متعصب مؤرخین کا حضرت علی (ع) کے فضائل پر نقب زنی

متعصب مؤرخین کا حضرت علیؑ کے فضائل کا چھپانا

کپی کردن لینک

حضرت علیؑ کے فضائل کو مخفی رکھنا اور ان کے مسلم حقائق کی منصفانہ تحقیق و تحلیل سے اجتناب محض بنی امیہ کے دور تک محدود نہیں تھا، بلکہ امام علی (ع) کے فضائل پر ڈاکہ اور عظیم شخصیت کی توہین ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ جانب دار اور بنی امیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے بدبخت اور متعصب مؤرخین نے نہ صرف حضرت علیؑ کے فضائل بلکہ علی (ع) کے آپ کے خاندان پر بھی اعتراضات کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ جہاں بھی حضرت علیؑ کے فضائل اور مقام و مرتبے کا ذکر ہوا انہوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ اس میں تحریف کریں یا اس کو مجمل انداز میں بیان کریں۔

مؤرخین کا حضرت علیؑ کے فضائل پر نقب زنی

آج بھی جب کہ اسلام آئے ہوئے چودہ صدیاں گزر گئیں وہ لوگ جو خود کو نئی نسل کا رہبر اور روشن فکر تصور کرتے ہیں اپنے زہریلے قلم کے ذریعے اموی مقاصد کی مدد کرتے ہیں اور حضرت علیؑ کے فضائل و مناقب پر پردہ ڈالتے ہیں جس کی ایک واضح مثال یہ ہے:

غار حرا میں پہلی مرتبہ پیغمبر ﷺ کے قلب پر وحی الہی کا نزول ہوا اور پیغمبر ﷺ منصب رسالت و نبوت پر فائز ہوئے، وحی کے فرشتے نے اگرچہ آپ کو مقام رسالت سے آگاہ کردیا لیکن اعلان رسالت کا وقت معین نہیں کیا، لہٰذا پیغمبر ﷺ نے تین سال تک عمومی اعلان سے گریز کیا۔

اور جب بھی راستے میں شائستہ اور معتبر افراد سے ملاقات ہوتی یا خصوصی ملاقات ہوتی تو ان کو اس نئے قوانین الہی سے روشناس کراتے اور چند گروہ کو اس نئے قانون الہی کی دعوت دیتے، یہاں تک کہ وحی کا فرشتہ نازل ہوا اور خداوند عالم کی طرف سے حکم دیا کہ اے پیغمبر ﷺ اپنی رسالت کا اعلان اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے ذریعے شروع کریں:

’’وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءࣱ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ‘‘[1]

اور اے رسول! تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب خدا سے) ڈراؤ اور جو مؤمنین تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان کے سامنے اپنا بازو جھکاؤ (تواضع کرو) پس اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو تم (صاف صاف) کہہ دو کہ میں تمہارے کرتوتوں سے بری الذمہ ہوں۔

پیغمبر ﷺ کی عمومی دعوت کا اعلان رشتہ داروں سے شروع ہونے کی علت یہ ہے کہ جب تک نمائندہ الہی کے قریبی اور نزدیکی رشتہ دار ایمان نہ لائیں اور اس کی پیروی نہ کریں اس وقت تک غیر افراد اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس کے قریبی افراد اس کے تمام حالات و اسرار اور تمام کمالات و معایب سے آگاہ ہوتے ہیں، لہٰذا اعزہ و احباب کا ان کی رسالت پر ایمان لانا ان کی صداقت کی نشانی شمار ہوگا اور رشتہ داروں کا پیروی و اطاعت سے اعراض کرنا ان کی صداقت سے منہ پھیرنا ہے۔

اسی لئے پیغمبر اسلام ﷺ نے حضرت علی (ع) کو حکم دیا کہ بنی ہاشم کے پنتالیس (45) بزرگوں کو دعوت پر مدعو کریں اور ان کے کھانے کےلئے گوشت اور دودھ کا انتظام کریں، تمام مہمان اپنے معین وقت پر پیغمبر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور لوگوں نے کھانا کھایا، پیغمبر ﷺ کے چچا ابولہب نے ایک حقیر اور پست جملے سے، بنے ہوئے ماحول کو خراب کردیا اور لوگ منتشر ہوگئے اور بغیر کسی نتیجہ کے دعوت ختم ہوگئی اور لوگ کھانا کھا کر پیغمبر ﷺ کے گھر سے نکل گئے۔

پیغمبر ﷺ نے پھر دوسرے دن اسی طرح کی دعوت کا اہتمام کرنے اور ابولہب کے علاوہ تمام لوگوں کو دعوت دینے کا ارادہ کیا اور پھر حضرت علی (ع) نے پیغمبر ﷺ کے حکم سے گوشت اور دودھ کھانے کےلئے آمادہ کیا اور بنی ہاشم کی مشہور و معروف شخصیتوں کو کھانے اور پیغمبر ﷺ کی گفتگو سننے کےلئے دعوت دی، تمام مہمان اپنے معین وقت پر حاضر ہوئے اور کھانے وغیرہ کی فراغت کے بعد پیغمبر ﷺ نے اپنی گفتگو کا آغاز یوں کیا:

’’خدا کی قسم میں لوگوں کو راہ راست پر لانے میں غلط بیانی سے کام نہ لوں گا میں (بر فرض محال) اگر دوسروں سے غلط بیانی سے کام لوں تو بھی تم سے غلط نہیں کہوں گا اگر دوسروں کو دھوکہ دوں تو تمھیں دھوکہ نہیں دوں گا، خدا کی قسم کہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں میں تمہاری طرف اور تمام عالم کی ہدایت کےلئے اسی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔

ہاں، آگاہ ہو جاؤ، جس طرح تم سو جاتے ہو ویسے ہی مر جاؤ گے اور جس طرح سو کر اٹھتے ہو ویسے ہی زندہ کئے جاؤ گے، اچھے اعمال انجام دینے والوں کو ان کا اجر دیا جائے گا اور برے اعمال انجام دینے والے اپنے عمل کا نتیجہ پائیں گے، اور نیک اعمال کرنے والوں کےلئے جنت ہمیشگی کا گھر ہے اور برے کام کرنے والوں کےلئے جہنم آمادہ ہے۔

کوئی بھی شخص اپنے اہل و عیال کےلئے مجھ سے اچھی چیز نہیں لایا ہے میں تمہاری دنیا و آخرت کےلئے بھلائی لے کر آیا ہوں میرے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم کو اس کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی طرف دعوت دوں تم میں سے کون ہے جو اس راہ میں میری مدد کرے تاکہ وہ میرا بھائی، وصی اور تمہارے درمیان میرا نمائندہ ہو؟‘‘

آپ نے یہ جملہ کہا اور تھوڑی دیر خاموش رہے تاکہ دیکھیں کہ حاضرین میں سے کون ہمیشہ نصرت و مدد کرنے کےلئے آمادہ ہوتا ہے مگر اس وقت خاموشی نے ان پر حکومت کر رکھی تھی اور سب کے سب اپنے سروں کو جھکائے فکروں میں غرق تھے۔

یکایک حضرت علی (ع) جن کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہ تھی، اس خاموشی کے ماحول کو شکست دے کر اٹھے اور پیغمبر سے مخاطب ہوکر کہا: اے پیغمبر خدا، میں آپ کی اس راہ میں نصرت و مدد کروں گا پھر اپنے ہاتھوں کو پیغمبر اسلام ﷺ کی طرف بڑھایا تاکہ اپنے عہد و پیمان کی وفاداری کا ثبوت پیش کریں۔

پیغمبر ﷺ نے حکم دیا کہ اے علی (ع) بیٹھ جاؤ اور پھر اپنے سوال کو ان لوگوں کے سامنے دہرایا، پھر علی (ع) اٹھے اور نصرت پیغمبر ﷺ کا اعلان کیا، اس مرتبہ بھی پیغمبر ﷺ نے حکم دیا کہ علی (ع) بیٹھ جاؤ، تیسری مرتبہ پھر مثل سابق علی (ع) کے علاوہ کوئی دوسرا نہ اٹھا اور صرف علی (ع) نے اٹھ کر پیغمبر ﷺ کی نصرت اور محافظت کا اعلان کیا۔

اس موقع پر پیغمبر ﷺ نے اپنے ہاتھ کو علی (ع) کے ہاتھ میں دیا اور حضرت علی (ع) کے بارے میں بزرگان بنی ہاشم کی بزم میں اپنے تاریخی کلام کا آغاز اس طرح سے کیا: ’’اے میرے رشتہ دارو اور دوستو، جان لو کہ علی میرا بھائی میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین وخلیفہ ہے‘‘

سیرہ حلبی کی نقل کی بنا پر رسول اکرم ﷺ نے اس جملے کے علاوہ دو اور باتیں اس کے ساتھ بیان کیں کہ: ’’وہ میرا وزیر اور میرا بھائی ہے‘‘ اس طریقے سے پر خاتم النبیین ﷺ کے توسط سے اسلام کے سب سے پہلے وصی کا تعیّن، اعلان رسالت کے آغاز پر اس وقت ہوا جب بہت ہی کم لوگ اس قانون الہی کے پیرو تھے۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے ایک ہی موقع پر اپنی نبوت اور حضرت علی (ع) کی امامت کا اعلان کرکے یہ ثابت کردیا کہ نبوت و امامت دو ایسے مقام ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور امامت تکمیل نبوت و رسالت ہے۔

اس تاریخی واقعہ کے مدارک

شیعہ اور غیر شیعہ محدثین اور مفسرین نے اس تاریخی واقع کو بغیر کسی کمی و زیادتی کے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔[2] اور حضرت علیؑ کے فضائل و مناقب میں شمار کیا ہے۔ اہلسنت کے صرف ایک مشہور مورخ ابن تیمیہ دمشقی نے جو اہلبیت (ع) کے بارے میں ہر حدیث سے انکار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں، اس سند کو رد کیا ہے اور اس سند کو جعلی قرار دیا ہے۔

انہوں نے نہ صرف اس حدیث کو جعلی اور بے اساس قرار دیا ہے بلکہ حضرت علی (ع) کے خاندان کے سلسلے میں خاص نظریہ رکھنے کی وجہ سے اکثر ان حدیثوں کو جو خاندان رسالت اور بالخصوص حضرت علیؑ کے فضائل و مناقب میں بیان ہوئیں ہیں اگرچہ وہ حد تواتر تک پہونچ چکی ہوں جعلی اور بے اساس قرار دیا ہے۔

تاریخ ’’الکامل‘‘ پر حاشیہ لگانے والے نے اپنے استاد کہ جن کا نام پوشیدہ رکھا ہے، سے نقل کیا ہے کہ میرے استاد نے بھی اس حدیث کو جعلی قرار دیا ہے (شاید ان کا استاد بھی ابن تیمیہ کی فکروں پر چلنے والا تھا، یا یہ کہ اس سند کو خلفاء ثلاثہ کی خدمت کے مخالف جانا ہے اس لئے جعلی قرار دیا ہے۔)

پھر وہ خود عجیب انداز سے اس حدیث کے مفہوم کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: اسلام میں حضرت علی (ع) کا وصی ہونا، بعد میں ابوبکر کی خلافت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ اس دن علی (ع) کے علاوہ کوئی مسلمان نہ تھا جو پیغمبر ﷺ کا وصی ہوتا۔

ایسے افراد سے بحث و مباحثہ کرنا فضول ہے۔ ہمارا اعتراض ان لوگوں سے ہے جنہوں نے اس حدیث کو اپنی بعض کتابوں میں تفصیل سے اور بعض کتابوں میں مختصر اور مجمل طریقے سے ذکر کیا ہے، یعنی ایک طرح سے حقیقت بیان کرنے سے چشم پوشی کی ہے۔

ہمارا اعتراض ان افراد پر ہے جن لوگوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب کے پہلے ایڈیشن میں تو شامل کیا لیکن اسکے بعد کے ایڈیشن میں کسی دباؤ اور خوف و ہراس سے حذف کردیا ہے۔

یہاں پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے انتقال کے بعد حضرت علیؑ کے فضائل و حقوق کو پوشیدہ رکھا گیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اب یہاں پرہم اس بات کی تشریح کررہے ہیں۔

تاریخی حقایق کا چھپانا

محمد بن جریر طبری جو تاریخ اسلام کا ایک عظیم مؤرخ ہے، اس نے اپنی تاریخ طبری میں اس تاریخی فضیلت کو معتبر سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن جب اپنی تفسیر[3] میں اس آیت ’’وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ‘‘ پر پہونچتا ہے تو اس سند کو توڑ مروڑ کر مجمل اور مبہم نقل کرتا ہے جس کی وجہ تعصب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ان کتابوں میں بھی معتبر سند کے ساتھ یہ واقعہ موجود ہے جس کا، قارئین کرام مطالعہ فرما سکتے ہیں، تاریخ طبری ج2، ص 216؛ تفسیر طبری، ج19، ص74؛ کامل ابن اثیر، ج2، ص24؛ شرح شفای قاضی عیاض، ج3، ص37؛ سیرۂ حلبی ج1، ص321 وغیرہ۔ اس حدیث کو تاریخ و تفسیر لکھنے والوں نے دوسرے طریقے سے بھی نقل کیا ہے جن کو ہم یہاں نقل کرنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔

جیسا کہ پیغمبر ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو آپ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دینے کے بعد جب دعوت ختم ہوئی تو حاضرین کو مخاطب کر کے پوچھا تھا: ’’فَأَيُّكُمْ يُوازِرُني عَلى أَنْ يَكُونَ أَخي وَ وَصِيّي وخَلِيفَتي؟‘‘ لیکن طبری نے اس سوال کو اس طرح نقل کیا ہے، ’’فَأَيُّكُمْ يُوازِرُني عَلى أَنْ يَكُونَ أَخي وَ كَذا وكَذا؟‘‘

تعجب کی بات نہیں ہے کہ دو کلمے ’’وَصِيّي وخَلِيفَتي‘‘ کو تبدیل کر کے مبہم اور مجمل الفاظ کو اس کی جگہ پر ذکر کرنا سوائے تعصب اور خلیفہ کے مقام و منزلت کو گھٹانے کے کچھ نہیں ہے۔ اس نے نہ صرف پیغمبر ﷺ کے سوال میں تحریف کی ہے، بلکہ حدیث کا دوسرا حصہ جو پیغمبر اسلام ﷺ نے حضرت علی (ع) سے فرمایا تھا کہ: ’’انَّ هذا اخى وَ وَصِيّى وَ خَليفَتى‘‘ بھی بدل ڈالا ہے، اور دو ایسے الفاظ جو حضرت علی (ع) کی بلا فصل خلافت پر واضح دلیل تھے کو ایسے لفظوں یعنی کذا و کذا سے بدل دیا ہے جو غیر معروف اور غیر مشہور ہیں۔

ابن کثیر شامی جس کی تاریخ کی اساس تاریخ طبری ہے، لیکن جب اس سند تک پہونچا ہے تو تاریخ طبری کو چھوڑ کر طبری کی تفسیر کی روش کی پیروی کی اور وہ بھی مبہم اور مجمل طریقے سے۔ ان تمام چیزوں سے بدتر وہ تحریف ہے جسے اس زمانے کے روشن فکر اور مصر کے مشہور مورخ ڈاکٹر محمد حسنین ہیکل نے اپنی کتاب ’’حیات محمد‘‘ میں کی ہے۔ اور خود اپنی کتاب کے معتبر ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

کیونکہ اولاً انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے دو حساس جملوں کو جودعوت کے آخر میں پیغمبر ﷺ نے بعنوان سوال فرمایا تھا اس کو نقل کیا ہے لیکن اس دوسرے جملے کو جو پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) سے فرمایا تھا کہ تو میرا بھائی، وصی اور میرا خلیفہ ہے کو بالکل حذف کردیا اور اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔

ثانیاً اپنی کتاب کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن میں اپنا تعصب کچھ اور بھی دکھایا اور اس حدیث کے پہلے حصے کو بھی حذف کردیا۔ گویا متعصب افراد نے انہیں اس پہلے جملے کو نقل کرنے پر ہی بہت ملامت کی، اور اس کتربیونت کی وجہ سے ناقدینِ تاریخ کو تنقید کا موقع دیا، اور اپنی کتاب کے اعتبار کو گرا دیا۔

اسکافی کا بیان

اسکافی نے اپنی مشہور و معروف کتاب میں حضرت علیؑ کے فضائل میں سے اس تاریخی فضیلت کا تذکرہ کیا ہے کہ حضرت علی (ع) نے اپنے باپ، چچا اور بنی ہاشم کی بزرگ شخصیتوں کے سامنے پیغمبر ﷺ سے عہد و پیمان باندھا کہ ہم آپ کی مدد کریں گے اور پیغمبر ﷺ نے انہیں اپنا بھائی، وصی اور خلیفہ قرار دیا۔ اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں: ’’وہ افراد جو یہ کہتے ہیں کہ امام بچپن میں ہی صاحب ایمان تھے، اوریہ وہ زمانہ ہوتا ہے کہ جب بچہ اچھے اور برے میں تمیز نہیں کر پاتا، اس تاریخی فضیلت کے سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟

کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کثیر تعداد میں موجود افراد کے کھانے کا انتظام ایک بچے کے حوالے کریں؟ یا ایک چھوٹے بچے کو حکم دیں کہ بزرگان کو کھانے پر مدعو کرے؟ کیا یہ بات صحیح ہے کہ پیغمبر ﷺ ایک نابالغ بچے کو راز نبوت بتائیں اور اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ میں دیں اور اسے اپنا بھائی، وصی اور اپنا خلیفہ لوگوں کےلئے معین کریں؟

بالکل نہیں! بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ حضرت علی (ع) اس دن جسمانی قوت اور فکری لحاظ سے اس حد پر پہونچ چکے تھے کہ ان کے اندر ان تمام کاموں کی صلاحیت موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس بچے نے کبھی بھی دوسرے بچوں سے انسیت نہ رکھی اور نہ ان کے گروہ میں شامل ہوئے اور نہ ہی ان کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہوئے۔

بلکہ جس وقت سے پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ نصرت و مدد اور فداکاری کا پیمان باندھا تو اپنے کئے ہوئے وعدے پر قائم و مستحکم رہے اور ہمیشہ اپنی گفتار کو پیغمبر ﷺ کے کردار میں ڈھالتے رہے اور پوری زندگی پیغمبر ﷺ کے مونس و ہمدم رہے۔

وہ نہ صرف اس موقع پر پہلے شخص تھے جو سب سے پہلے پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت پر اپنے ایمان کا اظہار کیا، بلکہ اس وقت بھی جب کہ قریش کے سرداروں نے پیغمبر ﷺ سے کہا کہ اگر آپ ﷺ اپنے وعدے میں سچے ہیں اور آپ کا رابطہ خدا سے ہے تو کوئی معجزہ دکھائیں (یعنی حکم دیں کہ خرمے کا درخت یہاں سے اکھڑ کر آپ کے سامنے کھڑا ہوجائے) تو اس وقت بھی حضرت علی (ع) وہ واحد شخص تھے جو تمام لوگوں کے انکار کرنے کے باوجود اپنے ایمان کا لوگوں کے سامنے اظہار کیا۔[4]

حضرت علی (ع) نے قریش کے سرداروں کے معجزہ طلبی کے واقعے کو اپنے ایک خطبہ میں نقل کیا ہے۔ امام (ع) فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے ان لوگوں سے کہا: اگر خدا ایسا کرے تو کیا خدا کی وحدانیت اور میری رسالت پر ایمان لاؤ گے؟ سب نے کہا: ہاں یا رسول اللہ۔

اس وقت پیغمبر ﷺ نے دعا کی اور خدا نے ان کی دعا کو قبول کیا اور درخت اپنی جگہ سے اکھڑ کر پیغمبر ﷺ کے سامنے بڑے ادب سے کھڑا ہوگیا۔ معجزہ طلب کرنے والے سرداروں نے کفر و عناد و عداوت کی راہ اختیار کی اور تصدیق کرنے کے بجائے پیغمبر ﷺ کو جادوگر کے خطاب سے نوازا، اور میں پیغمبر ﷺ کے پاس کھڑا تھا، میں نے ان کی طرف رخ کر کے کہا:

اے پیغمبر! میں وہ پہلا شخص ہوں جو آپ کی رسالت پر ایمان لایا، اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ درخت نے اس کام کو خدا کے حکم سے انجام دیا ہے تاکہ آپ کی نبوت کی تصدیق کرے اور آپ کے قول کو سچا کر دکھائے۔ اس وقت میرا یہ اعتراف کرنا اور تصدیق کرنا ان لوگوں پر گراں گزرا، ان لوگوں نے کہا کہ تمہاری تصدیق علی کے علاوہ کوئی نہیں کرے گا۔[5]

خاتمہ

معاویہ کے دور حکومت میں حضرت علیؑ کے فضائل اور ان کے حق پر دست درازی کا سلسلہ شروع ہوا، جو وہیں تھم نہیں سکا، بلکہ اموی پیروکار، جو بغض علی (ع) میں شدت اختیار کر چکے تھے، آج بھی اسی روش پر قائم ہیں اور حضرت علیؑ کے فضائل گھٹانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ طبری، ابن کثیر شامی، ابن تیمیہ اور ڈاکٹر محمد حسنین ہیکل جیسے مورخین، جنہوں نے اہل بیتِ پیغمبر ﷺ سے عناد رکھا، حضرت علیؑ کے فضائل اور حق کو پامال کرنے میں کسی تردد کا شکار نہیں ہوئے۔

حوالہ جات

[1]۔ سورہ: شعراء، آیت 216۔214۔
[2]۔ تفسیر سورہ شعراء آیت نمبر 214 کی طرف رجوع کریں۔
[3]۔ طبری، تفسیر طبری، ج19، ص74۔
[4]۔ اسکافی، النقض علی العثمانیہ، ص۲۵۲؛ ابن ابی الحد ید، شرح نھج البلاغہ، ج۱۳، ص۲۴۴۔۲۴۵۔
[5]۔ عبده، شرح نهج‌البلاغه، خطبہ 238۔

کتابیات

1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن هبةالله، شرح نهج البلاغة، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۸۵ھ ق۔
3۔ اسکافی، محمد بن عبد الله، النقض علی العثمانیہ، قم، کتابخانه عمومی آیت الله مرعشی نجفی (ره)، ۱۳۸۳ھ ش۔
4۔ طبری، محمد بن جریر، جامع البیان عن تأویل القرآن، قاہرہ، دار المعارف، 1389ھ ق۔
5۔ عبده، محمد، شرح نهج‌البلاغه، قاہرہ، مطبعہ الاستقامہ۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، دوسرا باب، دوسری فصل، ص۳۵ تا ۴۵، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔