ماہ رمضان کے تیسویں دن کی دعا: شکر و قبولیت

ماہ رمضان کے تیسویں دن کی دعا: شکر و قبولیت

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا مقدس سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ تیسویں دن کی دعا الوداعی لمحات کا نچوڑ ہے۔ تیسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے ایک ہی التجا کرتا ہے کہ اس کی مہینہ بھر کی محنت "شکر” اور "قبولیت” کے درجہ کو پا لے۔ اس دعا کا مرکزی فلسفہ یہ ہے کہ اعمال (فروع) تبھی قبول ہوتے ہیں جب وہ عقائد (اصول) اور رضائے رسول (ص) کے ساتھ جڑے ہوئے ہوں۔

ماہ رمضان کے تیسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اجْعَلْ صِيامى فيهِ بِالشُّكْرِ وَ الْقَبُولِ عَلى ما تَرْضاهُ وَ يَرْضاهُ الرَّسُولُ مُحْكَمَةً فُرُوعُهُ بِالاُصُولِ بِحَقِّ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطّاهِرينَ وَ الْحَمْدُ للّه ِ رَبِّ الْعالَمينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! میرے اس ماہ کے روزوں کو اس طرح پسندیدہ اور مقبول فرما جس طرح تو اور تیرا رسول چاہتے ہیں، کہ اس کے فروع اس کے اصول سے پختہ تعلق رکھتے ہوں، ہمارے سردار حضرت محمد (ص) اور ان کی پاکیزہ آل (ع) کے واسطے سے، اور تمام حمد ہے اس خدا کے لیے جو کائنات کا رب ہے۔“

شکر اور قبولیت: مزدوری کا انعام اور رب کی قدردانی

ماہ رمضان المبارک کا نورانی اور بابرکت سفر اپنی آخری منزل پر پہنچ چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک طرف فراقِ رمضان کا رنج دلوں کو بوجھل کر دیتا ہے اور دوسری جانب تکمیلِ عبادات کی طمانیت روح کو سکون بخشتی ہے۔ تیسویں دن کی دعا محض ایک دن کی دعا نہیں ہے، بلکہ یہ پورے تیس دنوں کی مسلسل ریاضت، قیام، صیام اور مناجات کا حتمی نچوڑ اور الوداعی کلام ہے۔

جب انسان مہینہ بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، تو اسے اپنے زادِ راہ اور محنت کے صلے کی بجا طور پر فکر لاحق ہوتی ہے۔ تیسویں دن کی دعا درحقیقت اسی فکر کا روحانی علاج ہے، جس میں ہم اپنے پروردگار سے اپنی کوششوں کی قدردانی، بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت، رسول خدا (ص) کی خوشنودی، عقائد کی پختگی اور محمد و آلِ محمد (ع) کے مبارک وسیلے سے دعا کی تکمیل کا سوال کرتے ہیں۔

تیسویں دن کی دعا کے پہلے حصے میں روزوں کے لیے "شکر اور قبولیت” کی التجا کی گئی ہے: أَللّهُمَّ اجْعَلْ صِيامى فيهِ بِالشُّكْرِ وَ الْقَبُولِ (اے اللہ! میرے اس مہینے کے روزوں کو شکر اور قبولیت کے ساتھ قرار دے)۔

یہاں لفظ "شکر” کا مفہوم انتہائی وسیع اور کمالِ بندگی پر دلالت کرتا ہے۔ عام طور پر شکر بندے کی طرف سے نعمتوں پر ادا کیا جاتا ہے، لیکن یہاں مراد اللہ کا اپنے بندے کے عمل کی قدردانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام "شکور” (نہایت قدر دان) ہے۔

جب خالقِ کائنات اپنے بندے کے خلوص سے بھرپور عمل کو پسند کر لے اور اسے اس کی استطاعت سے بڑھ کر جزا دے، تو یہ دراصل اللہ کی طرف سے شکر ہے۔ تیسویں دن کی دعا ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہمارا رب کتنا کریم ہے جو خود روزے کی توفیق دیتا ہے، کٹھن حالات اور بھوک پیاس میں استقامت عطا فرماتا ہے، اور پھر اسی عمل پر ہمارا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔

تیسویں دن کی دعا میں دوسرا لفظ "قبولیت” ہے۔ قبولیت ہی وہ اصل سند ہے جو ہمارے بظاہر معمولی اعمال کو وزن عطا کرتی ہے۔ بہت سے لوگ دن بھر بھوکے پیاسے رہتے ہیں مگر غیبت اور بد اخلاقی کی وجہ سے انہیں سوائے پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔ تیسویں دن کی دعا کے ذریعے ہم گڑگڑا کر دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہماری یہ بھوک اور پیاس رائیگاں نہ جائے، بلکہ تیرے دربار میں شرفِ قبولیت حاصل کرے، کیونکہ اگر تو نے قبول نہ کیا تو ہمارا یہ سارا سفر بے ثمر ہو جائے گا۔

رضائے خدا و رضائے رسول (ص)

تیسویں دن کی دعا کا دوسرا اہم اور کلیدی نکتہ رضائے الٰہی اور رضائے نبوی (ص) کا باہمی تعلق ہے: عَلى ما تَرْضاهُ وَ يَرْضاهُ الرَّسُولُ (اس طریقے پر جو تجھے اور تیرے رسولؐ کو پسند ہو)۔

تیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ اس عظیم حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ اللہ کی رضا اور رسول (ص) کی رضا کو کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ صرف اللہ کو راضی کرنا چاہتا ہے لیکن رسول (ص) کی سنت سے روگردانی کرے، اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہو سکتی۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اطاعتِ رسول (ص) کو عین اطاعتِ خدا قرار دیا گیا ہے (مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

رسول خدا (ص) کی رضا، حقیقت میں ان کے پاکیزہ اہلِ بیت (ع) کی رضا میں مضمر ہے۔ حضور (ص) کا واضح فرمان ہے کہ فاطمہ (س) کی رضا میری رضا ہے اور جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ پس تیسویں دن کی دعا کی روشنی میں ہمارے روزے اور عبادات کی قبولیت کا واحد معیار یہ ہے کہ وہ اس طریقے پر ادا کیے گئے ہوں جو محمد و آلِ محمد (ص) کو پسند ہیں۔ اگر کوئی شخص روزہ تو رکھے مگر اس کے دل میں آلِ محمد (ص) کا بغض ہو، تو وہ روزہ رسول (ص) کی رضا کے خلاف ہے اور بارگاہِ الٰہی میں مردود ہے۔

دین کا استحکام اور عقیدے کی پختگی

تیسویں دن کی دعا کا تیسرا اور فقہی و عقائدی اعتبار سے انتہائی اہم نکتہ فروع کا اصول کے ساتھ جڑا ہونا ہے: مُحْكَمَةً فُرُوعُهُ بِالاُصُولِ (اس حال میں کہ اس روزے کے فروع، اصولِ دین کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہوئے ہوں)۔

تیسویں دن کی دعا کا یہ کلمہ پورے دینِ اسلام کا مکمل خاکہ پیش کرتا ہے۔ دین کی عمارت بنیادی طور پر دو عظیم ستونوں پر استوار ہے:

  1. اصولِ دین (جڑیں): توحید (اللہ کو ایک ماننا)، عدل (اس کے منصف ہونے کا یقین)، نبوت (انبیاء پر ایمان)، امامت (رسولؐ کے بعد الٰہی جانشینوں کی ولایت کا اقرار) اور قیامت (روزِ جزا پر یقین)۔

  2. فروعِ دین (شاخیں): نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، خمس، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولیٰ (خدا کے دوستوں سے دوستی) اور تبریٰ (خدا کے دشمنوں سے بیزاری)۔

تیسویں دن کی دعا ہمیں یہ عظیم سبق دیتی ہے کہ جس طرح کسی درخت کی جڑ کے بغیر اس کی شاخیں سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور کبھی پھل نہیں دیتیں، بالکل اسی طرح صحیح عقائد (اصول) کے بغیر کوئی بھی عمل (فروع) بے جان اور بیکار ہے۔ روزہ ایک "فرع” (شاخ) ہے، لیکن اگر روزے دار کا عقیدہ (امامت یا توحید) کمزور اور متزلزل ہو، تو اس کے یہ روزے اور نمازیں اسے آخرت میں کوئی فائدہ نہیں دیں گی۔ یہ دعا اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ ہمارے ظاہری اعمال کی عمارت مستحکم اور مضبوط عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہونی چاہیے۔ جب اصول درست ہوں گے، تبھی فروع شرفِ قبولیت پائیں گے۔

اہل بیت (ع) کے حقوق اور حمد الٰہی کا ابدی ترانہ

تیسویں دن کی دعا کا اختتام محمد و آلِ محمد (ص) کے واسطے اور اللہ کی حمد و ثنا پر ہوتا ہے: بِحَقِّ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطّاهِرينَ، وَ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعالَمينَ (ہمارے سردار محمدؐ اور ان کی پاکیزہ آلؑ کے طفیل، اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے)۔

تیسویں دن کی دعا کے آخر میں یہ واسطہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ہماری تمام دعائیں، ہماری عبادات اور ہمارے روزے فقط انھی ہستیوں کے پاکیزہ وسیلے سے آسمانِ قبولیت تک پہنچتے ہیں۔ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ماہِ رمضان کے اختتام پر اہلِ بیت (ع) کے حقوق (یعنی ان کی خالص محبت، غیر مشروط اطاعت، دین میں ان کی نصرت، ان کی زیارت اور ان کے دشمنوں سے مکمل بیزاری) کو پہچانیں اور اپنی عملی زندگی میں انہیں ادا کریں۔

بالآخر، "الحمد للہ رب العالمین” کہہ کر ہم رمضان المبارک کو الوداع کہتے ہیں۔ یہ حمد اس بات کا اعتراف ہے کہ اے پروردگار! ہمیں روزے رکھنے کی توفیق دینے سے لے کر، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور پھر اسے قبول کرنے تک، ہر کمال اور ہر تعریف صرف اور صرف تیری ذات کے لیے مختص ہے جس نے ہم کمزور بندوں کو یہ عظیم مہینہ اور یہ بابرکت لمحات نصیب فرمائے۔

اختتامی دعائیہ کلمات: شکرانۂ توفیق

"اے پروردگار عالم! تیرا بے حد شکر اور ثنا ہے کہ تو نے مجھ کمزور اور ناچیز بندے کو ماہ مبارک کی ان عظیم دعاؤں کے مفاہیم کو سمجھنے، ان کی گہرائی میں اترنے اور ان کی تشریح قلمبند کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اے اللہ! ہمارے دلوں کو آپ کی سچی محبت، آپ کی کامل معرفت اور آپ کے انتظار خالص سے معمور فرما دے۔ ہمیں غفلت کی تاریکیوں سے نکال کر آپ کے سچے اعوان و انصار کی صف میں شامل فرما، اور جب وہ عدل و انصاف کا پرچم بلند کریں، تو ہمیں ان کے قدموں میں جینے اور دین کی نصرت کرنے کی سعادت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین، بحقِ محمد و آلہ الطاہرین۔”

نتیجہ

ماہ رمضان کے تیسویں دن کی دعا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اسلام محض چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظام ہے جہاں "عقیدہ” اور "عمل” ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے روزے تبھی بارآور ہوں گے جب وہ خدا اور اس کے رسول (ص) کی خوشنودی کے مطابق ہوں اور ان کی جڑیں ولایت اور توحید کی زمین میں پیوست ہوں۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔