امامت و خلافت اور شیعہ و سنی اعتقادات میں فرق

امامت و خلافت اور شیعہ و سنی اعتقادات میں فرق

کپی کردن لینک

امامت و خلافت کا مسئلہ اسلامی عقائد میں بنیادی اور اہم مقام رکھتا ہے، جس پر امت مسلمہ میں دو بڑے مکتب فکر، شیعہ اور اہل سنت، کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اختلاف کی بنیاد اس بات پر ہے کہ آیا پیغمبر اکرم (ص) کے بعد امامت و خلافت اور امت کی رہبری ایک الٰہی منصب ہے یا عوامی انتخاب۔

شیعہ دانشمندوں کی نظر میں امامت و خلافت ایک الہی منصب ہے جو خداوند عالم کی طرف سے امت اسلامی کے شائستہ اور عقل مند شخص کو دیا جاتا ہے۔ امام اور نبی کے درمیان واضح اور روشن فرق یہ ہے کہ پیغمبر اکرم شریعت لے کرآتا ہے اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ صاحب کتاب ہوتا ہے، جب کہ امام اگرچہ ان چیزوں کا حقدار نہیں ہے لیکن حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے علاوہ دین کی ان چیزوں کا بیان اور تشریح کرنے والا ہوتا ہے جو پیغمبر اکرم (ص) وقت کی کمی یا حالات کے صحیح نہ ہونے کی بنا پر اسے بیان نہیں کرپاتا، اور ان تمام چیزوں کے بیان کو اپنے وصیوں کے ذمہ کردیتا ہے۔

اس بنا پر شیعوں کی نظر میں خلیفہ صرف حاکم وقت اور اسلام کا ذمہ دار، قوانین کا جاری کرنے والا اور لوگوں کے حقوق کا محافظ اور ملک کی سرحدوں کا نگہبان ہی نہیں ہوتا، بلکہ مذہبی مسائل اور مبہم نکات کو واضح اور روشن کرنے والا ہوتا ہے اور ان احکام و قوانین کو مکمل کرنے والا ہوتا ہے جو کسی وجہ سے دین کی بنیاد رکھنے والا بیان نہیں کر سکتا ہے۔

لیکن امامت و خلافت، اہلسنت کے دانشمندوں کی نظر میں ایک عام اور مشہور منصب ہے اور اس مقام کا مقصد صرف ظاہری چیزوں اور مسلمانوں کی مادیات کی حفاظت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ خلیفہ وقت عمومی رائے مشوروں سے سیاسی اقتصادی اور قضائی امور کو چلانے کے لئے منتخب ہوتا ہے اور وہ شئون و احکامات جو پیغمبر اکرم کے زمانے میں بطور اجمال تشریع ہوئے ہیں اور پیغمبر اکرم کسی علت کی بنا پر اسے بیان نہ کرسکے ہوں، اس کے بیان کرنے کی ذمہ داری علماء اور اسلامی دانشمندوں پر ہے کہ اس طرح کی مشکلات کو اجتہاد کے ذریعے حل کریں۔

حقیقت امامت و خلافت کے بارے میں اس مختلف نظریہ کی وجہ سے دو مختلف گروہ مسلمانوں کے درمیان وجود میں آگئے اور وہ بھی دو حصوں میں بٹ گئے اور آج تک یہ اختلاف باقی ہے۔

امامت و خلافت کی شرائط

پہلے نظریہ کے مطابق امام، پیغمبر اکرم کے بعض امور میں شریک اور اس کے برابر ہے اور جو شرائط پیغمبر کے لئے لازم ہیں وہی شرائط امام کے لئے بھی ضروری ہیں۔ ان شرائط کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں:

پہلی شرط: پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہو یعنی اپنی پوری عمر میں گناہ کے قریب نہ جائے اور دین کے حقائق و احکام بیان کرنے، لوگوں کے اسلامی و مذہبی سوالوں کے جوابات دینے میں خطا کا مرتکب نہ ہو۔ امام کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور دونوں کے لئے ایک ہی دلیل ہے۔

دوسری شرط: پیغمبر، شریعت کو سب سے زیادہ اور بہتر طور پر جانتا ہو۔ اور مذہب کی کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہو۔ اور امام بھی جو کہ شریعت کی ان چیزوں کو مکمل کرنے اور بیان کرنے والا ہے جو پیغمبر اکرم کے زمانے میں بیان نہیں ہوئی ہیں، ضروری ہے کہ دین کے احکام و مسائل کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔

تیسری شرط: نبوت ایک انتصابی مقام ہے نہ انتخابی، اور پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ خدا اس کی معرفی کرے اور اسی کی طرف سے مقام نبوت پر منصوب ہو کیونکہ تنہا اسی کی ذات ہے جو معصوم کو غیر معصوم سے جدا کرتا ہے اور صرف خدا ان لوگوں کو پہچانتا ہے جو غیبی عنایتوں کی وجہ سے اس مقام پر پہنچے ہیں اور دین کی تمام جزئیات سے  واقف و آگاہ ہیں۔

یہ تینوں شرطیں جس طرح سے پیغمبر کے لئے معتبر ہیں اسی طرح امام اور اس کے خلیفہ اور جانشین کے لئے معتبر ہیں۔

لیکن دوسرے نظریہ کے مطابق، نبوت کی  کوئی بھی شرط امامت و خلافت کے لئے ضروری نہیں ہیں نہ معصوم ہونا ضروری ہے نہ عادل ہونا اور نہ ہی عالم ہونا ضروری ہے نہ شریعت پر مکمل دسترسی ضروری ہے نہ انتصاب ہونا، اور نہ عالم غیب سے رابطہ ہونا ضروری ہے  بلکہ بس اتنا کافی ہے کہ اپنے ہوش و حواس اور تمام مسلمانوں کے مشورے سے اسلام کی شان و شوکت کی حفاظت کرے اور قانون کے نفاذ کے لئے امنیت کو جزا قرار دے، اور جہاد کے ذریعے اسلام کو پھیلانے کی کوشش کرے۔

ابھی ہم امامت و خلافت کے اس مسئلے کو (کہ کیا مقام امامت و خلافت ایک انتصابی مقام ہے یا ایک انتخابی مقام اور کیا پیغمبر اکرم (ص) کے لئے ضروری تھا کہ وہ خود کسی کو اپنا جانشین معین کریں یا امت کے حوالے کردیں) ایک اجتماعی طریقے سے حل کرتے ہیں۔

اور قارئین محترم کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ اجتماعی اور فرہنگی حالات خصوصاً پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کے سیاسی حالات سبب بنے کہ خود پیغمبر اکرم (ص) اپنی زندگی میں امامت و خلافت اور جانشینی کی مشکلات کو حل کریں اور اس کے انتخاب کو امت کے حوالے نہ کریں۔

نظریہ امامت و خلافت

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذہب اسلام، جہانی مذہب اور آخری دین ہے اور جب تک رسول خدا (ص) زندہ رہے امت کی رہبری کو اپنے ذمے لئے  رہے اور آپ کی وفات (شہادت) کے بعد ضروری ہے کہ امت کی رہبری امت کے بہترین فرد کے ذمے ہو، ایسی صورت میں پیغمبر اکرم (ص) کے بعد رہبری، کیا ایک مقام تنصیصی (نص یا قرآنی دلیل ) ہے یا مقام انتخابی؟ یہاں پر دو نظریے ہیں.

شیعوں کا نظریہ ہے کہ امامت و خلافت اور مقام رہبری، مقام تنصیصی (یعنی خدا کی طرف سے معین شدہ مقام) ہے اور ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کا جانشین خدا کی طرف سے معین ہو۔

جبکہ اہلسنت کا نظریہ ہے کہ امامت و خلافت یہ مقام انتخابی ہے اور امت کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر کے بعد ملک و امت کے نظام کو چلانے کے لئے کسی شخص کو منتخب کریں، اور ہر گروہ نے اپنے نظریوں پر دلیلیں پیش کی ہیں جو عقاید کی کتابوں میں ہیں یہاں پر جو چیز بیان کرنے کی ضرورت ہے وہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں حاکم کے حالات کا تجزیہ و تحلیل کرنا ہے تاکہ دونوں نظریوں میں سے ایک نظریہ کو ثابت کرسکیں۔

پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں اسلام کی داخلی اور خارجی سیاست کا تقاضا یہ تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) کا جانشین خدا کے ذریعے خود پیغمبر کے ہاتھوں معین ہو۔ کیونکہ اسلامی معاشرہ کو ہمیشہ ایک خطرناک مثلث یعنی روم، ایران، اور منافقین کی طرف سے جنگ، فساد اور اختلاف کا خطرہ لاحق تھا، اسی طرح امت کے لئے مصلحت اسی میں تھی کہ پیغمبر سیاسی رہبر معین کر کے تمام امتیوں کو خارجی دشمن کے مقابلے میں ایک ہی صف میں لاکر کھڑا کردیں۔ اور دشمن کے نفوذ اور اس کے تسلط کو (جس کی اختلاف باطنی بھی مدد کرتا) ختم کردیں اب ہم اس مطلب کی وٖضاحت کر رہے ہیں۔

اس خطرناک مثلث کا ایک حصہ بادشاہِ روم تھا۔ یہ ایک عظیم طاقت شبہ جزیرہ کے شمال میں واقع تھی جس کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) ہمیشہ اور زندگی کے آخری لمحے تک فکرمند ہے۔ سب سے پہلی لڑائی مسلمانوں کی روم کے عیسائی فوج کے ساتھ 8 ھ میں فلسطین میں ہوئی۔ اس جنگ میں اسلام کے تین عظیم سپہ سالار یعنی جعفر طیار، زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ شہید ہوگئے اور اسلامی فوج کی بہت بڑی شکست ہوئی۔

کافروں کی فوج کے مقابلے سے اسلام کی فوج کے پیچھے ہٹنے سے قیصر کی فوج کے حوصلے بلند ہوگئے اور ہر لمحہ یہ خطرہ بنا رہا کہ کہیں نئی اسلامی حکومت کے مرکز پر حملہ نہ ہو جائے۔

اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) 9 ھ میں بہت زیادہ فوج کے ساتھ شام کے اطراف کی طرف روانہ ہوئے تاکہ ہر طرح کی فوجی لڑائی میں خود رہبری کریں۔ اس سفر میں اسلامی فوج نے زحمت و رنج برداشت کر کے اپنی دیرینہ حیثیت کو پالیا اور اپنی سیاسی زندگی کو دوبارہ زندہ کیا۔

لیکن اس کھوئی ہوئی کامیابی پر پیغمبر اکرم (ص) مطمئن نہیں ہوئے اور اپنی بیماری سے چند دن پہلے فوج اسلام کو اسامہ بن زید کی سپہ سالاری میں دے کرحکم دیا کہ شام کے اطراف میں جائیں اور جنگ میں شرکت کریں۔

اس مثلث کا دوسرا خطرناک حصہ ایران کا بادشاہ تھا۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ایران کے خسرو نے شدید غصہ کے عالم میں پیغمبر اکرم  (ص) کے خط کو پھاڑا تھا۔ اور پیغمبر اکرم  (ص) کے سفیر کو ذلیل و خوار کر کے اپنے محل اور ملک سے نکالا تھا، صرف یہی نہیں  بلکہ یمن کے گورنر کو نامہ لکھا تھا کہ پیغمبر اکرم  (ص) کو گرفتار کرلے۔ اور اگر وہ گرفتاری نہ دیں تو انہیں قتل کردے۔

خسرو پرویز، اگرچہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں ہی مرگیا تھا لیکن یمن کو آزاد کرنے کا مسئلہ (جو مدتوں تک ایران کے زیر نظر تھا) خسرو ایران کی نظروں سے پوشیدہ نہ تھا۔ اور غرور و تکبر نے ایران کے سیاست دانوں کو اس بات کی اجازت نہ دی کہ اس طرح کی قدرت پیغمبر اکرم (ص) کو برداشت کرسکیں۔

اور اس مثلث کا تیسرا خطرہ گروہ منافقین کی طرف سے تھا جو ہمیشہ ستون پنجم (مدد و طاقت) کی طرح مسلمانوں کے خلاف سازش میں لگے تھے، یہاں تک کہ ان لوگوں نے کہ جنگ تبوک میں جاتے وقت راستے میں پیغمبر اکرم (ص) کو قتل کرنا چاہا۔ منافقین کے بعض گروہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ رسول خدا (ص) کی موت کے بعد اسلامی تحریک ختم ہوجائے گی اور سب کے سب آسودہ ہوجائیں گے۔[1]

پیغمبر اکرم (ص) کے انتقال کے بعد ابوسفیان نے بے ہودہ قسم کے مکر و حیلے اپنائے اور چاہا کہ حضرت علی (ع) کے ساتھ بیعت کر کے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسم کر کے ایک دوسرے کو روبرو کردے اور اچھے لوگوں کو برائیوں کی طرف راغب کرے۔ لیکن حضرت علی (ع) اس کی سازش سے باخبر تھے، چنانچہ اس کو ہوشیار کرتے ہوئے کہا:

خدا کی قسم! فتنہ و فساد برپا کرنے کے علاوہ تیرا  کوئی اور مقصد نہیں ہے اور صرف آج ہی تو نہیں چاہتا کہ فتنہ و فساد برپا کرے  بلکہ تو چاہتا ہے کہ ہمیشہ فتنہ و فساد ہوتا رہے، جا مجھے تیری ضرورت نہیں ہے۔[2]

منافقوں کی تخریب کاری (فتنہ و فساد) اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ قرآن مجید نے سورۂ آل عمران، نساء، مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت، احزاب، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقون اور حشر میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔

کیا ایسے سخت دشمنوں کے بعد جو اسلام کے کمین میں بیٹھے تھے صحیح تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے بعد نو بنیاد اسلامی معاشرے کے لئے دینی و سیاسی رہبر وغیرہ کو معین نہ کرتے؟ اجتماعی محاسبہ کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) پر ضروری تھا کہ رہبر کا تعیین کریں تاکہ اپنے بعد ہونے والے تمام اختلاف کو روک دیں اور ایک محکم دفاعی طاقت کو وجود میں لا کر وحدت اسلامی کی بنیاد کو محفوظ کریں، اور ہر ناگوار حادثہ رونما ہونے سے پہلے اور یہ کہ رسول اسلام کے انتقال کے بعد ہر گروہ یہ کہے کہ رہبر ہم میں سے ہو، یہ سوائے رہبر معین کئے ممکن نہ تھا۔

مذکورہ باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نظریہ باکل صحیح ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے بعد ہونے والے رہبر کو خود معین کریں شاید یہی وجه ہی تھی کہ پیغمبر اکرم (ص) بعثت کی ابتداء سے آخر عمر تک مسئلہ امامت و خلافت اور جانشینی کو ہمیشہ بیان کرتے رہے اور اپنے جانشین کو آغاز رسالت میں بھی اور آخر زمانہ رسالت میں بھی معین کیا، ان دونوں کی توضیح ملاحظہ کیجئے۔

دلیل عقلی، فلسفی اور اجتماعی حالات سے قطع نظر کہ یہ سب کی سب میرے نظریئے کی تائید کرتی ہیں، وہ حدیثیں اور روایتیں جو پیغمبر اکرم (ص) سے وارد ہوئی ہیں علمائے شیعہ کے نظریہ کی تصدیق کرتی ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی رسالت کے زمانے میں کئی دفعہ اپنے جانشین اور وصی کو معین کیا ہے اور امامت کے موضوع کو عمومی رائے اور انتخاب کے ذریعے ہونے والی بحث کو ختم کردیا ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے نہ صرف اپنی آخری عمر میں اپنا جانشین معین کیا تھا، بلکہ آغاز رسالت میں کہ ابھی سو آدمیوں کے علاوہ کوئی ان پر ایمان نہ لایا تھا اپنے وصی و جانشین کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

جس دن خدا نے آپ (ص) کو حکم دیا کہ اپنے رشتہ داروں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں اور عمومی دعوت سے پہلے انہیں مذہب توحید قبول کرنے کے لئے بلائیں، تو اس مجمع میں جس میں بنی ہاشم کے 45 سردار موجود تھے، آپ (ص) نے فرمایا: تم میں سے سب سے پہلے جو میری مدد کرے گا وہی میرا بھائی، وصی اور میرا جانشین ہوگا۔

جس وقت حضرت علی (ع) ان کے درمیان سے اٹھے اور ان کی رسالت کی تصدیق کی۔ اسی وقت پیغمبر اکرم (ص) نے مجمع کی طرف رخ کر کے کہا: یہ جوان میرا بھائی، و صی اور جانشین ہے۔ مفسرین و محدثین کے درمیان یہ حدیث ”یوم الدار” اور حدیث ”بدء الدعوة” کے نام سے مشہور ہے۔

خاتمہ

امامت و خلافت کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ دینی و عقیدتی پہلو بھی رکھتا ہے، اور اس کے حل کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کے واقعات، امت کی ضروریات اور قرآن و سنت کی روشنی میں گہری فکری و تاریخی تحقیق کی ضرورت ہے۔

حوالہ جات

[1] طور: ۳۰-۳۲۔

[2] ابن اثیر، الكامل في التاريخ، ج۲، ص۲۲۰؛ ابن عبد ربه، العقد الفرید، ج۲، ص۲۴۹۔

فہرست منابع

۱- قرآن مجید۔

۲- ابن اثیر، علی بن محمد، الكامل في التاريخ، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۰۷ھ ق-۱۹۸۷م۔

۳-ابن عبد ربه، احمد بن محمد، العقد الفرید، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۰۷ھ ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، دسویں فصل، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔