حاملان قرآن مجید اور حافظان قرآن کریم کو خداوند متعال نے دنیا و آخرت میں خصوصی مقام و منزلت سے نوازا ہے قیامت کے دن قرآن مجید ان کی شفاعت کرے گا۔
پیغمبر اسلام (ص) اور اہل بیت اطہار (ع) کی احادیث میں حاملان قرآن مجید کے مقام کی بلندی اور عظمت کے بارے میں خاص تاکید کی گئی ہے۔ حاملان قرآن مجید سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن مجید یا اس کے کچھ حصے کو حفظ کیا ہو۔ [1] ممکن ہے اس حفظ سے مراد قرآن مجید پر عمل بھی ہو۔ [2]
چنانچہ سورہ جمعہ کی آیتِ کریمہ ’’مَثَلُ الَّذينَ حُمِّلُوا التَّوْراةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوها كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفارا‘‘ میں اکثر مفسرین نے صراحت کے ساتھ حمل سے عمل کو مراد لیا ہے۔
حمل قرآن مجید کے مراحل
بعض بزرگان، حمل قرآن مجید کے لئے چند مراتب و مقامات کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں:
پہلا مرحلہ: قرآن مجید کے الفاظ کو سیکھنا، قرائت کے آداب و محاسن کو جاننا اور قرآن مجید کی سورتوں اور آیات کو حفظ کرنا ہے۔
دوسرا مرحلہ: قرآن مجید کے معانی اور تفسیر کا علم ہے۔ چنانچہ ماضی میں قرائت قرآن کی تعلیم اس کے معانی کی تعلیم کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ سیرت پیغمبر (ص) کو بیان کرنے والی بعض احادیث میں بھی اس قسم کی تعلیم کی وضاحت کی گئی ہے۔
تیسرا مرحلہ: قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنا اور قرآن مجید کے اخلاق سے مزین ہونا ہے۔ پس قرآن مجید کا حقیقی حامل وہ ہے جو قرآن مجید کے الفاظ اور معانی کا حامل بن کر اس کی نیک صفات سے اپنے آپ کو آراستہ کرے۔
حاملان قرآن مجید کون ہیں؟
پیغمبر اکرم (ص) اور اہل بیت اطہار (ع) کے نورانی بیانات میں قرآن مجید کے حاملوں کی فضیلت اور خاص مقام و منزلت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ پیغمبر خدا (ص) نے اہل قرآن کی فضیلت کے بارے میں فرمایا ہے: اہل قرآن انسانوں کے بلندترین درجے پر فائز ہیں البتہ اس سے انبیاء و مرسلین مستثنیٰ ہیں۔ اس لئے ان کے حق کو کم نہ سمجھنا کیونکہ ان کے لئے خداوند متعال کے پاس بلند مقام و منزلت ہے۔[3]
اس حدیث شریف میں مذکور لفظ ”اہل قرآن“ سے مراد وہ افراد ہیں جو قرآن مجید کو سیکھ کر اور اسے حفظ کر کے ہمیشہ قرآن مجید کی خدمت کرتے ہوئے اس کے معارف کو پھیلانے کی راہ میں کوشش کرتے ہیں (کیونکہ اہل سے مراد وہ شخص ہے جس کا کسی شخص یا چیز سے بہت نزدیکی اور اٹوٹ رابطہ ہو)۔ اس بنا پر اہل قرآن سے مراد حاملان قرآن مجید ہیں اور اس کے وہی معنی ہیں جس کا بیان قبل ازیں ہوچکا۔ اس حدیث میں اہل قرآن کا مقام، انبیاء و مرسلین کے بعد بلندترین مقام جانا گیا ہے۔
البتہ واضح ہے کہ اہل بیت (ع) کا مقام، خاتم الانبیاء کے جانشین ہونے کے ناطے انبیاء اور دوسرے مرسلین سے بالاتر ہے۔ اسی طرح مکتب اہل بیت (ع) کے علماء بھی جو لوگوں میں اہل بیت (ع) کے نمائندے ہیں اس حدیث کے استثنا میں داخل ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) کے درج ذیل خطاب سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے۔
خدا کے نزدیک انبیاء کے بعد لوگوں میں باعزت ترین افراد علماء اور ان کے بعد حاملان قرآن مجید ہیں۔ یہ لوگ دنیا سے اس طرح جاتے ہیں جس طرح انبیاء رخصت ہوتے ہیں۔ جب وہ قیامت کے دن قبروں سے باہر آئیں گے تو انبیاء کے ساتھ محشور ہوں گے اور پل صراط کو انبیاء کے ساتھ عبور کریں گے اور انبیاء کا اجر پائیں گے۔ پس مبارک ہو علم کی تلاش کرنے والوں اور حاملان قرآن مجید کو جن کی خدا کے پاس اتنی عظمت و منزلت ہے۔[4]
پس جب ہم اہل قرآن کو ایک خاص گروہ مان لیں تو ان کا مقام انبیاء، مرسلین، انبیاء کے اوصیاء اور علماء کے بعد آتا ہے۔ اہل قرآن کے جس مقام کا اس حدیث میں ذکر ہوا ہے وہ ایک نہایت بلند مقام ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ یہ لوگ اہم ترین فیض الٰہی یعنی قرآن مجید اور اس کے معارف کو معاشرے میں پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔ لوگوں پر ان کا بڑا حق ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے: ان کے حق کو چھوٹا اور ناچیز نہ سمجھنا۔
پیغمبر اسلام (ص) نے ایک اور حدیث میں حاملان قرآن مجید کی فضیلت میں فرمایا ہے: "أشراف أمتی حملة القرآن و اصحاب الليل‘‘۔ میری امت کی محترم شخصیات حاملان قرآن مجید اور رات کو عبادت میں جاگنے والے افراد ہیں۔[5]
اسی طرح امام صادق (ع) نے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: "حملة القرآن عُرفاء اهل الجنة والمجتهدون قوّاد اهل الجنة والرّسل سادة اهل الجنة‘‘ قرآن جاننے والے بہشتیوں کے رئیس ہیں۔ راہ خدا کے مجاہدین بہشتیوں کے پیشوا ہیں اور انبیاء اہل بہشت کے سرور و سالار ہیں۔[6]
حاملان قرآن مجید اور رحمت الٰہی
پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: حاملان قرآن مجید وہی لوگ ہیں جن کے لئے خدا کی رحمت مختص کی گئی ہے اور ان پر خدا کا نور ڈالا گیا ہے۔ خدا کے کلام کی انہیں تعلیم دی گئی ہے اور خدا کے نزدیک وہ مقرب ہیں۔ جو انہیں دوست رکھے اس نے خداوند متعال کو دوست رکھا اور جو ان سے دشمنی کرے اس نے خدا سے دشمنی کی ہے…[7]
امیر المؤمنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: قرآن مجید کو پڑھو اور اسے حفظ کرو کیونکہ خداوند متعال اس دل پر عذاب نہیں کرے گا جس نے قرآن مجید کو حفظ کیا ہو۔
مزید فرمایا: جو شخص قرآن مجید کو اپنے ذہن میں رکھ کر اسے حفظ کرے اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانے، خداوند متعال اسے قرآن مجید کے بدلے میں بہشت عطا کرے گا اور اس کے خاندان کے ایسے دس افراد کے بارے میں اس کی شفاعت کو قبول کرے گا جو مستحق جہنّم ہوں۔[8]
لوگوں کا چار گروہوں میں تقسیم ہونا
امام جعفر صادق (ع) نے لوگوں کو چار گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے حاملان قرآن مجید کی برتری اور فضیلت کو مثال کے ساتھ یوں بیان فرمایا ہے: لوگ چار قسم کے ہیں۔
میں نے سوال کیا: آپ پر قربان جاؤں! وہ چار گروہ کون ہیں؟
حضرت (ع) نے فرمایا: ایک وہ شخص جسے ایمان دیا گیا لیکن قرآن مجید نہیں دیا گیا۔ دوسرا وہ شخص جسے قرآن دیا گیا لیکن ایمان نہیں دیا گیا۔ تیسرا وہ شخص جسے قرآن و ایمان دونوں دیئے گئے اور چوتھا وہ شخص جسے نہ قرآن مجید دیا گیا ہے اور نہ ایمان، ان دونوں میں سے کوئی چیز اسے نہیں دی گئی۔
میں نے عرض کی: قربان جاؤں، ان چار گروہوں کے حالات کی میرے لئے وضاحت فرمائیے؟ حضرت (ع) نے فرمایا: وہ جسے ایمان دیا گیا ہے لیکن قرآن نہیں وہ اس خرما کی مانند ہے جو میٹھا ہے مگر بو نہیں رکھتا۔ وہ جسے قرآن دیا گیا ہے ایمان نہیں، اس کی مثال اس گھاس کی سی ہے جو خوشبو دار ہے لیکن اس کا مزہ کڑوا ہے۔
وہ جسے قرآن و ایمان دونوں چیزیں دی گئی ہیں اس کی مثال اس ترنج یعنی چکوترے جیسی ہے جو خوشبو بھی رکھتا ہے اور مزہ بھی اور جسے نہ ایمان دیا گیا ہے اور نہ قرآن، اس کی مثال حنظلہ یعنی تربوزہ ابو جہل جیسی ہے جو تلخ ہے اور خوشبو نہیں رکھتا۔[9]
اسی طرح فرمایا ہے: جو شخص قرآن مجید کو حفظ کرے اور اس پر عمل کرے اسے خداوند متعال عظمت والے نیکوکار سفیروں (انبیاء) کے ساتھ قرار دے گا۔[10]
حاملان قرآن مجید کا احترام
پیغمبر اسلام (ص) اور اہل بیت (ع) کی احادیث میں حاملان قرآن مجید کی تعظیم کی تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ بعض احادیث میں ان کے لئے بیت المال سے خصوصی تنخواہ معین کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس حدیث کے ذیل میں پیغمبر اکرم (ص) سے یوں نقل ہوا ہے: اہل قرآن کے حقوق کو کم نہ سمجھو کیونکہ وہ خدائے عزیز و جبار کے یہاں بلند مقام کے مالک ہیں۔[11]
اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے: حاملان قرآن مجید وہی ہیں جن کے حق میں رحمت الٰہی مخصوص کی گئی ہے اور خدا کا نور ان پر برسایا گیا ہے اور کلام خدا کی انہیں تعلیم دی گئی ہے اور وہ خدا کے نزدیک معزّز ہیں۔ جو ان کو دوست رکھے اس نے خدا کو دوست رکھا اور جو ان سے دشمنی کرے اس نے خدا سے دشمنی کی ہے۔[12]
پیغمبر اسلام (ص) سے مزید نقل ہوا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: خداوند کریم بخشنے والا ہے۔ وہ بخشش اور بلند مرتبت کاموں کو پسند کرتا ہے۔ وہ پست اور برے کاموں سے ناراض ہوتا ہے۔ خداوند متعال کی تعظیم تین طرح کے لوگوں کی قدر کرنے میں ہے: ۱۔ اسلام کے سن رسیدہ افراد ۲۔ عادل امام اور ۳۔ حاملان قرآن مجید۔ [13]
حاملان قرآن مجید کے لئے بیت المال سے خاص تنخواہ مقرر کرنے کے بارے میں حضرت علی (ع) سے مروی ہے: جو اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے اور قرآن مجید کو حفظ کر کے پڑھے وہ بیت المال سے سالانہ دو سو دینار کا حق رکھتا ہے۔ اگر وہ دنیا میں اس سے محروم رہ جائے تو قیامت کے دن جب اسے ہر زمانے سے زیادہ اس کی ضرورت ہوگی اسے پورا پورا وصول کرے گا۔[14]
حاملان قرآن مجید کی ذمہ داری
مختلف احادیث میں تصریح کی گئی ہے کہ حاملان قرآن مجید کی ذمہ داری عام لوگوں کی نسبت بہت بڑی ہے۔ اس سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے: اے قرآن پڑھنے والوں! جو کچھ خداوند متعال نے اپنی کتاب میں تمہیں بتایا ہے اس کے بارے میں خدا سے ڈرو، کہ میں بھی ذمہ دار ہوں اور تم بھی ذمہ دار ہو۔ میں پیغام پہنچانے کا ذمہ دار ہوں اور تم لوگ اس چیز کے ذمہ دار ہو جو خدا کی کتاب اور سنت سے سیکھ چکے ہو۔[15]
اس ذمہ داری کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں: خداوند متعال کے حضور آشکار و نہاں خضوع و خشوع کے لئے لائق ترین فرد حامل قرآن ہے اور آشکار و پنہاں نماز و روزہ کے لئے لوگوں میں موزوں ترین فرد حامل قرآن ہے۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے اونچی آواز میں فرمایا: اے حامل قرآن! قرآن مجید کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ، تاکہ خداوند متعال تجھے بخش دے۔ اسے اپنے لئے تکبر کا وسیلہ نہ بنا کہ خدا تجھے خوار کرے گا۔ اے حامل قرآن! قرآن مجید کے ذریعے خود کو زینت بخش اور اسے لوگوں کے سامنے زینت کا وسیلہ قرار نہ دے کہ خدا تجھے اس کے ذریعے بدصورت بنا دے گا۔
جو شخص ختم قرآن کرے، گویا اس کے دو پہلوؤں کے درمیان نبوت پوشیدہ ہے، لیکن اس پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ جو شخص قرآن مجید کو اکٹھا کرے اس کے لئے موزوں ہے کہ جو اس کے ساتھ جہالت سے پیش آئے، وہ اس کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ نہ کرے۔
جس نے اس پر غضب کیا ہے وہ اس کے ساتھ غضب نہ کرے جو اس کے ساتھ تلخی سے پیش آۓ اس کے ساتھ تندی نہ کرے بلکہ وہ قرآن مجید کے احترام میں عفو و بخشش اور چشم پوشی کرے، بخش دے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔ جسے قرآن مجید عطا کیا گیا ہے اگر وہ یہ تصور کرے کہ دوسروں کو اس سے بڑھ کر کوئی نعمت دی گئی ہے تو بیشک خدا نے جس چیز کو چھوٹا شمار کیا ہے وہ اسے بڑا اور جسے خدا نے بڑا شمار کیا ہے وہ اسے چھوٹا سمجھتا ہے۔[16]
اس حدیث کے مطابق حاملان قرآن مجید کے فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ اس نعمت کو ایک بڑی نعمت جانے جو خدا نے انہیں عطا کی ہے۔ ان کا پہلا فریضہ ہے کہ قرآن مجید سے حفظ کی گئی آیات کو دل کے کانوں سے سنیں اور اس پر عمل کرنے کے لئے قرآن مجید کی آیات میں بیان کئے گئے احکام الٰہی کی پیروی کرنے کی کوشش کریں۔
حاملان قرآن مجید اور خدا کی رحمت سے دوری
امام جعفر صادق (ع) نے ایک ایسے شخص کو ملعون اور خدا کی رحمت سے دور بتایا، جو قرآن پڑھنا جانتا تھا لیکن شراب بھی پیتا تھا۔ فرمایا: ملعون ہے، ملعون ہے، وہ حامل قرآن جو شراب پینے پر مصر ہو۔[17]
مختصر یہ کہ حاملان قرآن مجید میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے ان کے پیش نظر حفظ قرآن کی ذمہ داری کو نبھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ایک طرف سے نفسانی خواہشات اور اندرونی ہوسرانیوں سے مقابلہ کرنا اور دوسری طرف سے بدکاروں، گمراہوں اور ظالموں سے مبارزہ کرنا ضروری ہے۔ لہذا حامل قرآن کو تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ بصیرت اور بینائی کا مالک ہونا چاہئے تاکہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں شیطانی پھندوں میں گرفتار نہ ہوجائے۔
البتہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ جو اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے اقدام کرتا ہے اس کی مدد خود قرآن مجید کرتا ہے۔
حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: "وحاملاً لمن حمله”[18] یعنی قرآن مجید حمل کرنے والوں کا حامل خود قرآن ہوتا ہے۔ جو اس کا حامل ہو اور اس پر عمل کرے، اس کے لئے وہ ایک تیز رفتار سواری کے مانند ہے۔
نتیجہ
روایات اور احادیث ائمہ معصومین (ع) کی روشنی میں حاملان قرآن مجید اور حافظان قرآن کریم کی بہت فضیلت اور مراتب بیان ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں مولائے کائنات حضرت علی (ع) نے حاملان قرآن مجید کے لئے بہت بڑے مقام و منزلت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں حاملان قرآن مجید کو خود قرآن اٹھائے ہوئے ہے؛ خود قرآن مجید اس کا محمل اور سواری ہے۔ البتہ یہ تمام مراتب و فضائل ان حاملان قرآن مجید کے لئے ہیں جو قرآن مجید پر حمل اور حفظ کے ساتھ عمل بھی کرتے ہیں۔
حوالہ جات
[1]۔ نہاوندی، نفحات الرحمن، ج1، ص34-35۔
[2]۔ شرتونی، اقرب الموارد، حمل العلم ای العمل بہ۔
[3]۔ کلینی، کافی، ج2، ص603۔
[4]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص18 و 19۔
[5]۔ صدوق، امالی، ص305۔
[6]۔ کلینی، کافی، ج2، ص606۔
[7]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج89، ص182۔
[8]۔مجلسی، بحارالانوار، ج89، ص19 و 20 ۔
[9]۔ کلینی، کافی، ج2، ص604 و 605۔
[10]۔ کلینی، کافی، ج2، ص603۔
[11]۔ کلینی، کافی، ج2، ص603۔
[12]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج89، ص182۔
[13]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج89، ص184۔
[14]۔ صدوق، الخصال، ص602۔
[15]۔ کلینی، کافی، ج2، ص606۔
[16]۔ کلینی، کافی، ج2، ص604۔
[17]۔ کراجکی، کنزالفوائد، ج1، ص146۔
[18]۔ شریف رضی، نہج البلاغہ، 198۔
فہرست منابع
1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن بابویه، محمد بن علی، الخصال، قم، مؤسسة الصادق للطباعة و النشر، 1397ھ ش۔
3۔ ابن بابویه، محمد بن علی، امالی شيخ صدوق، تہران، کتابچی، 1376ھ ش۔
4۔ شرتونی، سعید، أقرب الموارد في فصح العربية و الشوارد، قم، مکتبة آیة اللہ العظمی المرعشی، 1403ھ ق۔
5۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نهج البلاغة، بیروت، دار الرسول الاکرم صلی الله عليه و آله و سلم، 1418ھ ق۔
6۔ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافة، 1414ھ ق۔
7۔ کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، بیروت، دار الاضواء، 1405ھ ق۔
8۔ کلینی، یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1407ھ ق۔
9۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعة لدُرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت، دار إحياء التراث العربي، 1403ھ ق۔
10۔ نھاوندی، محمد، نفحات الرحمن فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسة البعثة، 1429ھ ق۔
مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)
ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج1، ص145 تا 151، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، 1442ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔