جنگ خندق میں جب مشرکین عرب کا دس ہزار کا لشکر اسلام کو مٹانے آیا اور عرب کا نامور پہلوان عمرو بن عبدود مسلمانوں کو للکار رہا تھا، تو خوف سے سب مسلمانوں کی زبانیں گنگ تھیں اور کوئی بھی اس کے مقابلے کے لئے میدان میں آنے کی جرات نہ کرتا تھا۔ ایسے نازک لمحے میں صرف حضرت علی (ع) نے سینہ سپر ہونے کی اجازت چاہی۔ آپ (ع) کا میدان میں آنا ایمان کل کا شرک کل کے مقابلے تھا۔ حضرت علی (ع) کی وہ ایک ضربت جس نے کفر کے ستون کو گرا دیا، تمام عبادتوں پر فضیلت لے گئی۔ آپ (ع) کی اس بے مثال قربانی نے اسلام کی بنیادوں کو استحکام بخشا۔
جنگ خندق میں مشرکین اور مسلمانوں کا آمنا سامنا
عرب کے بت پرستوں کی فوج چیونٹی اور ٹڈی کی طرح ایک گہرے خندق کے کنارے آکر رک گئی جسے مسلمانوں نے چھ دن میں کھودی تھی۔ ان لوگوں نے سوچا پچھلی مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی احد کے جنگل میں مسلمانوں سے مقابلہ کریں گے لیکن اس مرتبہ وہاں کوئی موجود نہ تھا۔
بہرحال وہ لوگ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ شہر مدینہ کے دروازے تک پہونچ گئے۔ مدینے کے نزدیک ایک گہری اور خطرناک خندق دیکھ کر وہ لوگ حیران و پریشان ہوگئے، دشمن کی فوج کے سپاہیوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی جب کہ اسلام کے مجاہدوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔[1]
تقریباً ایک مہینے تک مدینہ کا محاصرہ کئے رہے اور قریش کے سپاہی ہر لمحہ اس فکر میں تھے کہ کسی طرح سے خندق کو پار کر جائیں۔ دشمن کے سپاہی خندق کے سپاہیوں سے مقابلے کے لئے جنہوں نے تھوڑے سے فاصلے پر اپنے دفاع کے لئے مورچہ بنایا تھا روبرو ہوئے اور دونوں طرف سے تیر چلنے کا سلسلہ شب و روز جاری رہا اور کسی نے بھی ایک دوسرے پر کامیابی حاصل نہ کی۔
دشمن کی فوج کا اس حالت پر باقی رہنا بہت دشوار اور مشکل تھا، چونکہ ٹھنڈی ہوا اور غذا کی کمی انہیں موت کی دعوت دے رہی تھی اور عنقریب تھا کہ جنگ کا خیال ان کے دماغوں سے نکل جائے اور سستی اور تھکن ان کی روح میں رخنہ پیدا کردے۔ اس وجہ سے فوج کے بزرگوں کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا مگر یہ کہ کسی بھی صورت سے ان کے بہادر و دلیر سپاہی خندق کو پار کر جائیں۔ فوج قریش کے چھ پہلوان و بہادر اپنے گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے خندق کے پاس گئے اور دھاوا بول دیا اور بہت ہی احتیاط سے خندق پار کرکے میدان میں داخل ہوگئے۔
ان چھ پہلوانوں میں عرب کا نامی گرامی پہلوان عمرو بن عبدود بھی تھا جو شبہ جزیرہ کا قوی اور بہادر جنگجو مشہور تھا، لوگ اسے ایک ہزار بہادروں پر بھاری سمجھتے تھے اور وہ اندر سے لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھا اور مسلمانوں کی صفوں کے سامنے شیر کی طرح غرایا اور تیز تیز چلا کر کہا کہ بہشت کا دعوی کرنے والے کہاں ہیں؟ کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جو مجھے جہنم واصل کردے یا میں اس کو جنت میں بھیج دوں؟
اس کے کلمات موت کی آواز تھے اور اس کے مسلسل نعروں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس طرح ڈر بیٹھ گیا تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب کے کان بند ہوگئے ہوں اور زبانیں گنگ ہو گئی ہوں۔ واقدی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: ’’كأَن على رؤوسهم الطَّيْرَ‘‘ گویاان کے سروں پر پرندے بیٹھے تھے۔[2]
ایک مرتبہ پھر عرب کے بوڑھے پہلوان نے اپنے گھوڑے کی لگام کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں کی صفوں کے درمیان پہونچ گیا اور ٹہلنے لگا اور پھر اپنا مقابل مانگنے لگا۔
جتنی مرتبہ بھی اس عرب کے نامی پہلوان کی آواز جنگ کے لئے بلند ہوتی تھی فقط ایک ہی جوان اٹھتا تھا اور پیغمبر ﷺ سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت مانگتا،۔ مگر ہر بار پیغمبر ﷺ اسے منع کردیتے تھے اور وہ جوان حضرت علی (ع) تھے۔ پیغمبر ﷺ ان کی درخواست پر فرماتے تم بیٹھ جاؤ یہ عمرو ہے۔
عمرو نے تیسری مرتبہ پھر آواز دی اور کہا میری آواز چیختے چیختے بیٹھ گئی، کیا تمہارے درمیان کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو میدان جنگ میں قدم رکھے؟ اس مرتبہ بھی حضرت علی (ع) نے پیغمبر ﷺ سے بہت اصرار کیا کہ جنگ میں جانے کی اجازت دے دیں۔
امام علی (ع) اور عمرو بن عبدود کی جنگ
پیغمبر ﷺ نے فرمایا: یہ لڑنے والا عمرو ہے، حضرت علی (ع) خاموش ہوگئے بالآخر پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) کی درخواست کو قبول کرلیا۔ پھر اپنی تلوار انہیں عطا کی اور اپنا عمامہ ان کے سر پر باندھا اور ان کے حق میں دعا کی[3] اور کہا: خداوندا! علی (ع) کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھ، پروردگارا:
جنگ بدر میں عبیدہ اور جنگ احد میں شیر خدا حمزہ (ع) کو تو نے مجھ سے لے لیا، خدایا! علی (ع) کو مشکلات سے دور رکھ۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: ’’رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ‘‘[4] پھر اس تاریخی جملے کو بیان فرمایا: ’’برز الإيمان كلّه إلى الشّرك كلّه‘‘ یعنی ایمان و شرک کے دو مظہر ایک دوسرے کے روبرو ہوئے ہیں۔[5]
حضرت علی (ع) مکمل ایمان کے مظہر اور عمرو شرک و کفر کا کامل مظہر تھا۔ شاید پیغمبر ﷺ کے اس جملے سے مقصد یہ ہو کہ ایمان اور شرک کا فاصلہ کم ہو گیا ہے اور اس جنگ میں ایمان کی شکست شرک کی موقعیت کو پوری دنیا میں اجاگر کردے گی۔ امام (ع) تاخیر کے جبران کے لئے بہت تیزی سے میدان کی طرف روانہ ہوئے اور عمرو کے پڑھے ہوئے رجز کے وزن اور قافیہ پر رجز پڑھنا شروع کیا جس کا مفہوم یہ تھا: جلدی نہ کر اے بہادر میں تجھے جواب دینے کے لئے آیا ہوں۔
حضرت علی (ع) لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں مغفر (لوہے کی ٹوپی) کے درمیان چمک رہی تھیں، عمرو حضرت علی (ع) کو پہچاننے کے بعد ان سے مقابلہ کرنے سے کترانے لگا اور کہا تمہارے باپ ہمارے دوستوں میں سے تھے اور میں نہیں چاہتا کہ ان کے بیٹے کے خون کو بہاؤں۔
ابن ابی الحدید کہتے ہیں: جب میرے استاد ابوالخیر نے تاریخ کے اس حصے کا درس دیا تو اس طرح بیان کیا: عمرو نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور بہت ہی قریب سے حضرت علی (ع) کی شجاعت و بہادری کو دیکھا تھا اسی وجہ اس نے بہانہ بنایا اور بہت خوفزدہ تھا کہ کس طرح سے ایسے بہادر سے مقابلہ کرے۔
حضرت علی (ع) نے اس سے کہا: تو میری فکر نہ کر۔ میں چاہے قتل ہو جاؤں چاہے فتح حاصل کرلوں، خوش نصیب رہوں گا اور میری جگہ جنت میں ہے لیکن ہر حالت میں جہنم تیرا انتظار کر رہی ہے اس وقت عمرو نے ہنس کر کہا: اے میرے بھتیجے یہ تقسیم عادلانہ نہیں ہے جنت اور جہنم دونوں تمہارا مال ہے۔[6]
اس وقت حضرت علی (ع) نے اسے وہ نذر یاد دلائی جو اس نے خدا سے کی تھی کہ اگر قریش کا کوئی شخص اس سے دو چیزوں کا تقاضا کرے تو وہ ایک چیز کو قبول کرلے گا۔ عمرو نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے حضرت علی (ع) نے کہا: میری پہلی درخواست یہ ہے کہ اسلام قبول کرلے۔ عرب کے نامی پہلوان نے کہا: یہ درخواست مجھ سے نہ کرو مجھے تمہارے دین کی ضرورت نہیں ہے۔
پھر علی (ع) نے کہا: جا اور جنگ کرنے کا خیال اپنے دل سے نکال دے اور اپنے گھر کی طرف چلاجا اور پیغمبر ﷺ کے قتل کو دوسروں کے حوالہ کردے کیونکہ اگروہ کامیاب ہوگیا تو قریش کے لئے باعث افتخار ہو گا اور اگر قتل ہوگیا تو تیری آرزو بغیر جنگ کے پوری ہوجائے گی۔
عمرو نے جواب میں کہا: قریش کی عورتیں اس طرح گفتگو نہیں کرتیں، کس طرح واپس جاؤں، جب کہ محمد ﷺ میرے قبضے میں ہیں اور اب وہ وقت پہونچ چکا ہے کہ جو میں نے نذر کی تھی اس پر عمل کروں؟ کیونکہ میں نے جنگ بدر کے بعد نذر کی تھی کہ اپنے سر پر تیل اس وقت تک نہیں رکھوں گا جب تک محمد ﷺ سے اپنے بزرگوں کا انتقام نہ لے لوں گا۔ حضرت علی (ع) نے اس سے کہا: اب تو جنگ کے لئے آمادہ ہوجا! تاکہ پڑی ہوئی گتھی کو شمشیر کے ذریعے سلجھائیں۔
اس وقت بوڑھا پہلوان سخت غصے کی وجہ سے جلتے ہوئے لوہے کی طرح سرخ ہوگیا اور جب حضرت علی (ع) کو پیادہ دیکھا تو خود گھوڑے سے اتر آیا گھوڑے کو ایک ہی وار میں قتل کر دیا اور ان کی طرف بڑھا اور اپنی تلوار سے حضرت علی (ع) پر حملہ کردیا اور پوری قوت سے حضرت (ع) کے سر پر مارا، حضرت علی (ع) نے اس کی ضربت کو اپنی سپر کے ذریعے روکا لیکن سپر دو ٹکڑے ہوگئی اور ٹوٹ گئی اور آپ کا سر زخمی ہوگیا اسی لمحے امام (ع) نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ایک کاری ضرب لگائی اور اسے زمین پر گرادیا۔
تلوار کے چلنے کی آواز اور میدان میں گردو غبار کی وجہ سے دونوں طرف کے سپاہی اس منظر کو نزدیک سے نہیں دیکھ پا رہے تھے، لیکن اچانک جب حضرت علی (ع) کی تکبیر کی آواز بلند ہوئی تو مسلمان خوش ہوکر چیخنے لگے اور ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت علی (ع) نے عرب کے پہلوان پر غلبہ پالیا ہے اور مسلمانوں کو اس کے شر سے محفوظ کردیا ہے۔
اس نامی و مشہور پہلوان کے قتل ہونے کی وجہ سے، پانچ اور نامی پہلوان، عکرمہ، ہبیرہ، نوفل، ضرار اور مرداس، جنہوں نے عمرو کے ساتھ خندق پار کیا تھا اور حضرت علی (ع) اور عمرو کی جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے، وہاں سے بھاگ گئے۔
ان میں سے چار پہلوان خندق سے پار ہوگئے تاکہ قریش کو عمرو کے مرنے کی خبر سنائیں، مگر نوفل بھاگتے وقت اپنے گھوڑے سے خندق میں گرگیا اور حضرت علی (ع) جو ان سب کا پیچھا کر رہے تھے خندق میں گئے اور اس کو ایک ہی حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔[7] اس نامی پہلوان کی موت کی وجہ سے شعلۂ جنگ ہوگیا اور عرب کے ہر قبیلے والے اپنے اپنے قبیلے کی طرف واپس جانے لگے۔
زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ دس ہزار کا لشکر ٹھنڈک اور بھوک کی وجہ سے اپنے گھروں کی طرف چلا گیا اور اسلام کی اساس و بنیاد جسے عرب کے نامی اور قوی دشمن نے دھمکی دی تھی حضرت کی جانثاری کی وجہ سے محفوظ ہوگئی۔
امام علی (ع) کی جانثاری کی اہمیت
جو لوگ اس جنگ کے جزئیات اور مسلمانوں کی ابتر حالت اور قریش کے نامی پہلوان کی دھمکیوں کے خوف و ہراس سے مکمل باخبر نہیں ہیں وہ اس جانثاری اور قربانی کی واقعی حقیقت کو کبھی بھی سمجھ نہیں سکتے۔ لیکن ایک محقق جس نے تاریخ اسلام کے اس باب کا دقیق مطالعہ کیا ہے اور بہترین روش اور طریقے سے اس کا تجزیہ و تحلیل کیا ہے پر اس واقعے کی اہمیت پوشیدہ نہیں ہے۔
اس حقیقت کا جاننا بھی ضروری ہے کہ اگر حضرت علی (ع) میدان جنگ میں دشمن سے مقابلے کے لئے نہ جاتے تو پھر کسی بھی مسلمان میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ عمرو کے مقابلے میں جاتا، اور ایک فوج کے لئے سب سے بڑی ذلت و رسوائی کی بات یہ ہے کہ دشمن مقابلے کے لئے بلائے اور کوئی نہ جائے اور سپاہیوں پر خوف چھا جائے۔ حتی اگر دشمن جنگ کرنے سے باز آ جاتا اور محاصرے کو ختم کر کے اپنے گھر واپس چلا جاتا۔ تب بھی اس ذلت کا داغ تاریخ اسلام کی پیشانی پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رہتا۔
اگر حضرت علی (ع) اس جنگ میں شرکت نہ کرتے یا شہید ہو جاتے تو قریب تھا کہ کوہ ’’سلع‘‘ میں پیغمبر ﷺ کے پاس رہنے والے سپاہی جو عمرو کی للکار سے بید کے درختوں کی طرح لرز رہے تھے، میدان چھوڑ کر چلے جاتے اور کوہ سلع سے اوپر جاتے اور پھر وہاں سے بھاگ جاتے، جیسا کہ جنگ احد اور حنین میں ہوا اور تاریخ کے صفحات پر آج بھی درج ہے کہ سب کے سب فرار ہوگئے علاوہ چند افراد کے، جنھوں نے پیغمبر ﷺ کی جان بچائی اور سب کے سب جان بچا کر بھاگ گئے اور پیغمبر ﷺ کو میدان میں تنہا چھوڑ دیا۔
اگر امام (ع) اس مقابلے میں (معاذ اللہ) ہار جاتے تو نہ صرف یہ کہ جتنے بھی سپاہی کوہ ’’سلع‘‘ کے دامن میں اسلام کے زیر پرچم اور پیغمبر ﷺ کے پاس کھڑے تھے بھاگ جاتے بلکہ وہ تمام سپاہی جو پوری خندق کے کنارے حفاظت اور مورچہ سنبھالنے کے لئے کھڑے تھے وہ مورچے کو چھوڑ دیتے اور ادھر اُدھر بھاگ جاتے۔
اگر حضرت علی (ع) نے قریش کے پہلوانوں کا مقابلہ کر کے ان کو بڑھنے سے روکا نہ ہوتا یا اس راہ میں قتل ہو جاتے تو دشمن بڑی آسانی سے خندق کو پار کر جاتا اور پھر دشمن کی فوج اسلام کی فوج کی طرف بڑھتی اور پورے میدان میں بڑھ بڑھ کر حملہ کرتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آئین توحیدی پر شرک کامیاب ہو جاتا اور اسلام خطرے میں پڑ جاتا، ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ نے، الہام اور وحی الہی سے حضرت علی (ع) کی جانثاری کو اس طرح سراہتے ہیں:
’’ضَرْبَةُ عَلِىٍّ يَوْمَ الْخندَقِ افْضَلُ مِنْ عِبادَةِ الثقلين‘‘[8] اس ضربت کی عظمت و رفعت جو علی (ع) نے خندق میں دشمن پر ماری تھی دونوں جہان کی عبادتوں سے بہتر ہے۔
اس بیان کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر یہ جانثاری واقع نہ ہوتی تو قانونِ شرک پوری دنیا پر چھا جاتا اور پھر کوئی بھی ایسی شمع باقی نہ رہتی جس کے ارد گرد ثقلین طواف کرتا۔ اور اس کی نورانیت کے زیر سایہ خدا کی عبادت و پرستش کرتا۔
ہم یہاں پر بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ امام (ع) نے اپنی بے نظیر اور عظیم فداکاری کی وجہ سے اس دنیاکے مسلمانوں اور توحید کے متوالوں کو رہین منت قرار دیا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد بھی اسلام و ایمان، امام (ع) کی فداکاری و جانثاری کے صدقے میں آج تک باقی ہے۔
جی ہاں، حضرت علی (ع) کی فداکاری و جانثاری کے علاوہ آپ کی سخاوت و فیاضی کا یہ عالم تھا کہ عمرو بن عبدود کو قتل کرنے کے بعداس کی قیمتی زرہ اور لباس کو اس کی لاش کے پاس چھوڑ کر میدان سے واپس آگئے، جب کہ عمرو نے اس کام کی وجہ سے آپ (ع) کی ملامت و سرزنش کی، لیکن امام (ع) نےاس کی ملامت و سرزنش پر کوئی توجہ نہ دی۔
اور جب اس کی بہن اس کی لاش کے سراہنے پہونچی تو اس نے کہا کہ ہرگز میں تم پر گریہ نہ کروں گی کیونکہ تو کسی کریم و شریف کے ہاتھوں قتل ہوا ہے[9] جس نے تیرے قیمتی لباس اور قیمتی اسلحوں تک کو ہاتھ نہیں لگایا ہے۔
خاتمہ
جنگ خندق میں نامور پہلوان عمرو بن عبدود مسلمانوں کو مبارزت کے لیے للکار رہا تھا اور کوئی بھی میدان میں آنے کی جرات نہیں کر پا رہا تھا، صرف امام علی (ع) اس خطرناک مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔ اس غیر معمولی معرکے کو پیغمبر (ص) نے پورے ایمان کا پورے کفر کے مقابلے میں آنا قرار دیا۔ امام علی (ع) نے ایک کاری ضرب سے عمرو کو ہلاک کر کے نہ صرف مسلمانوں کو ایک بڑی ذلت سے بچایا، بلکہ اسلام کی بقا کو یقینی بنایا۔ اسی عظیم جانثاری پر پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ’’ضربة علي يوم خندق افضل من عبادة الثقلين‘‘ علی کی جنگ خندق میں ایک ضربت، تمام جہانوں کی عبادت سے افضل ہے۔
منابع
[1]۔ مقریزی، امتاع الاسماع، منقول از سیرۂ ہشام ج۲، ص۲۳۸۔
[2]۔ واقدی، مغازی، ج۲، ص۴۸۔
[3]۔ دیار بکری، تاریخ الخمیس، ج۱، ص۴۸۶۔
[4]۔ سورہ انبیاء: ۸۹۔
[5]۔ کراجکی، کنز الفوائد، ص۱۳۷۔
[6]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۲، ص۱۴۸۔
[7]۔ دیار بکری، تاریخ الخمیس، ج۱، ص۴۸۷۔
[8]۔ حاکم نیشابوری، مستدرک حاکم، ج۳، ص۳۲؛ مجلسي، بحار الانوار، ج۲۰، ص۲۱۶۔
[9]۔ حاکم نیشابوری، مستدرک حاکم، ج۳، ص۳۲؛ مجلسي، بحار الانوار، ج۲۰، ص۳۳۔
کتابیات
1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن هبة الله، شرح نهج البلاغة، قم، مکتبة آیة الله العظمی المرعشي النجفي، ۱۳۶۳ھ ش۔
3۔ حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله، مستدرك علی الصحیحین، بیروت، دارالتاصیل، ۱۴۳۵ھ ق۔
4۔ دیار بکری، حسین بن محمد، تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس، بیروت، مؤسسة شعبان، بدون تاریخ۔
5۔ کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، قم، دار الذخائر، ۱۴۱۰ھ ق۔
6۔ مجلسي، محمدباقربن، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، بيروت، داراحياء التراث العربي، ۱۴۰۱ھ ق۔
7۔ مقریزی، احمد بن علی، إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال و الأموال و الحفدة و المتاع، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۲۰ھ ق۔
8۔ واقدی، محمد بن عمر، مغازی واقدی، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، بیروت ۱۴۰۹ھ ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، چھٹی فصل، ص ۹۴ تا ۹۹، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔