نومولود کی آمد زندگی میں ایک ایسا لطیف اور نازک مرحلہ ہے جس میں ایک ننھا سا وجود مکمل نیازمندی اور کمزوری کے ساتھ نئے عالم میں قدم رکھتا ہے۔ وہ اپنے احساسات کو بھوک، سردی اور بے چینی کی صورت میں ظاہر کرتا ہے اور اپنی ہر ضرورت کے لئے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ نومولود نہ کسی کو پہچانتا ہے، نہ کسی آواز یا منظر کے معانی سمجھتا ہے، مگر اس کی نرم و لطیف روح ہر لمس، ہر آواز اور ہر رویے سے اثر قبول کرتی ہے۔ اسی ابتدائی مرحلے میں رکھا جانے والا ہر نقش اس کی آئندہ کی شخصیت، اخلاق اور دینی رجحانات کے لئے بنیاد بن جاتا ہے، اس لئے نومولود کی پرورش انتہائی حکمت اور توجہ چاہتی ہے۔
نومولود کی اخلاقی تربیت
جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو بہت کمزور ہوتا ہے۔ عقل بالقوت رکھتا ہے مگر کچھ شے سمجھتا نہیں، فکر اور سوچ بچار نہیں کرتا، آنکھ سے دیکھتا ہے لیکن کسی شے کو پہچانتا نہیں۔ رنگوں اور شکلوں کو مُشخّص نہیں کر پاتا، دوری اور نزدیکی، بزرگی اور بچپن کو نہیں سمجھتا، آوازیں سنتا ہے لیکن ان کے معانی اور خصوصیات اس کی سمجھ میں نہیں آتے اور یہی حالت اس کے تمام حواس کی ہے مگر وہ سمجھنے اور کمال تک پہنچنے کی وقت و استعداد رکھتا ہے تدریجاً تجربوں سے گزرتا ہے اور چیزوں کو سمجھنے لگتا ہے۔
اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔[۱]
اللہ نہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس عالم میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کیا شاید کہ تم شکر گزار ہو جاؤ۔
بچے کی زیادہ تر مصروفیات یہ ہیں کہ وہ کھاتا ہے، سوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں مارتا ہے روتا ہے اور پیشاب کرتا ہے۔ چند ہفتوں تک وہ ان کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ نومولود کے ابتدائی کام اگرچہ بہت سادہ سے اور چند ایک ہیں لیکن انہیں کے ذریعے سے بچہ دوسرے لوگوں سے ارتباط پیدا کرتا ہے، تجربے کرتا ہے، عادتیں اپناتا ہے اور علم حاصل کرتا ہے۔ یہی رابطے اور تجربے ہیں کہ جن سے بچے کی آئندہ کی اخلاق اور معاشرتی خاصیت کی بنیاد پڑتی ہےاور وہ تشکیل پاتی ہے۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا:
اَلْأَيَّامُ تُوضِحُ اَلسَّرَائِرَ اَلْكَامِنَةَ۔[۲]
جوں جوں دن گزرتے ہیں بھید کھلتے ہیں۔
بچہ ایک کمزور معاشرتی فرد ہے کہ جو دوسروں کی مدد کے بغیر نہ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ زندگی بسر کرسکتا ہے، اگر دوسرے اس کی مدد کو نہ لپکیں اور اس کی احتیاجات کو پورا نہ کریں تو وہ مر سکتا ہے۔ نومولود کی جسمانی صحت اور پرورش جن کے ذمے ہوتی ہے اس کی اخلاق، اجتماعی یہاں تک کہ دینی تربیت اور رشد بھی انہیں سے وابستہ ہے۔
سمجھدار اور احساس ذمہ داری کرنے والے ماں باپ اپنے صحیح اور سوچے سمجھے طرز عمل سے نومولود کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں اور اس کے جسم و روح کی پرورش کے لئے بہترین ماحول فراہم کر سکتے ہیں اور اس کی حساس اور بے آلائش روح میں پاکیزہ اخلاق اور نیک عادات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک نادان تربیت کرنے والا اپنے غلط طرز عمل اور اشتباہ سے ایک نومولود کے پاک اور بے آلائش نفس میں برے اخلاق اور ناپسندیدہ عادات پیدا کر سکتا ہے۔ نومولود کو بھوک لگتی ہے اور اسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ اپنی ضرورت کا احساس کرتا ہے اور وہ ایک بڑی قوت کی طرف توجہ کرتا ہے کہ جو اس کی ضروریات کو برطرف کر سکتی ہو اسی لئے وہ روتا ہے، شور مچاتا ہے کہ اس کی فریاد کو پہنچا جائے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے اگر بچے کی داخلی خواہشات کی طرف پوری توجہ کی جائے اور ایک صحیح پروگرام ترتیب دیا جائے اسے معین مواقع پر اور ضروری مقدار میں دودھ دیا جائے تو وہ آرام محسوس کرتا ہے مطمئن ہو کر سوتا ہے اور معین اوقات پر جب اسے بھوک لگتی ہے تو بیدار ہوتا ہے پھر دودھ پیتا ہے اور پھر سو جاتا ہے ایسے بچے کے اعصاب آرام و راحت سے رہتے ہیں۔
اسے اضطراب اور بے چینی نہیں ہوتی، اسے زندگی میں اچھے اخلاق، صبر اور نظم و ضبط کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اس کی حساس روح میں دوسروں پر اعتماد اور حسن ظن کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ نومولود زندگی کے اس مرحلے میں کہ جب وہ کسی کو نہیں پہچانتا فطری طور پر دو امور کی طرف توجہ رکھتا ہے:
ایک اپنی ناتوانی اور نیازمندی کا اسے پورا احساس ہوتا ہے اور دوسری طرف ایک بڑی اور مطلق قوت کی طرف توجہ رکھتا ہے کہ جو تمام احتیاجات کے لئے ملجأ و پناہگاہ ہے اسی سبب سے روتا ہے اور اس برتر قوت کو مدد کے لئے پکار تا ہے جسے وہ پہچانتا نہیں اور وہ غیبی قوت سب اہل جہان کو پیدا کرنے والی ہے بچہ اپنے ضعف و ناتوانی کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک بے نیاز طاقت سے وابستہ اور متعلق سمجھتا ہے۔
اگر یہ احساس تعلق آرام کے ساتھ بخوبی بندھا رہے تو بچے کے دل میں ایمان اور روحانی سکون کی بنیاد پڑ جاتی ہے
پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:
رونے پر بچوں کو نہ مارنا بلکہ ان کی ضروریات کو پورا کرنا کیوںکہ چار ماہ تک بچے کا رونا پروردگار عالم کے وجود اور اس کی وحدانیت پر گواہی ہوتا ہے۔[۳]
چار ماہ پورے ہونے سے پہلے نومولود ابھی ایک معاشرتی وجود نہیں بنا ہوتا۔ کسی کو نہیں پہچانتا۔ جتنی اپنی ماں اور دوسروں میں فرق نہیں کر پاتا اور ماؤں کے بقول وہ دوری نہیں کرتا یہی چار ماہ ہیں کہ بچہ بس ایک ہی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن جو بچہ ماں کی غفلت اور سستی کی وجہ سے صحیح اور منظم توجہ اور غذا سے محروم ہو جاتا ہے، ناچار گاہے بگاہے روتا ہے اور شور کرتا ہے تا کہ کوئی اس کی مدد کو پہنچے۔ ایسے بچے کے اعصاب اور ذہن ہمیشہ مضطرب اور دگرگوں رہتے ہیں اور اسے آرام نہیں ملتا۔ آہستہ آہستہ وہ چڑ چڑا اور تندخو ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر بے اعتمادی اور پریشانی کی حس پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ایک نا منظم اور ڈھیٹ وجود بن جاتا ہے۔
نومولود اور دینی تربیت
یہ صحیح ہے کہ نومولود الفاظ اور جملے نہیں سمجھتا۔ مناظر اور شکلوں کی خصوصیات کو پہچان نہیں سکتا۔ لیکن آوازوں کو سنتا ہے اور اس کے اعصاب اور ذہن اس سے متاثر ہوتے ہیں اسی طرح سے مناظر اور شکلوں کو دیکھتا ہے اور اس کے اعصاب اس سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
لہذا اس بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دیکھی جانے والی اور سنی جانے والی چیزیں نومولود پر اثر نہیں کرتیں اور وہ ان کے بارے میں بالکل لاتعلق ہوتا ہے۔ نومولود اگرچہ جملوں کے معانی نہیں سمجھتا لیکن یہ جملے اس کی حساس اور ظریف روح پر نقش پیدا کرتے ہیں۔ بچہ رفتہ رفتہ ان جملوں سے آشنا ہو جاتا ہے اور یہی آشنائی ممکن ہے اس کے آئندہ کے لئے مؤثر ہو۔
جس لفظ سے ہم زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس کے معنی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ناآشنا افراد کی نسبت آشنا افراد کو ہم زیادہ پسند کرتے ہیں ایک بچہ ہے کہ جو دینی ماحول میں پرورش پاتا ہے، سینکڑوں مرتبہ اس نے تلاوت قرآن کی دلربا آواز سنی ہے، اللہ کا خوبصورت لفظ اس کے کانوں سے ٹکرایا ہے اور اس نے اپنی آنکھوں سے بارہا ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ دوسری طرف ایک نومولود ہے کہ اس نے برے اور بے دین، ماحول میں پرورش پائی ہے، اس کے کانوں نے غلیظ اور گندے سنے ہیں اور اس کی آنکھیں فحش مناظر دیکھنے کی عادی ہوگئی ہیں۔
یہ دونوں بچے ایک جیسے نہیں ہیں۔ سمجھدار اور ذمہ دار ماں باپ اپنے بچوں کو تربیت کے لئے کسی موقع کو ضائع نہیں کرتے یہاں تک کہ اچھی آوازیں اور اچھے مناظر سے انہیں مانوس کرنے سے بھی غفلت نہیں کرتے۔ رسول اسلام ﷺ نے بھی اس حساس تربیتی نقطے کو نظر انداز نہیں کیا اور اپنے پیروکاروں کو حکم دیا ہے کہ: جونہی بچہ دنیا میں آئے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہیں۔
حضرت علی (ع) نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے یہاں بھی بچہ ہو اسے چاہئے کہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہے تا کہ وہ شر شیطان سے محفوظ رہے۔ آپ ﷺ نے امام حسن (ع) اور امام حسین(ع) کے بارے میں بھی اسی حکم پر عمل کرنے کے لئے کہا۔ علاوہ ازیں حکم دیا کہ ان کے کانوں میں سورہ حمد، آیت الکرسی، سورہ حشر کی آخری آیات، سورہ اخلاص، سورہ الناس اور سورہ الفلق پڑھی جائیں۔[۴] بعض احادیث میں آیا ہے: خود رسول اللہ نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے کان میں اذان و اقامت کہی۔
جی ہاں! رسول اسلام ﷺ جانتے تھے کہ نومولود اذان، اقامت اور قرآنی الفاظ کے معانی نہیں سمجھتا لیکن یہی الفاظ بچے کے ظریف اور لطیف اعصاب پر جو اثر مرتب کرتے ہیں آپ ﷺ نے اسے نظر انداز نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی اس نکتے کی طرف توجہ تھی کہ یہ جملے بچے کی روح اور نفسیات پر نقش مرتب کرتے ہیں اور اسے ان سے مانوس کرتے ہیں۔
اور الفاظ سے یہ مانوسیت بے اثر نہیں رہے گی۔ علاوہ ازیں ممکن ہے کہ اس تاکیدی حکم کے لئے رسول ﷺ کے پیش نظر کوئی اور بات ہو۔ شاید وہ چاہتے ہوں کہ ماں باپ کو متوجہ کریں کہ بچے کی تعلیم و تربیت کے بارے میں سہل انگاری درست نہیں ہے اور اس مقصد کے لئے ہر ذریعے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
جب ایک باشعور مربی نومولود کے کان میں اذان اور اقامت کہتا ہے تو گویا اس کے مستقبل کے لئے واضح طور پر اعلان کرتا ہے اور اپنے پیارے بچے کو خدا پرستوں کے گروہ سے ملحق کر دیتا ہے۔ بچے پر ہونے والے اثر کا تعلق صرف سماعت سے متعلق نہیں ہے بلکہ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جو چیز بھی بچے کے حواس، ذہن اور اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے اس کی آئندہ کی زندگی سے لاتعلق نہیں ہوتی مثلاً جو نومولود کوئی بے حیائی کا کام دیکھتا ہے اگرچہ اسے سمجھ نہیں پاتا، لیکن اس کی روح اور نفسیات پر اس برے کام کا اثر ہوتا ہے اور یہی ایک چھوٹا کام ممکن ہے اس کے انحراف کی بنیاد بن جائے۔
اسی لئے پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: گہوارہ میں موجود بچہ اگر دیکھ رہا ہو تو مرد کو نہیں چاہئے کہ اپنی بیوی سے مباشرت کرے۔[۵]
احساس وابستگی
نومولود بہت کمزور سا وجود ہے جو دوسروں کی مدد کے بغیر نہ زندہ رہ سکتا ہے نہ پرورش پا سکتا ہے، نومولود ایسا محتاج وجود ہے جس کی ضروریات دوسرے پوری کرتے ہیں۔ جب وہ رحم مادر میں تھا تو اسے نرم و گرم جگہ میسّر تھی۔ وہاں اس کی غذا اور حرارت کی احتیاج ماں کے ذریعے پوری ہو رہی تھی۔
وہ چین سے ایک گوشے میں پڑا تھا اور اپنی ضروریات کے لئے بالکل بے فکر تھا۔ اب جب کہ وہ دنیا میں آیا ہے تو احساسِ نیاز کرتا ہے۔ بچے کا پہلا پہلا احساس شاید سردی کے بارے میں ہوتا ہے اور اس کے بعد بھوک کے بارے میں۔ اسے پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ حرارت اور غذا کے لئے وہ دوسرے کا محتاج ہے۔ اس مرحلے میں وہ کسی کو نہیں پہچانتا۔ اپنی ضروریات کو فطرتاً سمجھتا ہے اور ایک انجانی قدرتِ مطلقہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اپنے تئیں اس قدرتِ مطلقہ سے منسلک سمجھتا ہے۔ اسے انتظار ہوتا ہے وہ قدرت اس کی ضروریات کو پورا کرے گی۔
بچہ زندگی کی ابتدا ہی میں کسی سے وابستگی کا احساس کرتا ہے اور یہ احساس زندگی کے تمام مراحل میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ بھوک یا پیاس لگے تو دوسروں کو متوجہ کرنے کے لئے روتا ہے۔ ماں کے سینے سے چمٹ جاتا ہے اور اس کی محبتوں اور لوریوں سے سکون محسوس کرتا ہے۔
اگر اسے کوئی تکلیف ہو یا کسی خطرے کا احساس کرے تو ماں کے دامن میں پناہ لیتا ہے۔ یہی وابستگی اور احساس ضرورت ہے جو بعد میں دوسرے لوگوں کی تقلید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی وابستگی ہے۔ بچہ اپنے اخلاق اور طرز عمل کو اپنے ارد گرد والوں کے اخلاق اور طرز عمل کے مطابق ڈھالتا ہے۔
یہی احساس تعلق ہے جو بعد ازاں کھیلوں اور دوسرے سے مل جل کر کام کرنے اور دوست بنانے میں ظاہر ہوتا ہے۔ بیوی بچوں سے الفت و محبت کا سرچشمہ بھی یہی احساس ہے اجتماعی زندگی کی طرف میلان، باہمی تعاون اور مل جل کر کام کرنے کا مزاج بھی اسی احساس سے تشکیل پاتا ہے۔ احساس وابستگی کو کوئی معمولی سی چیز نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ بچے کی اخلاقی اور سماجی تربیت اور اس کی تکمیل شخصیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر اس احساس وابستگی و تعلق کی صحیح طور پر رہنمائی کی جائے تو بچہ آرام و سکون محسوس کرتا ہے۔
وہ پر اعتماد اور خوش مزاج ہو جاتا ہے۔ اچھی امیدوار توکل کی کیفیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے بارے میں اس میں حسن ظن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس طرح معاشرتی زندگی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ دوسروں کو اچھا سمجھتا ہے اور ان سے تعاون کی امید رکھتا ہے۔ جب معاشرے کے بارے میں اس کی رائے اچھی ہوگی تو اس سے تعاون بھی کرے گا اور اس کے لئے ایثار بھی کرے گا۔
معاشرے کے لوگ بھی جب اسے اپنا خیرخواہ اور خدمت گزار سمجھیں گے تو وہ بھی اس سے اظہار محبت کریں گے۔ اس کے برعکس اگر یہ گراںبہا احساس کچلا جائے اور اس سے صحیح طور پر استفادہ نہ کیا جائے تو خدا نے جو صحیح راستہ بچے کے لئے مقرر کیا ہے اس کی اجتماعی زندگی اس سے بھٹک جائے گی۔
ماہرین نفسیات کا نظریہ ہے کہ بہت سے مواقع پر خوف، اضطراب، بے اعتمادی، بدگمانی، شرمندگی، گوشہ نشینی، افسردگی اور پریشانی یہاں تک کہ خودکشی اور جرائم کی بنیاد بچپن میں پیش آنے والے واقعات ہوتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے کے احساس وابستگی کو صحیح طرح سے مطمئن کریں تو ہمیشہ اس کے مددگار ہیں۔ جب اسے بھوک لگے تو غذا دیں اور اس کے لئے آرام و راحت کا سامان فراہم کریں۔ اگر اسے درد ہو یا کوئی اور تکلیف پیش آئے تو فوراً اس کی داد رسی کریں۔
اس کی نیند اور خوراک کو منظم رکھیں۔ اس طرح سے کہ اسے بالکل پریشانی نہ ہو اور وہ آرام کا احساس کرے۔ نومولود کو مارپیٹ نہ کریں۔ نومولود کچھ نہیں پہچانتا۔ اسے صرف اپنی ضرورت کا احساس ہوتا ہے اور ایک انجانی قدرت پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ رونے کی زبان سے اس کی پناہ حاصل کرتا ہے اور اپنی احتیاج کا اظہار کرتا ہے۔ مارپیٹ کے ذریعے اسے مایوس اور بدظن نہ کردیں۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: بچوں کو رونے پر مارنا نہیں چاہئے کیونکہ چار ماہ تک اپنے اس رونے کے ذریعے وہ اللہ اور اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔[۶]
ہر حال میں بچے کے مددگار رہیں اگر وہ کوئی انجام دینا چاہتا ہے اور آپ اس کی مدد نہیں کر سکتے تو بھی اس سے نوازش و محبت سے پیش آئیں۔ اگر بچہ پریشان ہو اور وہ ناراحتی محسوس کرتا ہو تو اس پریشانی کے اسباب ختم کریں اور اس کو مطمئن کریں اسے ہرگز ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ میں تمہیں یہیں چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ کیونکہ یہی ڈانٹ ڈپٹ ممکن ہے اس کی روح پر برا اثر کرے اور اسے پریشان کردے۔ بچہ چاہتا ہے کہ وہ ماں باپ اور دوسروں کو محبوب ہو۔ اگر ماں باپ اس سے محبت نہ کریں تو وہ اس پر سخت پریشان ہوتا ہے۔
وہ ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ ان کا پیارا اور محبت ہمیشہ باقی رہے۔ بعض ماں باپ بچے کے اس جذبے سے استفادہ کرتے ہیں اور بچے کو ڈانٹتے ہیں کہ اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو ہم تم سے پیار نہیں کریں گے لیکن آپ کو چاہئے کہ اس حربے کو استعمال نہ کریں۔ کیونکہ اس طرح کی ڈانٹ ممکن ہے تدریجاً بچے کی روح پر برے اثرات مرتب کرے اور اس سے اس کا اعتماد اور آرام جاتا رہے اور یہ بچے کے ضعیف اعصاب اور داخلی اضطراب کا سبب بن جائے۔
اگر وہ رو رہا ہو یا شور کر رہا ہو تو وہ یہ نہیں چاہ رہا ہوتا کہ آپ کو بے آرام کرے بلکہ وہ آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہ رہا ہوتا ہے تا کہ آپ اس کی بات سنیں۔ آپ صبر اور سمجھداری کے ساتھ اس کی بے آرامی کی وجوہ سمجھیں اور اس بے آرامی کو دور کریں۔ تا کہ اسے آرام ملے۔
اگر آپ اسے رونے پر ڈانٹیں گے یا ماریں گے تو ممکن ہے وہ خاموش ہو جائے لیکن کیسے خاموش؟ ایک اضطراب آمیز مایوسانہ خاموشی کہ جو بہت خطرناک ہے جو ممکن ہے اس کے مستقبل کو دگرگوں کر دے۔ ماں باپ کی موجودگی سے بچہ ہمیشہ خوش رہتا ہے اور ان کی جدائی سے وحشت کھاتا ہے۔
آپ کبھی اپنی موت کے بارے میں اس سے بات نہ کریں کیونکہ یہ اس کی پریشانی اور وحشت کا سبب ہوگی۔ اگر آپ بیمار ہو جائیں تو موت کا ذکر نہ کریں۔ بلکہ اپنے بچوں کو پُرامید رکھیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں اگر آپ ایک عرصے کے لئے بچوں سے دور ہونے پر مجبور ہوں تو پہلے انہیں اس پر آمادہ کریں۔
ان کا دل بڑھائیں پھر سفر اختیار کریں اور اس کے بعد ابھی ہمیشہ ان سے رابطہ برقرار رکھیں اور نامہ و پیام کے ذریعے سے ان کی ڈھارس بندھواتے رہیں۔ اگر آپ کا بچہ بیمار ہو جائے تو دوا کھلانے کے لئے اسے موت سے اور اچھا نہ ہونے سے نہ ڈرائیں۔ بلکہ ایسے مواقع پر تشویش کی راہ اختیار کریں اور اسے صحیح ہوجانے کی امید دلائیں۔ یہاں تک کہ اسے اگر کوئی خطرناک بیماری ہو تو اپنی پریشانی اور اضطراب کو اس سے چھپائے رکھیں۔
مختصر یہ کہ پوری عمر اپنے بچوں سے ایسا سلوک رکھیں کہ وہ آپ کو اپنا بہترین غمگسار اور غمخوار سمجھیں۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ بچے سے اظہار محبت ضروری حد تک اور ضروری مقامات پر ہونا چاہئے۔ اس طرح سے کہ وہ لاڈ پیار سے بگڑ نہ جائے اور خود اعتمادی سے محروم نہ ہو جائے۔ جہاں بچہ واقعی کوئی کام نہ کر سکتا ہو اس کی مدد کرنا چاہئے لیکن اگر وہ ایک کام خود کر سکتا ہے اور اسے مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ دوسروں پر رعب جمانے کے لئے شور کر رہا ہو تو اس کی طرف اعتناء نہیں کرنا چاہئے۔
راسل لکھتا ہے: اگر بچہ کسی وجہ اور واضح علت کے بغیر روئے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے اور وہ جتنا چِلّائے چِلّانے دیں۔ ایسے مواقع پر اگر کوئی اور روش اپنائی گئی تو وہ جلد ہی ایک جابر حاکم کی صورت اختیار کر لے گا ایسے مواقع کہ جہاں ضرورت ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے وہاں بھی افراط سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ حسبِ ضرورت طرز عمل اپنانا چاہئے اور زیادہ ہی اظہارِ محبت نہیں کرنا چاہئے۔[۷]
خاتمہ
نومولود کی نازک دنیا ماں باپ کے ہر لمس، ہر آواز اور ہر طرزِ عمل سے تشکیل پاتی ہے۔ وہ محتاجی کے باوجود ایک ایسی لطیف حس رکھتا ہے جو محبت اور بے توجہی کے فرق کو فوراً محسوس کر لیتی ہے۔ اگر اسے وقت پر غذا، سکون، تحفظ اور محبت ملے تو اس کے اندر اعتماد اور حسنِ ظن کی بنیاد مضبوط ہو جاتی ہے۔ لیکن اسے ابتدائی دنوں میں اضطراب اور غفلت کا سامنا کرے تو وہی کیفیتیں اس کے اخلاق اور رویّوں میں جڑ پکڑ سکتی ہیں۔ اسی لئے نومولود کی تربیت دراصل انسان کی اپنی ذمہ داری کے شعور اور اس کے اخلاقی معیار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
حوالہ جات
[۱]۔ نحل: ۷۸۔
[۲]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۴۷۔
[۳]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۱۰۴، ص۱۰۳۔
[۴]۔ نوری، مستدرک، ج۲، ص۶۱۹۔
[۵]۔ نوری، مستدرک، ج۲، ص۵۴۶۔
[۶]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰۴، ص۱۰۳۔
[۷]۔ رسل، در تربیت، ص۷۹۔
کتابیات
۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم: مجموعة من کلمات و حکم الإمام علی (ع)، قم، دار الکتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ق۔
۳۔ راسل، برتراند، در تربیت، تهران، عطائی، ۱۳۴۷ش۔
۴۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، قم، مؤسسة الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
۵۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسه آلالبیت علیہالسلام لإحیاء التراث، ۱۴۰۸ق۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
امینی، ابراهیم، آئین تربیت، ترجمہ: قیصر عبّاس و ثاقب نقوی، لاہور، مصباح الہدیٰ پبلیکیشنز۔ (نسخہ برقی توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔