حجاب سے متعلق قرآنی آیات کا ایک جامع اور مربوط مطالعہ، اہل علم اور فقہ کے محققین کے لیے نہایت وسیع علمی دروازے کھولتا ہے۔ جب آیاتِ حجاب کو ان کے نزول کی ترتیب کے مطابق ایک ساتھ رکھ کر ان پر غور کیا جائے اور ہر آیت کے سیاق و سباق، متعلقہ احادیث اور تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھا جائے تو اس حکم کی حکمت اور گہرائی واضح ہوتی ہے۔
یہ جاننا انتہائی دلچسپ ہے کہ پردے کا حکم ایک ہی بار میں نازل نہیں ہوا، بلکہ اسلامی معاشرے کو ذہنی اور عملی طور پر تیار کرتے ہوئے، بتدریج مختلف مراحل میں اس کے احکامات نازل کیے گئے۔ یہ تدریجی عمل اللہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ کی روشن دلیل ہے۔
آیاتِ حجاب کے نزول کے تدریجی مراحل
اسلام میں حجاب کا نفاذ ایک تدریجی عمل تھا جو مختلف سماجی اور نفسیاتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام پایا۔ یہ عمل پانچ واضح مراحل پر مشتمل ہے، جن کا آغاز نبی اکرم (ص) کے گھرانے سے ہوا اور پھر اس کا دائرہ تمام مؤمن خواتین تک وسیع کر دیا گیا۔
پہلا مرحلہ: ازواجِ نبی (ص) کے لیے پردے کا حکم
پانچویں ہجری سے قبل مسلمان خواتین پر حجاب کی کوئی خاص پابندی واجب نہیں تھی۔ وہ معاشرتی معاملات میں اپنے معمول کے لباس کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، مردوں سے گفتگو کرتیں اور سماجی زندگی میں فعال تھیں۔ پانچویں ہجری کے اواخر میں، نبی اکرم (ص) کے حضرت زینب بنت جحش (رض) سے نکاح کے موقع پر، اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کے لیے پردے کا پہلا اور مخصوص حکم نازل فرمایا۔ اس حکم کے مطابق، مؤمنین کو ہدایت دی گئی کہ جب وہ ازواجِ نبی (ص) سے کوئی چیز طلب کریں تو پردے کے پیچھے سے کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ” "اور جب تم اُن (ازواجِ نبی) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔”
اس حکم کی حکمت بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا: "ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ” "یہ تمہارے اور اُن کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔” [۱]
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حجاب کا ابتدائی مقصد دلوں کی پاکیزگی اور فتنہ کے امکان کو ختم کرنا تھا۔ اس آیت کے نزول سے قبل، اسی سورت میں ازواجِ نبی (ص) کو ان کے بلند مقام کی یاددہانی کراتے ہوئے تقویٰ اختیار کرنے، بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلنے، مردوں سے نرم لہجے میں بات نہ کرنے اور زمانہ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کی نمائش سے منع کیا گیا تھا [۲]، جو اس مخصوص حکمِ حجاب کے لیے ذہنی فضا ہموار کر رہا تھا۔
دوسرا مرحلہ: محرم رشتہ داروں کے لیے استثناء
جب ازواجِ نبی (ص) کے لیے پردے کا یہ مخصوص حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام میں یہ سوالات پیدا ہوئے کہ کیا یہ حکم ان کے قریبی نسبی رشتہ داروں، جیسے والد، بھائی اور بیٹوں پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ کیا وہ بھی اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں سے پردے کے پیچھے سے ہی بات کریں گے؟ اسی طرح یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا مؤمن خواتین بھی مردوں کی طرح ازواجِ نبی (ص) سے پردے کے پیچھے سے ہی گفتگو کریں گی؟ ان سوالات اور شبہات کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت نازل فرمائی جس میں محارم کا استثناء کیا گیا:
"لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ ۗ وَاتَّقِينَ اللَّهَ” "اُن (ازواجِ نبی) پر اپنے باپوں، بیٹوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، اپنی (میل جول کی) عورتوں اور اپنی کنیزوں کے سامنے (آنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور (اے خواتینِ نبی!) اللہ سے ڈرتی رہو۔” [۳]
اس آیت سے واضح ہوا کہ نسبی محارم، دیگر مؤمن خواتین اور کنیزوں کے سامنے ازواجِ نبی (ص) کے لیے حجاب کی وہ سخت پابندی نہیں تھی جو نامحرم مردوں کے لیے تھی۔ آیت میں ’’لَاجُنَاحَ عَلَیھِنَّ‘‘ (اُن عورتوں پر کوئی گناہ نہیں) کے الفاظ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پردے کی بنیادی ذمہ داری عورت پر عائد کی گئی تھی۔ اسی اصول کے تحت نبی اکرم (ص) نے ابن ام مکتوم، جو نابینا تھے، کی موجودگی میں اپنی ازواج کو پردہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر وہ تمہیں نہیں دیکھ سکتا تو تم تو اسے دیکھ رہی ہو۔ [۴] یہ واقعہ ازواجِ مطہرات کے مخصوص مقام اور ان کے لیے حجاب کی اضافی احتیاط پر دلالت کرتا ہے اور اس سے تمام خواتین کے لیے کوئی عمومی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
تیسرا مرحلہ: جلباب (چادر) کا حکم بطورِ اعزاز و تحفظ
ازواجِ نبی (ص) کو حجاب کا حکم عطا کرنے کے بعد، جو اُن کے لیے ایک اعزاز بھی تھا اور ذمہ داری بھی، اللہ تعالیٰ نے اسی امتیاز اور تحفظ کو عام مؤمن خواتین تک وسعت دی۔ اس مرحلے پر تمام مسلمان خواتین کو "جلباب” یعنی بڑی چادر اوڑھنے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ معاشرے میں مہذب اور پاکدامن خواتین کے طور پر پہچانی جائیں اور انہیں کوئی اذیت نہ پہنچائے۔ یہ حکمِ پردہ دراصل عورت کی شناخت کو محفوظ بنانے کے لیے تھا:
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ” "اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے۔” [۵]
جلباب کیا ہے؟ لغت اور تفسیر کی کتب میں "جلباب” کے متعدد معانی بیان ہوئے ہیں، جن میں بڑی چادر، اوڑھنی، اور ہر وہ لباس جو کپڑوں کے اوپر پہنا جائے، شامل ہے۔ [۶] تاہم، سیاق و سباق اور روایات سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد ایک ایسی بڑی چادر ہے جو سر سے لے کر جسم کے زیادہ تر حصے کو ڈھانپ لے۔
اس آیت کا شانِ نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ کے کچھ شریر لوگ رات کے وقت باہر نکلنے والی خواتین کو تنگ کرتے تھے اور جب ان سے بازپرس کی جاتی تو بہانہ بناتے کہ ہم نے انہیں کنیز سمجھا تھا۔ [۷] اس پر اللہ نے آزاد مسلمان عورتوں کو چادر اوڑھ کر اپنی ایک ممتاز شناخت قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کی پاکدامنی اور وقار ظاہر ہو اور کوئی انہیں تنگ کرنے کی ہمت نہ کرے۔ اس حکم کے بعد مدینہ کی انصاری خواتین نے اس پر فوری عمل کیا اور وہ سیاہ چادروں میں ملبوس اس طرح گھروں سے نکلتیں گویا ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوں۔ [۸]
یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ حجاب کا یہ حکم صرف ایک پابندی نہیں بلکہ عورت کے لیے ایک اعزاز اور حق تھا۔ یہ اس کی آزادی اور پاکدامنی کی علامت تھا۔ شاید اسی تصور کے تحت عمر بن خطاب اپنے دورِ خلافت میں کنیزوں کو آزاد خواتین کی مشابہت میں چادر اوڑھنے سے منع کرتے تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ اعزاز صرف آزاد خواتین کا حق ہے۔ [۹] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی اسلامی معاشرے میں حجاب کو عورت کی سماجی حیثیت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
چوتھا مرحلہ: سورۃ النور کے تفصیلی احکامِ حجاب
حجاب کے احکامات کا سب سے تفصیلی اور جامع بیان سورۃ النور میں ملتا ہے۔ یہ سورت، سورہ احزاب کے بعد نازل ہوئی اور اس میں نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی غضِ بصر (نگاہیں نیچی رکھنے) اور پردے کے واضح احکامات دیے گئے۔
پہلے مردوں کو مخاطب کیا گیا تاکہ معاشرتی پاکیزگی کی ذمہ داری صرف عورت پر نہ ڈالی جائے:
"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ” ’’مسلمان مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘ [۱۰]
اس کے بعد خواتین کو مزید تفصیلی ہدایات دی گئیں:
"وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ…” ’’اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔‘‘ [۱۱]
اس آیت کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:
۱۔ زینت کا اخفاء اور استثناء: خواتین کو اپنی زینت (آرائش) ظاہر کرنے سے منع کیا گیا، سوائے ’’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘‘ (جو خود ظاہر ہو جائے) کے۔ اس استثناء کی تفسیر میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ بیرونی لباس ہے جسے چھپانا عملاً ممکن نہیں۔ [۱۲] اس میں عرف اور ضرورت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔
۲۔ اوڑھنی سے سینے کو ڈھانپنا: ’’وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ‘‘ (اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینوں پر ڈال لیں) کا حکم اس لیے دیا گیا کہ زمانہ جاہلیت میں عرب عورتیں اپنی اوڑھنیاں سر کے پیچھے ڈال لیتی تھیں جس سے ان کے گلے اور سینے کا اوپری حصہ کھلا رہتا تھا۔ اسلام نے اس طریقے کی اصلاح کی اور سینے کو بھی ڈھانپنے کا حکم دیا تاکہ پردے کا مقصد پوری طرح حاصل ہو۔
۳۔ محارم کے سامنے زینت کا اظہار: آیت میں ان بارہ قسم کے افراد کی فہرست دی گئی ہے جن کے سامنے عورت اپنی زینت (مثلاً زیورات، سر کے بال، بازو) ظاہر کر سکتی ہے۔ ان میں شوہر، والد، سسر، بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے، مسلمان عورتیں اور بچے وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محارم کے سامنے حجاب کے احکامات میں نرمی ہے۔ البتہ یہ اجازت جسم کے ان حصوں تک محدود ہے جو "موضع زینت” یعنی آرائش کی جگہ شمار ہوتے ہیں، نہ کہ تمام بدن۔
۴۔ پوشیدہ زینت کا اظہار: آیت کے آخر میں فرمایا گیا: ’’وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ‘‘ (اور اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہو جائے)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پردے کا مقصد صرف جسم کو چھپانا نہیں بلکہ ہر ایسے عمل سے بچنا ہے جو نامحرم کی توجہ کا باعث بنے، جیسے پازیب کی چھنکار۔ یہ حجاب کی روح کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتہ ہے۔
پانچواں مرحلہ: ذاتی خلوت اور گھر کے اندر پردے کا اہتمام
حجاب اور پردے کے احکام کی تکمیل اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے گھر کے اندر بھی ذاتی خلوت (Privacy) کے احترام کا حکم نازل فرمایا۔ یہ حکم ظاہر کرتا ہے کہ پردے کا تعلق صرف بیرونی دنیا سے نہیں بلکہ گھر کے اندر محارم کے ساتھ تعلقات میں بھی ایک خاص حد تک حیا اور وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ سورۃ النور ہی میں فرمایا گیا کہ نابالغ بچے اور غلام بھی تین مخصوص اوقات میں والدین کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کریں: فجر کی نماز سے پہلے، دوپہر کے قیلولہ کے وقت جب عموماً آرام کے لیے کپڑے اتارے جاتے ہیں، اور عشاء کی نماز کے بعد۔
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ” ’’اے ایمان والو! تمہارے غلام اور وہ بچے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے، (تمہارے پاس آنے کے لیے) تین اوقات میں اجازت لیا کریں۔‘‘ [۱۳]
اگلی آیت میں حکم دیا گیا کہ جب بچے بالغ ہو جائیں تو انہیں ہر وقت اجازت لے کر داخل ہونا چاہیے۔ [۱۴] یہ حکم اس بات کی دلیل ہے کہ محرم رشتہ داروں، حتیٰ کہ بالغ اولاد کے سامنے بھی ایک خاص حد تک پردے کا اہتمام ضروری ہے۔ اس سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ جسم کے وہ حصے جو عموماً چھپائے جاتے ہیں (جیسے سینہ، پیٹ، رانیں)، انہیں محارم کے سامنے بھی بلا ضرورت ظاہر کرنا اسلامی حیا اور پردے کے منافی ہے۔
نتیجہ
قرآن مجید میں حجاب اور پردے کے احکامات کا مرحلہ وار نزول اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت اور انسانی نفسیات سے گہری واقفیت کی روشن دلیل ہے۔ آیت حجاب کا آغاز مؤمن خواتین کی تعظیم و تکریم سے ہوا، جو معاشرے کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ تھیں۔ اس کے بعد حجاب کو عام مؤمن خواتین کے لیے تحفظ، وقار اور شناخت کی علامت بنایا گیا، اور آخر میں سورۃ النور میں حجاب کی مکمل تفصیلات بیان کی گئیں۔
حجاب کا مقصد عورت کو سماجی زندگی سے کاٹنا یا اسے قید کرنا نہیں، بلکہ مغرب کے برخلاف اسے معاشرے میں ایک باوقار اور محفوظ مقام دینا ہے تاکہ وہ مردوں کی ہوس بھری نگاہوں سے بچ کر اپنی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری طور پر استعمال کر سکے۔ حجاب کا یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے دلوں اور معاشرے کی مجموعی پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور ایک صالح اور مہذب سماج کی بنیاد رکھتا ہے۔
حوالہ جات
[۱] سورہ احزاب، آیت ۵۳۔
[۲] سورہ احزاب، آیات ۳۲-۳۳۔
[۳] سورہ احزاب، آیت ۵۵۔
[۴] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۷۱۔
[۵] سورہ احزاب، آیت ۵۹۔
[۶] قرشی، قاموس قرآن، مادہ جلباب۔
[۷] قمی، تفسیر علی بن ابراہیم قمی، ج۲، ص۱۹۶۔
[۸] سیوطی، الدر المنثور، ج۵، ص۲۲۱۔
[۹] سیوطی، الدر المنثور، ج۵، ص۲۲۱۔
[۱۰] سورہ نور، آیت ۳۰۔
[۱۱] سورہ نور، آیت ۳۱۔
[۱۲] حویزی، تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۸۹۔
[۱۳] سورہ نور، آیت ۵۸۔
[۱۴] سورہ نور، آیت ۵۹۔
فہرست منابع
۱. حویزی، عبدالعلی بن جمعه، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق۔
2. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق۔
3. قرشی، سید علیاکبر، قاموس قرآن، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ ششم، ۱۴۱۲ق۔
4. قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر قمی، ناشر: دار الكتاب، قم، چاپ سوم، ۱۴۰۴ق۔
5. سیوطی، عبدالرحمن بن ابیبکر، الدر المنثور فی تفسیر بالمأثور، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۴ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
عابدینی، احمد؛ آیاتِ حجاب کی سیر و مطالعہ (سیری در آیات حجاب)، فقه بهار ۱۳۷۹ – نمبر ۲۳ (صفحہ ۴۹ سے ۹۲ تک)۔