزور، قوی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کی عطوفت و محبت کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ بے شک کمزور میں ایک راز ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ قوی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور قوی بھی کمزور کی طرف متوجہ ہوتا ہے؛ یعنی دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو چاہتا ہے۔ شیرخوار اپنی کمزوری کی وجہ سے ماں کی محبت کا محتاج ہوتا ہے، جیسے مہربان ماں بچے کی نازکی اور کمزوری کی طرف مائل ہوتی ہے۔ کمزور کا اسلحہ اور وسیلہ گریہ اور امید ہے۔
علی (ع) دعائے کمیل میں فرماتے ہیں:
یَا مَنِ اسْمُهُ دَوَاءٌ، وَذِکْرُهُ شِفَاءٌ، وَطَاعَتُهُ غِنًی، ارْحَمْ مَنْ رَأْسُ مَالِهِ الرَّجَاءُ، وَسِلَاحُهُ الْبُکَاءُ۔
”اے وہ پروردگار جس کا نام دوا، جس کی یاد شفا، اس بندے پر رحم فرما جس کا سرمایہ صرف امید اور اس کا اسلحہ صرف گریہ ہے۔“
بے شک فقیر کا اصل سرمایہ غنی سے امید رکھنا ہے، کمزور کا اسلحہ قوی کے سامنے گریہ و زاری ہے۔ جو دنیا میں کمزور کی طاقتور سے رغبت اور طاقتور کی کمزور سے محبت کے راز کو نہ سمجھے، وہ دعائے کمیل میں حضرت علی (ع) کے ان گہرے فقروں کو نہیں سمجھ سکتا۔
امام علی (ع) دوسری مناجات میں فرماتے ہیں:
أَنْتَ الْقَوِیُّ، وَأَنَا الضَّعِیفُ؛ وَهَلْ یَرْحَمُ الضَّعِیفَ إِلَّا الْقَوِیُّ؟
”تو قوی ہے اور میں کمزور ہوں، اور کیا کمزور پر رحم طاقتور کے سوا کوئی کر سکتا ہے؟“
امام (ع) دعائے کمیل میں بندے کی کمزوری، اس کی تدبیر کی کمی، اس کے صبر کے جلد ختم ہو جانے، کھال کی نرمی اور ہڈیوں کی باریکی کو وسیلہ بنا کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں:
پروردگار! میرے بدن کی کمزوری، میری جلد کی نرمی اور میری ہڈیوں کی باریکی پر رحم فرما۔
ہمیں دنیا میں کانٹا چبھ جاتا ہے، انگارہ ہاتھ کو جلا دیتا ہے، اور معمولی بیماری ہماری نیند اُڑا دیتی ہے، حالانکہ یہ تھوڑی دیر کی بیماری محض امتحان کےلئے ہوتی ہے۔ تو پھر ہم اس وقت کیا کریں گے جب ہمیں دردناک عذاب کی طرف لے جایا جائے گا اور فرشتوں سے کہا جائے گا:
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ، ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ، ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ۔[۲]
اب اسے پکڑو اور گرفتار کرلو، پھر اسے جہنم میں جھونک دو، پھر ستر گز کی رسی میں اسے جکڑ لو دو۔
امام (ع) دعائے کمیل میں فرماتے ہیں:
أَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِي عَنْ قَلِيلٍ مِنْ بَلَاءِ الدُّنْيَا وَ عُقُوبَاتِهَا وَ مَا يَجْرِي فِيهَا مِنَ الْمَكَارِهِ عَلَى أَهْلِهَا عَلَى أَنَّ ذَلِكَ بَلَاءٌ وَ مَكْرُوهٌ قَلِيلٌ مَكْثُهُ يَسِيرُ بَقَاؤُهُ قَصِيرٌ مُدَّتُهُ فَكَيْفَ احْتِمَالِي لِبَلَاءِ الْآخِرَةِ وَ حُلُولِ [وَ جَلِيلِ] وُقُوعِ الْمَكَارِهِ فِيهَا وَ هُوَ بَلَاءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ وَ يَدُومُ مَقَامُهُ وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْ أَهْلِهِ لِأَنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا عَنْ غَضَبِكَ وَ انْتِقَامِكَ وَ سَخَطِكَ وَ هَذَا مَا لَا تَقُومُ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَ الْأَرْضُ يَا سَيِّدِي فَكَيْفَ بِي وَ أَنَا عَبْدُكَ الضَّعِيفُ الذَّلِيلُ الْحَقِيرُ الْمِسْكِينُ الْمُسْتَكِينُ فَيَا إِلَهِي [وَ رَبِّي] وَ سَيِّدِي وَ مَوْلَايَ۔
پروردگارا! تو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سختی کو بھی برداشت نہیں کر سکتا، اور اس کی ناگواریاں میرے لیے ناقابلِ تحمل ہیں، حالانکہ یہ بلائیں قلیل، اور مدّت مختصر ہے۔ تو پھر میں آخرت کی ان بلاؤں کو کیسے برداشت کروں گا جن کی سختیاں عظیم، مدت طویل، اور قیام دائمی ہے؟ جن میں تخفیف کا کوئی امکان نہیں۔ یہ تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ہیں، جنہیں زمین و آسمان بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ تو میں، ایک ضعیف، ذلیل، حقیر، مسکین اور بےچارہ بندہ، کس حیثیت کا مالک ہوں! خدایا، پروردگارا، میرے آقا، میرے مولا!۔
چوتھا وسیلہ
امام (ع) دعائے کمیل میں بندے کے اللہ سے مضطر ہونے کو بیان فرماتے ہیں، اور اضطرار انسان کےلئے ایک کامیاب وسیلہ ہے کیونکہ اس کی حاجتیں اللہ کے سوا کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ اضطرار سے مراد یہ ہے کہ انسان سمجھ لے کہ اس کی ہر ضرورت اور ہر پناہ گاہ صرف اللہ ہی ہے؛ اس کے سوا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں۔ چھوٹا بچہ بھی اپنے والدین کے علاوہ کسی کو ایسا نہیں پاتا جو اس کی ضرورت پوری کرے، اس کا دفاع کرے، اس کی تکلیف محسوس کرے یا اس کے خوف میں اسے امن دے۔ اس لیے بچہ اپنے والدین سے مانوس ہوتا ہے اور اپنے ابتدائی بچپن میں اپنی ہر ضرورت ان کی رحمت اور شفقت سے پوری ہوتی دیکھتا ہے۔ جب اسے کوئی خوف یا تکلیف ہوتی ہے تو وہ فوراً والدین کی پناہ لیتا ہے اور ان سے ہی سکون اور محبت پاتا ہے۔
جب بچہ کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جس پر اسے سزا مل سکتی ہے اور وہ خوفزدہ ہو جاتا ہے تو وہ ادھر ادھر دیکھتا ہے مگر کوئی پناہ نہیں پاتا۔ وہ جانتا ہے کہ والدین سے بھاگ نہیں سکتا اور ان کے علاوہ امن کی کوئی جگہ نہیں، اس لیے اسی کے پاس لوٹتا ہے اور روتے ہوئے اپنی فرمانبرداری ظاہر کرتا ہے، جبکہ والدین اسی لمحے اسے سزا دینے کا ارادہ رکھتے ہوتے ہیں؛ مگر پھر بھی بچہ انہی کی محبت پا لیتا ہے۔
امام (ع) دعائے کمیل میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سختیوں، مصیبتوں یا آزمائشوں کے وقت آپ ہمیشہ اللہ ہی کی پناہ لیتے تھے۔ آپ فریاد کرتے تھے مگر آپ کو اپنی مشکلات میں اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نظر نہیں آتی تھی۔ انسان بھی اسی طرح اللہ کے غضب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، مگر اسی کی رحمت کی امید رکھتا ہے، اور اسی کے عذاب سے سلامتی چاہتا ہے۔ بندے کے پاس، جب وہ اپنے آپ کو عذاب کا مستحق دیکھتا ہے، اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں رہتی؛ نہ وہ اس کے سوا کسی طرف بھاگ سکتا ہے، نہ اس کے سوا کسی کی حمایت پاتا ہے، نہ کسی اور سے سوال کر سکتا ہے۔
جب عذاب کے فرشتے اسے جہنم کی طرف لے جاتے ہیں تو وہ اللہ سے گڑگڑاتا ہے، اسی سے امن طلب کرتا ہے، اسی سے فریاد کرتا ہے، جیسے بچہ والدین کی ناراضی کے وقت ان کے سوا کوئی اور پناہ نہیں پاتا۔ اس مقام پر حضرت علی (ع) کے یہ دقیق اور شفاف کلمات سامنے آتے ہیں جو توحید اور دعا کی روح ہیں:
لَئِنْ تَرَكْتَنِي نَاطِقاً لَأِضِجَّنَّ إِلَيْكَ مِنْ بَيْنِ أَهْلِهَا ضَجِيجَ الْآمِلِينَ وَ لَأَصْرُخَنَّ إِلَيْكَ صُرَاخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ وَ لَأَبْكِيَنَّ عَلَيْكَ بُكَاءَ الْفَاقِدِينَ وَ لَأُنَادِيَنَّكَ أَيْنَ كُنْتَ يَا وَلِيَّ الْمُؤْمِنِينَ يَا غَايَةَ آمَالِ الْعَارِفِينَ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ يَا حَبِيبَ قُلُوبِ الصَّادِقِينَ وَ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ۔
”اگر تو نے میری گویائی باقی رکھی تو میں اہلِ جہنم کے درمیان بھی امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا، فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گا، عزیزِ گم کردہ کی طرح تیری دوری پر آہ و بکا کروں گا، اور جہاں بھی تو ہوگا تجھے آواز دوں گا؛ کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکزِ امید، فریادیوں کا فریادرَس، صادقین کے دلوں کا محبوب اور عالمین کا معبود ہے۔“
بندہ جب مضطر ہوتا ہے تو خدا سے ہی لو لگاتا ہے اس کی رحمت اور اس کی امن کی تلاش ميں رہتا ہے۔ بندے سے خداوند عالم کے محبت کرنے کا دوسرا رخ اس وقت نظر آتا ہے جب وہ تيز بخار ميں مبتلا ہوتا ہے اور اُس (خدا) کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہے خداوند عالم سے خود اسی خدا کی طرف فرار کرتا ہے خداوند عالم کی رحمت اور فضل کو اس حال ميں طلب کرتا ہے کہ وہ خداوند عالم کی عقوبت اور انتقام کے سامنے ہوتا ہے۔
کيا یہ ممکن ہے کہ خداوند تبارک و تعالیٰ ارحم الراحمين ہونے کے باوجود بندے کی فریاد سنتا ہو اور اس (بندہ) کو اس کی عقل کی کمی اور جہالت کی وجہ سے اس کا ڻهکانا جہنم بنا دے جبکہ وہ اس سے فریاد کرتا ہے، اس کا نام لے کر چيختا ہے، اپنی زبان سے اس کی توحيد کا اقرار کرتا ہے، اس سے جہنم سے نجات کا سوال کرتا ہے، اور اسی کی بارگاہ ميں گڑگڑاتا ہے اور وہ اس کو جہنم کے عذاب ميں ڈال دے اور اس کے شعلے اس کو جلا دیں، اس کو جہنم کی آواز پریشان کرے، اس کے طبقوں ميں لوڻتا رہے، اس کے شعلے اس کو پریشان کریں جبکہ خداوند عالم جانتا ہے کہ یہ بندہ اس سے محبت کرتا ہے یہ سچ بول رہا ہے اس کی توحيد کا اقرار کر رہا ہے اس سے پناہ مانگ رہا ہے اور اسی کا منتظر ہے۔
خاتمہ
دعائے کمیل کے یہ جملے انسان کو اس حقیقت کی طرف واپس لے جاتے ہیں کہ دنیا کی ہر حفاظت عارضی ہے، ہر سہارا محدود ہے اور اصل پناہ صرف اللہ کی ہے۔ انسان جب اپنی کمزوری کو پہچانتا ہے تو اس کی توجہ خالقِ مطلق کی طرف پلٹتی ہے، اور یہی رجوع اس کےلئے سب سے مؤثر وسیلہ بن جاتا ہے۔ دعائے کمیل کے ان فقروں میں امام (ع) نے انسان کے اضطرار، اس کے خوف، اس کے بھاگ کر واپس آنے، اور اس کی بندگی کی گہرائی کو نہایت شفاف انداز میں پیش کیا ہے۔ بندہ چاہے جہنم کے دہانے تک پہنچ جائے، مگر امید کا دروازہ اللہ کے سامنے کبھی بند نہیں ہوتا۔
حوالہ جات
[۱]۔ یوسف: ۲۶-۲۷۔
[۲]۔ الحاقة: ۳۰-۳۲۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)
آصفی، محمد مہدی، الدعا عند أہل البيت (ع) جلد اول، مترجم: نقوی، سید ضرغام، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ۱۴۱۶ق۔