آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی نجفی کی وصیت ایک طویل علمی، روحانی اور عملی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس وصیت میں عبادت و بندگی، تزکیۂ نفس، علم و تحقیق، خدمت دین، صلۂ رحمی، حسن اخلاق، اہل بیت (ع) سے وابستگی اور مستحقین کی خدمت جیسے پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ آپ کی یہ وصیت اور نصیحتیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ انسان کی حقیقی کامیابی دنیوی جمع آوری میں نہیں بلکہ علم، تقویٰ، اخلاص اور خدمت خلق کے ذریعے آخرت کا سرمایہ تیار کرنے میں ہے۔ آپ کی وصیت میں انہی بنیادی اصولوں کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔
زندگی نامہ
آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی نجفی ۲۰ صفر ۱۳۱۵ ہجری قمری کی صبح عراق کے شہر نجف اشرف میں ایک معروف علمی و مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا نسب ۳۳ واسطوں سے حضرت امام زین العابدین علی بن الحسین (ع) علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔
آیت اللہ مرعشی نجفی درجۂ اجتہاد پر فائز ہونے کے چند سال بعد، ۱۳۴۲ ہجری قمری میں ایران تشریف لے گئے۔ مشہد مقدس کی زیارت کے بعد تہران گئے، جہاں انہوں نے تحقیق اور نامور اساتذہ سے استفادہ کا سلسلہ ایک لمحے کے لیے بھی منقطع نہ کیا۔ انہوں نے شیخ عبدالنبوی نوری، شیخ حسین نجم آبادی اور مرزا طاہر تنکابنی جیسے بزرگ علما سے کسب فیض کیا۔
بالآخر ۱۳۴۳ ہجری قمری میں وہ قم تشریف لے گئے اور حوزۂ علمیہ قم کے بانی آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری یزدی کی دعوت اور درخواست پر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ اسی سال انہیں حوزۂ علمیہ کے باقاعدہ اور ممتاز درجۂ اول کے مدرسین میں شامل کر لیا گیا۔
آخرکار اسلامی ثقافت کے فروغ، شیعی افکار کی تجدید و احیا، اور علمی و سماجی میدانوں میں تقریباً ایک صدی پر محیط گراں قدر خدمات انجام دینے کے بعد، بدھ کے روز ۷ صفر ۱۴۱۱ ہجری قمری، مطابق ۱۹۹۰-۰۸-۲۹ عیسوی، ۹۶ برس کی عمر میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔
وصیت نامے سے اخلاقی و روحانی نکات
آیت اللہ مرعشی نجفی کا وصیت نامہ ان کی علمی، روحانی اور اخلاقی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس وصیت نامے میں عبادت، تزکیۂ نفس، علم دین، زہد، صلۂ رحمی اور معاشرتی اخلاق جیسے اہم موضوعات پر نہایت مؤثر نصیحتیں ملتی ہیں۔ اسی لیے اس وصیت نامے کا مطالعہ ان کی شخصیت، ان کی اخلاقی فکر اور ان کی وصیت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ معاصر انسان کے لیے بھی عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
یہ وصیت نامہ دراصل ان کے بیٹے کے لیے ہے لیکن یہ ہم سب کے لیے سبق آموز اور رہنمائے زندگی ہے۔ آئیے ہم اس وصیت نامے کا مطالعہ کرتے ہوئے اس وصیت میں موجود نصیحتوں سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنے لیے سرمایۂ آخرت کا انمول خزانہ تیار کریں۔
دین اور مذہب کی خدمت
میں وصیت کرتا ہوں کہ کمر ہمت باندھیں اور پوری مضبوطی، عزم اور استقامت کے ساتھ دین حنیف کی تبلیغ اور مذہب حقۂ اثنا عشریہ کے دفاع کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ یہ مذہب اس حالت میں بھی اجنبی اور بے یار و مددگار ہے کہ گویا بلند آواز سے پکار رہا ہے:
«هَلْ مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُنِي؟ هَلْ مِنْ ذَابٍّ يَذُبُّ عَنِّي؟ وَلَا أَرَى مَنْ يُلَبِّي دَعْوَتَهُ، وَيُجِيبُ صَرْخَتَهُ، إِلَّا الْقَلِيلَ. شَكَرَ اللَّهُ مَسَاعِيَهُمْ، وَجَزَاهُمْ خَيْرَ الْجَزَاءِ.» "کیا کوئی مددگار ہے جو میری مدد کرے؟ کیا کوئی ایسا مدافع ہے جو میری طرف سے دفاع کرے؟ لیکن میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کسی کو نہیں دیکھتا جو ان کی دعوت پر لبیک کہے اور ان کی فریاد کا جواب دے۔ اللہ ان کی کوششوں کو شرف قبولیت بخشے اور انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔”
قرآن میں غور و فکر اور موت کی یاد
میں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کی کتاب میں غور و فکر کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اور قبرستانوں اور اہل قبور کی زیارت کریں اور سوچیں کہ یہ لوگ کل کون تھے اور آج کیا بن گئے ہیں؛ کل ان کی کیا حالت تھی اور آج کیا حالت ہے؛ وہ کہاں تھے اور آج کہاں ہیں؟
نیز میں وصیت کرتا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ میل جول اور نشست و برخاست کو کم کریں، کیونکہ اس زمانے میں معاشرت میں ممانعت بھی ہے اور خطرات بھی۔ بہت کم ایسی محفلیں ہوتی ہیں جو اہل ایمان پر تہمت، غیبت، عیب جوئی، تحقیر، حقوق کی پامالی اور برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے سے خالی ہوں۔
صلۂ رحمی
میں صلۂ رحمی کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ توفیق الٰہی، عمر میں برکت اور رزق کی فراوانی کے سب سے طاقت ور اسباب میں سے ہے۔ میں انہیں خصوصاً شیعہ امامیہ کے علما کی کتابوں اور علمی آثار کی تصنیف، تالیف اور اشاعت کی سفارش کرتا ہوں، بالخصوص گذشتہ بزرگ علما کی کتابوں کی؛ کیونکہ انحطاط اور الٹے زمانے میں مذہب کی تقویت کا یہ بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔
زہد، تقویٰ اور احتیاط
میں زہد، دنیا کی ظاہری شان و شوکت سے بے اعتنائی، ورع، پرہیزگاری اور احتیاط کی راہ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ میں انہیں زیارت جامعہ کبیرہ کی پابندی سے تلاوت کی وصیت کرتا ہوں، خواہ ہفتے میں ایک مرتبہ ہی کیوں نہ ہو۔ میں انہیں دینی علوم کے حصول میں مشغول رہنے اور بھرپور کوشش کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
علمی آثار کی تکمیل
میں اپنی کتاب «مشجرات آل رسول (ص)» کی تدوین و ترتیب کی وصیت کرتا ہوں، نیز ان حواشی و تعلیقات کی تکمیل کی بھی جو میں نے کتاب «عمدة الطالب» پر تحریر کیے ہیں۔
اسی طرح میری تمام تصنیفات اور ان تمام علمی آثار کو مرتب اور محفوظ کرنے کی وصیت کرتا ہوں جو میرے قلم سے نکلے ہیں۔ میں نے ان کے لیے بہت سی راتیں صبح تک جاگ کر گزاریں اور دنوں میں بے شمار مشقتیں اٹھائیں، مختلف گوشوں اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں کتابوں سے گوناگوں علوم و فنون کے مطالب جمع کیے۔
غیبت سے پرہیز
میں اللہ کے بندوں کی غیبت سے دور رہنے کی وصیت کرتا ہوں، بالخصوص اہل علم کی غیبت سے، کیونکہ ان کی غیبت زہریلا مردار کھانے کے مانند ہے۔ میں پھر صلۂ رحمی کی سفارش کرتا ہوں، کیونکہ یہ نیک اور صالح اعمال کی توفیق، عمر میں اضافہ اور رزق میں برکت کا سبب ہے۔
روزانہ قرآن کی تلاوت
میں انہیں وصیت کرتا ہوں کہ:
• ہر روز نماز فجر کے بعد ایک مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھیں۔
• نماز ظہر کے بعد سورۂ نبأ، یعنی «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» پڑھیں۔
• نماز عصر کے بعد سورۂ عصر پڑھیں۔
• نماز مغرب کے بعد سورۂ واقعہ پڑھیں۔
• نماز عشاء کے بعد سورۂ ملک پڑھیں۔
اور میں ان اعمال کی پابندی اور تسلسل کی خاص تاکید کرتا ہوں، کیونکہ میں نے خود یہ طریقہ اپنے بزرگ اساتذہ سے روایت کیا ہے اور بارہا اس کا تجربہ بھی کیا ہے۔
قنوت کی خصوصی دعا
میں وصیت کرتا ہوں کہ واجب نمازوں کے قنوت میں اس دعا کی پابندی کریں۔ میں اسے اپنے بزرگ اور والد علّام سے روایت کرتا ہوں، نیز مرحوم شیخ محمد حسین شیرازی، اور ان بزرگوں نے اپنے اساتذہ کے واسطے سے اسے نقل کیا ہے۔
دعا یہ ہے: اللهم إني أسألك بحق فاطمة وأبيها وبعلها وبنيها والسر المستودع فيها، أن تصلي على محمد وآل محمد، وأن تفعل بي ما أنت أهله، ولا تفعل بي ما أنا أهله. اے اللہ! میں تجھ سے حضرت فاطمہ، ان کے والد، ان کے شوہر، ان کے فرزندوں اور اس راز کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے ان میں ودیعت فرمایا ہے کہ محمد و آل محمد پر درود بھیج، اور میرے ساتھ وہ معاملہ فرما جس کا تو اہل ہے، نہ کہ وہ جس کا میں اپنے اعمال کی وجہ سے مستحق ہوں۔
رکوع کے بعد کی دعا
میں وصیت کرتا ہوں کہ خصوصاً آخری رکعت میں رکوع کے ذکر کے بعد اس دعا کی پابندی کی جائے: اللهم صل على محمد وآل محمد، وترحم على عجزنا، وأغثنا بحقهم. اے اللہ! محمد و آل محمد پر درود بھیج، ہماری بے بسی پر رحم فرما اور ان کے حق کے واسطے سے ہماری مدد اور فریاد رسی فرما۔
تسبیحات حضرت فاطمہ زہرا (س)
میں ہماری جدہ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی تسبیحات کی پابندی کی وصیت کرتا ہوں۔ میں اس پاک، منزہ اور عظیم خاتون کے اس خطبے میں غور و فکر کرنے کی بھی وصیت کرتا ہوں جو انہوں نے مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، ایسا خطبہ جس کی مانند کلام پیش کرنے سے بڑے بڑے فصیح و بلیغ لوگ عاجز رہ گئے اور جسے متعدد بزرگ علماء نے نقل کیا ہے۔
اسی طرح میں اپنے مولا امیرالمؤمنین (ع) کے خطبہ شقشقیہ میں تدبر و غور و فکر کرنے کی وصیت کرتا ہوں، جسے متعدد معتبر راویوں نے دونوں مکاتب سے نقل کیا ہے۔
نماز شب اور سحر کا استغفار
میں نہایت تاکید کے ساتھ نماز شب اور سحر کے وقت استغفار کی سفارش کرتا ہوں۔ میں صلۂ رحمی کی، خصوصاً اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی سفارش کرتا ہوں۔ میں اپنے بعد ان کے لیے دنیا کی ظاہری آسائشوں میں سے کچھ نہیں چھوڑ کر جا رہا۔ جو کچھ میرے ہاتھ آیا، میں نے لوگوں کی ضروریات، خصوصاً اہل علم کی ضرورتوں پر خرچ کر دیا، حتیٰ کہ وہ ذاتی نذریں بھی جو لوگ میرے لیے دیتے تھے، میں نے سب اہل علم کی ضروریات پر صرف کر دیں۔
فقراء، سادات اور طلبۂ علوم کی خدمت
میں فقراء، سادات اور طلبۂ علوم دینی کی مدد اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی سفارش کرتا ہوں۔ میں اہل بیت طاہرین (ع) کے مقدس مزارات کی زیارت کی پابندی کی سفارش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے خود ان مقدس مقامات سے بے شمار فیوض و برکات حاصل کیے ہیں۔
میں زمانے کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرنے کی بھی سفارش کرتا ہوں، خصوصاً حاسدوں کے نشانے اور ان کی اذیتوں پر۔ ذرا دیکھو اور سوچو کہ تمہارے اس مظلوم اور غریب باپ کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا گیا۔
دعا، اذکار اور روحانی اعمال
میں توسل، دعا اور اذکار کی پابندی کی سفارش کرتا ہوں۔ میں انہیں بعض دعاؤں اور اذکار کے پڑھنے کی اجازت دیتا ہوں، جن میں معروف دعائے سیفی اور دیگر اذکار شامل ہیں، جن کی قرائت کی اجازت مجھے اپنے بزرگ والد اور دیگر اکابر علماء سے حاصل تھی۔
بیکاری سے بچنا
میں انہیں بیکاری، بے عملی اور اپنی قیمتی عمر کو بے فائدہ کاموں میں ضائع کرنے سے بچنے کی سفارش کرتا ہوں۔ روایت میں آیا ہے: «إنَّ اللهَ يُبْغضُ الشَّابَّ الفَارغَ» اللہ تعالیٰ بیکار اور بے مقصد جوان کو ناپسند فرماتا ہے۔
میں رات اور دن میں کثرت سے استغفار کی سفارش کرتا ہوں۔ میں اپنے پرہیزگار شاگردوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی سفارش کرتا ہوں جنہوں نے میری تربیت پائی یا میری مدد کی۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ مجھے ائمۂ کرام (ع) اور ان کی اولاد کے مقدس مزارات، نیز حج اور عمرہ کے مواقع پر دعاؤں میں فراموش نہ کیا جائے۔
شعائر الٰہی اور حسینیہ
میں اس حسینیہ میں شعائر الٰہی کے قیام اور ان کی حفاظت کے لیے کوشش اور استقامت کی سفارش کرتا ہوں جو میں نے قم مقدس میں قائم کیا۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ تھیلا، جس میں میں نے ائمہ طاہرین (ع)، ان کی اولاد، اصحاب اور بزرگوں کے مزارات کی خاک تبرک کے لیے جمع کی ہے، میرے ساتھ دفن کیا جائے اور اس میں سے کچھ خاک میرے چہرے کے نیچے اور کچھ چہرے کے سامنے رکھی جائے۔
میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ سیاہ لباس بھی میرے ساتھ دفن کیا جائے جو میں محرم و صفر میں آل رسول (ص) کی مصیبت کے غم میں پہنا کرتا تھا۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ جائے نماز بھی میرے ساتھ دفن کی جائے جس پر میں نے ستر سال نماز شب ادا کی۔ اسی طرح حضرت امام حسین (ع) کی تربت کی وہ تسبیح بھی میرے ساتھ دفن کی جائے جس سے میں سحر کے اوقات میں استغفار کیا کرتا تھا۔
میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ رومال، جس سے میں اپنے جدّ مظلوم حضرت حسین (ع) اور آپ کے اہل بیت (ع) کے غم میں بہائے ہوئے آنسو پونچھتا تھا، میرے سینے پر رکھا جائے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ غسل کے بعد میرے زیر زبان دو عقیق رکھے جائیں۔ اور آب زمزم کو تدفین کے وقت میری قبر میں چھڑکا جائے۔
لوگوں سے معافی طلب کرنا
میں سفارش کرتا ہوں کہ میری مجالس ترحیم میں تمام مومنین، بالخصوص اہل علم اور خصوصاً میرے شاگردوں سے میرے لیے معافی و حلالیت طلب کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ کبھی میں غصے میں آ گیا ہوں یا علمی بحث کے دوران کسی سے سخت لہجے میں گفتگو کی ہو۔ اور میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا بھی تو میری نیت کسی کو تکلیف دینا نہیں تھی۔
میں سفارش کرتا ہوں کہ اگر بیماری یا کثرت مصروفیات کے باعث میں اپنے تمام رشتہ داروں کی خبر گیری نہ کر سکا ہوں تو ان سب سے میرے لیے معافی طلب کی جائے، اور میرے گھر کے خدمت گزاروں سے بھی۔
طہارت اور وصیت تدفین
میں سفارش کرتا ہوں کہ ہمیشہ طہارت اور وضو کی حالت میں رہیں، کیونکہ یہ باطن کے نور اور دکھوں اور غموں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ میری میت کو حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے روضۂ مبارک کے سامنے رکھا جائے، اور اس وقت میری عمامے کا ایک سرا ضریح مبارک سے اور دوسرا سرا میرے تابوت سے باندھا جائے، اور اس موقع پر حضرت امام حسین (ع) اور آپ کے اہل بیت (ع) کے مصائب پڑھے جائیں۔
جب میری میت کو اس قبر میں اتارا جائے جو میری قائم کردہ عوامی لائبریری میں ہے، تب بھی حضرت امام حسین (ع) کی رخصتی کے مصائب پڑھے جائیں۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ میرے جسم کو اسی کتب خانے میں دفن کرنے کی پوری کوشش کی جائے، خواہ میری وفات شہر قم سے باہر ہی کیوں نہ واقع ہو۔
حسن اخلاق اور محاسبۂ نفس
میں حسن اخلاق، تواضع، مومنوں کے ساتھ انکساری، اور تکبر و خود پسندی سے دور رہنے کی سفارش کرتا ہوں۔ میں ہر ہفتے اپنے نفس کا اس طرح باریک بینی سے محاسبہ کرنے کی سفارش کرتا ہوں جیسے ایک شریک اپنے دوسرے شریک سے حساب لیتا ہے۔ اگر کوئی لغزش محسوس ہو تو اس کی اصلاح اور تلافی کی کوشش کی جائے۔ اور اگر اپنے اعمال اور کردار میں کوئی نیکی نظر آئے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی بارگاہ سے مزید توفیق طلب کی جائے۔
آخری پدرانہ نصیحت
میں اپنے فرزندوں، شاگردوں، دوستوں اور تمام مومنین کو ایک نوّے برس سے زیادہ عمر رکھنے والے بوڑھے باپ کی حیثیت سے وصیت و نصیحت کرتا ہوں:
یہ دنیا فانی ہے۔ اس دنیا میں تم جتنا بھی مادی ذخیرہ جمع کرو گے، سب فنا ہو جائے گا، لیکن آخرت کا ذخیرہ کبھی فنا نہیں ہوتا۔ میرے ہاتھوں سے لاکھوں کی رقوم اور شرعی وجوہات گزریں، مگر میں نے انہیں بغیر کمی بیشی کے طلبۂ علوم، دینی اداروں، فقراء، یتیموں اور دیگر مستحقین پر خرچ کر دیا۔ اب جب میں اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں اور میری زندگی کا سورج غروب ہونے کے قریب ہے، تو میں بہت ہلکا اور مطمئن ہوں، کیونکہ میرے پاس نہ ایک بالشت زمین ہے، نہ کسی بینک میں کوئی دینار اور نہ کسی جگہ کوئی ذخیرہ۔
لوگوں کو چاہیے کہ ان رسمی اور تکلفاتی کاموں سے سختی کے ساتھ بچیں جو اہل علم کے بارے میں عوام کے دلوں میں بدگمانی پیدا کرتے ہیں۔ مال جمع کرنے کو ترک کرو، کیونکہ ہر چیز ایک لمحے میں ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔جہاں تک ممکن ہو اپنا بوجھ ہلکا کرو تاکہ کل قیامت کے دن اس کے حساب و جواب سے عاجز نہ ہو جاؤ۔ اور جہاں تک ممکن ہو فقراء اور ضرورت مندوں کی مدد کرو، کیونکہ اس طرح تم گویا اپنی اور اپنے بچوں کی سلامتی کا انتظام کر رہے ہو۔
نتیجہ
آیت اللہ مرعشی نجفی کی وصیت کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ مومن آخرت کے ذخیرے کو اپنی اصل ترجیح بنائے۔ قرآن سے تعلق، عبادت و اذکار، محاسبۂ نفس، اہل بیت (ع) سے محبت، صلۂ رحمی، فقراء و طلبہ کی مدد اور علمی آثار کی حفاظت ان کی وصیت کے بنیادی عملی تقاضے ہیں۔ بالآخر ان کی پدرانہ وصیت اور نصیحت یہی ہے کہ دنیا فانی ہے، اس لیے انسان اپنا بوجھ ہلکا کرے، مال و دنیا کی وابستگی سے بچے اور اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی خدمت کو اپنی آخرت کا سرمایہ بنائے۔ اس وصیت میں پوشیدہ یہی پیغام انسان کو دنیا کی عارضی زندگی سے آگے آخرت کی دائمی زندگی کے لیے تیاری کی دعوت دیتا ہے۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
[۱] گلی زواراه، غلام رضا، جامع فضل و فضیلت: مقالات و مقولاتی درباره کارنامہ علمی و عملی حضرت آیت الله مرعشی نجفی، کتابخانہ آیت الله مرعشی نجفی، قم، ۱۳۸۹ ہجری شمسی۔ ص۱۷-۱۴۶۔
[۲] مرعشی نجفی، احمد؛ فرازہایی از وصیت نامہ الٰہی اخلاقی مرجع عالیقدر و فقیہ اہل بیت علیہم السلام بزرگ فرہنگبان میراث اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی آیت اللہ مرعشی نجفی قدس سرہ الشریف، ج۱، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت اللہ العظمی آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۳۸۱ ہجری شمسی۔ ص۵-۶۰۔
✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم

