بچے کی دینی تربیت انسانی سماج کی سب سے حساس اور نتیجہ خیز بنیاد ہے۔ ایک بچہ اپنے ماحول، والدین کے کردار اور ان کی زبان و عمل سے وہ نقش اخذ کرتا ہے جو ساری زندگی اس کی شخصیت کا محور بنتا ہے۔ دینِ اسلام میں ماں باپ کو جو غیر معمولی احترام عطا کیا گیا ہے، اس کا سب سے بنیادی سبب یہی تربیتی ذمہ داری ہے جو بچے کی دنیا اور آخرت دونوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں والدین کو اولاد کی صحیح رہنمائی، کردار سازی اور اخلاقی تعمیر کا اصل ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
ماں باپ کا اعلیٰ مقام اور اس کی حکمت
اسلام کی نظر میں ماں باپ کا مقام بہت بلند ہے۔ اللہ تعالی، رسول اکرام ﷺ اور آئمہ معصومین (ع) نے اس بارے میں بہت تاکید کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی آیات اور روایات موجود ہیں۔ ماں باپ سے حسن سلوک کو بہترین عبادات میں سے شمار کیا گیا ہے۔
ارشاد الہی ہے: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔[۱]
اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرو۔
امام صادق (ع) نے فرمایا ہے:
تین چیزیں بہترین عمل ہیں:
۱۔ پابندی وقت کے ساتھ نماز پنجگانہ کی ادائیگی۔
۲۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک۔
۳۔ راہ خدا میں جہاد۔[۲]
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماں باپ کو یہ مرتبہ کیوں ملا ہے؟ کیا اللہ تعالی نے انہیں یہ مقام بلا وجہ عطا کردیا ہے یا ان کے کسی قیمتی عمل کی وجہ سے؟ ماں باپ بچے کے لئے کون سا بڑا کام انجام دیتے ہیں کہ جس کے باعث وہ اس قدر مقام و خدمت کے لائق قرار پاتے ہیں۔ باپ نے ایک جنسی جذبے کی تسکین کے لئے ایک خلیہ حیات رحم مادر میں منتقل کیا ہے۔ یہ سیل ماں کی جانب سے ایک اور خلئے کے ساتھ مل کر مرکب ہو جاتا ہے جو ایک نئے وجود کے طور پر رحم مادر میں پرورش پاتا ہے۔
جو نو ماہ کے بعد ایک ننھے منے بچے کی صورت میں زمین پر قدم رکھتا ہے۔ ماں اسے دودھ اور دوسری غذا دیتی ہے۔ اسے کبھی صاف کرتی ہے کبھی کپڑے بدلتی ہے اس کی تری اور خشکی کا خیال رکھتی ہے ان مراحل میں باپ خاندان کے اخراجات پورے کرتا ہے اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ کیا ماں باپ کی ان کاموں کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں؟ کیا انہی کاموں کی وجہ سے ماں باپ کو اس قدر بلند مقام حاصل ہے؟ کیا صرف ماں باپ اپنی اولاد پر حق رکھتے ہیں اور اولاد اپنے ماں باپ پر کوئی حق نہیں رکھتی؟ ہمارے خیال میں ایسا یک طرفہ حق تو کوئی بھی قبول نہیں کرتا۔
احادیث معصومین (ع) میں ایسے حقوق اولاد بھی بیان کیے ہیں کہ جن کی ادائیگی ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔ ان میں سے چند احادیث ہم ذیل میں ذکر کر تے ہیں:
۱۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: چنانچہ جس طرح تیرا باپ تجھ پر حق رکھتا ہے تیری اولاد بھی تم پر حق رکھتی ہے۔[۳]
۲۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: جیسے اولاد اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی وجہ سے عاق ہو جاتی ہے اسی طرح سے ممکن ہے ماں باپ بھی اپنے فریضے کی عدم ادائیگی کے باعث اولاد کی طرف سے عاق ہو جائیں۔[۴]
۳۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: خدا ایسے ماں باپ پر لعنت کرے جو اپنی اولاد کے عاق ہونے کا باعث بنیں۔[۵]
۴۔ امام سجاد (ع) نے فرمایا:
تیری اولاد کا حق یہ ہے کہ تو اس پر غور کر کہ وہ بری ہے یا اچھی ہے بہر حال تجھ ہی سے وجود میں آئی ہے اور اس دنیا میں وہ تجھ ہی سے منسوب ہے اور تیری ذمہ داری ہے کہ تو اسے ادب سکھا، اللہ کی معرفت کے لئے اس کی رہنمائی کر اور اطاعت پروردگار میں اس کی مدد کر، تیرا سلوک اپنی اولاد کے ساتھ ایسے شخص جیسا ہونا چاہئے کہ جسے یقین ہوتا ہے کہ احسان کے بدلے میں اسے اچھی جزا ملے گی اور بد سلوکی کے باعث اسے سزا ملے گی۔[۶]
۵۔ امیر المؤمنین علی (ع) نے فرمایا:
کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری وجہ سے تیرا خاندان اور تیرے اقربا بدبخت ترین لوگوں میں سے ہو جائیں۔[۷]
۶۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
جو کوئی بھی یہ چاہتا ہو کہ اپنی اولاد کو عاق ہونے سے بچائے اسے چاہئے کہ نیک کاموں میں اس کی مدد کرے۔[۸]
۷۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:
جس کسی کے ہاں بیٹی ہو اور وہ اسے خوب ادب و اخلاق سکھائے، اسے تعلیم دینے کے لئے کوشش کرے، اس کے لئے آرام و آسائش کے اسباب فراہم کرے تو وہ بیٹی اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گی۔[۹]
سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ۔[۱۰]
اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔
تربیتِ اولاد کی اہمیت اور اس کے نتائج
بچے نے ابھی وضع زندگی کے بارے میں کوئی راستہ متعین نہیں کیا ہوتا اور سعادت و بدبختی ہر دو کی اس میں قابلیت ہوتی ہے اس سے ایک کامل انسان بھی بنایا جا سکتا ہے اور ایک گھٹیا درجے کا حیوان بھی۔ ہر انسان کی سعادت اور بدبختی اس کی کیفیت تربیت سے وابستہ ہے اور اس عظیم کام کی ذمہ داری ماں باپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔
اصولاً ماں باپ کا معنی یہی ہے۔ ماں باپ یعنی انسان ساز اور کمال بخشنے والے دو وجود۔ عظیم ترین خدمت کہ جو ماں باپ اپنی اولاد کے لئے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے اسے خوش اخلاق، مہربان، انسان دوست، خیر خواہ، حریت پسند، شجاع، عدالت پسند، دانا، درست کام کرنے والا، شرافت مند، با ایمان، فرض شناس، سالم، محنتی، تعلیم یافتہ، اور خدمت گزار بننے کی تربیت دیں۔
ماں باپ کو چاہئے کہ اپنے بچے کو اس طرح سے ڈھالیں کہ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو اور آخرت میں بھی سعادت مند۔ ایسے ہی افراد در حقیقت ماں باپ کے عظیم مرتبے پر فائز ہو سکتے ہیں نہ وہ کہ جنہوں نے ایک جنسی جذبہ کے تحت اولاد کو وجود بخشا ہے اور اسے بڑا ہونے کے لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود بخود تربیت پائے۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: بہترین چیز جو کوئی باپ، اپنی اولاد کو عطا کرسکتا ہے وہ اچھا ادب اور نیک تربیت ہے۔[۱۱]
خصوصاً ماں کی اس سلسلے میں زیادہ اہمیت ہے۔ حتی کہ دوران حمل بھی اس کی خوراک اور طرز عمل بچے کی سعادت اور بدبختی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: خوش نصیب وہ ہے کہ جس کی خوش بختی کی بنیاد ماں کے پیٹ میں پڑی ہو اور بدبخت وہ ہے جس کی بدبختی کا آغاز شکم مادر سے ہوا ہو۔[۱۲]
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: الجَنّةُ تَحتَ أقدامِ الاُمَّهات۔[۱۳]
معاشرے پر تربیتِ اولاد کے اثرات
جو ماں باپ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ اپنی رفتار و کردار سے انہیں منحرف بنا دیتے ہیں وہ بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے ماں باپ سے پوچھنا چاہئے کہ: اس بے گناہ بچے نے کیا تقاضا کیا تھا کہ تم اسے وجود بخشو کہ اب وجود میں لانے کے بعد اسے تم نے گائے بچھڑے کی طرح چھوڑ دیا ہے۔ اب جب کہ تم اس کے وجود کا باعث بن گئے ہو تو شرعاً اور عقلاً تم ذمّہ دار ہو کہ اس کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشش کرو۔
لہذا تعلیم و تربیت ہر ماں باپ کی عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ ماں باپ معاشرے کے سامنے بھی جواب گو ہیں۔ آج کے بچے ہی کل کے مرد اور عورت ہیں۔ کل کا معاشرہ انہیں سے تشکیل پائے گا۔ آج جو سبق سیکھیں گے کل اسی پر عمل کریں گے۔ اگر ان کی تربیت درست ہوگئی تو کل کا معاشرہ ایک کامل تر اور صالح معاشرہ ہوگا اور اگر آج کی نسل نے غلط پروگرام کے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائی تو ضرور مستقبل کا معاشرہ فاسد اور بدتر قرار پائے گا۔
کل کی سیاسی، علم اور سماجی شخصیات انہیں سے وجود میں آئیں گی۔ آج کے بچے کل کے ماں باپ ہوں گے۔ آج کے بچے کل کے مربّی قرار پائیں گے۔ اور اگر انہوں نے اچھی تربیت پائی ہوگی تو اپنی اولاد کو بھی ویسا ہی تربیت دیں گے اور اسی طرح اس کے خلاف، لہذا اگر ماں باپ چاہیں تو آئندہ آنے والے معاشرہ کی اصلاح کر سکتے ہیں اور اسی طرح اگر چاہیں تو اسے برائی اور تباہی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔
اس طرح سے ماں باپ معاشرے کے حوالے سے بھی ایک اہم ذمہ داری کے حامل ہیں۔ اگر وہ اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کے لئے کوشش کریں تو انہوں نے گویا معاشرے کی ایک عظیم خدمت سر انجام دی ہے اور وہ اپنی زحمتوں کے صلے میں اجر کے حقدار ہیں اور اگر وہ اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں کے بارے میں بلکہ پورے معاشرے کے لئے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یقینی طور پر بارگاہ الہی میں جواب دینا پڑے گا۔
تعلیم و تربیت کے موضوع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماں باپ اولاد کی تربیت کے لئے جو کوشش کرتے ہیں اور جو مصیبتیں اٹھاتے ہیں وہ سینکڑوں اساتید، انجنیئروں، ڈاکٹروں اور عالموں کے کاموں پر بھاری ہیں۔ یہ ماں باپ ہیں جو انسان کامل پروان چڑھاتے ہیں اور ایک لائق و دیندار استاد، ڈاکٹر اور انجنیئر وجود میں لاتے ہیں۔
خاص طور پر مائیں بچوں کی تربیت کے بارے میں زیادہ ذمہ داری رکھتی ہیں اور تربیت کا بوجھ ان کے کندھوں پر رکھا گیا ہے۔ بچے اپنے بچپن کا زیادہ عرصہ ماؤں کے دامن میں ہی گزارتے ہیں۔ اور آئندہ زندگی کے رخ کی بنیاد اسی زمانہ میں پڑتی ہے۔ لہذا افراد کی خوشبختی اور بدبختی اور معاشرے کی ترقی اور تنزل کی کنجی ماؤں کے ہاتھ میں ہے۔ عورت کا مقام وکالت، وزارت، اور افسری میں نہیں یہ سب چیزیں مقام مادر سے کہیں کم تر ہیں۔ مائیں کامل انسانوں کی پرورش کرتی ہیں اور صالح وزیر، وکیل، افسر اور استاد پروان چڑھاتی ہیں اور معاشرے کو عطا کرتی ہیں۔
جو ماں باپ پاک، صالح اور قیمتی بچے پروان چڑھاتے ہیں نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اولاد اور معاشرے کی خدمت کرتے ہیں بلکہ خود بھی اسی جہان میں ان کے وجود کی خیر و خوبی سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ نیک اولاد ماں باپ کی سرفرازی کا سرمایہ ہوتی ہے اور ناتوانی کے زمانے میں ان کا سہارا ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشش کریں تو اسی دنیا میں اس کا نتیجہ دیکھیں گے اور اگر اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو اسی دنیا میں اس کا ضرر بھی دیکھیں گے۔
حضرت علی (ع) نے فرمایا: بری اولاد انسان کے لئے بڑی مصیبتوں میں سے ہے۔ [۱۴]
امام علی (ع) نے یہ بھی فرمایا ہے: بری اولاد ماں باپ کی آبرو گنوا دیتی ہے اور وارثوں کو رسوا کر دیتی ہے۔[۱۵]
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: خدا رحمت کرے ان ماں باپ پر جنہوں نے اپنی اولاد کو تربیت دی کہ وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔[۱۶]
لہذا جو ماں باپ بن جاتے ہیں ان کے کندھے پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑتی ہے اور یہ ذمہ داری خدا کے حضور بھی مخلوق کے روبرو بھی اور اولاد کے سامنے بھی ہے۔ اگر انہوں نے اپنی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا کر دیا تو ان کے لئے ایک عظیم خدمت انجام دی ہے، وہ دنیا و آخرت میں اس کا نیک صلہ پائیں گے۔ لیکن اگر انہوں نے اس معاملے میں کوتاہی کی تو خود بھی نقصان اٹھائیں گے اور اپنی اولاد اور معاشرے کے ساتھ بھی خیانت اور ناقابل بخشش گناہ کے مرتکب ہوں گے۔
خاتمہ
اولاد کی تربیت محض گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے۔ ماں باپ نہ صرف اپنے بچے کی شخصیت بناتے ہیں بلکہ آنے والے کل کے معاشرے کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ اگر وہ ذمہ داری ادا کریں تو صالح نسل اور بہتر معاشرہ وجود پاتا ہے، اور اگر غفلت کریں تو معاشرہ بگاڑ اور گراوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ نیک تربیت کا ثمر ماں باپ کو اسی دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث نے اولاد کی درست تربیت کو سب سے بڑی خدمت اور سب سے بھاری امانت قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[۱]۔ بنی اسرائیل: ۲۳۔
[۲] کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۱۵۸۔
[۳]۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، ج۸، ص۱۴۶۔
[۴]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰، ص۹۳۔
[۵]۔ طبرسی، مکارم الاخلاق، ص۵۱۸۔
[۶]۔ طبرسی، مکارم الاخلاق، ص۴۸۴۔
[۷]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۸۰۲۔
[۸]۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، ج۸، ص۱۴۶۔
[۹]۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، ج۸، ص۱۵۸۔
[۱۰]۔ تحریم: ۶۔
[۱۱]۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، ج۸، ص۱۵۹۔
[۱۲]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۷۷، ص۱۱۵-۱۳۳۔
[۱۳]۔ نوری، مستدرک، ج۲، ص۶۳۸۔
[۱۴]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۱۸۰۔
[۱۵]۔ آمدی، غرر الحکم،ص۷۸۰۔
[۱۶]۔ طبرسی، مکارم الاخلاق، ص۵۱۷۔
کتابیات
۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم: مجموعة من کلمات و حکم الإمام علی علیه السلام، قم، دار الکتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ق۔
۳۔ طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الأخلاق، قم، الشريف الرضي، ۱۳۷۰ش۔
۴۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۷ق۔
۵۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعۃ لدُرر أخبار الأئمۃ الأطهار، بیروت، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ق۔
۶۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسۃ آلالبیت علیہالسلام لإحیاء التراث، ۱۴۰۸ق۔
۷۔ ہیثمی، علی بن ابوبکر، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، بیروت، دار المأمون للتراث، ۱۴۲۲ق۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
امینی، ابراهیم، آئین تربیت، ترجمہ: قیصر عبّاس و ثاقب نقوی، لاہور، مصباح الہدیٰ پبلیکیشنز۔ (نسخہ برقی توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔