امام محمد جواد کی نظربندی، قید اور شہادت

امام محمد جواد کی نظربندی، قید اور شہادت

2023-06-14

337 مشاہدات

کپی کردن لینک

مدینہ رسول سے فرزند رسول کو طلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی،اس لیے عظیم شرف کے باوجود آپ حکومت وقت کی کسی رعایت کے قابل نہیں متصور ہوئے معتصم نے بغداد بلوا کر آپ کوقید کر دیا، علامہ اربلی لکھتے ہیں، کہ چون معتصم بخلافت بہ نشست آنحضرت را از مدینہ طیبہ بدارالخلافة بغداد آورد و حبس نمود(کشف الغمہ ص ۱۲۱)۔

ایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اور آپ کو خدا نے یہ شرف کیوں عطا فرمایا ہے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ پر اس قدر سختیاں تھیں اور اتنی کڑی نگرانی اور نظر بندی تھی کہ آپ اکثر اپنی زندگی سے بیزار ہو جاتے تھے بہر حال وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال ۳ ماہ ۱۲/ یوم کی عمر میں قید خانہ کے اندر آخری ذی قعدہ (بتاریخ ۲۹/ ذی قعدہ ۲۲۰ ہجری یوم سہ شنبہ) معتصم کے زہر سے شہید ہو گئے

(کشف الغمہ ص ۱۲۱، صواعق محرقہ ص ۱۲۳، روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۶، اعلام الوری ص ۲۰۵، ارشاد ص ۴۸۰، انوار النعمانیہ ص ۱۲۷، انوارالحسینیہ ص ۵۴)۔

آپ کی شہادت کے متعلق ملا مبین کہتے ہیں کہ معتصم عباسی نے آپ کو زہر سے شہید کیا (وسیلة النجات ص ۲۹۷) علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ آپ کو امام رضا کی طرح زہر سے شہید کیا گیا(صواعق محرقہ ص ۱۲۳) علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ ”گویندیہ زہر شہید شہ“ کہتے ہیں کہ آپ زہر سے شہید ہوئے (روضة الشہداء ص ۴۳۸)۔ ملا جامی کی کتاب میں ہے ”قیل مات مسموما“ کہا جاتا ہے کہ آپ کی وفات زہر سے ہوئی ہے(شواہد النبوت ص ۲۰۴)۔ علامہ نعمت اللہ جزائری لکھتے ہیں کہ ”مات مسموما قدسمم المعتصم“ آپ زہر سے شہید ہوئے ہیں اور یقینا معتصم نے آپ کو زہر دیا ہے، انوار العنمانیہ ص ۱۹۵)

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ انہ مات مسموما آپ زہر سے شہید ہوئے ہیں ”یقال ان ام الفضل بنت المامون سقتہ، بامرابیہا“ کہا جاتا ہے کہ آپ کو آپ کی بیوی ام الفضل نے اپنے باپ مامون کے حکم کے مطابق (معتصم کی مدد سے) زہر دے کرشہید کیا (نور الابصارص ۱۴۷، ارحج المطالب ص ۴۶۰)۔

مطالب یہ ہوا کہ مامون رشید نے امام محمد تقی کے والد ماجد امام رضا کو اور اس کی بیٹی نے امام محمد تقی کو بقول امام شبلنجی شہید کرکے اپنے وطیرہ مستمرة اور اصول خاندانی کو فروغ بخشا ہے، علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ ”دخلت امراتہ ام الفضل الی قصر المعتصم“ کہ امام محمد تقی کو شہید کرکے ان کی بیوی ام الفضل معتصم کے پاس چلی گئی بعض معاصرین لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے شہادت کے وقت ام الفضل کے بدترین مستقبل کا ذکر فرمایا تھا جس کے نتیجہ میں اس کے ناسور ہو گیا تھا اور وہ آخر میں دیوانی ہو کر مری۔

مختصر یہ کہ شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی اور نمازجنازہ پڑھائی اور اس کے بعد آپ مقابر قریش اپنے جد نامدار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے پہلو میں دفن کئے گئے چونکہ آپ کے دادا کا لقب کاظم اور آپ کا لقب جواد بھی تھا اس لیے اس شہرت کو آپ کی شرکت سے ”کاظمین“ اور وہاں کے اسٹیشن کو آپ کے دادا کی شرکت کی رعایت سے ”جوادین“ کہا جاتا ہے۔

اس مقبرہ قریش میں جسے کاظمین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۳۵۶ ہجری میں مطابق ۹۹۸ ء میں معزالدولہ اور ۴۵۲ ہجری مطابق ۱۰۴۴ ء میں جلال الدولہ شاہان آل بویہ کے جنازے اعتقاد مندی سے دفن کئے گئے کاظمین میں جوشاندار روضہ بنا ہوا ہے اس پربہت سے تعمیری دور گزرے لیکن اس کی تعمیر تکمیل شاہ اسماعیل صفوی نے ۹۶۶ ہجری مطابق ۱۵۲۰ء میں کرائی ۱۲۵۵ ہجری مطابق ۱۸۵۶ء میں محمد شاہ قاچار نے اسے جواہرات سے مرصع کیا۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔