اتحاد و اخوت امت مسلمہ کی بقا و عروج کی بنیادی شرط

اتحاد و اخوت، امت مسلمہ کی بقا و عروج کی بنیادی شرط

کپی کردن لینک

اتحاد و اخوت کی راہ اپنائیں، کیونکہ اجتماعی مسائل پر شک و تردید سے صرف اختلاف بڑھتا ہے، جبکہ اتحاد و اخوت ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ جیسے چھوٹی نہریں مل کر دریا بن جاتی ہیں، ویسے ہی اتحاد و اخوت سے چھوٹی قوتیں بھی عظیم بن سکتی ہیں اور معاشرے کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ اتفاق ہی حقیقی طاقت ہے۔ اختلاف نقصان دیتا ہے، جبکہ اتحاد و اخوت ہی وہ راستہ ہے جو چھوٹی کوششوں کو بڑے فائدے میں بدل دیتا ہے۔

غرض ز انجمن و اجتماع جمع قواست
چرا که قطره چو شد متصل بهم دریاست

اجتماع اور انجمن اور جمع ہونے کا مقصد طاقت ہے، کیونکہ اگر پانی کا ایک قطرہ دریا سے مل جائے تو وہ بھی دریا بن جاتا ہے۔

ز قطره هیچ نیاید ولی چه دریا گشت
هر آنچه نفع تصور کنی در او گنجاست

قطرے سے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا، لیکن اگر یہی قطرہ دریا بن گیا تو تم جتنا بھی فائدہ سوچ سکتے ہو تمہیں ملے گا۔ ز قطرہ ماہی پیدا نمی شود ہرگز

ز قطره ماهی پیدا نمی شود هرگز
محیط باشد کز وی نهنگ خواهد خاست

قطرے میں کبھی بھی مچھلی زندہ نہیں رہ سکتی، مگر جب یہی قطرہ دریا بن گیا تو اس میں نہنگ مچھلی (وہیل) زندہ رہ سکتی ہے۔

ز گندمی نتوان پخت نان وجوع نشاند
چو گشت خرمن و خروار وقت برگ و نواست

ایک گیہوں سے روٹی نہیں پکائی جاسکتی اور زندگی بسر نہیں ہوسکتی جب وہ کھلیان میں گیاتو ایک ذخیرہ بن گیا ہے

ز فرد فرد محال است کارهای بزرگ
ولی ز جمع توان خواست هر چه خواهی خواست

ایک بڑا کام الگ الگ مردوں سے انجام پانا بہت محال ہے، لیکن اگر یہی تمام لوگ ایک ساتھ جمع ہوجائیں تو جو بھی کرنا چاہیں انجام دے سکتے ہیں۔

بلی چه مورچه گانرا وفاق دست دهد
بقول شیخ هژبر ژیان اسیر فناست

اگر چیونٹیوں کی طرح اتحاد و اخوت و اتفاق کا دامن ہاتھ میں رہے تو شیخ کے بقول زندگی فنا و برباد ہے۔

اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے نہ صرف مادی چیزوں کو طلب کرے بلکہ ضروری ہے کہ لوگوں کی فکری اور معنوی قدرت و طاقت سے اجتماعی مشکلوں کا حل تلاش کرے، اور صحیح لائحہ عمل بنانے میں مدد طلب کرے، اور ایک دوسرے سے مشورہ اور تبادلہ نظر کے نئے نئے راستے ہموار کرے اور بزرگ و سنگین پہاڑ جیسی مشکلوں سے ہوشیار رہے۔

یہی وجہ ہے کہ آئین اسلام کے اصلی اور بیش قیمتی برناموں میں تبادلہ خیالات اور مشورے کی اجتماعی امور میں بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے، اور قرآن مجید نے جن لوگوں کو حق پسند اور حق شناس جیسے ناموں سے تعبیر کیا ہے ان کے تمام کام مشورے اور تبادلہ خیالات سے انجام پاتے ہیں۔

’’وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ‘‘[1]

اور جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور ان کے کل کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔

اتحاد و اخوت اور پیغمبر ﷺ کی کوشیش

آئین اسلام کا ایک اہم اور اجتماعی اصول ’’اتحاد و اخوت و برادری’‘ ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ مختلف صورتوں سے اتحاد و اخوت کو عام کرنے میں بہت زیادہ کوشاں رہے ہیں۔ مہاجرین کے مدینہ پہونچنے کے بعد پہلی مرتبہ اتحاد و اخوت کا رشتہ انصار کے دو گروہ یعنی اوس و خزرج کے درمیان پیغمبر اسلام ﷺ کے ذریعے قائم ہوا۔

یہ دو قبیلے جو مدینہ ہی کے رہنے والے تھے اور عرصہ دراز سے آپس میں جنگ و جدال کرتے تھے، رسول اسلام ﷺ کی کوششوں کے نتیجے میں ایک دوسرے کے بھائی بن گئے اور ان میں اتحاد و اخوت پیدا ہو گیا اور انہوں نے ارادہ کرلیا کہ ہم لوگ پرانی باتوں کو کبھی نہیں دہرائیں گے۔ اس اتحاد و اخوت و برادری کا ہدف و مقصد یہ تھا کہ اوس و خزرج جو اسلام کے دو اہم گروہ مشرکوں کے مقابلے میں تھے وہ آپس میں ظلم و بربریت، لڑائی جھگڑا اور ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے باز آجائیں اور پرانی دشمنی کی جگہ صلح و صفائی کو یاد رکھیں۔

دوسری مرتبہ پیغمبر ﷺ نے اپنے صحابیوں اور دوستوں کو چاہے مہاجرین سے ہوں یا انصار میں سے، حکم دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کو اپنا بھائی بنا لیں اور دوسرے کے بھائی بن جائیں، کتنی عمدہ بات ہے کہ دو مہاجر ایک دوسرے کے بھائی یا ایک مہاجر میں سے اور ایک انصار میں سے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے اور بھائی چارگی کے عنوان سے ایک دوسرے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور اس طرح سے ایک سیاسی اور معنوی قدرت و طاقت ابھر کر ان کے سامنے آگئی۔

اسلامی مؤرخین و محدثین لکھتے ہیں:

ایک دن پیغمبر ﷺ اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنے دوستوں سے فرمایا: ’’تَآخُوا فِي اللّهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْنِ‘‘ یعنی خدا کی راہ میں آپس میں دو دو آدمی بھائی بن جاؤ۔

تاریخ نے اس موقع پر ان افراد کا نام ذکر کیا ہے جن لوگوں نے اس دن پیغمبر ﷺ کے حکم سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ اخوت کو قائم کیا مثلاً ابوبکر اور عمر، عثمان اور عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ اور زبیر، ابی ابن کعب اور ابن مسعود، عمار اور ابوحذیفہ، سلمان اور ابوالدرداء وغیرہ آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بنے۔

اور ان افراد کی بھائی چارگی کو پیغمبر ﷺ نے تائید کیا۔ یہ اتحاد و اخوت و برادری اور بھائی چارگی جو چند افراد کے درمیان قائم ہوئی اس اتحاد و اخوت اور اسلامی برادری کے علاوہ ہے جسے قرآن کریم نے اسلامی معاشرے میں معیار و میزان قرار دیا ہے اور تمام مؤمنین کو ایک دوسرے کا بھائی کہا ہے۔

حضرت علی (ع) کی پیغمبر ﷺ سے قربت

رسول اسلام ﷺ نے جتنے افراد بھی مسجد نبوی میں حاضر تھے انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا، صرف علی (ع) ان کے درمیان تنہا بچے جن کےلئے بھائی کا انتخاب نہیں کیا، اس وقت حضرت علی (ع) آنکھوں میں آنسوؤں کی سوغات لئے ہوئے پیغمبر اسلام ﷺ کی خدمت میں پہونچے اور کہا آپ نے اپنے تمام دوستوں کےلئے ایک ایک بھائی کا انتخاب کردیا لیکن میرے لئے کسی کو بھائی نہیں بنایا۔

اس وقت پیغمبر اکرم ﷺ نے اپنا تاریخی کلام جو حضرت علی (ع) کی پیغمبر ﷺ سے قربت و منزلت اور نسبت اور آپ کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنّيا وَالآخِرَةِ وَالّذي بَعَثَني بِالْحَقِّ ما أَخَّرْتُكَ إِلاّ لِنَفْسي. أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيا وَالآخِرَةِ‘‘[2]

تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ وہ خدا جس نے ہمیں حق پر مبعوث کیا ہے میں نے تمہاری برادری کے سلسلے میں خود تاخیر سے کام لیا ہے تاکہ تمہیں اپنا بھائی قرار دوں، ایسی بھائی چارگی جو دونوں جہان (دنیا و آخرت) میں باقی رہے۔

رسول اسلام ﷺ کا یہ کلام حضرت علی (ع) کی عظمت اور پیغمبر اسلام ﷺ سے نسبت کو معنوی و پاکیزگی اور دین کے اہداف میں خلوص کو بخوبی واضح و روشن کرتا ہے۔ خود اہلسنت کے دانشمندوں میں سے الریاض النضرة کے مؤلف نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔[3]

یہاں پر آیت مباہلہ[4] کی تفسیر کا مبنیٰ سمجھ میں آتا ہے تمام علمائے تفسیر کا اتفاق ہے کہ (وَأَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ) سے مراد علی بن ابی طالب (ع) ہیں جسے قرآن نے ’’نفس پیامبر‘‘ کے خطاب سے یاد کیا ہے۔ اس لئے کہ فکری اور روحی جاذبیت نہ یہ کہ صرف دو فکروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے بلکہ کبھی کبھی دو انسان کو ایک ہی شخص بتاتی ہے۔

اس لئے کہ ہر موجود اپنے ہم جنس کو جذب اور اپنے مخالف کو دفع کرتی ہے، اور یہ عالم اجسام اور اجرام زمین و آسمان سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ عظیم و بزرگ شخصیتیں جذب اور دفع کا مظہر ہیں۔ ایک گروہ کو جذب اور دوسرے گروہ کو دفع کرتی ہیں۔ اس طریقے کی کشش اور گریز سنخیت یا روح کے متضاد ہونے کی وجہ سے ہے اور یہی سنخیت اور تضاد ہے جو ایک گروہ کو اپنے قریب کرتی ہے اور دوسرے گروہ کو اپنے سے دور کردیتی ہے۔ اس مسئلہ کو اسلامی فلسفہ نے اس طرح تعبیر کیا ہے ’’السِّنْخيّةُ عِلَّةُ الاِنْضِمام‘‘ یعنی سنخیت اور مشابہت اجتماع اور انضمام کا سرچشمہ ہے۔

خاتمہ

اتحاد و اخوت وہ بنیادی اصول ہے جس نے انصار و مہاجرین کو ایک جان کردیا، اور نبی کریم ﷺ نے اس رشتے کو مضبوط کرنے کے لیئے بے پناہ کوششیں فرمائیں۔ اتحاد و اخوت ہی وہ طاقت ہے جس نے امت مسلمہ کو عروج بخشا، کیونکہ قومیں اسی کے بل بوتے پر ترقی کرتی ہیں اور دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں۔ آج بھی اگر مسلمان اتحاد و اخوت کا دامن تھام لیں، تو پھر سے وہی عظمت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں جو ان کا ماضی کا طرۂ امتیاز رہی ہے۔ اختلافات کو چھوڑ کر اگر اتحاد کی راہ اپنائی جائے، تو کوئی طاقت امت مسلمہ کو شکست نہیں دے سکتی۔

منابع

[1]۔ شوریٰ: ۳۸۔
[2]۔ حاکم نیشابوری، مستدرك حاكم، ج۳، ص۱۴؛ ابن‌ عبد البر، استيعاب، ج۳، ص۳۵۔
[3]۔ محب‌الدین‌ طبری‌، الریاض النضرة، ج۲، ص۱۶۔
[4]۔ آل عمران: ۶۱۔

کتابیات

1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن‌ عبد البر، یوسف‌ بن‌ عبد الله، الإستيعاب في معرفة الأصحاب، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۲۲ھ ق۔
3۔ حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله، مستدرك علی الصحیحین، بیروت، دارالتاصیل، ۱۴۳۵ھ ق۔
4۔ محب‌الدین‌ طبری‌، احمد بن‌ عبدالله، الریاض النضرة فی مناقب العشرة، بیروت، دار الکتب العلمية،۱۴۲۴ھ ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، دوسری فصل، ص۶۵ تا ۷۰، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔