یہ قبرستان بقیع انتہائی قدیمی ہے لیکن لوگ یہاں کب سے اپنے مرنے والوں کو دفن کرتے ہیں اس کی صحیح تاریخ کا پتہ نہیں ہے البتہ منابع تاریخی یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہجرت سے پہلے مدینہ کے لوگ اپنے مرنے والوں کو دو قبر "بنی حرام” اور "بنی سالم” یا پھر اپنے گھروں میں دفن کیا کرتے تھے۔[۱]
لیکن ہجرت کے بعد بقیع مسلمانوں کا وہ واحد قبرستان ہو گیا کہ جس میں لوگ اپنےجنازوں کو دفن کرتے تھے اور ایک بڑی تعداد صحابہ، تابعین اور اہل بیت رسول اللہ کی اس قبرستان میں مدفون ہیں۔
قبرستان بقیع میں پہلے وہ شخص کہ جو انصار سے دفن ہوئے ہیں وہ "اسعد بن زرارہ ” ہیں اور مہاجرین میں سے پہلے شخص جو مدفون ہیں وہ "عثمان بن مظعون” ہیں پیمبرؐ اسلام کے بیٹے "ابراہیم” کے انتقال کے بعد آپ نے ان کو بھی بقیع میں دفن کیا جس کے بعد مدینہ کے لوگ اپنے عزیز و اقارب کو یہیں دفن کرنے لگے روایت میں آیا ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم خدا سے اس قبرستان میں جاتے تھے اور وہاں کے مدفونین کو سلام کیا کرتے تھے اور خداوند عالم سے ان کے گناہوں کے لئےطلب مغفرت کرتے تھے۔”[۲]
انہدام بقیع سے پہلے سے دور حاضر تک مسلمان چاہے وہ کسی فرقے اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی زیارت کے بعد وہ بقیع آتے ہیں اور اہل بیت پیغمبرؐ اور دوسرے جلیل القدر اصحاب اور تابعین کی زیارت کرتے ہیں ائمہ معصومین علیہم السلام اور دیگر اصحاب کی قبروں پر پہلے ایک گنبد تھا لیکن وہابیوں کے حملے میں وہ منہدم کر دیا گیا اور اب صرف بعض ایسی قبریں ہیں جس میں کچھ چھوٹی دیواریں بچی ہوئی ہیں۔
پہلی مرتبہ انہدام بقیع
پہلی بار انہدام بقیع کا سلسلہ کچھ یوں شروع ہوا جب عبدالعزیز فرزند محمد بن سعود جو ہمیشہ مکہ پر تصرف کرنا چاہتا تھا اس نے اس مقدس شہر پر چڑھائی کردی اور ایک سخت جنگ کا آغاز کیا جو تقریباً نو سال تک چلی اور آخر میں یہ ۱۲۱۲ ہجری قمری میں کامیاب ہوتا ہے اور تقریبا چھ سال کے بعد یعنی ۱۲۱۸ ہجری میں جب یہ مکمل طریقے سے شہر مکہ کو فتح کر لیتا ہے اور اس پر مسلط ہو جاتا ہے تو وہ انہدام بقیع کی طرف بڑھتا ہے جب کہ وہ حالت احرام میں ہوتا ہے اور مسجد الحرام میں خطبہ دیتا ہے اور لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دے کر یہ حکم دیتا ہے کہ انہدام بقیع کے لئے آگے بڑہیں اور قبروں کے اوپر جو گنبد بنے ہوئے ہیں ان کو منہدم کر دیا جائے ان کو توڑ دیا جائے۔[۳]
اگلے دن صبح لوگوں کی ایک کثیر تعداد پھاوڑا اور دوسرے تخریب کاری کے وسائل اپنے ساتھ لے کر اس انہدام بقیع کا گھنونا کام شروع کر دیتے ہیں اور ایک کے بعد ایک تمام قبروں پر بنے ہوئے گنبد کو یہ لوگ توڑ دیتے ہیں اور وہ لوگ انہدام بقیع کے درمیان رجز خوانی اور خوشی کے قصیدے پڑھتے جاتے ہیں اور ڈھول بجاتے جاتے ہیں اور بالآخر تین روز کی مدت میں اس مقدس شہر اور مقدس قبرستان کے تمام آثار کو محو کر دیتے ہیں۔[۴]
انہدام بقیع کا سبب
انہدام بقیع کا جو سبب ہے وہ وہی مسلک وہابیت کے باطل اور انحرافی عقائد ہیں جو اس سنگین جرم کا سبب بنے ایوب صبری پاشا لکھتے ہیں۔ وہابی کہتے ہیں: "حرمین شریفین کے رہنے والے لوگ خداوند عالم کے بجائے گنبد اور قبروں کی پوجا کرتے ہیں ان کی عبادت کرتے ہیں اگر یہ گنبد ہٹا دیے جائیں اور ان کو ویران کر دیا جائے (انہدام بقیع کا کام انجام دے دیا جائے) تو یہ لوگ کفر و شرک کے دائرے سے باہر نکل آئیں گے اور خداوند عالم کی عبادت کرنے لگیں گے”۔
ایوب صبری پاشا مزید لکھتے ہیں: "کہ سعود نے جب شہر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور لوگوں کو قبرستان وغیرہ جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے لیے کچھ شرائط معین کیے کہ اگر وہ ان شرطوں پر باقی رہیں گے تو ان کے حق میں تجاوز نہیں کیا جائے گا اور ان کے لیے امان ہوگا ورنہ نہیں” ہم مختصرا کچھ شرطوں کو یہاں بیان کر رہے ہیں۔
۱۔خداوند عالم کی عبادت صرف اور صرف وہابی عقائد کے اصول و قوانین کے مطابق ہوگی۔
۲۔رسول اللہ کا احترام صرف وہابی مذہب میں بیان ہوئے طریقوں سے ہوگا۔
۳۔ جتنے بھی قبروں پر گنبد وغیرہ بنے ہوئے ہیں ان سب کو توڑنا ہوگا اور ساری قبروں کو صرف ایک مچھلی کی بناوٹ کی طرح بغیر کسی بلندی کے بالکل سادہ رکھنا ہوگا۔
۴۔سب کو اپنا دین ترک کرنا ہوگا اور صرف اور صرف آئین وہابیت کے احکام پر عمل کرنا ہوگا۔
۵۔سب کو اعتراف کرنا ہوگا کہ محمد بن عبدالوہاب خداوند عالم کی طرف سے ہیں اور ان کا مذہب حق ہے اور وہ دوبارہ دین کو زندہ کرنے والے ہیں۔
۶۔جو بھی اپنے دین پر باقی رہے گا اور وہابیت کے آئین کو تسلیم نہیں کرے گا اسے غیض و غضب اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی توہین اور تحقیر کی جائے گی۔
۷۔وہ علماء کہ جو آئین وہابیت کو قبول کرنے سے گریز کریں گے انہیں قتل کر دیا جائے گا یا انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔
۸۔جو بھی امر و نہی وہابیوں کی طرف سے مذہبی یا سیاسی مسائل میں بیان ہوگی چاہے وہ کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو اس کو بغیر کسی چوں چرا کے قبول کرنا پڑے گا اوراس کو لفظ بہ لفظ اجرا کرنا پڑے گا یعنی ذرہ برابر بھی اس کے اندر کوئی بھی فرق نہیں کرنا ہوگا اور وہابی حاکموں کی تکریم کرنا ہوگی۔[۵]
سعود نے لوگوں کو ان شرائط کے قبول کرنے کے بعد گنبد اور قبور کو خراب کرنے کا حکم دیا اور لوگوں نے یہ کام شروع کیا ۔
ایوب صبری پاشا مدینہ کے لوگوں کے ذریعے لکھے گئے خط کا خلاصہ یوں ذکر کرتے ہیں:
” کہ آپ نے حکم دیا تھا کہ قبور پر بنے ہوئے گنبدوں اور میناروں کو توڑ دیا جائے لہذا ہم نے وہ کام انجام دے دیا ہے اور ہر وہ حکم جو آپ کی طرف سے صادر ہوگا وہ ہمارے حق میں نافذ ہے”۔
یہ خط جب سعود بن عبدالعزیز تک پہنچا تو اس نے دوبارہ دستور دیا کہ ہر گنبد اور ہر قبر کو خود اس کے خادم حضرات اپنے ہاتھوں سے مکمل طریقے سے ویران کریں گے اس نئے حکم کے آنے کے بعد حضرت حمزہ سید الشہداء کے حرم کے خادموں نے اظہار کیا کہ ہمارا بدن ضعیف ہو گیا ہے اور ہم طاقت نہیں رکھتے ہیں کہ اس بلندی پر جا کر ہم اس کو منہدم کر سکیں تو سعود خود اپنے قریبیوں کے ساتھ جناب حمزہ کے حرم مطہر میں جاتا ہے اور ایک طاقتور اور پہلوان؛ وہابی سے کہتا ہے کہ وہ اس گستاخی اور جسارت کو انجام دے۔
لہذا جب اس کو حکم دیا کہ وہ پھاوڑا اور بیلچہ لے کر جائے اور گنبد کی بلندی سے اس کو توڑنا شروع کرے وہ بھی فورا تخریب کاری لے کر گنبد پر چڑھ کر بے ادبی کرتا ہے اور پرچم کو اتار کر پھینکنے لگتا ہے اسی اثنا میں وہ اس بلندی سے نیچے گر جاتا ہے اور اسی وقت ۱۲۲۲ ہجری میں اسی جگہ وہ مر جاتا ہے سعود نے جب اس واقعے کو دیکھا تو وہ گنبد کی تخریب کاری سے پلٹ جاتا ہے اور صرف حرم کے دروازے کو جلا کر واپس آجاتا ہے۔[۶]
وہابیوں نے جب اسلامی سرزمین پر سرایت کرنا چاہا تو عثمانی خلفاءنے ان کو روکنے کی کوشش کی اور عثمانی اور وہابی مسلک کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا عثمانی حاکم نے حجاز میں اپنے والی محمد علی پاشا کو یہ حکم دیا کہ حجاز کو وہابیوں کے قبضے سے خالی کریں اور اسے اپنے قبضے میں لے ۱۲۲۷ ہجری میں جنگ کے نتیجے میں وہابی شکست کھاتے ہیں اور اس کے بعد وہاں کے لوگوں کے ساتھ مل کر قبروں اور
مقدس مقامات کو دوبارہ سے بنانے کا کام شروع کرتے ہیں اس جنگ کے بعد اکثر خاندان آل سعود اور محمد بن عبدالوہاب کو اعدام کر دیا جاتا ہے۔[۷]
دوبارہ انہدام بقیع
"انہدام بقیع” کچھ سالوں کے بعد جب عثمانی حکومت کمزور ہو جاتی ہے تو عبدالعزیز بن عبدالرحمن جو "ابن سعود” کے لقب سے مشہور ہے انگلستان کی حکومت کے ساتھ مل کر دوبارہ قدرت مند بن جاتا ہے اور حجاز پر اس کا قبضہ دوبارہ ہو جاتا ہے اور ۱۳۴۳ ہجری قمری میں مکے میں حضرت عبدالمطلبؑ، حضرت ابو طالبؑ، حضرت خدیجہؑ، حضرت فاطمہ زہرا، اور وہ مقام جہاں پیغمبر کی ولادت ہوئی اور جہاں پیغمبر مخفی طریقے سے عبادت انجام دیا کرتے تھے ان سب کو منہدم کر کے خاک میں ملا دیتا ہے (گویا انہدام بقیع) کے نا پاک مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ جدہ میں جناب حوا کی قبر کو بھی وہ خراب کر دیتا ہے ابن سعود جدہ پر تصرف کرنے کے بعد مدینے کی طرف آتا ہے اور ۱۹ جمادی الاولی ۱۳۴۳ ہجری کو وہ اس شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے۔
ماہ مبارک رمضان ۱۳۴۴ ہجری قمری میں وہابیوں کا قاضی القضات "شیخ عبداللہ بن بلیھد” مکہ سے مدینہ آتا ہے اور اہل مدینہ کی انہدام بقیع اور دیگر زیارت گاہوں کے سلسلے میں معلوم کرتا ہے بہت سے لوگ ڈر سے جواب نہیں دیتے ہیں اور بعض لوگ اس کی تخریب اور انہدام بقیع وغیرہ کو لازم سمجھتے ہیں نتیجے میں ۸ شوال ۱۳۴۴ ہجری قمری کو انہدام بقیع کا کام انجام دیا جاتا ہے دوسری قبروں کو بھی انہدام بقیع کے ساتھ منہدم کر دیا جاتا ہے اور تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ جنایت گری انجام دی جاتی ہے۔
وہابی انہدام بقیع اور ائمہ علیہم السلام کی قبروں کو خراب کرنے کے بعد جو قیمتی سامان ضریح مبارک یا حرم کے اندر موجود ہوتے ہیں ان سب کو لوٹ لیتے ہیں اور قبر حضرت حمزہ اور شہدائے احد کو خاک میں ملا دیتے ہیں اور حضرت عبداللہ، حضرت آمنہ ؑکی قبروں پر بنے ہوئے گنبد کو بھی منہدم کر دیتے ہیں۔[۸]
حتی انہدام بقیع جیسی جنایت گری کے لیے لوگوں کو اسلحوں کے ڈر سے اکٹھا کیا جاتا ہے اور ان سے انہدام بقیع جیسی جنایت گری کا کام لیا جاتا ہے اور شہر مدینہ کے باہر بھی جن قبور پر گنبد وغیرہ بنے ہوئے تھے ان کو بھی منہدم کیا جاتا ہے جیسے؛ جناب عبداللہ، جناب آمنہ، جناب ابراہیم ان تمام لوگوں کی قبروں کو منہدم کیا جاتا ہے اور وہابی اس ڈر سے انہدام بقیع کے ساتھ حرم نبوی کے انہدام سے پرہیز کرتے ہیں کہ لوگ کہیں ان کی مخالفت نہ کر بیٹھیں۔[۹]
جبکہ وہابیوں کے عقیدے کے مطابق انہدام بقیع کے ساتھ نعوذ باللہ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی منہدم کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں
نے اس ڈر سے کہ لوگ کہیں مخالفت نہ کربیٹھیں اس کام سے خودداری کی۔[۱۰]
نتیجه گیری
قبرستان بقیع، سعودی عرب کے مدینہ منورہ شہر میں موجود ایک قدیمی اور تاریخی قبرستان ہے۔ جہاں اہل بیت رسولؐ، صحابہ اور تابعین جیسے کئی معزز شخصیات مدفون ہیں یہاں تک کہ انہدام بقیع بلکہ ہجرت سے پہلے بھی لوگ اپنے گھر اور خاندان والوں کے جنازوں کو یہاں دفن کیا کرتے تھے۔ اس قبرستان کی عظمت کے سلسلے میں متعدد روایتیں پائی جاتی ہیں۔ انہدام بقیع کا گھنونا عمل طول تاریخ میں دو بار انجام دیا گیا آخری بار اس انہدام بقیع کو ۸ شوال المکرم ۱۳۴۴ ہجری قمری میں ابن سعود کی سربراہی میں انجام دیا گیا اور عصر حاضر میں یہ عظیم قبرستان صرف ایک چٹیل میدان ہے۔ جو کہ اسلامی آثار کا ایک عظیم مرکز ہے۔
حوالہ جات
[۱] ۔ امین،کشف الارتیاب فی اتباع محمد بن عبد الوہاب ، ص۵۵
[۲] ۔ نجاتی،جعفری، مروری کوتاہ در دو تخریب بقاع بقیع، ص۷
[۳] ۔صبری پاشا، تاریخ وہابیان، ص۳۳۲
[۴] ۔نجمی، تاریخ حرم ائم بقیع و آثار دیگر در مدینہ،ص۵۰
[۵] ۔نجاتی،جعفری، مروری کوتاہ در دو تخریب بقاع بقیع، ص۴۔۵
[۶] ۔ نجاتی،جعفری، مروری کوتاہ در دو تخریب بقاع بقیع، ص۶
[۷] ۔سباعی، تاریخ مکہ از آغاز تا پایان دولت شرفای مکہ، ج۲، ص۱۳۱
[۸] ۔امین، کشف الارتیاب فی اتباع محمد بن عبد الوہاب، ص۲۲۔۲۳
[۹] ۔نجفی، مدینہ شناسی، ج۱، ص۳۲
[۱۰] ۔کلینی، کافی، ج۴، ص۵۵۹
منابع
- امین، سید محسن، کشف الارتیاب فی اتباع محمد بن عبد الوہاب، بیروت ، دارالکتب الاسلامی، ۱۳۸۵ ۔
- سباعی، احمد، تاریخ مکہ از آغاز تا پایان دولت شرفای مکہ ، تہران، مشعر، چاپ اول ۱۳۴۴۔
- صبری پاشا، ایوب، تاریخ وہابیان، تہران، طوفان، اشاعت اول، ۱۳۷۷۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، دار الكتب الإسلامية، تهران، ۱۴۰۷ ق۔
- نجفی، محمد باقر، مدینہ شناسی، تہران، مشعر، اشاعت اول،۱۳۸۶ ۔
- نجمی، محمد صادق، تاریخ حرم ائمہ بقیع و آثار دیگر در مدینہ، تھران ، مشعر، چاپ پنجم ۱۳۸۶۔
- نجاتی، محمد سعید، جعفری، حیدر علی، مروری کوتاہ در دو تخریب بقاع بقیع، فصلنامہ علمی۔ترویجی میقات حج ، سال ۲۸، شمارہ ۱۱۱، صفحہ ۲۰۶۔۱۸۵۔
مضمون کامآخذ:
نجاتی، محمد سعید، جعفری، حیدر علی، مروری کوتاہ در دو تخریب بقاع بقیع،(مقالہ) فصلنامہ علمی۔ترویجی میقات حج، سال ۲۸، شمارہ ۱۱۱، صفحہ ۲۰۶۔۱۸۵۔
بہت عمدہ ، عالی ہے