استخارہ، یعنی اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنا، یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا سہارا انسان اس وقت لیتا ہے جب وہ کسی معاملے میں شک و تردد کا شکار ہو اور اپنے خیر و شر کا تعین عقلی دلائل یا دوسروں سے مشورے کے ذریعے نہ کر پا رہا ہو۔ یہ انتخاب کو پروردگار کے سپرد کرنے کا ایک طریقہ ہے تاکہ وہ کام انجام دیا جائے جس میں بندے کے لیے بہتری ہو۔
استخارہ مختلف طریقوں سے انجام دیا جاتا ہے، جن میں نماز، دعا، قرآن مجید، کاغذ (ذات الرقاع) اور تسبیح کے ذریعے استخارہ کرنا شامل ہے۔ علمائے دین نے روایات کی بنیاد پر استخارے کی مشروعیت کو ثابت کیا ہے اور اس کے مختلف طریقے بیان کیے ہیں۔ شیخ عباس قمی (رح) نے اپنی مشہور کتاب "مفاتیح الجنان” میں استخارے کے بعض طریقے اور آداب تفصیل سے ذکر کیے ہیں۔
استخارہ کا مفہوم
استخارہ کا لفظ "خیر طلب کرنے” کے معنی میں آتا ہے اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرنا ہے۔ تیرہویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ، صاحب جواہر، کے مطابق استخارے کے دو معنی ہیں:
۱. پہلا یہ کہ انسان جس کام کو کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور برکت کی دعا کرے۔
۲. دوسرا یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ سے اس کام کے انتخاب کی توفیق مانگے جسے اللہ اس کے لیے بہتر سمجھتا ہے۔ یہ توفیق یا تو براہِ راست استخارے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے یا کسی ایسے شخص کی زبان سے جاری ہو جاتی ہے جس سے انسان مشورہ کر رہا ہو۔ [۱]
اس تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ استخارہ محض قسمت آزمائی نہیں، بلکہ توکل علی اللہ اور تفویضِ امر کا ایک عملی مظہر ہے، جہاں بندہ اپنی محدود عقل اور فہم سے آگے بڑھ کر لامحدود علم رکھنے والے پروردگار سے رہنمائی طلب کرتا ہے۔
استخارہ کرنے کے کئی طریقے روایات اور علماء کے اقوال کی روشنی میں بیان ہوئے ہیں۔ ہر طریقہ اپنی جگہ ایک خاص روحانی کیفیت اور آداب کا تقاضا کرتا ہے۔ ذیل میں چند مشہور اور مستند طریقوں کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے۔
نماز کے ذریعے استخارہ
نماز کے ذریعے استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ فرد دو رکعت نماز ادا کرے، اور نماز کے بعد سجدے میں جا کر سو مرتبہ یہ دعا پڑھے: "اَسْتَخِیرُ اللّٰهَ فِی جَمِیعِ اُمُورِی خِیَرَةً فِی عَافِیَةٍ” (ترجمہ: میں اپنے تمام امور میں اللہ سے عافیت کے ساتھ خیر طلب کرتا ہوں)۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جو بات اس کے دل میں ڈالے، اسی پر عمل کرے [۲] یہ طریقہ انسان کو اللہ سے براہِ راست متصل کرتا ہے اور قلبی سکون کا باعث بنتا ہے۔
قرآن مجید کے ذریعے استخارہ
قرآن مجید سے استخارہ کرنے کے متعدد طریقے منقول ہیں [۳] جن میں سے چند یہ ہیں:
۱. امام جعفر صادق (ع) سے منقول ایک روایت کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے میں متردد ہو، تو نماز کے لیے تیار ہوتے وقت قرآن مجید کھولے اور سب سے پہلی آیت جو نظر آئے، اسی کے مفہوم کے مطابق عمل کرے۔ [۴]
۲. سید ابن طاؤس نے پیغمبر اکرم (ص) سے ایک طریقہ نقل کیا ہے کہ جب تم قرآن سے استخارہ (فال) لینا چاہو تو تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھو، پھر تین مرتبہ درود بھیجو اور اس کے بعد یہ دعا پڑھو: "اللَّهُمَّ إِنِّی تَفَأَّلْتُ بِکِتَابِکَ وَ تَوَکَّلْتُ عَلَیْکَ فَأَرِنِی مِنْ کِتَابِکَ مَا هُوَ الْمَکْتُومُ مِنْ سِرِّکَ الْمَکْنُونِ فِی غَیْبِکَ” "اے اللہ! میں نے تیری کتاب سے رہنمائی طلب کی ہے اور تجھ پر توکل کیا ہے، اپنی کتاب سے میرے لیے وہ چیز ظاہر فرما جو تیرے پوشیدہ رازوں میں سے ہے اور تیرے غیب میں پنہاں ہے” اس دعا کے بعد قرآن مجید کھولو اور دائیں صفحے کی پہلی سطر سے اپنے استخارے کا جواب حاصل کرو۔ [۵]
۳. بعض روایات کے مطابق، قرآن کھولنے کے بعد سات یا آٹھ اوراق گنے جاتے ہیں اور ساتویں یا آٹھویں ورق کی پہلی آیت سے استخارے کا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ [۶]
کاغذ کے ذریعے استخارہ
کاغذ کے ذریعے استخارہ، جسے "ذات الرقاع” بھی کہتے ہیں، دو کاغذ کے ٹکڑوں پر "اِفْعَلْ” (کرو) اور "لَا تَفْعَلْ” (نہ کرو) لکھا جاتا ہے۔ استخارہ کرنے والا شخص مخصوص آداب بجا لانے کے بعد ان میں سے ایک پرچی اٹھاتا ہے اور اس پر لکھی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اگرچہ ابن ادریس حلی نے کاغذ کے ذریعے استخارہ کی احادیث کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ [۷] لیکن شہید اول نے اس رائے کو یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ یہ طریقہ امامیہ کے نزدیک مشہور و معروف ہے۔ [۸]
تسبیح کے ذریعے استخارہ
۱. شہید اول کا طریقہ: شہید اول نے اپنی کتاب "ذکری” میں لکھا ہے کہ کم از کم تین مرتبہ سورہ حمد، دس مرتبہ سورہ قدر اور ایک مخصوص دعا پڑھنے کے بعد تسبیح کا ایک حصہ مٹھی میں لے لیا جائے اور پھر دانوں کو دو-دو کر کے گنا جائے۔ اگر آخر میں ایک دانہ بچے تو کام کو ترک کر دیا جائے اور اگر دو دانے بچیں (یعنی جوڑا ہو) تو اس کام کو انجام دیا جائے، یا اس کے برعکس عمل کیا جائے (یہ نیت پر منحصر ہے)۔ [۹]
۲. صاحب جواہر کا نقل کردہ طریقہ: مفاتیح الجنان میں محمد حسن نجفی (صاحب جواہر) سے ایک طریقہ منقول ہے جو ان کے زمانے میں رائج تھا اور بعض کے نزدیک امام مہدی (ع) سے منسوب ہے۔ اس طریقے میں قرآن کی تلاوت اور دعا کے بعد تسبیح کا ایک حصہ مٹھی میں لے کر آٹھ-آٹھ کر کے گنا جاتا ہے۔
اگر ایک دانہ بچے تو مجموعی طور پر اچھا ہے۔ اگر دو بچیں تو ایک ممانعت ہے۔ اگر تین بچیں تو کرنے اور نہ کرنے میں اختیار ہے۔ اگر چار بچیں تو دو ممانعتیں ہیں۔ اگر پانچ بچیں تو اس میں مشقت اور تکلیف ہے۔ اگر چھ بچیں تو انتہائی اچھا ہے اور جلدی کرنا چاہیے۔ اگر سات بچیں تو اس کا حکم پانچ جیسا ہے۔ اگر آٹھ بچیں تو چار ممانعتیں ہیں۔ [۱۰]
صاحب جواہر اس طریقے کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہمیں قدیم اور جدید کتابوں میں اس استخارے کا کوئی سراغ نہیں ملا، جیسا کہ ہمارے بعض ماہر اساتذہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ [۱۱]
۳. امام مہدی (ع) سے منسوب طریقہ: سید موسیٰ شبیری زنجانی نے سید علی شوشتری کے واسطے سے امام مہدی (ع) سے منسوب ایک استخارہ نقل کیا ہے۔ اس کے مطابق "بسم اللہ” پڑھے، تین مرتبہ درود بھیجے اور ایک دعا پڑھے، پھر تسبیح کو پکڑ کر دو-دو کر کے گنے۔ اگر ایک دانہ باقی رہے تو اچھا ہے اور اگر دو بچیں تو برا ہے۔ [۱۲]
استخارہ کی شرعی حیثیت
اسلام سے قبل، "استقسام بالازلام” کے نام سے استخارہ کی ایک قسم رائج تھی جو تیروں کے ذریعے انجام دی جاتی تھی [۱۳] قرآن مجید نے سورہ مائدہ کی آیت ۳ میں اسے حرام قرار دیا ہے۔ اسی آیت کی بنیاد پر اہل سنت کے عالم شیخ شلتوت نے استخارہ کو اسی ممانعت کا مصداق قرار دیتے ہوئے ایک غیر شرعی عمل کہا ہے [۱۴]
اس کے برعکس، شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ صافی گلپایگانی نے "استقسام” اور "استخارہ” میں واضح فرق بیان کرتے ہوئے شیخ شلتوت کی رائے کو رد کیا ہے۔ [۱۵] انہوں نے استخارہ کے مستحب ہونے پر متعدد روایات سے استدلال کیا ہے، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی استخارہ طلبِ خیر اور دعا پر مبنی ہے، جبکہ "ازلام” کا عمل قسمت آزمائی اور توہم پرستی پر مشتمل تھا۔ [۱۶]
استخارہ کے آداب اور شرائط
ایک مؤثر اور روحانی طور پر فائدہ مند استخارہ کے لیے کچھ آداب اور شرائط بیان کی گئی ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
کام کا مباح ہونا: استخارہ صرف مباح کاموں میں تردد کو دور کرنے کے لیے ہے، نہ کہ ان کاموں کے لیے جو بذاتِ خود خیر ہیں (جیسے نماز پڑھنا) یا شر ہیں (جیسے گناہ کرنا)۔ [۱۷]
مشورے کے بعد استخارہ: استخارے کا درجہ مشورے کے بعد آتا ہے۔ پہلے اپنی عقل سے کام لینا اور بااعتماد لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے، اگر تردد باقی رہے تب استخارہ کرنا افضل ہے۔ [۱۸]
ہر شخص اپنا استخارہ خود کرے: علامہ مجلسی کے مطابق، کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس میں کسی نے دوسرے کی طرف سے نیابتاً استخارہ کیا ہو۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہر شخص اپنے لیے خود استخارہ کرے، اگرچہ انہوں نے سید ابن طاؤس کا قول بھی نقل کیا ہے جو دوسروں کے لیے استخارہ کو جائز سمجھتے تھے۔ [۱۹]
مناسب مکان و زمان: شہید اول کے نزدیک بہتر ہے کہ دعا کے ساتھ کیا جانے والا استخارہ مسجد یا معصومین (ع) کے حرم میں ہو۔ [۲۰] بعض روایات میں حرم امام حسین (ع) میں استخارہ کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ فیض کاشانی نے اپنی کتاب "تقویم المحسنین” میں قرآن سے استخارہ کے لیے ہفتے کے ہر دن میں کچھ ساعات کا ذکر کیا ہے، لیکن وہ خود کہتے ہیں کہ یہ اوقات اہل ایمان میں مشہور ہیں، احادیث میں نہیں آئے۔ [۲۱]
استخارہ سے پہلے مخصوص اعمال: استخارہ کرنے سے پہلے مخصوص دعائیں پڑھنا، قرآن کی بعض سورتوں کی تلاوت کرنا اور درود بھیجنا مستحب ہے۔ [۲۲]۔
استخارے کے نتیجے پر عمل کا حکم
استخارہ کسی بھی فیصلے کا متبادل نہیں، بلکہ وہ ایک روحانی عمل ہے جو انسانی کوشش، تحقیق اور مشورت کے بعد بھی جب الجھن کی صورت میں، خداوند سے رہنمائی کا درخواست ہے۔ یہ عمل انسان کو اپنی کمزوری اور خداوند کی قدرت کا احساس دلواتا ہے اور اسے فیصلہ سازی کے بعد اپنے دل کو آرام دلاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے معاملہ کو اللہ کے حوالے کر چکا ہوتا ہے۔ چاہے یہ قرآن، نماز یا تسبیح سے کیا جائے، اس کا اصل مقصد خیر کی تلاش اور الہی رضا کی تقلید ہے۔
فقہاء کے نزدیک استخارے کے نتیجے پر عمل کرنا شرعاً واجب نہیں ہے اور اس کی مخالفت کرنا بھی حرام نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ اس کی مخالفت نہ کی جائے۔ آیت اللہ شبیری زنجانی کے مطابق، چونکہ استخارے کی مخالفت میں نقصان کا شبہ موجود ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ [۲۳]
نتیجہ
استخارہ قرآن اور تسبیح سے خیر طلبی کا جامع طریقہ سکون اور اطمینانِ قلب کا ذریعہ ہے۔ یہ طریقہ انسان کو اپنی رائے کے بجائے خدا کی مشیت پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے۔ استخارہ توکل، دعا اور رضا بالقضاء کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ جب عقل اور مشورے کے تمام دروازے کھٹکھٹانے کے بعد بھی فیصلہ مشکل ہو جائے تو اپنے معاملے کو اس ذات کے سپرد کر دیا جائے جس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ قرآن و تسبیح کے ذریعے استخارہ کرنا دراصل کلامِ الٰہی اور ذکرِ الٰہی سے رہنمائی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
حوالہ جات
[۱] نجفی، جواهر الکلام، ج۱۲، ص۱۶۲۔
[۲] ابن ادریس، السرائر، ج۱، ص۳۱۴۔
[۳] ابن طاووس، فتح الابواب، ص۲۷۷-۲۷۹۔
[۴] طوسی، تہذیب الاحکام، ج۳، ص۳۱۰۔
[۵] ابن طاووس، فتح الابواب، ص۱۵۶۔
[۶] ابن طاووس، فتح الابواب، ص۲۷۸ و ۲۷۹۔
[۷] ابن ادریس حلی، السرائر، ج۱، ص۳۱۳ و ۳۱۴۔
[۸] شہید اول، ذکری الشیعہ، ج۴، ص۲۶۶-۲۶۷۔
[۹] شہید اول، ذکری الشیعہ، ج۴، ص۲۶۹ و ۲۷۰۔
[۱۰] قمی، مفاتیح الجنان، آداب استخارہ؛ نجفی، جواهر الکلام، ج۱۲، ص۱۷۲۔
[۱۱] نجفی، جواهر الکلام، ج۱۲، ص۱۷۳۔
[۱۲] شبیری زنجانی، جرعہای از دریا، ج۱، ص۵۰۱۔
[۱۳] ابن حبیب، المحبر، ص۱۹۶۔
[۱۴] عباسی مقدم، بررسی مبانی و ماہیت استخارہ، ص۳۲۔
[۱۵] گلپایگانی، بحوث حول الاستسقام، ص۱-۸۔
[۱۶] گلپایگانی، بحوث حول الاستسقام، ص۷تا۹۔
[۱۷] دفتر حفظ و نشر آیتاللہ العظمی خامنهای، دعانویسی و استخارہ۔
[۱۸] دفتر حفظ و نشر آیتاللہ العظمی خامنهای، دعانویسی و استخارہ۔
[۱۹] مجلسی، بحارالانوار، ج۸۸، ص۲۸۵۔
[۲۰] شہید اول، ذکریالشیعہ، ج۴، ص۲۶۷۔
[۲۱] فیض کاشانی، تقویم المحسنین، ص۵۸ و ۵۹۔
[۲۲] شہید اول، الذکری الشیعہ، ج۴، ص۲۶۹-۲۷۰۔
[۲۳] شبیری زنجانی، جرعہای از دریا، ج۱، ص۵۰۵۔
فہرست منابع
۱. ابن ادریس حلی، محمد بن منصور، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۰ق۔
2. ابن حبیب، محمد بن حبیب، المحبر، تحقیق ایلزہ لیختن شتیتر، بیروت، دار الآفاق الجدیدہ، بیتا۔
3. ابن طاووس، علی بن موسی، فتح الابواب بین ذوی الاباب و بین رب الارباب، تحقیق و تصحیح حامد خفاف، قم، مؤسسہ آل البیت (ع)، چاپ اول، ۱۴۰۹ق۔
4. «دعا نویسی و استخارہ»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آیت اللہ العظمی خامنهای، تاریخ مشاہدہ: ۳۰ تیر ۱۳۹۸ش۔
5. شبیری زنجانی، سید موسی، جرعہ ای از دریا، قم، مؤسسہ کتاب شناسی، ۱۳۸۹ش۔
6. شہید اول، محمد بن مکی، ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، ۱۴۱۹ق۔
7. طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تصحیح حسن موسوی خرسان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق۔
8. عباسی مقدم، مصطفی، «بررسی مبانی و ماہیت استخارہ»، در مجلہ مطالعات تاریخی قرآن و حدیث، شمارہ ۴۲، بہار و تابستان ۱۳۸۷ش۔
9. فیض کاشانی، تقویم المحسنین، در کتاب توضیح المقاصد بہ ضمیمہ تقویم المحسنین، نوشتہ شیخ بہایی، بیجا، بینا، ۱۳۱۵ق۔
10. قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، تصحیح حسین استاد ولی، قم، صدیق، چاپ اول، ۱۳۷۶ش۔
11. گلپایگانی، لطف اللہ، بحوث حول الاستسقام (مشروعیّة الاستخارہ)۔
12. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
13. نجفی، محمد حسن، جواهرالکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱. دانیالی، محمد جواد، اعتبار سنجی استخاره با قرآن (قرآن کے ذریعے استخارہ کی اعتبار سنجی)، فقه، ۱۳۹۰، نمبر ۱۸(۶۸)، صفحہ ۶۴-۹۵۔
2. مصطفی خلعتبری لیماکی، انواع استخاره و جایگاه آن در اعتقادات مردم (استخارہ کی اقسام اور عوامی عقائد میں اس کا مقام)، فرهنگ مردم ایران، زمستان ۱۳۸۳، نمبر ۵ و ۶، صفحہ ۱۱۷-۱۴۰۔