اعمال كے مجسم ہونے كي حقيقت

اعمال کا مجسم ہونا اور روز قیامت اعضاء کی گواہی

کپی کردن لینک

اعمال کا مجسم ہونا، عالمِ آخرت کے گہرے اور وسیع تصور پر روشنی ڈالتا ہے، جہاں اس دنیا کے مروجہ قوانین اور نظام سے بالکل مختلف حقیقتیں منتظر ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں، یہ واضح ہے کہ اُس دن کی نعمتیں اور سزائیں ہمارے تصور سے کہیں زیادہ مختلف اور جامع ہیں، جس کی مثال ماں کے شکم میں موجود بچے کے محدود ادراک سے ہے۔اعمال کا مجسم ہونا ہے، جہاں انسان کے ہر عمل، خواہ اچھا ہو یا برا، اپنی حقیقی صورت میں روز قیامت اس کے سامنے حاضر ہو گا۔ یہ بات اس ماورائی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے جہاں ہر عمل کا اپنا وجود ہوگا اور اسی کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ ہو گا۔

دنیا اور عالمِ آخرت کا وسیع فرق

بہت سے لوگ اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا موت کے بعد عالمِ آخرت بالکل اسی دنیا کے مانند ہے یا اس سے فرق رکھتا ہے؟ کیا اس عالم کی نعمتیں، سزائیں، اور مختصر یہ کہ اس پر حکم فرما نظام اور قوانین اسی دنیا جیسے ہیں؟

اس کے جواب میں واضح طور پر کہنا چاہئے کہ ہمارے پاس بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا اور اُس دنیا میں کافی فرق ہے، حتیٰ کہ اس حد تک فرق ہے کہ جو کچھ ہم اس دنیا کے بارے میں جانتے ہیں وہ ایک ایسے سیاہ جسم کے مانند ہے جسے ہم دور سے دیکھتے ہیں۔

بہتر ہے کہ ہم اس سلسلے میں اسی "جنین” والی مثال سے استفادہ کریں: جس قدر "جنین” کی دنیا اور اس دنیا میں فرق ہے، اسی قدر یا اس سے زیادہ اس دنیا اور دوسری دنیا کے درمیان فرق ہے۔

اگر ماں کے شکم (عالمِ جنین) میں موجود بچہ عقل و شعور رکھتا اور باہر کی دنیا، آسمان، زمین، چاند، سورج، ستاروں، پہاڑوں، جنگلوں اور سمندروں کے بارے میں ایک صحیح تصویر کشی کرنا چاہتا تو وہ ہرگز یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔

عالمِ جنین میں موجود بچہ، جس نے اپنی ماں کے انتہائی محدود شکم کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے، اس کے لیے اس دنیا کے چاند، سورج، سمندر، امواج، طوفان، بادِ نسیم، اور پھولوں کی خوبصورتی کا کوئی مفہوم و معنی نہیں ہے۔ اس کی لغت کی کتاب صرف چند الفاظ پر مشتمل ہے۔

اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ ماں کے شکم کے باہر سے کوئی اس سے بات کرے تو وہ ہرگز اس کی بات کے معنی تک نہیں سمجھ سکتا ہے۔ اس محدود دنیا اور اس دوسری وسیع دنیا کے درمیان فرق ایسا ہی یا اس سے زیادہ ہے۔ لہٰذا ہم کبھی دوسری دنیا کی نعمتوں اور بہشتِ بَریں کی حقیقت کے بارے میں ہرگز آگاہ نہیں ہو سکتے۔

اسی وجہ سے ایک حدیث میں آیا ہے:

"فيها مالا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ‘‘

بہشت میں ایسی نعمتیں ہیں کہ جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے، کسی کان نے نہیں سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کا تصور پیدا ہوا ہے۔

قرآن مجید اسی مطلب کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:

’’فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ[1]

اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان پردہ غیب میں موجود ہے۔

اعمال کا مجسم ہونا اور اعضاء کی گواہی

اس دنیا پر حکم فرما نظام بھی اس دنیا کے نظام سے کافی فرق رکھتا ہے۔ مثلاً قیامت کی عدالت میں انسان کے ہاتھ، پاؤں، اس کے جسم کی جلد اور یہاں تک کہ وہ زمین جس پر گناہ یا ثواب انجام دیا گیا ہو، اس کے اعمال کے گواہ ہوں گے۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:

’’اَلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤی اَفۡوَاہِہِمۡ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ تَشۡہَدُ اَرۡجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ[2]

آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے اس کے بارے میں جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔

دوسری جگہ فرماتا ہے:

’’وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ[3]

تو وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ جواب دیں گی: اسی اللہ نے ہمیں گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی دی۔

البتہ ایک زمانے میں اس قسم کے مسائل کا تصور کرنا مشکل تھا، لیکن علم کی ترقی کے پیشِ نظر مناظر اور آواز کو ریکارڈ اور ضبط کرنے کے نمونوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد اب یہ چیز باعثِ حیرت نہیں رہی۔

بہرحال اگرچہ عالمِ آخرت کی نعمتوں کے بارے میں ہمارا تصور صرف دور سے نظر آنے والی ایک جسم کی سیاہی کے مترادف ہے، اور ہم ان کی وسعت اور اہمیت سے صحیح معنوں میں آگاہ نہیں ہو سکتے، تاہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس عالم کی نعمتیں اور سزائیں جسمانی اور روحانی دونوں صورتوں میں ہوں گی۔

کیونکہ معاد دونوں پہلو رکھتی ہے، لہٰذا فطری طور پر اس کی جزا و سزا بھی دونوں جنبوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یعنی جس طرح مادی و جسمانی نعمتوں کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۵ میں ارشاد ہوتا ہے:

’’وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہًا ؕ وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ‘‘[4]

اور ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے کہ ان کے لیے(بہشت کے) باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اس میں سے جب بھی کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے: یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے بھی مل چکا ہے، حالانکہ انہیں ملتا جلتا دیا گیا ہے اور ان کے لیے جنت میں پاک بیویاں ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اسی طرح قرآن مجید، معنوی نعمتوں کے بارے میں سورہ توبہ کی آیت نمبر ۷۲ میں ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَر‘‘[5]

اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو ان سب سے بڑھ کر ہے۔

جی ہاں، بہشتی اس احساس سے کہ خداوند متعال ان سے راضی ہے، اور پروردگارِ عالم نے انہیں قبول کیا ہے، اس قدر خوشنودی اور لذت کا احساس کرتے ہیں کہ اس کا کسی چیز سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

جہنمیوں کے بارے میں بھی جسمانی عذاب اور آگ کے علاوہ، ان پر خداوندِ متعال کا خشم و غضب اور اس کی ناراضگی ہر جسمانی عذاب سے بدتر

اعمال کا مجسم ہونا اور قرآن

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے اعمال کا مجسم ہونا ثابت ہے۔ اور یہ اعمال مختلف شکلوں میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔ جزا و سزا کی اہم باتوں میں سے ایک یہی اعمال کا مجسم ہونا ہے۔ ظلم و ستم، کالے بادلوں کی صورت میں ہمارا محاصرہ کریں گے، جیسا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک حدیث میں آیا ہے: ’’الظلم ظلمات يوم القيامة‘‘ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہے۔

ناجائز طریقے سے کھایا ہوا یتیموں کا مال آگ کے شعلوں کے مانند ہمیں گھیر لے گا۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے:

’’اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡیَتٰمٰی ظُلۡمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ نَارًا ؕ وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا‘‘[6]

جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس آگ بھرتے ہیں اور وہ جلد ہی جہنم کی بھڑکتی آگ میں تپائے جائیں گے۔

ایمان نور و روشنی کی صورت میں ہمارے اطراف کو منور کرے گا۔ اس سلسلے میں سورہ حدید کی آیت نمبر ۱۲ میں ارشاد الٰہی ہے:

’’یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ‘‘[7]

قیامت کے دن آپ مومنین اور مومنات کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا۔

سودخور، جنہوں نے اپنے برے اور بے شرمانہ عمل سے معاشرے کے اقتصادی توازن کو درہم برہم کیا ہوگا، وہ مرگی کے مریضوں کی طرح ہوں گے جو اٹھتے وقت توازن برقرار نہیں رکھ سکتے، کبھی زمین پر گرتے ہیں، کبھی لڑکھڑاتے ہیں۔[8]

جو مال ذخیرہ اندوزوں اور مالدار کنجوسوں نے جمع کیا اور محروموں کا حق ادا نہیں کیا، وہ ان کے لیے ایک بھاری طوق کی مانند ان کی گردن میں لٹکا دیا جائے گا۔ وہ اس بوجھ سے حرکت کرنے کی طاقت نہ رکھیں گے۔

قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

’’وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ‘‘[9]

اور جو لوگ اللہ کے عطا کردہ فضل میں بخل سے کام لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے، جس چیز میں وہ بخل کرتے تھے وہ قیامت کے دن گلے کا طوق بن جائے گی۔

اسی طرح تمام اعمال اپنی مناسب صورت میں مجسم ہوں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ علم و سائنس نے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نابود نہیں ہوتی۔ مادہ اور توانائی ہمیشہ اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں۔ ہمارے افعال و اعمال بھی فنا نہیں ہوتے، بلکہ کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتے ہیں۔

قرآن مجید ایک مختصر اور لرزہ خیز عبارت میں قیامت کے بارے میں فرماتا ہے:

’’وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا‘‘[10]

اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ ان سب کو حاضر پائیں گے۔

حقیقت میں انسان جو کچھ پاتا ہے وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لہٰذا خداوندِ متعال اسی آیت کے تحت فوراً فرماتا ہے:

’’وَ لَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا‘‘[11]

اور آپ کا رب تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

اللہ تعالی ایک اور جگہ فرماتا ہے:

’’یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ‘‘[12]

اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر نکل آئیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔

اسی سورہ کی آیات ۷ اور ۸ میں ارشاد ہوتا ہے:

’’فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ[13]

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔

ان آیات کا اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان خود ان اعمال کو دیکھے گا۔ یہ اس بات کا انتباہ ہے کہ دنیا میں کئے گئے ہر چھوٹے بڑے، اچھے برے عمل محفوظ ہیں اور قیامت کے دن ہمارے ساتھ موجود ہوں گے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں ایسے آلات ایجاد ہو چکے ہیں جو اس حقیقت کو اسی دنیا میں بھی جزوی طور پر مجسم کر دیتے ہیں۔

ایک دانشور لکھتا ہے:

"سائنس دان آج مصری کمہاروں کی دو ہزار سال پرانی آواز کو سننے کے قابل بنا چکے ہیں۔ کیونکہ جب وہ کوزے بناتے تھے تو ان کی آواز کی لہریں کوزوں کے جسم میں محفوظ ہو جاتی تھیں۔ آج ان کو خاص طریقوں سے زندہ کر کے دوبارہ سنا جا سکتا ہے۔”

بہر حال، مسئلہ معاد اور قرآن مجید میں ذکر شدہ نیک لوگوں کی ابدی جزا اور بدکاروں کی دائمی سزا کے بہت سے سوالات کا جواب اعمال کا مجسم ہونا اور ہر اچھے اور برے عمل کے جسم و روح پر پڑنے والے اثرات کے ہمیشہ باقی رہنے کے اصول کے تحت دیا جاسکتا ہے۔

خاتمہ

روزِ قیامت اعمال کا مجسم ہونا ایک اٹل حقیقت ہے۔ انسان کے ہر چھوٹے بڑے نیک و بد عمل کا حساب نہ صرف اس کے جسمانی اعضاء کی گواہی اور مادی شواہد کے ساتھ لیا جائے گا بلکہ اعمال کا مجسم ہونا اور خود اپنی حقیقی شکل میں حاضر ہونا، یہ تصور محض سزاؤں اور نعمتوں کی تفصیلات تک محدود نہیں بلکہ انسان کے ہر کردار کے دائمی اثرات کو واضح کرتا ہے۔ خواہ وہ ظلم ہو، ناجائز مال کا حصول ہو، یا نور اور ایمان کا عکس ہو، ہر عمل اپنے نتائج کے ساتھ مجسم ہو کر سامنے آئے گا۔ لہٰذا، یہ دنیا دارالعمل ہے جہاں ہمارے افعال کا ہر لمحہ آنے والی زندگی کی بنیاد رکھ رہا ہے، جو جزا و سزا کے ایک جامع اور ناقابلِ انکار نظام کے تحت ظاہر ہو گی۔

حوالہ جات

[1]۔ سجدہ: ۱۷۔

[2]۔ یٰس: ۶۵۔

[3]۔ فصلت: ۲۱۔

[4]۔ بقرہ: ۲۵۔

[5]۔ توبہ: ۷۲۔

[6]۔ النساء: ۱۰۔

[7]۔ الحدید: ۱۲۔

[8]۔ بقرہ: ۲۷۹۔

[9]۔ آل عمران: ۱۸۰۔

[10]۔ الکہف: ۴۹۔

[11]۔ الکہف: ۴۹۔

[12]۔ الزلزال: ۶۔

[13]۔ الزلزال: ۷‑۸۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

مکارم شیرازی، ناصر، نوجوانوں کےلئے اصول عقائد کے پچاس سبق، ترجمہ: سید قلبی حسین رضوی، ص۱۱۲ تا ۱۱۴، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ۲۰۰۸م۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔