ہم مقالہ حاضر میں حضرت آدم (ع) کی عبرت انگیز داستان کو قرآن و نہج البلاغہ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اس داستان میں موجود بہت ساری گتھیوں کو سلجھانے کی بھی سعی ہوگی۔ جیسے کیا حضرت آدم (ع) کو اصلی اور ابدی جنت سے نکالا؟ کیا حضرت آدم (ع) کو عاصی اور گناہگار کہنا درست ہے؟ وغیرہ
حضرت آدم (ع) خلافت الہی یا ہبوط
قرآن کی آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (ع) زمین پر رہنے کے لئے خلق کئے گئے تھے۔ سورہ بقرہ میں ہے: إنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً؛[1] ’’میں زمین میں اپنا نمائند و قرار دینے والا ہوں۔“
نیز قرآن کی دوسری آیات سے سمجھ میں آتا ہے کہ زمین سے مراد جنت کے علاوہ کوئی اور جگہ تھی، البتہ اس سے غرض نہیں کہ جنت کے کچھ بھی معنی مراد لئے جائیں۔ کیونکہ سورہ بقرہ میں ہے: قُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ۔[2]
’’ہم نے (آدم و حوم اور شیطان سے) کہا کہ زمین پر اتر جاؤ، اگرچہ تم یہاں ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ زمین کو تمہارے لئے ایک معین مدت تک جائے سکونت قرار دیا۔‘‘
حضرت آدم (ع) کی آزمائش کا بنیادی سبب
بہر حال یہ بات ضروری تھی کہ حضرت آدم (ع) کچھ عرصہ الہی آزمائش میں مبتلا رہے اور اسی کے ذریعے امر و نہی، اطاعت، تکلیف و نافرمانی، پشیمانی، توبہ جیسے مفاہیم سے باخبر ہو جائیں اور عملی میدان میں اپنے دشمن کو اچھی طرح پہچان لیں، اسی وجہ سے خدا نے انھیں جنت میں بھیجا اور بہترین نعمتوں سے استفادہ ان کے لئے مباح قرار دیا۔ بس ایک درخت کے نزدیک جانے سے منع کیا۔
لیکن شیطان کے وسوسے اور اس کے دھو کے و فریب نے آخر کار اثر دکھایا اور حضرت آدم (ع) سے ’’ترکِ اولیٰ‘‘ سرزد ہوا اور ممنوعہ درخت سے کھانے کے نتیجے میں جنتی لباس سے محروم ہوئے اور انھیں جنت سے نکال دیا گیا۔ یہی چیز سبب ہوئی کہ وہ خواب غفلت سے جاگ جائیں اور خدا کی طرف توبہ کے دروازے سے پلٹ جائیں۔
خدا کا لطف ان کے شامل حال ہوا اور توبہ کرنے کا طریقہ انھیں سکھایا، پھر ان کی توبہ قبول ہوئی اور دوبارہ جنت کی طرف پلٹانے کا وعدہ کیا گیا لیکن ان کے اس اقدام کا اثر یہ ہوا کہ انھیں نعمتوں سے بھر پور جنت سے الگ کر کے آزمائشوں، زحمتوں اور مشقتوں سے بھری دنیا میں بھیج دیا گیا۔
یہ وہ خلاصہ ہے، جو نہج البلاغہ میں امام علی (ع) کے کلام (خطبہ نمبر ۱) سے سمجھ میں آتا ہے، پہلے مرحلے میں آپ فرماتے ہیں: ثُمَّ اسْكَنَ سُبْحَانَهُ آدَم َدَارًا أَرْغَدَ [3] فِيهَا عَيْشَهُ وَآمَنَ فِيهَا مَحَلَتَهُ[4] ’’پھر خدائے سبحان نے حضرت آدم (ع) کو ایسے گھر میں رہائش دی، جہاں اُن کی زندگی کی نعمتوں سے بھری ہوئی تھی اور وہ آرام دہ جگہ تھی۔ اور اُس جگہ کو امن و امان کی جگہ قرار دیا۔‘‘
زندگی کے دو بنیادی عناصر یعنی نعمتوں کی فراوانی اور امن و سکون وہاں جمع تھے۔ سورہ بقرہ میں اللہ فرماتا ہے: وَقُلْنَا يَآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُما[5]؛ ’’ہم نے آدم (ع) سے کہا تم اور تمہاری بیوی جنت میں بس جاؤ اور اُس کی پاکیزہ نعمتوں سے جب اور جہاں سے بھی چاہو استفادہ کرو۔‘‘
حضرت آدم (ع) اور ابلیس کا مقابلہ
امام علی (ع) کے بیان میں ہم پڑھتے ہیں: وَحَذَرَهُ إِبْلِيسَ وَعَدَاوَتَهُ ’’اور اسی وقت حضرت آدم (ع) کو ابلیس اور اس کی دشمنی سے آگاہ کردیا تھا۔‘‘
اور اس طرح اللہ نے انھیں راہ سعادت اور چاہ شقاوت دونوں سے آشنا کردیا اور ان پر اپنی حجت تمام کردی تھی۔ اور یہ وہ بات ہے جس کا ذکر سورہ طہ میں آیا ہے: فَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لَكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى۔[6]؛ ’’ہم نے کہا، اے آدم یہ (ابلیس) تمہارا اور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے۔ پس یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے، پھر تم زحمت و مشقت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔“
یہ بھی اتمام حجت تھا کہ دوسرے درختوں سے استفادہ کا راستہ کھلا رکھا لیکن اس راستے کے اس نئے مسافر کو شیطان کے مکر و فریب سے خوب آگاہی نہیں تھی اور بالآخر اس کے دھوکے میں آگیا، جس کی جانب مولا اشارہ فرما رہے ہیں: فَاغْتَرَهُ عَدُوُّهُ نَفَاسَةً[7] عَلَيْهِ بِدَارِ الْمُقَامِ وَمُرَافَقَةِ الْأَبْرَارِ ’’دشمن نے انھیں دھوکا دیا، کیوں کہ ابلیس حضرت آدم (ع) سے ہمیشہ رہنے والی جگہ اور فرشتوں کی ہمنشینی کی وجہ سے حسد کرتا تھا۔‘‘
اصولی طور پر شیطان کا کام یہی ہوتا ہے کہ خود نیک لوگوں کے برابر ہونے کی اور سعادت مندوں کے راستے پر چلنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ کوشش کرتا ہے دوسروں سے بھی خدا کی نعمتیں چھن جائیں اور ان کی زندگی تاریک ہو جائے۔ پھر امام (ع) حضرت آدم (ع) کے دھوکا کھانے کی اصل وجہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں: فَبَاعَ الْيَقِينَ بِشَيْهِ ’’آدم نے اپنے یقین کو شک کے بدلے فروخت کیا۔‘‘
وَالْعَزِيمَةَ بِوَهْنِهِ ’’اور انھوں نے اپنے دو مضبوط ارادوں کو (جو شیطان کے وسوسوں اور قریب کے مقابلے کے لیے استعمال کرسکتے تھے) سستی کے بدلے فروخت کردیا۔‘‘ یہ کلام بھی قرآن کریم کی ایک اور آیت کی طرف اشارہ ہے، جہاں خدا فرماتا ہے: وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ’’ہم نے آدم سے عہد لیا تھا کہ شیطان سے دھوکا نہ کھائیں لیکن اُنھوں نے وعدے کو فراموش کردیا اور ہم نے آدم کے اندر پکا ارادہ نہیں پایا۔‘‘[8]
یہ بات درست ہے کہ شیطان نے آدم (ع) کے سامنے قسم کھائی کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے اور آدم (ع) اور ان کی بیوی کی بہتری چاہتا ہے: وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ۔[9] ’’اور ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔‘‘
حضرت آدم (ع) کی ذمہ داریاں اور شیطان کا گھناؤنا کردار
کیا حضرت آدم (ع) کو اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرنا چاہئے تھا کہ جو یقین کے سرچشمے کا حاصل ہیں یا پھر شیطان کی باتوں پر جو سراسر شک اور وہم پر مشتمل ہیں؟ اس حقیقت کو بھلانا سبب ہوا کہ حضرت آدم (ع) اس نقصان و خسارے کے معاملے کا شکار ہوجائیں اور اللہ کی اطاعت کے سلسلے میں پکے ارادے سے ہٹ کر سستی کا شکار ہوئے۔
یہ بات تمام فرزندان آدم کے لئے درس عبرت ہے کہ ہر حادثے و واقعے میں صرف اور صرف یقینی بات پر اعتماد کریں اور مشکوک اور مبہم راستوں سے گریز کریں۔ اور احتیاط کو ہمیشہ ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ کسی راستے پر ضروری مطالعہ، غور و خوض کے بغیر قدم نہ رکھیں، کیونکہ ہمیشہ شیطان اپنے فساد انگیز ارادوں کو خوبصورتی کے ساتھ زینت دیتا ہے اور اپنے جلا دینے والے جہنم کو سرسبز و شاداب باغ کی شکل میں دکھاتا ہے۔
ہاں ! حضرت آدم (ع) کی پوری داستان میں تمام انسانوں کے لیے قیامت تک کے لیے بہت سی عبرتیں اور سبق آموز نکات موجود ہیں۔ پھر امام (ع) نے اس نقصان دہ معاملے کے نتیجے کی طرف اشارہ کیا، آپ فرماتے ہیں: وَاسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَجَلًا وَبِالْاغْتِرَارِ نَدَمًا۔ ‘‘آدم نے مسرت کے بدلے خوف کو لے لیا اور ابلیس کے کہنے میں آکر ندامت کا سامان فراہم کرلیا۔‘‘
اس کام کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدم (ع) نے اپنی خوشی کو غم اور خوف و گھبراہٹ میں تبدیل کردیا اور شیطان کا دھوکا اُن کے لیے پشیمانی کا باعث ہوا لیکن وہ کون سے واقعات تھے، جن کے سبب آدم (ع) اپنے ترکِ اولیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور افسوس و پشیمانی سے اپنی انگلی چہانے لگے ؟ اس بات کو امام (ع) نے اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے جبکہ قرآن کریم نے اس کی تشریح مختلف سورتوں میں کی ہے۔
جب انہوں نے شیطان کے وسوسوں میں آکر درخت ممنوعہ سے کھایا تھوڑی مدت نہ گزری تھی کہ جنت کا لباس ان کے جسم سے الگ ہوگیا اور جسم کے جو حصے چھپانے چاہئے تھے وہ ظاہر ہوگئے۔ اس وجہ سے یہ لوگ فرشتوں کے سامنے شرمسار ہونے لگے اور اس سے بڑھ کر بات یہ کہ ان کو جنت سے جلدی نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ ہے ان لوگوں کی سزا جو خدا کے حکم کو چھوڑ کر شیطانی وسوسوں کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی شخصیت اور مقام کو پامال کرتے ہیں اور ان کو جنت سے نکالا جاتا ہے۔
یہاں پر حضرت آدم (ع) اپنے ترکِ اولیٰ پر اصرار کرنے کی بجائے جلدی اس کی تلافی کرنے کی فکر کرنے لگے۔ چونکہ حضرت آدم (ع) نے خدا کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا، اسی وجہ سے خدا کی رحمت اور لطف ان کے شامل حال ہوا اور خدا نے اپنی رحمت کے کلمات حضرت آدم (ع) کو سکھائے اور ان سے دوبارہ جنت میں واپس پلٹنے کا وعدہ کیا: ثُمَّ بَسَطَ اللهُ سُبْحَانَهُ لَهُ فِي تُوْبَتِهِ وَلَقَاهُ كَلِمَةً رَحْمَتِهِ وَوَعَدَهُ الْمَرَدَّ إِلَى جَنَّتِهِ ’’پھر پروردگار نے ان کے لئے توبہ کا سامان فراہم کردیا اور اپنے کلمات رحمت کی تلقین کردی اور ان سے جنت میں واپسی کا وعدہ کیا۔‘‘
لیکن حضرت آدم (ع) کی یہ توبہ جنت میں دوبارہ رہنے کی کوئی وجہ نہیں بن سکی، کیونکہ آدم (ع) کو جنت میں باقی رہنے کی کوئی دلیل و ضرورت نہیں تھی، جو کچھ وہاں پر سیکھنا تھا وہ سیکھ لیا اور جو تجربہ وہاں حاصل کرنا تھا وہ حاصل کرچکے تھے۔ اسی وجہ سے خدا نے حضرت آدم (ع) کو امتحان گاہ یعنی دنیا اور نسل بڑھانے کے لئے زمین پر بھیج دیا: وَ أَهْبَطَهُ إِلَى دَارِ البَلِيَّةِ وَتَنَاسُلِ الذَّرِّيَّةِ ’’اور انہیں آزمائش کی دنیا میں اتار دیا، جہاں نسلوں کا سلسلہ قائم ہونے والا تھا۔‘‘
اس کلام سے اچھی طرح یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا امتحان کی اصل جگہ ہے اور جنت میں جو کچھ ہوا وہ سب دنیا میں آنے کے لئے تمہید و مشق تھا اور اسی طرح تناسل و توالد کا دارومدار بھی دنیا کے ساتھ ہے، نہ کہ جنت کے ساتھ۔
حضرت آدم (ع) کی داستان میں کچھ ابہامات پر، مختصر وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی جائے گی.
ا۔ حضرت آدم (ع) کی داستان میں جنت سے مراد
کچھ لوگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت آدم (ع) ہمیشہ رہنے والی جنت (بہشت موعود) میں تھے، جو نیک و پاکیزہ لوگوں کے لئے مخصوص ہے، جبکہ بعض علماء و مفسرین کا ماننا ہے کہ وہ دنیا کے سرسبز و شاداب باغات میں سے ایک جنت تھی۔ دوسری رائے کے حق میں کچھ دلائل پیش کئے گئے ہیں:
پہلا: قیامت کی جنت سے نکلنا ممکن نہیں، جبکہ حضرت آدم (ع) کو جنت سے نکالا گیا۔
دوسرا: ابلیس جیسی ناپاک ہستی کے لئے پاکیزہ جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔
اہل بیت (ع) کی روایات کے مطابق حضرت آدم (ع) کی جنت دنیا کے باغات میں سے ایک تھی، جہاں سورج اور چاند کی روشنی پہنچتی تھی۔ اگر وہ جنتِ خلد ہوتی، تو حضرت آدم (ع) کبھی وہاں سے نہ نکلتے۔[10] امام جعفر صادق (ع) کی روایت میں بھی یہی بیان کیا گیا کہ وہ جنت دنیا کا باغ تھا، نہ کہ ابدی جنت۔[11]
نہج البلاغہ کی ایک تعبیر "دار المقام” (ہمیشہ رہنے والا گھر) کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ اس جنت میں طویل قیام کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے، جس سے ترکِ اولیٰ کے باعث جلد نکال دیا گیا۔ یا یہ کہ شیطان حضرت آدم (ع) کو ابدی جنت سے محروم کرنا چاہتا تھا۔
۲۔ حضرت آدم (ع) کی خطا؛ گناہ کبیرہ یا ترکِ اولیٰ
اہل بیت (ع) کے پیروکار[12] انبیاء (ع) کو ہر قسم کی خطا اور گناہ سے پاک مانتے ہیں، چاہے وہ عقیدہ، تبلیغِ دین، یا روزمرہ زندگی سے متعلق ہو۔ ان کے نزدیک حضرت آدم (ع) سے کوئی گناہ یا خطا سرزد نہیں ہوا، کیونکہ جو درخت سے منع کیا گیا تھا، وہ نہیِ تحریمی نہیں تھی بلکہ ایک مکروہ عمل کی طرح تھا۔ چونکہ انبیاء (ع) کا مقام بہت بلند ہے، اس لئے ان سے ایسے عمل کی بھی توقع نہیں کی جاتی جو عام لوگوں کے لئے مباح ہو، یہی وجہ ہے کہ اسے ترکِ اولیٰ کہا جاتا ہے۔
گناہ کو مطلق اور نسبی دو اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مطلق گناہ وہ ہیں جو ہر حال میں گناہ ہیں، جیسے جھوٹ، چوری، یا شراب نوشی۔ جبکہ نسبی گناہ وہ اعمال ہیں جو عام لوگوں کے لئے جائز ہیں، لیکن خدا کے مقربین کے لئے قابلِ مذمت سمجھے جا سکتے ہیں، جیسے مستحب اعمال کا ترک کرنا۔ حضرت آدم (ع) کا عمل نسبی گناہ تھا، نہ کہ مطلق گناہ۔
کچھ مفسرین کے مطابق، درخت سے منع کرنا ایک ارشادی حکم تھا، نہ کہ مولوی حکم۔ جیسے ڈاکٹر کسی مخصوص کھانے سے منع کرے تا کہ بیماری نہ بڑھے، لیکن اس کی خلاف ورزی ڈاکٹر کی توہین نہیں سمجھی جاتی۔ اسی طرح، حضرت آدم (ع) کے عمل کا نتیجہ مشقت اور جنت سے اخراج کی صورت میں نکلا، جو خدا کے حکم کی نافرمانی کے مترادف نہیں تھا۔
قرآن میں ابلیس کی مکاری اور جھوٹے وعدے کا ذکر کیا گیا ہے۔ شیطان نے حضرت آدم (ع) کو وسوسہ دے کر یقین دلایا کہ وہ ان کا خیرخواہ ہے۔ چونکہ حضرت آدم (ع) نے اس سے پہلے کبھی جھوٹی قسم نہیں سنی تھی، اس لئے وہ دھوکہ کھا گئے۔ تاہم، اگر وہ خدا کے اس انتباہ کو یاد رکھتے کہ شیطان ان کا دشمن ہے، تو وہ اس کی چال میں نہ آتے۔
کچھ روایات کے مطابق، حضرت آدم (ع) نے اس ممنوعہ درخت سے نہیں بلکہ اس جیسے دوسرے درخت سے کھایا تھا، لیکن شیطان نے وسوسہ ڈال کر انہیں قائل کیا کہ خدا نے صرف اس مخصوص درخت سے منع کیا ہے۔
۳۔ ممنوعہ درخت کی حقیقت
قرآن میں اس درخت کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی، لیکن مفسرین اور احادیث میں مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق، یہ گندم،[13] انگور، انجیر، خرما، یا کافور کا درخت تھا، جبکہ معنوی اعتبار سے اسے حسد، علم،[14] یا آل محمد (ع) کے علوم کی علامت سمجھا گیا ہے۔
حضرت امام رضا (ع) کی ایک روایت میں کہا گیا ہے کہ جنت کے درخت، دنیا کے درختوں سے مختلف ہیں اور ایک ہی درخت سے مختلف قسم کے پھل نکل سکتے ہیں۔ جب حضرت آدم (ع) کو جنت میں مقام ملا، تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ محمد و آل محمد (ع) کے بلند مقام تک پہنچ جائیں۔ یہ تمنا بھی ممنوعہ درخت سے منسوب کی گئی ہے۔[15]
موجودہ تورات میں اس درخت کو علم و دانش کا درخت کہا گیا ہے، جو حضرت آدم (ع) اور حوا کو اچھائی اور برائی کی پہچان دے سکتا تھا۔ یہ تصور کہ علم و دانش جنت سے نکالے جانے کا سبب بنا، تورات کی تحریف شدہ روایات کی نشاندہی کرتا ہے۔[16] اسلامی نقطہ نظر سے یہ مفروضہ غلط اور تحریف شدہ تورات کی جعلی روایات سے مأخوذ ہے، کیونکہ اسلام میں علم کو عیب نہیں بلکہ انسان کی فضیلت سمجھا جاتا ہے۔
لہذا نتیجہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اس موضوع پر مفسرین اور روایات میں اختلاف موجود ہے، لیکن قرآن و سنت میں اس درخت کی حقیقت واضح نہیں کی گئی، بلکہ اس واقعے کو انسان کے امتحان اور شیطان کی وسوسہ اندازی کی داستان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
خاتمہ
حضرت آدم (ع) کی داستان، صرف یہ کہانی نہیں بنی نوع بشر کے لئے درس عبرت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت آدم (ع) کی آزمائش کا سبب انسانوں کی نئے مفاہیم سے آشنا کرنا تھا۔ نیز اسی داستان کے ذریعے ابلیس جیسے اہم شیطان کے گھناؤنے چہرے سے بھی پردہ اٹھایا گیا۔
حوالہ جات
[1]۔ سوره بقره، آیت ۳۰۔
[2]۔ سوره بقره، آیت ۳۶۔
[3]۔ أَرْغَدَ، (رَغَد) کا معنی اچھی زندگی اور وسیع زندگی ہے اور نعمت زیادہ ہونا انسانوں کے لئے یا حیوانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (راغب اصفہانی، مفردات؛ ابن فارس، مقائیس اللغة)۔
[4] سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ ۱۔
[5]۔ سوره بقره، آیت ۳۵۔
[6]۔ سوره طہ، آیت ۱۱۷۔
[7]۔ نفاست اصل میں ’’نفس‘‘ سے ہے۔ یہ لفظ روح کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اس وجہ سے کہ تنفس (یعنی سانس لینا) زندگی کا سبب ہے، لہذا یہ لفظ زندگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے، پھر منافسہ کسی اہم مقصد تک پہنچنے کے لئے کوشش کرنے کے معنی میں ہے اور اسی وجہ سے نفاسۃ حسد اور کنجوسی کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ (راغب اصفہانی، مفردات؛ ابن فارس، مقائیس اللغة؛ ابن منظور، لسان العرب)۔
[8]۔ سوره طہ، آیت ۱۱۵۔
[9]۔ سوره اعراف، آیت ۲۱۔
[10]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۱، ص۱۴۳، حدیث ۱۲۔
[11]۔ کلینی، کافی، ج۳، ص۲۴۷، باب ’’جنت الدنیا‘‘، حدیث۲۔
[12]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغه، ج۷، ص۱۰۔
[13]۔ سوره صافات، آیت۱۴۶۔ ’’وَ أَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةٌ مِّنْ يَقْطِين‘‘
[14]۔ حویزی، تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۰؛ سیوطی، الدر المنثور، ج۱، ص۵۲ و ۵۳۔
[15]۔ حویزی، نور الثقلین، ج۱، ص۶۰۔
[16]۔ تورات، سفر تکوین، فصل دوم، نمبر ۱۷۔
منابع و مآخذ
۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ تورات (عہد قدیم)۔
۳۔ ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن هبۃ الله، شرح نہج البلاغة، بغداد عراق، دار الکتاب العربی، ۱۴۲۸ھ ۔ ۲۰۰۷ء۔
۴۔ ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت لبنان، دار صادر، ۱۴۰۴ھ۔
۵۔ ابن فارس، احمد بن زکریا، معجم مقائیس اللغة، قم ایران، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامى حوزه علمیه قم، ۱۴۰۴ھ۔
۶۔ حویزی، عبد علی بن جمعه، تفسیر نور الثقلین، قم ایران، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ھ۔
۷۔ راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بیروت لبنان، دار القلم، ۱۴۱۲ھ۔
۸۔ سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، قم ایران، هجرت، ۱۴۱۴ھ۔
۹۔ سیوطی، عبدالرحمن بن ابی بکر، الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور، قم ایران، کتابخانه آیت الله مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
۱۰۔ کلینى، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران ایران، دارالکتب الإسلامیة، 1407ھ۔
۱۱۔ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، بیروت لبنان، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
مکارم شیرازی، ناصراور دیگر علماء اور دانشور، کلام امیر المؤمنین علی علیہ السلام (نہج البلاغہ کی جدید، جامع شرح اور تفسیر)، ترجمہ سید شہنشاہ حسین نقوی (زیر نگرانی)، لاہور، مصباح القرآن ٹرسٹ، ۲۰۱۶ء، ج۱، ص۱۵۹ تا ص۱۶۸۔