ترجمۂ قرآن ایک عظیم علمی خدمت ہے۔ شیعہ قرآنی تراجم کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اردو زبان میں شیعہ علماء نے ترجمۂ قرآن کے میدان میں کس قدر متنوع اور گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ قرآن کریم، کلامِ الٰہی اور ابدی ہدایت کا سرچشمہ ہے، جو ہر دور کے انسان کو اپنی فکری گہرائیوں کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس پیغامِ نور کو سمجھنے اور اس کے معانی کو عام انسانوں تک پہنچانے کے لیے ترجمۂ قرآن کی خدمت، اسلامی تاریخ کی سب سے عظیم علمی خدمات میں سے ایک رہی ہے۔
اردو زبان کو یہ منفرد شرف حاصل ہے کہ اس میں قرآنِ مجید کے سینکڑوں تراجم اور ہزاروں تفاسیر موجود ہیں، جو اس زبان کی وسعت اور اس کے بولنے والوں کی قرآن سے گہری وابستگی کا ثبوت ہیں۔ شیعہ قرآنی تراجم کے اس عظیم قرآنی ورثے میں، مکتبِ اہلِ بیت (ع) سے وابستہ علماء کی کاوشیں ایک نمایاں اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کاوشوں کا مقصد نہ صرف قرآن کے متن کا لسانی ترجمہ کرنا تھا، بلکہ ان مفاہیم کو ان تعلیمات کی روشنی میں پیش کرنا تھا جو پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کے اہلِ بیت (ع) سے منقول ہیں۔ یہ مقالہ اردو زبان میں موجود بارہ (۱۲) ممتاز اور مشہور شیعہ تراجمِ قرآن کی خصوصیات، اسلوب اور ان کے علمی مقام کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتا ہے۔ البتہ واضح رہے کہ ان کے علاوہ بھی مزید تراجم و تفاسیر موجود ہیں لیکن عدم دستیابی کی وجہ سے اس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکا۔
۱. مولانا سید مقبول احمد دہلوی
"ترجمہ و تفسیر مقبول”
یہ برصغیر کے شیعہ حلقوں میں کلاسک اور بنیادی حیثیت کا حامل ترجمۂ قرآن ہے۔ دہائیوں تک، یہ ترجمہ ہر شیعہ گھرانے اور ادارے کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا تھا اور آج بھی اسے ایک سند کی حیثیت حاصل ہے۔
خصوصیات:
الف. جامعیت و اختصار: اس کی سب سے بڑی خوبی ترجمے کے ساتھ مختصر مگر انتہائی جامع "حواشی” (تفسیری نوٹس) کا ہونا ہے۔ یہ حواشی نہ تو اتنے طویل ہیں کہ قاری اکتا جائے اور نہ اتنے مختصر کہ مفہوم ادھورا رہے۔
ب. سادہ اور متین زبان: اس کا اسلوب سادہ، عام فہم اور انتہائی متین ہے۔ زبان میں وقار اور سنجیدگی ہے جو کلامِ الٰہی کے ترجمے کا حق ادا کرتی ہے۔
ج. وضاحتِ مفہوم: یہ ترجمہ مفہوم کو واضح کرنے پر مرکوز ہے۔ جہاں آیت کا مفہوم واضح ہوتا ہے، وہاں ترجمہ کیا گیا ہے اور جہاں کسی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں قوسین () میں یا حاشیے میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔
د. کثیر الاشاعت: یہ بلاشبہ مولانا فرمان علی کے ترجمے کے ساتھ، کثیر الاشاعت ترین شیعہ تراجم میں سے ایک ہے۔
۲. حافظ مولانا سید فرمان علی
"ترجمۂ قرآن (بامحاورہ)”
یہ بلاشبہ برصغیر پاک و ہند میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا، مقبولِ عام اور کثیر الاشاعت شیعہ ترجمہ ہے۔
خصوصیات:
الف. سلاست و روانی: اس ترجمے کی مقبولیت کا سب سے بڑا راز اس کی زبان کی سادگی اور روانی ہے۔ یہ قاری کو اٹکنے نہیں دیتا اور مفہوم کو ایک دریا کی طرح رواں دواں انداز میں پیش کرتا ہے۔
ب. بامحاورہ اسلوب: یہ ایک لفظی یا "تحت اللفظ” ترجمۂ قرآن نہیں ہے، بلکہ اس میں عربی محاورات کا اردو کے قالب میں بہترین ترجمہ کیا گیا ہے، جس سے مفہوم مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے۔
ج. اختصار: یہ ترجمہ تفسیری مباحث سے پاک ہے اور صرف متنِ قرآن کے مفہوم پر اکتفا کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ روزانہ کی تلاوت کے لیے بہترین ہے۔
۳. سید زیرک حسین زیدی
"ترجمہ و حواشی”
یہ ایک کلاسیکی اور معتبر ترجمہ ہے جو اپنے دور میں کافی مقبول رہا۔
خصوصیات:
الف. سادہ زبان: اس ترجمے میں بھی سادگی اور عام فہم انداز کو اپنایا گیا ہے۔
ب. مختصر حواشی: ترجمے کے ساتھ مختصر حواشی بھی شامل ہیں جو مشکل مقامات یا آیات کی شانِ نزول کو مختصراً بیان کر دیتے ہیں۔
ج. وضاحتِ مفہوم: اس کا بنیادی ہدف قاری پر آیت کا مدعا واضح کرنا ہے، جس میں یہ ترجمہ بہت کامیاب ہے۔
۴. سید ظفر حسن امروہوی
"ترجمۂ قرآن (تحت اللفظ)”
اپنے منفرد اسلوب کی وجہ سے یہ ترجمہ علمی حلقوں میں خاص طور پر پہچانا جاتا ہے۔
خصوصیات:
الف. تحت اللفظی اسلوب: یہ ترجمہ حافظ فرمان علی کے ترجمے کے برعکس، "تحت اللفظ” یعنی لفظ بہ لفظ ترجمے کی بہترین مثال ہے۔ اس میں عربی متن کے ہر لفظ کا مفہوم اردو میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ب. قوسین کا استعمال: اردو اور عربی زبان کی ساخت کے فرق کو واضح کرنے کے لیے، جو الفاظ اردو محاورے کے لیے اضافی طور پر درکار ہوتے ہیں، انہیں عموماً قوسین () میں لکھا جاتا ہے۔
ج. تعلیمی افادیت: یہ ترجمۂ قرآن ان طلباء کے لیے بہت مفید ہے جو قرآن کی عربی گرامر اور الفاظ کے براہِ راست معنی سمجھنا چاہتے ہیں۔
۵. سید امداد حسین کاظمی
"القرآن الحکیم (ترجمہ و تفسیر)”
یہ ایک مفصل، علمی اور تحقیقی ترجمۂ قرآن ہے جسے ایک مکمل تفسیر کا درجہ حاصل ہے۔
خصوصیات:
الف. جامعیت: یہ صرف ترجمہ نہیں بلکہ ایک مکمل تفسیر ہے جس میں ترجمے کے ساتھ آیات کی تفصیلی تشریح کی گئی ہے۔
ب. ادبی و عرفانی پہلو: اس کام میں محض لغوی معنی پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ آیات کے ادبی، کلامی اور بعض مقامات پر عرفانی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
۶. علامہ حسین بخش جاڑا
"تفسیر انوار النجف فی اسرار المصحف”
اردو زبان میں موجود سب سے ضخیم، مفصل اور تحقیقی شیعہ تفاسیر میں سے ایک۔ یہ ۱۵ جلدوں پر محیط ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔
خصوصیات:
الف. ضخامت و تحقیق: اس تفسیر میں موجود ترجمۂ قرآن، دراصل ایک عظیم تحقیقی سمندر کا حصہ ہے۔ علامہ جاڑا نے ہر آیت پر کلامی, فقہی، تاریخی اور روائی مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
ب. روائی مباحث: یہ تفسیر اہلِ بیت (ع) سے منقول روایات کا ایک خزانہ ہے اور قرآنی آیات کو احادیث کی روشنی میں سمجھنے کے لیے ایک بنیادی ماخذ ہے۔
ج. علمی زبان: اس کا اسلوب عام فہم نہیں بلکہ خالص علمی اور تحقیقی ہے، جو علماء اور محققین کے لیے ہے۔
۷. سید علی نقی نقوی (علامہ نقن)
"ترجمۂ قرآن”
علمی مقام: علامہ نقن، جو اپنے دور کے "خاتم المجتہدین” کہلائے، ان کا ترجمۂ قرآن اردو ادب کا ایک شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔
خصوصیات:
الف. فصاحت و بلاغت: اس ترجمے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی زبان ہے۔ یہ اردو زبان کی فصاعت و بلاغت کا اعلیٰ نمونہ ہے اور قرآن کی ادبی عظمت کو اردو میں منتقل کرنے کی بہترین کوشش ہے۔
ب. عقلی استدلال: ترجمے کے ساتھ موجود مختصر حواشی، علامہ نقن کی علمی بصیرت کا ثبوت ہیں، جن میں عقلی دلائل اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے۔
ج. ادبی شان: یہ ترجمہ ان قارئین کے لیے ہے جو قرآن کے مفہوم کے ساتھ ساتھ زبان کے ادبی حسن سے بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔
۸. سید محمد محسن
"ترجمۂ قرآن”
ایک متوازن اور معتبر ترجمہ جسے علمی حلقوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
خصوصیات:
الف. متوسط اسلوب: یہ ترجمہ نہ تو مکمل طور پر لفظی ہے اور نہ ہی بہت زیادہ آزاد، بلکہ یہ مفہوم کی ادائیگی میں ایک متوازن راستہ اختیار کرتا ہے۔
ب. وضاحت: اس کا اسلوب واضح ہے اور قاری کو آیت کا بنیادی پیغام سمجھانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
۹. مولانا محمد حسن رضوی
"تفسیر حسنین”
یہ بھی ایک جامع اور مفصل تفسیر ہے جس کے ساتھ ترجمہ شامل ہے۔
خصوصیات:
الف. جامع تفسیر: اس کام میں ترجمے کے ساتھ ساتھ آیات کی شانِ نزول، ان سے متعلق روایات اور فقہی احکام کو بیان کیا گیا ہے۔
ب. روایات پر مبنی: اس تفسیر کی بنیاد بھی بڑی حد تک اہلِ بیت (ع) سے مروی احادیث پر رکھی گئی ہے۔
۱۰. سید صفدر حسین نجفی
"تفسیر نمونہ (ترجمہ)”
علامہ صفدر حسین نجفی کا سب سے عظیم کارنامہ فارسی تفسیر کو اردو قالب میں ڈھالنا ہے۔ انہوں نے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی شہرہ آفاق فارسی تفسیر "تفسیر نمونہ” کا اردو ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ آج کے دور کی جدید، سلیس اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ زبان کی بہترین مثال ہے۔ یہ تفسیر اپنے سماجی اور موضوعاتی مباحث کی وجہ سے ممتاز ہے۔
۱۱. سید ذیشان حیدر جوادی
"انوار القرآن: ترجمہ و تفسیر”
بیسویں صدی کے اواخر میں لکھی گئی ایک انتہائی اہم، عصری اور علمی تفسیر و ترجمہ۔
خصوصیات:
الف. جدید اور عصری اسلوب: یہ ترجمہ جدید اردو زبان میں ہے اور خاص طور پر نئی نسل اور تعلیم یافتہ طبقے کو مدنظر رکھ کر لکھا گیا ہے۔
ب. علمی حواشی: اس کے حواشی بہت جامع ہیں جن میں عقلی دلائل، سائنسی اشارات اور مخالفین کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیے گئے ہیں۔
ج. جامعیت: یہ ترجمۂ قرآن و تفسیر، قدیم اور جدید تفسیری نکات کا ایک حسین امتزاج ہے۔
۱۲. شیخ محسن علی نجفی
"الکوثر فی تفسیر القرآن”
اردو زبان میں دورِ حاضر کی سب سے مفصل، تحقیقی، علمی اور درسی تفاسیر میں سے ایک۔ یہ ۱۰ جلدوں پر محیط ایک عظیم علمی منصوبہ ہے۔
خصوصیات:
الف. تحقیقی و درسی اسلوب: یہ تفسیر اور اس کا ترجمہ بنیادی طور پر حوزاتِ علمیہ (دینی مدارس) اور محققین کے لیے لکھا گیا ہے۔ اس کا انداز خالصتاً تحقیقی اور درسی ہے۔
ب. تقابلی جائزہ: اس تفسیر میں اکثر دیگر مفسرین (سنی و شیعہ) کے نظریات کو پیش کر کے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور پھر ایک مدلل نتیجہ پیش کیا جاتا ہے۔
ج. دقیق ترجمہ: اس کا ترجمۂ قرآن انتہائی علمی اور دقیق ہے، جو متن کی گہرائیوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
نتیجہ
یہ جائزہ واضح کرتا ہے کہ ان ترجمۂ قرآن میں لفظی سادگی سے لے کر ادبی شاہکار تک، اور مختصر حواشی سے لے کر ضخیم تحقیقی تفاسیر تک، ایک قابلِ قدر تنوع پایا جاتا ہے۔ ترجمۂ قرآن کی اس فہرست میں مولانا مقبول احمد دہلوی کا کلاسیکی اور متین ترجمہ ہے تو حافظ فرمان علی کا سلیس اور عوامی ترجمہ بھی۔ علامہ علی نقی نقوی کا فصیح و بلیغ ادبی شاہکار ہے تو سید ظفر حسن امروہوی کا محتاط لفظی ترجمہ بھی۔
اسی طرح علامہ حسین بخش جاڑا اور شیخ محسن علی نجفی کی ضخیم اور تحقیقی تفاسیر سے لے کر علامہ ذیشان حیدر جوادی اور علامہ صفدر حسین نجفی (بطور مترجمِ تفسیر نمونہ) کے جدید اور عصری اسلوب تک، ہر ترجمۂ قرآن اپنی جگہ ایک خاص ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ یہ تمام کاوشیں، اپنے تنوع کے باوجود، ایک ہی مقصد کے گرد گھومتی ہیں: کلامِ الٰہی کے نور کو عام کرنا اور اردو بولنے والے طبقے کو تعلیماتِ محمد و آلِ محمد (ع) کی روشنی میں قرآن فہمی کا موقع فراہم کرنا۔