تربیت کے نازک سفر میں بچے کا خوف ایک ایسی کیفیت ہے جو اس کی شخصیت کے ہر گوشے کو چھو لیتی ہے۔ کبھی بچے کا خوف بیمار ہونے کے احساس سے ابھرتا ہے اور کبھی اجنبی ماحول اس خوف کو بڑھا دیتا ہے۔ والدین اور مربی کی ذمہ داری ہے کہ بچے کا خوف پہچانیں، اسے حقیقت کے مطابق سمت دیں اور بچے کا خوف جھوٹ یا مبالغے کے ذریعے مزید نہ بڑھنے دیں۔ جب سمجھداری اور محبت ساتھ ہوں تو بچے کا خوف اعتماد میں بدل سکتا ہے۔
خوف سب میں پائی جانے والی ایک صفت ہے۔ تھوڑا یا زیادہ سب لوگوں میں ہوتا ہے۔ اجمالی طور پر خوف انسان کی حفاظت کےلئے ضروری ہے اور اس طرح سے ہونا کوئی بڑی چیز بھی نہیں ہے۔ جس میں بالکل ہی خوف نہ ہو وہ انسان معمول کے مطابق نہیں ہے بلکہ بیمار اور ناقص ہے۔ یہ خوف ہے جس کی وجہ سے انسان خطرناک حوادث سے بھاگتا ہے اور اپنے آپ کو موت سے بچاتا ہے۔ لہذا خوف اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے کہ جو خالق کائنات نے انسان کے وجود میں ودیعت کی ہیں اور اس میں مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ لیکن یہ عظیم نعمت دیگر تمام نعمتوں کی طرح اس صورت میں مفید ہوگی کہ جب انسان اس سے صحیح طور پر استفادہ کرے۔ اگر وہ اپنے صحیح مقام کے برخلاف استعمال ہوئی تو نہ صرف یہ کہ مفید نہیں ہے بلکہ ممکن ہے برے نتائج کی حامل بھی ہو۔
بچے کا خوف اور اس کی اقسام
خوف کے مواقع کو مجموعی طور پر ۲ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ خیالی، بے موقع اور غیر عقلی خوف
۲۔ معقول، درست اور بجا خوف
غیر عاقلانہ خوف
پہلی قسم کا غیر عاقلانہ خوف عموماً زیادہ ہوتا ہے۔ جیسے جن اور بھوت سے ڈرنا تاریکی سے خوف کھانا، بے ضرر حیوانات سے ڈرنا، بلی، چوہے، لال بیگ، مینڈک، اونٹ گھوڑے اور دیگر ایسے جانوروں سے ڈرنا۔ چور سے ڈرنا، مردے، قبرستان، اور کفن سے ڈرنا، ڈاکٹر، ٹیکے اور دوا سے خوف کھانا، دانتوں کے ڈاکٹر سے ڈرنا، ریل گاڑی کی آواز یا بادل کے گرجنے اور بجلی کے کڑکنے سے خوف کھانا، اکیلے سونے سے ڈرنا، امتحان دینے اور سبق سنانے سے ڈرنا، بیماری سے خوف کھانا، موت سے ڈرنا اور ایسے ہی دیگر دسیوں قسم کے خوف کہ جو بالکل بے موقع ہیں اور ان کی بالکل کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے۔
ایسے خوف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ایسے ہی خوف ہوتے ہیں کہ جو بچے کو دائمی رنج و عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ سکھ کی نیند سے بھی محروم ہوجاتا ہے اور نیند میں وحشت ناک قسم کے خواب دیکھتا ہے اور چیختا چلاتا ہے۔
بے جا خوف و اضطراب ایک نفسیاتی بیماری ہے جو بچے کی آئندہ زندگی پر بھی برے اثرات مرتب کرے گی۔ ڈرپوک آدمی میں جرأت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بڑا قدم اٹھائے ہمیشہ اضطراب کے عالم میں رہے گا اور اس کے دل میں ہمیشہ گرہ سی رہے گی، ملنے جلنے سے کترائے گا، پریشان اور افسردہ رہے گا۔ اجتماع سے بھاگے گا اور اپنی ذات میں گم ہو جائے گا۔ اکثر نفسیاتی بیماریاں ایسے ہی بے جا خوف سے وجود میں آتی ہیں۔
حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: خوف بھی ایک مصیبت ہے۔[۱]
مربّی کی ذمہ داریاں اور بچے کا خوف دور کرنے کے اصول
لہذا ایک اچھا مربی اس امر سے لا تعلق نہیں رہ سکتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے بچے کے بے جا خوف کو دور کرے۔ اس موقع پر مربّی حضرات کی خدمت میں ہم چند گزارشات پیش کرتے ہیں۔
۱۔ خوف کو دور کرنے سے کہیں آسان ہے کہ اسے پہلے سے روکا جائے۔ کوشش کریں کہ خوف کے علل اور عوامل حتی المقدور پیدا ہی نہ ہوں تاکہ آپ کا بچہ ڈرپوک بنے ماہرین نفسیات کا نظریہ ہے کہ ریل گاڑی کی آواز، بادل اور بجلی کی صدا، خطرے کے آلارم کی آواز اور بچے کے سرہانے شور مچانا بچوں کےلئے خوف کے ابتدائی عوامل میں سے ہیں۔ جہاں تک ہو سکے کوشش کریں کہ بچے اس طرح کی چیزوں سے بچیں اگرچہ نومولود کیوں نہ ہوں ان کے سرہانے شور نہ مچائیں۔ ان کی طرف غصے سے نہ دیکھیں۔
۲۔ ڈر متعدی بیماریوں میں ہے۔ بچہ ذاتی طور پر ڈرپوک نہیں ہوتا ماں باپ اور ارد گرد والے لوگ اگر ڈرپوک ہوں تو بچہ ڈرپوک بن جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے ڈرپوک نہ ہوں تو پہلے اپنے ڈر کا علاج کریں اور غیر عقلی عوامل پر اظہار خوف اور جزع و فزع نہ کریں تاکہ بچے بھی ڈرپوک نہ ہوں۔
۳۔ پولیس اور جرائم سے متعلقہ فلموں کو دیکھنا، ٹی وی کے بعض پروگراموں کو دیکھنا، ریڈیو کی ہیجان آور داستانوں کا سننا، ہیجان انگیز قصوں اور داستانوں کا پڑھنا اور سننا، یہاں تک کہ مجلوں اور روزناموں میں چھپنے والے بعض اخبارات کا پڑھنا بچے کےلئے ضرر رساں ہے بچے کے نازک اور ظریف اعصاب پر ان کا اثر ہوتا ہے اور ان سے بچے کے دل میں ایک خوف، پریشانی اور گرہ سی پیدا ہوجاتی ہے۔
جہاں تک ممکن ہو سکے بچے کو ان چیزوں سے دور رکھیں۔ جن اور پری کے بارے میں بات تک نہ کریں۔ اگر انہوں نے کسی اور سے سن لیا ہو تو انہیں سمجھائیں کہ جن اگر موجود بھی ہو جیسا کہ قرآن کریم نے ان کے وجود کے بارے میں تصریح بھی کی ہے تو وہ بھی انسانوں کی طرح سے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں اور انسان کےلئے ان کا کوئی نقصان نہیں اور ان سے خوف کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
غلط تربیتی رویے جو بچے کا خوف بڑھا دیتے ہیں
۱۔ بچے کی تربیت کےلئے اس ڈرانے اور سختی سے پرہیز کریں۔ بچوں کو بھوت، دیو، لولو وغیرہ سے نہ ڈرائیں۔ ایسے خوف ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر بچے پر اثر ڈالیں لیکن یقیناً ان سے بچے میں برے اثرات باقی رہ جائیں گے کہ جن کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے۔ اس طرح سے آپ کو ڈرپوک اور کمزور بنا دیں گے بچوں کو تنبیہ کےلئے تاریک اور دہشت آور جگہوں پر بند نہ کریں۔
بچوں کو کتے، بلی سے نہ ڈرائیں۔ بعض بیوقوف ماؤں کی غلط عادت ہے کہ بچے کو چپ کروانے کےلئے دروازے اور دیوار کے پیچھے سے میاؤں میاؤں کرتی ہیں اور دروازے اور دیوار پر ہاتھ مارتی ہیں اور اس طرح سے اسے ڈراتی ہیں تاکہ وہ چپ کر جائے۔ ان نادان ماؤں کو خبر نہیں کہ وہ اس غلط عادت سے کتنے بڑے جرم کی مرتکب ہوتی ہیں اور بچے کی حساس روح کو پریشان کر دیتی ہیں اور اس کی آئندہ نفسیاتی زندگی کو تباہ کر دیتی ہیں … اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے:
ہماری دادی امّاں ہمیں شرارتوں سے روکنے کےلئے دوسرے کمرے میں چلی اور ایک خاص آواز نکال کر کہتی، میں دیو ہوں، میں آگیا ہوں کہ تمہیں کھا جاؤں۔ ہم ڈر جاتے اور چپ کر جاتے اور سمجھتے کہ یہ حقیقت ہے۔
اسی وجہ سے میں ایک ڈرپوک شخص ہوں اور اکیلا گھر سے باہر نہیں رہ سکتا۔ اب جبکہ بڑا ہو گیا ہوں وہی خوف ایک اضطراب اور دل گرفتگی کی صورت اختیار کر چکا ہے …۔ اپنے ایک خط میں لکھتی ہے۔ میں پانچ سال کی تھی اپنی خالہ زاد کے ساتھ کھیل رہی تھی اچانک ہم نے ایک وحشت ناک ہیولا بڑا سا سر درشت آنکھیں، بڑے بڑے دانت، کھلا سیاہ لباس اور بڑ ے بڑے کالے جوتے۔ وہ صحن کے درمیان میں تھا۔ عجیب آواز نکالتے ہوئے وہ چاہتا تھا کہ انہیں کھا جائے۔ ہم نے چیخ ماری اور تاریک دالان کی طرف بھاگ گئیں۔
میں خوف سے یوں دیوار سے جا چمٹی کہ میری انگلیاں زخمی ہو گئیں۔ خوف کے مارے میں بے ہوش ہو گئی اور مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور مجھے مرنے سے بچایا۔ اس غیر انسانی فعل نے مجھ پر ایسا اثر کیا کہ ایک عرصے تک میں کونوں کھدروں میں چھپتی اور ذرا سی آواز بھی مجھے خوف و وحشت میں مبتلا کر دیتی اور میری چیخ نکال جاتی اب جبکہ میں بڑی ہوگئی ہوں تو میں ضعفِ اعصاب اور سوزش قلب میں مبتلا ہو گئی ہوں۔ ہمیشہ غم زدہ رہتی ہوں اور عجیب و غریب خیالات آتے ہیں۔
کام اور زندگی میں میرا دل نہیں لگتا نہ کسی سے میل ملاقات ہے اور نہ کہیں آتی جاتی ہوں۔ بے چین اور مضطرب سی رہتی ہوں۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ ہماری پھوپھی زاد نے اپنے سرپر ایک بڑا سا دیگچہ رکھ کے وہ ڈراؤنی بھوت کی شکل بنائی تھی تاکہ ہمیں ڈرائے اور وہ ہے میری بیماری اور اعصاب کی کمزوری کی ذمہ دار۔
۲۔ اگر آپ کا بچہ آپ کی سہل انگاری اور عدم توجہ یا دوسرے اسباب کے باعث ڈرپوک بن گیا ہو تو اس کے ڈر کو غیر اہم چیز نہ سمجھیں۔ کوشش کریں کہ جتنی جلدی ہو سکے اس کی روح کو آرام پہنچائیں اور اس کا خوف دور کریں۔
اگر بچے کو اپنے بعض کاموں کے حقیقی اسباب کا علم ہوگیا تو اس کا کچھ خود بخود جاتا رہے گا لیکن خوف کا علاج بچے کو جھاڑ پھٹکار پلانا اس کا مذاق اڑانا اور دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنا نہیں ہے۔ ایسا کام نہ فقط یہ کہ بچے کا خوف دور نہیں کرے گا بلکہ اس کی حساس روح کو آزردہ تر کر دے گا۔ خوف میں اس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ وہ ڈرنا نہیں چاہتا۔ آپ خود اور دوسرے عوامل اس کے خوف کا سبب بنے ہیں۔ اسے کیوں قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ صبر، بردباری سمجھداری اور تحقیق و جستجو کے ساتھ اس کے خوف کے علل و اسباب معلوم کریں پھر ان کےلئے چارہ کار سوچیں۔
اگر وہ جن اور بھوت سے ڈرتا ہے تو اسے پیار محبت سے سمجھائیں کہ بھوت، لولو اور دیو وغیرہ کا وجود جھوٹ ہے اور ایسی چیزوں کا اصلاً وجود ہی نہیں ہے۔ اسے مطمئن کریں کہ جن کا انسان سے کوئی کام نہیں۔ کوشش کریں کہ ان چیزوں کا اس کے سامنے اصلاً ذکر ہی نہ کیا جائے تاکہ رفتہ رفتہ ان کا خیال بچے کے ذہن سے محو ہو جائے۔ اگر وہ بے ضرر حیوانات سے ڈرے تو ان کا بے ضرر ہونا اس کے سامنے عملی طور پر ثابت کریں۔ ان حیوانات کے قریب جائیں اور انہیں چھوئیں اور ہاتھ پکڑیں تاکہ بچہ تدریجاً ان سے مانوس ہو جائے اور اس کا خوف دور ہو جائے۔
اگر وہ اندھیرے سے ڈرتا ہے تو اسے کم روشنی کا عادی کریں تاکہ رفتہ رفتہ اس کا خوف جاتا رہے اور وہ تاریکی کا بھی عادی ہو جائے۔ جب آپ خود بچے کے پاس موجود ہوں تو کچھ دیر کےلئے چراغ گل کر دیں۔ پھر تدریجاً اس مدت کو بڑھائیں۔ جب آپ کسی کمرے میں بچے سے کچھ فاصلے پر ہوں تو یہی عمل دہرائیں۔ صبر اور حوصلے سے اس عمل کا تکرار کریں یہاں تک بچے کا خوف دور ہو جائے اور وہ تاریکی میں رہنے کا عادی ہو جائے۔
اس امر کی طرف بہرحال متوجہ رہیں کہ ڈرانے دھمکانے، مار پیٹ اور سختی سے کام نہ لیں کیونکہ اس طرز عمل سے آپ بچے کا خوف دور نہیں کر سکتے۔ بلکہ ممکن ہے یہ برے اعمال کا پیش خیمہ بنے۔ بچے کو اس امر پر مجبور کرنا کہ وہ جن چیزوں سے ڈرتا ہے ان کے سامنے جائے، اس کے اضطراب اور پریشانی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس طریقے سے اس کے اعصاب پر بہت دباؤ پڑتا ہے۔ اگر بچہ ڈاکٹر اور ٹیکے سے ڈرتا ہے تو اسے پیار اور محبت کی زبان میں سمجھائیں کہ وہ بیمار ہے اور اگر وہ تندرست ہونا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ دوا کھائے اور ٹیکہ لگوائے۔
اسے دکھائیں کہ دوسرے لوگ بھی ٹیکہ لگواتے ہیں اور روتے دھوتے نہیں تاکہ وہ آہستہ آہستہ ڈاکٹر اور ٹیکے سے مانوس ہو جائے اور اس کا خوف زائل ہو جائے۔ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو اسے زبردستی ٹیکہ نہ لگایا جائے کیونکہ ممکن ہے اس کے برے اثرات مرتب ہوں۔ کبھی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ بچہ ہسپتال میں داخل ہو جائے لیکن اکثر بچے ہسپتال میں داخل ہونے اور ماں باپ کی جدائی سے ڈرتے ہیں۔ اس بناء پر کبھی وہ ماں باپ کےلئے بڑی مشکل پیدا کر دیتا ہے۔ اگر اسے سختی سے ہسپتال میں داخلے پر مجبور کیا جائے تو مسلماً اس سے روحانی اور نفسیاتی طور پر اس پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔
اگر ماں باپ یہ سمجھیں کہ ہسپتال میں داخل نہ کروانا اس کی صحت و سلامتی کےلئے نقصان دہ ہے، یہاں تک کہ اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو والدین کےلئے ضروری ہے کہ بچے کو پہلے ہی سے ہسپتال کے ماحول سے مانوس کریں۔ جب کبھی وہ کسی مریض کی عیادت کےلئے جائیں تو اپنے بچے کو بھی ساتھ لے جائیں اور وہاں کچھ دیر ٹھہریں اور اسے یہ بات اچھی طرح سمجھائیں کہ ہسپتال ایک اچھی اور آرام دہ جگہ ہے جہاں پر ڈاکٹر اور مہربان نرسیں موجود ہیں اور یہ لوگ مریض کا علاج کرتے ہیں اسے بتائیں کہ خطرناک بیماریوں کا علاج ہسپتال ہی میں ممکن ہے۔ بچے کو تدریجاً ہسپتال کے ماحول سے مانوس کیا جا سکتا ہے۔
ایسی صورت میں اگر بچے کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑ جائے تو وہ اس کےلئے آمادہ ہوگا۔ بہتر ہے کہ پہلے اس بات کی یاد دہانی کروا دی جائے کہ تم بیمار ہو، تندرست ہو جاؤ گے لیکن اس کےلئے تمہیں کچھ عرصہ ہسپتال میں رہنا ہوگا۔ وہاں پر نرسیں اور مہربان ڈاکٹر موجود ہیں جو تمہاری تندرستی کےلئے کوشش کریں گے۔ ہم بھی تمہیں لئے آتے رہیں گے لیکن اس امر کی طرف متوجہ رہیں کہ بچے سے جھوٹ نہ بولیں جب آپ کو جانا ہے تو اس سے یہ نہ کہیں کہ یہاں سو جاؤ، ہم تمہارے پاس ہی ہیں اس سے یہ نہ کہیں کہ ڈرو مت تمہیں دوا نہیں دی جائے گی اور ٹیکہ نہیں لگایا جائے گا۔
اس سے یہ نہ کہیں کہ ہسپتال میں تمہارا وقت خوب گزرے گا کیونکہ یہ تمام باتیں خلاف حقیقت ہیں۔ ان سے بچے کا اعتماد جاتا رہتا ہے بلکہ اس سے یہ کہیں کہ تم بیمار ہو اور تمہارے علاج کےلئے ہسپتال میں داخلے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ ہسپتال میں داخلے کے بعد جہاں تک ممکن ہو سکے اس کی عیادت کےلئے جائیں اس کے پاس ٹھہریں اور اس کےلئے خوشی اور آرام و راحت کا باعث بنیں۔
معقول خوف
معقول خوف کے معاملے میں مربّی کو چاہیے کہ ایک معتدل اور عاقلانہ روش اختیار کرے بچے کے سامنے خطرناک موضوعات چھیڑے اور اسے ان سے بچنے کی تدابیر بتائے۔
نیز اسے بے احتیاطی کے برے نتائج سے ڈرائے اسے گیس، ماچس اور برقی اشیاء کے استعمال کا درست طریقہ سمجھائے اسے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرے اسے سڑک پار کرنے کا صحیح طریقہ بتائے۔ گاڑیوں کی آمد و رفت کے ممکنہ خطرات اس سے بیان کرے اور بچے کو اس بات پر ابھارے کہ وہ اجتماعی قوانین، خصوصاً ٹریفک قوانین کی پابندی کرے اور اسے قانون کی خلاف ورزی کے ممکنہ برے نتائج سے ڈرائے مجموعی طور پر احتمالی خطرات کی اس کے سامنے وضاحت کرے اور ان سے اسے ڈرائے مجموعی طور پر احتمالی خطرات کی اس کے سامنے وضاحت کرے اور ان سے اسے ڈرائے اور ان سے بچنے کا طریقہ اسے سمجھائے لیکن اس امر میں مبالغہ سے کام نہ لے۔
مبالغہ آرائی سے ایسا نہ کرے کہ بچہ وحشت و اضطراب میں گھر جائے ڈرپوک اور وسواسی بن جائے۔ اور یوں سمجھنے لگے کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ کوشش یہ کرنا چاہیے کہ اس میں توکل علی اللہ اور امید بر خدا کا جذبہ بیدار ہو خوف کا ایک صحیح مقام موت کا ڈر ہے البتہ موت سے خوف اگر حدّ سے تجاوز کر جائے تو یہ بھی ایک نفسیاتی بیماری بن جاتا ہے یہ بیماری انسان سے روحانی آرام و سکون چھین لیتی ہے اور اس کی عملی صلاحیتوں کو ناکارہ کر دیتی ہے لہذا اس کےلئے بھی حفاظتی تدابیر ضروری ہیں۔ کچھ عرصے تک بچہ اصلاً موت کا مفہوم ہی نہیں سمجھتا۔
بہتر یہ ہے کہ مربی حضرات اس بارے میں بات نہ کریں لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ اپنے کسی واقف کار یا رشتے دار کے مرنے سے موت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ممکن ہے ایسے موقع پر وہ ماں باپ سے موت کے بارے میں سوالات پوچھے۔ اگر اس وقت بچہ رشد و تمیز کے سن کو پہنچ چکا ہو تو ماں باپ اسے اس قضیے کی حقیقت بتا دیں۔ اس سے کہیں کہ موت کوئی خاص چیز نہیں ہے۔ انسان مرنے کی وجہ سے اس جہاں سے دوسرے جہاں میں منتقل ہو جاتا ہے، اسے جہاں آخرت کہتے ہیں۔ اس جہاں میں انسان کو اچھے کاموں کا ثواب ملے گا اور برے کاموں پر اسے عذاب ملے گا، سب نے مر جاتا ہے۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے: تمام لوگ مر جائیں گے۔
موت اہم چیز نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ انسان برے کام نہ کرے اور اچھے کام کرے تاکہ مرنے کے بعد وہ آرام سے رہے۔ موت کی یاد حدّ سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے اور اسے وسواس کے مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ ایسا ہونا نقصان وہ ہے جب کہ اسی یاد سے بچے کی تعلیم و تربیت کےلئے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
خوف کا ایک مثبت مقام خوف خدا یا خوف قیامت ہے۔ یہ خوف بھی اگر ایک نفسیاتی بیماری کی صورت میں نہ ہو تو نہ فقط یہ کہ برا نہیں ہے بلکہ انسان کی دنیاوی اور اخروی سعادت کےلئے بہت مفید ہے۔ خوف الہی اور عذاب آخرت کا خوف انسان کو نیک کاموں پر ابھارتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی قرآن مجید میں لوگوں سے فرماتا ہے:
فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔[۲]
اگر تم مومن ہو تو ان لوگوں سے نہیں مجھ سے ڈرو۔
نیز قرآن قیامت کی مشکلات اور عذاب کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ لہذا ایک عقل مند، سمجھ دار اور متدین مربّی کوشش کرتا ہے کہ خوف الہی گناہ سے خوف اور خوف قیامت کا بیج بچے کی حسّاس روح میں اس کے بچپن ہی میں بو دیتے تاکہ رفتہ رفتہ وہ نشو و نما پائے اور بڑا ہو کر اس کا نیک ثمرہ ظاہر ہو۔
البتہ اس نکتے کی یاد دھانی بھی ضروری ہے کہ ایک بہترین مربی کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ ہمیشہ دوزخ اور عذاب دوزخ کا ذکر کرتا رہے اور اللہ کو سخت، جابر شخص کی حیثیت سے متعارف کروائے بلکہ اس کی رحمت، مہربانی، شفقت اور لطف کی صفت کا زیادہ تذکرہ کرے۔ اس کے ذریعے سے اللہ کو محبوب کے طور پر منوائے اور لوگوں کو گناہ کے عذاب اور اللہ کی عظمت سے اس طریقے سے ڈرائے کہ وہ ہمیشہ خوف و رجاء کی حالت میں رہیں۔
خاتمہ
تربیت کا کمال یہ ہے کہ بچے کا خوف اسے پست نہ کرے بلکہ اچھائی کی طرف رہنمائی کرے۔ بچے کا خوف اگر صحیح رخ پائے تو وہ احتیاط اور ذمہ داری کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح بچے کا خوف الٰہی معانی سے جڑ کر اخلاقی قوت کا محرک بھی بن سکتا ہے۔ ایک دانا مربی وہ ہے جو بچے کا خوف کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے شعور، امید اور روحانی توازن کی طرف لے جائے تاکہ وہ زندگی کے مراحل میں باوقار قدم رکھ سکے۔
حوالہ جات
[۱]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۸۔
[۲]۔ آل عمران: ۱۷۵۔
کتابیات
۱۔ قرآن مجید۔
2۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم: مجموعة من کلمات و حکم الإمام علی علیه السلام، قم، دار الکتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ق۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
امینی، ابراهیم، آئین تربیت، ترجمہ: قیصر عبّاس و ثاقب نقوی، لاہور، مصباح الہدیٰ پبلیکیشنز۔ (نسخہ برقی توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔