نماز میں ہاتھ باندھنے کے حکم کی حقیقت؛ حکم خدا یا بدعت خلفیہ

نماز میں ہاتھ باندھنے کے حکم کی حقیقت؛ حکم خدا یا بدعت خلفیہ

2025-05-03

675 مشاہدات

کپی کردن لینک

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ نہ پیغمبر اکرم (ص)، نہ اہل بیت (ع) اور نہ صحابہ کرام نے اس کا حکم دیا، سوائے عمر کے۔ اہل سنت میں بھی کوئی اس کے وجوب کا قائل نہیں، بلکہ بعض نے اسے مکروہ کہا ہے۔ محقق شیخ نجم الدین طبسی نے اپنی کتاب میں اس مسئلے کو تفصیل سے بیان کیا ہے، جو ہر انصاف پسند اور تحقیق کرنے والے کے لئے کافی ہے تاکہ وہ اس نظریے کی حقیقت سمجھ کر حق کی پیروی کرے۔

نماز میں ہاتھ باندھنے یا کھولنے کے بارے میں اہم نظریات

نماز میں ہاتھ باندھنے یا کھولنے کا مسئلہ مختلف مکاتب فکر میں اختلاف کا باعث ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق نماز میں ہاتھ باندھنا جائز نہیں، جیسا کہ کتب خلاف[1]، غنیة،[2] دروس[3] اور الانتصار[4] میں ذکر ہوا ہے۔ سید مرتضیٰ نے اس کے عدم جواز پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، اور اہل بیت (ع) سے اس کی مذمت میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔

اہل سنت میں بھی امام مالک اور بعض دیگر فقہائے سلف نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ تابعین اور بعض صحابہ سے بھی یہ منقول ہے کہ وہ نماز میں ہاتھ کھولنے کے قائل تھے۔ ابن رشد کے مطابق، پیغمبر اکرم (ص) کی نماز کے متعلق احادیث میں ذکر ہے کہ آپ (ص) نماز میں ہاتھ نہیں باندھتے تھے۔[5]

اہم شخصیات جیسے ابراہیم نخعی، حسن بصری، ابن سیرین، لیث بن سعد، اور عبداللہ بن زبیر بھی نماز میں ہاتھ کھولنے کے قائل تھے۔ لیث بن سعد کے بارے میں کہا گیا کہ وہ علم و فقہ میں امام مالک سے بھی برتر تھے، لیکن ان کے پیروکار کم تھے۔ شیعہ روایات کے مطابق، لیث نے امام صادق (ع) کا زمانہ درک کیا لیکن ہدایت نہ پا سکے۔[6]

نماز میں ہاتھ باندھنے پر حکم وجوب کی عدم موجودگی

اہل سنت میں نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق تین نظریات ہیں:

(1) مکروہ،
(2) جائز لیکن مستحب نہیں،
(3) مستحب۔[7]

کسی اہل سنت کتاب میں اسے واجب نہیں کہا گیا۔[8] نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق اہل سنت کی بیس روایات ہیں، لیکن اکثر ضعیف یا مرسل ہیں، جیسا کہ ابن حجر اور دیگر نے واضح کیا ہے۔[9]

شیعہ عقیدہ کے مطابق، اس عمل کے جواز پر کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ اہل بیت (ع) نے اسے منع کیا ہے اور اسے مجوسیوں کی تقلید قرار دیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ہاتھ ناف کے اوپر رکھے جائیں یا نیچے، دایاں ہاتھ بائیں پر ہو یا بالعکس۔

یہ اختلاف اور عدم وضاحت اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیغمبر (ص) کے زمانے میں یہ عمل موجود نہ تھا اور یہ بعد میں تراویح، اذان میں اضافے، اور دیگر بدعات کی طرح شامل ہوا۔ اس لئے شیعہ فقہ میں نماز میں ہاتھ باندھنے کو نہ جائز سمجھا گیا اور نہ سنتِ رسول (ص)۔

نماز میں ہاتھ باندھنے یا کھولنے کے بارے میں روایات اہل بیت (ع)

اہل بیت (ع) سے متعدد روایات میں نماز میں ہاتھ باندھنے سے منع کیا گیا اور اسے مجوسیوں کا عمل قرار دیا گیا ہے۔

امام باقر یا امام صادق (ع): "الرجل یضع یده فی الصلاة… فقال: ذلک التکفیر، لا تفعل۔”[10] ایک شخص نے سوال کیا کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنے کا کیا حکم ہے؟ امام نے فرمایا: یہ تکفیر ہے، ایسا نہ کرو۔

امام باقر (ع): "علیک بالاقبال علی صلاتک… ولا تکفّر فانما یفعل ذلک المجوس۔”[11] نماز کے دوران خشوع اختیار کرو اور ہاتھ نہ باندھو کیونکہ یہ مجوسیوں کا عمل ہے۔

امام زین العابدین (ع): نماز میں ایک ہاتھ دوسرے پر رکھنا ایک عمل ہے، جبکہ نماز میں کسی قسم کا عمل جائز نہیں۔[12]

امام موسیٰ کاظم (ع): "لایصلح ذلک، فان فعل فلایعود له۔”[13] یہ عمل درست نہیں، اگر کر لیا تو دوبارہ نہ کرے۔

امام علی (ع): "لایجمع المسلم یدیه فی صلاته… یتشبہ بأهل الکفر یعنی المجوس۔”[14] مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھے کیونکہ یہ اہل کفر، یعنی مجوسیوں کی مشابہت ہے۔

امام صادق (ع): "فاذا قمت فی صلاتک فاخشع… ولاتکفّر۔”[15] نماز کے دوران خشوع اختیار کرو اور ہاتھ نہ باندھو۔

یہ روایات اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا شریعت کا حصہ نہیں بلکہ ایک بدعت ہے جسے اہل بیت (ع) نے ناپسند فرمایا اور اس عمل سے منع کیا۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں شیعہ فقہاء کا نظریہ

شیعہ فقہاء کے نزدیک نماز میں ہاتھ کھلے رکھنا ضروری ہے، اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھنے کو بدعت اور شریعت کی مخالفت سمجھا جاتا ہے۔ شیخ مفید کے مطابق شیعوں میں اس پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا جائز نہیں اور یہ عمل اہل کتاب کا طریقہ ہے۔[16] سید مرتضیٰ بیان کرتے ہیں کہ امامیہ کے علاوہ دیگر فرقے ہاتھ باندھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، جبکہ امامیہ میں یہ ممنوع ہے۔[17]

شیخ طوسی کے نزدیک ہاتھ باندھنے کی اجازت نہیں، اور فقہ امامیہ کے اجماع کی بنا پر اسے نماز کا جزو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق نماز میں کسی عمل کے جائز ہونے کے لئے شرعی دلیل ضروری ہے، جو یہاں موجود نہیں۔ اسی لئے احتیاط کا تقاضا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے سے گریز کیا جائے۔[18]

شیخ بہائی فرماتے ہیں کہ دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنا (تکفیر) اکثر شیعہ فقہاء کے نزدیک حرام ہے اور نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ بعض فقہاء نے اس پر اجماع کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ان تصریحات کی روشنی میں، امامیہ فقہاء نماز میں ہاتھ باندھنے کو غیر شرعی قرار دیتے ہیں۔[19]

نماز میں ہاتھ باندھنے کا آغاز

محقق نجفی کے مطابق کہا جاتا ہے کہ خلیفہ دوم کے سامنے عجمی قیدیوں نے ہاتھ باندھے، اور وجہ پوچھی جانے پر انہوں نے بتایا کہ یہ خضوع اور تواضع کے اظہار کے لئے ہے جو وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کرتے ہیں۔ خلیفہ کو یہ عمل پسند آیا اور اس نے نماز میں اسے اختیار کر لیا، لیکن یہ شریعت میں مجوسیوں کی مشابہت کے قبیح ہونے سے غافل رہا۔ تاہم، اس حوالے سے کتب تاریخ میں کوئی مستند دلیل موجود نہیں ہے۔[20]

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں فقہائے اہل سنّت کے اقوال

فقہائے اہل سنت کے مطابق نماز میں ہاتھ باندھنے پر مختلف اقوال موجود ہیں:

امام مالک: وہ واجب نماز میں ہاتھ باندھنے کو مکروہ اور مستحب نماز میں ضرورتاً جائز سمجھتے تھے، جیسے قیام طولانی ہو۔ لیکن عام حالات میں ہاتھ کھلا رکھنا افضل قرار دیا۔[21]

قرطبی: علماء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہاتھ باندھنا مستحب ہے، مگر کچھ روایات کے مطابق نبی (ص) کی نماز میں ہاتھ باندھنے کا ذکر نہیں ملتا، جس کی بنا پر بعض علماء اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔[22]

نووی: انہوں نے بیان کیا کہ ہاتھ باندھنا ہمارے مذہب میں سنت ہے، لیکن عبد اللہ بن زبیر، حسن بصری، اور ابن سیرین جیسے علماء ہاتھ کھلے رکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ مالکی فقہاء بھی عمومی طور پر ہاتھ کھلے رکھنے کے قائل ہیں۔[23]

ابن قاسم: انہوں نے مالک سے نقل کیا کہ واجب نماز میں ہاتھ باندھنا جائز نہیں اور ترک کرنا افضل ہے، لیکن مستحب نماز میں تھکاوٹ کی صورت میں اجازت ہے۔

شوکانی: وہ دارقطنی اور دیگر سے نقل کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر، حسن بصری، اور نخعی جیسے علماء ہاتھ کھلے رکھتے تھے۔ مالکیہ بھی اس قول کے قائل ہیں۔

زحیلی: جمہور علماء مستحب سمجھتے ہیں کہ نمازی دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے، مگر مالکیہ وقار کی خاطر ہاتھ کھلے رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔[24]

مالکی مذہب کا خلاصہ: مالکی فقہ میں ہاتھ باندھنا مکروہ سمجھا گیا، تاکہ عوام کے درمیان اس عمل کو واجب سمجھنے کا غلط عقیدہ پیدا نہ ہو۔ مستحب نماز میں آرام کی غرض سے ضرورتاً اجازت دی گئی۔[25]

یہ اختلاف بنیادی طور پر روایات کی تفسیری اختلافات اور قیامِ طولانی یا نماز کے دیگر حالات پر مبنی ہے۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں روایات اہل سنّت

1. صحیح بخاری میں ابو حازم نے سھل بن سعد سے نقل کیا ہے کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیں۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ یہ عمل شاید نبی (ص) کا ہو، لیکن یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا۔[26]

2. صحیح مسلم میں وائل بن حجر نے نبی (ص) کو نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھتے دیکھا۔[27]

3. موطّأ امام مالک میں عبدالکریم بن ابی المخارق نے کہا کہ نبی (ص) کے حکیمانہ کلمات میں نماز میں ہاتھ باندھنا بھی شامل ہے۔[28]

4. ابن زبیر نے کہا کہ نماز میں ایک ہاتھ کا دوسرے پر رکھنا سنت ہے۔[29]

5. ابن مسعود نے کہا کہ نبی (ص) نے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنے کی ہدایت دی۔[30]

6. حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ نماز میں زیر ناف ہاتھ رکھنا سنت ہے۔[31]

7. حضرت علی (ع) نے زیر ناف دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھا۔[32]

8. ابوہریرہ نے کہا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا سنت ہے۔[33]

9. نبی (ص) نماز میں سینے پر دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھتے تھے۔[34]

10. ترمذی نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے نماز پڑھائی اور بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا تھا۔[35]

11. ابن ماجہ نے نقل کیا کہ نبی (ص) دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے۔ تاہم، ابن ماجہ کی کتاب میں کئی ضعیف روایات ہیں۔[36]

12. دارمی نے نقل کیا کہ نبی (ص) دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے قریب رکھتے تھے۔[37]

13. دارقطنی میں ابن مسعود سے نقل کیا گیا ہے کہ نبی (ص) دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے۔[38]

14. دارقطنی میں عائشہ سے نقل کیا گیا کہ نبی (ص) کے اوصاف میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا شامل تھا۔[39]

15. ابوہریرہ سے منقول روایت میں نبی (ص) نے انبیاء کو نماز میں دائیں ہاتھ بائیں پر رکھنے کا حکم دیا۔[40]

16. ابن عباس (ع) سے نقل ہے کہ انبیاء کو نماز میں دائیں ہاتھ بائیں پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔[41]

17. حضرت علی (ع) سے منقول ہے کہ "فصل لربک وانحر” کا مطلب نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنا ہے۔[42]

18 و 19. دارقطنی میں جابر اور ابن مسعود (ع) سے نقل کی گئی روایات میں ذکر ہے کہ نبی (ص) نے کسی کو نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنے کی ہدایت دی۔[43]

20. انس سے منقول ہے کہ نبی (ص) نے نماز میں دائیں اور بائیں جانب کھڑے افراد کو ترتیب کی ہدایت دی۔[44]

21. جابر سے نقل کیا گیا کہ نبی (ص) نے ایک شخص کے ہاتھ کی ترتیب درست کی۔[45]

نماز میں ہاتھ باندھنے کی روایات پر تنقید

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو روایات موجود ہیں، وہ دلالت یا سند کے اعتبار سے کمزور ہیں اور ان میں سے کئی ضعیف یا مرسل ہیں۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں راویوں کی کیفیت ایسی ہے کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں پہلی روایت بخاری سے نقل کی گئی ہے لیکن اس کی دلالت میں مشکلات ہیں اور یہ مرسل ہونے کا شبہ بھی ہے۔ اس کے پیغمبر (ص) کی طرف منسوب ہونے کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔ دوسری روایت صحیح مسلم میں آئی ہے، لیکن اس کی سند میں علقمہ بن وائل ہے، جو اپنے باپ سے روایت کر رہا ہے اور اس کا باپ اس کی پیدائش سے پہلے مر چکا تھا، لہذا یہ بھی مرسل ہے۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں تیسری روایت مالک بن انس سے نقل کی گئی ہے، لیکن اس کی سند میں ابن ابی المخارق ہے، جو ضعیف ہے۔ چوتھی روایت ابوداؤد میں آئی ہے، جس کے راویوں میں علاء بن صالح ہے، جس کی روایات قابل قبول نہیں ہیں اور یہ ابن زبیر والی روایت سے متعارض بھی ہے۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں پانچویں روایت بھی ابوداؤد میں آئی ہے، جس کی سند میں ہشیم ہے، جو اپنی روایات میں ملاوٹ کرتا تھا اور آخر میں ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ چھٹی روایت میں زیاد بن زید ہے، جو مجہول ہے اور عبدالرحمن بن اسحاق بھی ضعیف ہے۔

ساتویں روایت میں طالوت اور ضبّی جیسے ضعیف راوی ہیں، اور آٹھویں روایت میں عبدالرحمن بن اسحاق کی موجودگی ہے، جو ضعیف ہے۔ نویں روایت میں ہشیم اور طاؤس کا ذکر ہے، جو مرسل ہے، کیونکہ طاؤس (ع) نے پیغمبر (ص) کو نہیں دیکھا۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں دسویں روایت میں قبیصہ ہے، جو مجہول ہے، اور گیارہویں روایت میں عاصم بن کلیب ضعیف راوی ہے۔ بارہویں روایت میں عبدالجبار ہے، جو مرسل ہے۔ تیرہویں روایت دار قطنی سے ہے، جس میں مندل ہے، جو ضعیف ہے۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں چودہویں روایت میں محمد بن ابان انصاری اور ہشیم ضعیف ہیں۔ پندرہویں روایت میں نضر بن اسماعیل ہے، جو ضعیف ہے۔ سولہویں روایت میں طلحہ ہے، جسے تمام علماء نے ضعیف قرار دیا ہے۔ سترہویں روایت میں وکیع ہے، جس نے پانچ سو حدیثوں میں غلطی کی۔

نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں اٹھارہویں اور انیسویں روایات میں حجاج بن ابی زینب ہے، جو ضعیف ہے۔ بیسویں روایت میں ابوخالد احمد ہے، جس کی حدیث بھی حجت نہیں ہے۔ اکیسویں روایت اٹھارہویں روایت کا ہی اعادہ ہے اور اس میں ابو یوسف حجاج ہے، جو ضعیف ہے۔

اس طرح، ان روایات کے ضعیف ہونے کی بنا پر نماز میں ہاتھ باندھنے کی نسبت پیغمبر (ص) کی طرف کی جا سکتی ہے، لیکن ان روایات کا کوئی معتبر وجود نہیں۔ بخاری اور مسلم نے ان روایات کو اپنی کتب میں شامل نہیں کیا، جو ان کے غیر معتبر ہونے کا ثبوت ہے۔

بعض صحابہ کرام اور آئمہ مذاہب جیسے ابن زبیر، امام مالک، ابن سیرین، حسن بصری اور نخعی وغیرہ نماز میں ہاتھ کھولنے کے قائل تھے۔ اسی طرح اہل بیت (ع) کے مذہب میں بھی نماز میں ہاتھ باندھنے کو ناجائز اور شریعت کے مخالف سمجھا گیا ہے۔

لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم سنت کے مقابلے میں بدعت کے قریب تر ہے۔

خاتمہ

نماز میں ہاتھ باندھنے کا مسئلہ مختلف مکاتب فکر میں اختلاف کا باعث ہے۔ شیعہ فقہاء کے مطابق، نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم عدم جواز ہے اور یہ اہل بیت (ع) کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں اہل سنت میں بھی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، بعض نے اسے مستحب اور بعض نے مکروہ قرار دیا۔ روایات میں اس عمل کی کوئی مضبوط اور متفقہ دلیل نہیں ملتی، اور اکثر روایات ضعیف ہیں۔ اس لئے شیعہ عقیدہ کے مطابق، نماز میں ہاتھ کھلے رکھنا ہی درست عمل ہے، اور ہاتھ باندھنا ایک بدعت سمجھا جاتا ہے۔

 

حوالہ جات

[1]۔ طوسی، الخلاف، ج۱، ص۱۰۹۔
[2]۔ ابن زہرہ، غنیة النزوع، ج۱، ص۸۱۔
[3]۔ شهید اول، الدروس الشرعیة، ج۱، ص۱۸۵۔
[4]۔ سید مرتضی، الانتصار، ج۱، ص۴۱۔
[5]۔ ابن رشد قرطبی، بدایة المجتهد، ج۱، ص۱۳۶۔
[6]۔ شوشتری، قاموس الرجال، ج۸، ص۶۳۲؛ مامقانی، تنقیح المقال، ج۲، ص۶۴۔
[7]۔ ابن رشد قرطبی، البیان و التحصیل، ج۱، ص۳۹۴۔
[8]۔ سرخسی، المبسوط، ج۱، ص۲۳۔
[9]۔ ابن حجر عسقلانی، تهذیب التهذیب، ج۸، ص۳۱۴۔
[10]۔ حر عاملی، وسائل الشیعة، ج۷، ص۲۶۶، باب۱۵۔
[11]۔ حر عاملی، وسائل الشیعة، ج۵، ص۵۱۱، باب۱۷، ح۲۔
[12]۔ حر عاملی، وسائل الشیعة، ج۵، ص۵۱۱، باب۱۷، ح۲۔
[13]۔ حر عاملی، وسائل الشیعة،ج۵، ص۵۱۱، باب۱۷، ح۲۔
[14]۔ حر عاملی، وسائل الشیعة، ج۵، ص۵۱۱، باب۱۷، ح۲۔
[15]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۸۴، ص۱۸۶۔
[16]۔ علامه حلی، کتاب التذکرة، ج۳، ص۲۵۳۔
[17]۔ سید مرتضی، الانتصار، ج۱، ص۲۲۔
[18]۔ طوسی، الخلاف، ج۱، ص۱۰۹۔
[19]۔ مجلسی، ملاذ الاخیار، ج۳، ص۵۵۳۔
[20]۔ نجفی، جواهر الکلام، ج۱۱، ص۱۹۔
[21]۔ شافعی، مدونة الکبري، ج۱، ص۷۶۔
[22]۔ ابن رشد قرطبی، بدایة المجتهد، ج۱، ص۱۳۶۔
[23]۔ نووی، المجموع، ج۳، ص۳۱۳۔
[24]۔ سرخسی، المبسوط، ج۱، ص۲۳۔
[25]۔ زحیلی، الفقه الاسلامی و ادلّته، ج۲، ص۸۷۴۔
[26]۔ بخاری، صحيح بخاری، ج۱، ص۱۳۵۔
[27]۔ مسلم، صحيح مسلم، ج۱، ص۱۵۰۔
[28]۔ بخاری، صحيح بخاری، ج۲، ص۲۶۳۔
[29]۔ ابو داؤد، سنن ابو داؤد، ج۱، ص۲۰۱۔
[30]۔ ابو داؤد، سنن ابو داؤد، ج۱، ص۲۰۰۔
[31]۔ ابو داؤد، سنن ابو داؤد، ج۱، ص۲۰۱۔
[32]۔ ابو داؤد، سنن ابو داؤد، ج۱، ص۲۰۱۔
[33]۔ ابو داؤد، سنن ابو داؤد، ج۱، ص۲۰۱۔
[34]۔ ابو داؤد، سنن ابو داؤد، ج۱، ص۲۰۱۔۔
[35]۔ ترمذی، جامع ترمذی، ج۱، ص۳۲۔
[36]۔ ابن ماجه، سنن ابن ماجه، ج۱، ص۲۶۶۔
[37]۔ ذهبی، سیراعلام النبلاء، ج۱۳، ص۲۷۹۔
[38]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۳، ح۱۔
[39]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۴۔
[40]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۴۔
[41]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۵۔۔
[42]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۷۔
[43]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۷۔
[44]۔ دار قطنی، سنن دار قطنی، ج۱، ص۲۸۷۔
[45]۔ ابن حجر عسقلانی، تهذیب التهذیب، ج۲، ص۱۷۷۔

 

مصادر

۱۔ ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، تهذیب التهذیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۵ء۔
۲۔ ابن رشد قرطبی، ابو الولید، البیان و التحصیل، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۶ء۔
۳۔ ابن رشد قرطبی، ابو الولید، بدایة المجتهد، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۸ء۔
۴۔ ابن زهره، عبد الکریم، غنیة النزوع، قم، موسسة آل البیت، ۱۴۲۵ق۔
۵۔ ابن ماجه، محمد بن یزید، سنن ابن ماجه، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۷ء۔
۶۔ ابو داؤد، سلیمان بن اشعث، سنن ابو داؤد، بیروت، دار الفکر، ۱۹۸۸ء۔
۷۔ بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، بیروت، دار السهیل، ۱۹۹۰ء۔
۸۔ ترمذی، محمد بن عیسی، جامع ترمذی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۵ء۔
۹۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، بیروت، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۰۰ق۔
۱۰۔ دار قطنی، علی بن عمر، سنن دار قطنی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۱ء۔
۱۱۔ ذهبی، شمس الدین، سیراعلام النبلاء، بیروت، دار التوحید، ۱۹۹۷ء۔
۱۲۔ زحیلی، ویس، الفقه الاسلامی و ادلّته، دمشق، دار الفکر، ۱۹۹۶ء۔
۱۳۔ سرخسی، محمد بن احمد، المبسوط، بیروت، دار المعرفة، ۱۹۹۳ء۔
۱۴۔ سید مرتضی، علم الهدی، الانتصار، قم، موسسة آل البیت، ۱۴۲۵ق۔
۱۵۔ شافعی، محمد بن ادریس، مدونة الکبري، بیروت، دار الفکر، ۱۹۸۸ء۔
۱۶۔ شهید اول، محمد بن مکین، الدروس الشرعیة، قم، موسسة آل البیت، ۱۴۲۴ق۔
۱۷۔ شوشتری، محمد بن حسن، قاموس الرجال، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۸ء۔
۱۸۔ مامقانی، محمد بن علی، تنقیح المقال، قم، موسسة آل البیت، ۱۴۲۵ق۔
۱۹۔ طوسی، ابوالقاسم، الخلاف، بیروت، دار السهیل، ۱۹۹۰ء۔
۲۰۔ علامه حلی، حسین بن محمد، کتاب التذکرة، قم، موسسة آل البیت، ۱۴۲۵ق۔
۲۱۔ مجلسی، محمدباقر، ملاذ الاخیار فی فهم تهذیب الاخبار، قم، کتابخانه آیت‌الله مرعشی، ۱۴۰۷ق۔
۲۲۔ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۹۹۲ء۔
۲۳۔ مسلم، ابو الحسن، صحیح مسلم، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۵ء۔
۲۴۔ نجفی، محمد حسین، جواهر الکلام، بیروت، دار الفکر، ۱۹۹۵ء۔
۲۵۔ نووی، یحیی بن شرف، المجموع، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۸ء۔

 

مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

طبسی، نجم الدین، نماز میں ہاتھ کھولیں یا باندھیں؟، ترجمہ ناظم حسین اکبر، لاہور، ابوطالب اسلامک انسٹیٹیوٹ، ۲۰۰۹ء (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔