بعثت انبیاء (ع) ایک الٰہی حکمت کا مظہر ہے جس کا مقصد انسانوں کی ہدایت اور فطری کمال کی طرف رہنمائی ہے۔ بعثت انبیاء (ع) کے ذریعے خدا نے عقل و وحی کو ہم آہنگ کر کے بشر کو صراطِ مستقیم دکھایا، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ ہدایت سے محروم رہ گئے۔ بعثت انبیاء (ع) کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان سے متعلق اٹھنے والے شبہات کا تجزیہ کیا جائے۔ ان شبہات کے جوابات بعثت انبیاء (ع) کی عظمت اور اس کے اہداف کو بہتر انداز میں واضح کرتے ہیں۔ بعثت انبیاء (ع) کے ضمن میں چند شبہات اور سوالات ہیں جن کے عقلی دلائل اور جوابات مندرجہ ذیل ہیں:
کیوں بہت سے لوگ انبیاء (ع) کی ہدایت سے محروم ہو گئے؟
اگر تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے بعثت انبیاء (ع) کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انبیاء (ع) کو مبعوث کرے تو پھر کیوں سب کے سب فقط ایک ہی سرزمین ایشیاء میں مبعوث ہوئے، اور بقیہ سرزمینیں اس نعمت سے محروم رہیں، خصوصاً گذشتہ ادوار میں ارتباطات کے وسائل بہت محدود تھے اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک، کسی خبر کو پہنچانا نہایت سختی سے انجام پاتا تھا اور شاید اس وقت کچھ ایسی قومیں رہی ہوں، جنہیں اصلاً بعثت انبیاء (ع) کی کوئی خبر نہ ملی ہو۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے، بعثت انبیاء (ع) کسی خاص سرزمین سے مخصوص نہیں تھی، بلکہ قرآن کی آیات کے مطابق ہر امت اور ہر قوم کے پاس پیغمبر بھیجے گئے جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ’’وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ‘‘[1]
اور دنیا میں کوئی امت ایسی نہیں گئی جس کے پاس ہمارا ڈرانے والا پیغمبر نہ آیا ہو۔
ایک اور آیت میں وارد ہوا ہے: ’’وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ‘‘[2]
اور ہم نے تو ہر امت میں ایک نہ ایک رسول ضرور بھیجا کہ وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت سے بچے رہو۔
اور اگر قرآن میں محدود انبیاء (ع) کا نام آیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کل انبیاء کی تعداد اتنی ہی تھی بلکہ خود قرآن کے بیان کے مطابق بہت سے انبیاء (ع) تھے کہ جن کے اسماء اس قرآن میں ذکر نہیں کئے گئے، جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ’’وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ‘‘[3]
اور ان رسولوں پر بھی (وحی بھیجی) جن کے حالات کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس برہان کا تقاضہ یہ ہے کہ حس و عقل کے ماوراء کوئی ایسا راستہ ہونا چاہیے کہ جس کے ذریعے یہ امکان ہو کہ لوگوں کی ہدایت کی جاسکے، لیکن بشر کی ہدایت کو مرحلہ فعلیت تک پہنچنے کی دو شرائط ہیں۔
پہلی شرط یہ کہ وہ لوگ خود اس نعمت الٰہی سے استفادہ کرنا چاہیں اور دوسری شرط یہ کہ کوئی دوسرا اُن کی ہدایت میں مانع ایجاد نہ کرے، اور لوگوں کا انبیاء (ع) سے محروم ہونے کا سبب خود اُن کے ناجائز اختیارات تھے، جس طرح کہ بہت سے لوگوں کا انبیاء (ع) کی ہدایت سے محروم ہونا انہیں موانع کی وجہ سے ہے، جسے وہ لوگ خود انبیاء (ع) کی تبلیغ میں ایجاد کرتے تھے۔
اور ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ انبیاء الٰہی ایسے موانع کو برطرف کرنے کے لئے کوشاں رہے، اور ہمیشہ ستم گروں، ظالموں اور مستکبروں سے بر سرپیکار رہتے تھے، بلکہ انبیاء (ع) کی ایک کثیر تعداد راہ تبلیغ اور لوگوں کی ہدایت کی راہ میں شہید بھی ہوگئی، بلکہ جب بھی انہیں نیک ساتھیوں کی حمایت ملی تو انہوں نے وقت کے اُن ظالموں سے مقابلہ کیا، کہ جو اُن کے اہداف میں موانع ایجاد کرتے تھے۔
قابل توجہ نکتہ تو یہ ہے کہ انسان کی تکاملی حرکت کی خصوصیات کا تقاضا یہ ہے کہ یہ تمام تدابیر اس طرح انجام پذیر ہوں کہ حق و باطل کے حامیوں کے لئے حسن انتخاب یا سوء انتخاب فراہم ہو جائے، مگر یہ کہ ظالموں اور مستکبروں کا تسلط اس حد تک بڑھ جائے کہ ہادیوں کی ہدایت کا راستہ پوری طرح بند ہوجائے اور سماج سے نور ہدایت خاموش ہو جائے، یہی وہ صورت ہے کہ جب خدا غیب اور غیر عادی راہوں سے حق کے طرفداروں کی مدد فرماتا ہے۔
بحث کا نتیجہ
اگر ایسے موانع انبیاء (ع) کے راستوں میں نہ ہوئے تو ان کی دعوتِ توحید تمام انسانوں کے کانوں تک پہنچ جاتی اور تمام انسان وحی اور نبوت کے ذریعے نعمتِ ہدایت سے بہرہ مند ہوجاتے، لہذا بہت سے لوگوں کا ہدایت انبیاء (ع) سے محروم ہونے کا گناہ، ان لوگوں کی گردنوں پر ہے کہ جنہوں نے راہ ہدایتِ انبیاء میں رکاوٹیں ایجاد کی ہیں۔
کیوں خدا نے انحرافات اور اختلافات کا سد باب نہیں کیا؟
اگر انبیاء (ع) تکامل انسان کی شرائط کو کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں تو پھر کیوں ان کے ہوتے ہوئے بشر خطا اور بد بختیوں کا شکار ہوا اور ہر زمانے میں لوگوں کی ایک بڑی جماعت کفر و الحاد میں گرفتار رہی، یہاں تک کہ ادیان آسمانی کے پیروکاروں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے شعلے بھڑکائے جس کی وجہ سے خونی جنگیں دیکھنے میں آئیں؟ کیا حکمت الٰہی کا تقاضا یہ نہ تھا کہ وہ کچھ ایسے راستے بھی مہیا کرتا، جن کے ذریعے ایسی بد بختیوں کا سد باب ہوجاتا اور کم از کم ادیان آسمانی کے پیروکار ایک دوسرے کے مقابلے میں نہ آتے۔
اس سوال کا جواب تکامل انسان کے اختیارات کی خصوصیات میں غور و فکر کرنے کے ذریعے معلوم ہوجاتا ہے، اس لئے کہ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے تکامل کے اسباب و شرائط کا جبری ہونے کے بدلے اختیاری ہونا ضروری ہے تاکہ وہ لوگ جو راہ حق کو پہچاننا چاہتے ہیں اور اسے اختیار کرنا چاہتے ہیں، وہ کمال اور سعادت ابدی کو حاصل کرنے میں مختار ہیں، لیکن ایسے تکامل اور کمال کے لئے اسباب و شرائط کا مہیا ہو جانا اس معنی میں نہیں ہے کہ تمام انسانوں نے بہ نحو احسن اس سے استفادہ کیا ہو، اور صحیح راستے کا انتخاب کیا ہو۔
بلکہ قرآن کی تعبیر کے مطابق خدا نے انسانوں کو ایسی شرائط کے تحت اس لئے خلق کیا ہے تاکہ انہیں آزما سکے کہ ان میں کون نیکوکار ہے[4]، اس کے علاوہ قرآن میں بارہا اس بات کی تأکید ہوئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام انسانوں کو راہ ہدایت کی طرف راہنمائی کر دیتا اور ظلم و ستم کو دبا دیتا[5]۔ لیکن اس صورت میں انتخاب کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا، نیز انسانوں کے کردار قابل ارزش بھی نہ رہتے، اور اس طرح انسان کی خلقت سے غرض الٰہی (اختیار و انتخاب) میں نقض آجاتا۔
بحث کا نتیجہ
انسانوں میں فساد و تباہ کاری اور کفر و عصیان کی طرف میلان خود ان کے ناجائز اختیارات کا نتیجہ ہے، اور خود انسانوں کی خلقت میں ایسے امور پر قدرت کا لحاظ رکھا گیا ہے لہذا ایسے اختیار کے اثرات کا حاصل ہونا بالتبع لازم ہے، اگرچہ خدا کا ارادہ یہ ہے کہ انسان اپنے کمال کو حاصل کر لے، لیکن چونکہ اس ارادے کا تعلق مختار ہونے پر مشروط ہے لہٰذا اس صورت میں سوء اختیار کے نتیجے میں انحطاط کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اور حکمت الٰہی کا تقاضا تو یہ نہیں ہے کہ تمام انسان خواہ نخواہ ہدایت یافتہ ہو جائیں اگرچہ ان کے ارادے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
کیوں انبیاء الٰہی صنعتی اور اقتصادی امتیازات سے سرفراز نہ تھے؟
حکمت الٰہی کے تقاضوں کے پیش نظر کہ تمام انسان بہ نحو احسن اپنے حقیقی کمال کو حاصل کرلیں، کیا بہتر یہ نہ تھا، کہ خدا وحی کے ذریعے اس جہان کے اسرار لوگوں کے لئے فاش کر دیتا، تاکہ مختلف نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے ذریعے انسان راہ تکامل میں اپنے سفر کو سرعت بخش دیتا! جیسا کہ اس دور میں طبیعی طاقتوں کے ظہور اور مختلف اسباب کے ایجادات سے بشری تمدن نے نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔
جن کی وجہ سے حفظ سلامت، امراض سے مقابلہ ارتباطات میں سرعت، جیسے مطلوب عوامل اور آثار وجود میں آگئے، اس وضاحت کی روشنی میں آشکار ہے کہ اگر انبیاء الٰہی جدید علوم و صنائع اور آسائش کے وسائل لوگوں کے لئے فراہم کرنے کے ذریعے اپنی اجتماعی اور سیاسی قدرت کو افزائش دے سکتے تھے اور بڑی آسانی سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے تھے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وحی و نبوت کے ہونے کی اصلی ضرورت ان امور میں ہے کہ جن میں بشر عادی وسائل کے ذریعے کشف نہ کر سکے، اور اس سے جاہل ہوتے ہوئے کمال حقیقی کی طرف جانے والے راستے کو معین نہ کر سکے، ایک دوسری تعبیر کے مطابق انبیاء (ع) کا اصلی وظیفہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو صحیح زندگی اور کمال حقیقی کے حصول میں مدد کریں، تاکہ وہ ہر حال میں اپنے وظیفے کو پہچان سکیں، اور مطلوب کو حاصل کرنے میں اپنی پوری طاقت صرف کریں، انسان، خواہ دشت میں رہنے والا ہو، یا دریاؤں کی سیر کرنے والا ہو یا کوئی بھی ہو۔
وہ ہر صورت میں اپنی انسانی حیثیت کو پہچان لے تاکہ معلوم ہو جائے کہ خدا کی عبادت کے وظائف کیا ہیں؟ تمام مخلوقات اور سماج میں رہنے والوں کے ساتھ رہن سہن کے واجبات کیا ہیں تاکہ انہیں انجام دینے کے ذریعے کمال حقیقی اور سعادت ابدی تک پہنچ جائے لیکن صلاحیتوں اور صنعتی و طبیعی امکانات کا اختلاف خواہ ایک زمانے میں ہو یا مختلف زمانوں میں، ایک ایسا امر ہے کہ جو خاص اسباب و شرائط کے تحت وجود میں آتا ہے۔
اس کے علاوہ تکامل (کمال) حقیقی میں اس کا کوئی نقش بھی نہیں ہے، جیسا کہ آج کا علم اور صنعتی ترقیاں دنیوی لذتوں کی افزائش کا باعث تو بنیں، لیکن لوگوں کی روحی اور معنوی تکامل میں ایک معمولی کردار بھی ادا نہ کر سکیں، بلکہ ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان سب کا اثر بالکل برعکس رہا ہے۔
بحث کا نتیجہ
حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مادی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی دنیوی زندگی کو جاری رکھ سکے، اور عقل و وحی کی راہنمائی میں کمال حقیقی اور سعادت ابدی کی جانب قدم بڑھائے، لیکن روحی اور بدنی توانائیوں میں اختلاف، نیز طبیعی اور اجتماعی شرائط میں اختلاف، اسی طرح علوم و صنائع سے فائدہ حاصل کرنے میں اختلاف ایک خاص تکوینی اسباب و شرائط کے تابع ہے، جو نظام علِّی و معلولی کے تحت وجود میں آتے ہیں۔
یہ اختلافات انسان کی ابدی تقدیر میں کسی بھی خاص کردار سے متصف نہیں ہیں، اس لئے کہ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک فرد یا ایک جماعت اپنی سادہ زندگی اور حداقل مادی و دنیوی نعمتوں سے سرفراز ہوتے ہوئے کمال و سعادت کے عظیم درجات پر فائز ہوئے ہیں، اور اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک فرد یا جماعت ترقی یافتہ علوم صنائع اور بہترین وسائل زندگی سے سرفراز ہوتے ہوئے، غرور و تکبر اور ظلم و ستم کے نتیجے میں شقاوت ابدی میں گرفتار ہوگئے ہیں۔
البتہ انبیاء الٰہی نے اصلی وظیفہ (حقیقی اور ابدی سعادت و کمال کی طرف ہدایت) کے علاوہ لوگوں کو صحیح زندگی گزارنے کے لئے مدد کی ہے اور جہاں حکمت الٰہی نے تقاضا کیا وہاں نا شناختہ حقائق اور اسرار طبیعت سے پردہ بھی اٹھا دیا، اور اس طرح تمدن بشر کو ترقی دینے میں مدد کی، جیسا کہ ایسی مثالیں جناب داؤد اور، جناب سلیمان اور جناب ذوالقرنین (ع)[6] کے حالات میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ (بعض روایتوں کے ذریعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ذوالقرنین نبی نہیں بلکہ ولی خدا تھے)۔
انہوں نے سماج کو کامیاب بنانے اور امور میں حسن تدبیر کے لئے نمایاں کام انجام دیئے ہیں، جیسا کہ حضرت یوسف (ع) نے سرزمین مصر پر انجام دیا[7] ایسی خدمات جو کچھ بھی انبیاء نے پیش کیں وہ ان کے اصلی وظیفہ سے جدا تھے۔
لیکن یہ سوال کہ کیوں انبیاء (ع) نے اپنے اہداف کو کامیاب بنانے کے لئے صنعت و اقتصاد وغیرہ کا سہارا نہیں لیا؟ تو اس سوال کے جواب میں یہ کہنا بہتر ہے کہ انبیاء (ع) کا ہدف جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے آزاد انتخاب کے لئے وسائل کا فراہم کرنا تھا، اور اگر وہ غیر عادی طاقتوں کے بل بوتے پر قیام کرتے، تو آزادانہ تکامل اور رشد معنوی انسانوں کو حاصل نہ ہوتا، بلکہ عوام ان کی قدرتوں کے ڈر سے اطاعت کرتی، نہ الٰہی فرمان اور آزاد انتخاب کے تحت۔
اسی سلسلے میں امام علی (ع) فرماتے ہیں: اگر خداوند متعال اپنے انبیاء (ع) کو مبعوث کرتے وقت سیم و زر کے گنجینے، جواہرات اور قیمتی معادن اور باغات عطاء کردیتا، ہواؤں کے پرندے اور زمین کے چرند ان کے لئے مطیع بنا دیتا تو اس صورت میں جزا و سزا اور امتحان کا موقع باقی نہ رہتا۔
اور اگر اپنے انبیاء (ع) کو بے مثال قدرت، شکست ناپذیر عزت اور عظیم سلطنت عطاء کرتا کہ جس کی وجہ سے لوگ ڈر کر یا طمع میں تسلیم ہوتے ہوئے، ظلم و ستم اور تکبر سے دست بردار ہو جاتے تو اس صورت میں اقدار مساوی ہوجاتے، لیکن خدا کا یہ ارادہ تھا کہ پیغمبروں کی اطاعت اُن کی کتابوں کی تصدیق اور اُن کے حضور، فروتنی کسی بھی عیب سے پاک ہوتے ہوئے حق کے لئے ہو، لہذا جس قدر بلا اور امتحان عظیم ہوں گے ثواب الٰہی اتنے ہی کثیر ہوں گے۔[8]
البتہ جب لوگ اپنے ارادے اور رغبت سے دین حق کو قبول کرلیں اور ایک الٰہی سماج کو تشکیل دے دیں، تو پھر اہداف الٰہی کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف قدرتوں سے استفادہ کرنا درست ہوگا، جس کے نمونے حضرت سلیمان (ع) کی زندگی میں ملتے ہیں۔[9]
خاتمہ
بعثت انبیاء (ع) کا مقصد انسانیت کو ہدایت کی روشنی فراہم کرنا تھا، لیکن بعثت انبیاء (ع) کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں نے بہت سے افراد کو اس نور سے محروم کر دیا۔ بعثت انبیاء (ع) انسان کے اختیار و ارادے کا احترام کرتے ہوئے اسے ہدایت کا راستہ دکھاتی ہے، مگر سوء اختیار کا نتیجہ انحراف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بعثت انبیاء (ع) کا پیغام صرف مادی امتیازات سے نہیں، بلکہ عقل اور وحی کی بنیاد پر کمالِ انسانی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ لہٰذا بعثت انبیاء (ع) کو صحیح طور پر سمجھنا انسان کی حقیقی سعادت کا دروازہ کھولتا ہے۔
حوالہ جات
[1]۔ فاطر: ۲۴۔
[2]۔ نحل: ۳۶۔
[3]۔ نساء: ۱۶۴۔
[4]۔ رجوع کریں، ہود: ۷؛ ملک: ۲؛ مائدہ: ۴۸؛ انعام: ۱۶۵۔
[5]۔ انعام: ۱۲۸؛ یونس: ۹۹؛ ہود: ۱۱۸؛ نحل: ۹ اور ۹۳؛ شوریٰ: ۸؛ شعراء: ۴؛ بقرہ: ۲۵۳۔
[6]۔ رجوع کریں، انبیاء: ۷۸ اور ۸۲؛ کہف: ۸۳ اور ۹۷؛ سباء: ۱۰ اور ۱۳۔
[7]۔ رجوع کریں، یوسف: ۵۵۔
[8]۔ شریف رضی، محمد حسین، نہج البلاغہ، خطبہ قاصعہ، تہران، مطبوعات النجاح، ۱۴۰۲ق؛ فرقان: ٧ اور ۱۰؛ زخرف: ٣١ اور ٣٥۔
[9]۔ رجوع کریں، انبیاء: ۸۱ اور ۸۲؛ نمل: ۱۵ اور ۴۵۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مصباح، محمد تقی، درس عقائد، مترجم: ضمیر حسین بہاولپوری، تئیسواں درس، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، 1427ھ۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔