حضرت علی (ع) کی نظر میں دین میں تحریف کرنے والوں کی پہچان

حضرت علی (ع) کی نظر میں دین میں تحریف کرنے والوں کی پہچان

کپی کردن لینک

حضرت علی (ع) اپنے اقوال کے ذریعے ایسے لوگوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں جو دین میں تحریف کر کے لوگوں کی ثقافت اور تہذیب کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں -عالم نما جاہل- قرار دیتے ہوئے ان کی علامتیں اور اثرات کو واضح کرتے ہیں، تاکہ معاشرت میں سچائی اور علم کی حفاظت کی جا سکے۔

عالم نما جاہل کی دین میں تحریف

حضرت علی (ع) ان لوگوں کو جو حقائق دین میں تحریف کرنا اور لوگوں کی دینی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا چاہتے ہیں، عالم نما جاہل کہتے ہیں۔

حضرت علی (ع) ارشاد فرماتے ہیں: ”وَ آخَرُ قَد تُسَمَّی عَالِمًا لَیسَ بِهِ”[1] قرآن کے سچے پیرووں کے مقابل ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو کبھی کبھی معاشرہ کے درمیان عالم و دانشور تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ اسے علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

ایسے لوگ حقیقت سے خالی اور عاریتی عناوین سے سوء استفادہ کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

وہ لوگ جو اپنی باتوں کو دین و قرآن سے ماخوذ قرار دیتے ہیں ان کو حضرت علی (ع) جواب دیتے ہیں: ”فَاقْتَبَسَ جَهَائِلَ مِن جُهَّالٍ”[2] یہ لوگ جو کچھ دین سے اپنے اخذ شدہ مفاہیم اور علمی مطالب کے نام سے بیان کرتے ہیں اور دین کی مختلف قرائتوں کے بہانے سے دین پر اپنے باطل عقائد لادنا چاہتے ہیں، وہ ایسی جہالتیں ہیں جو کہ دوسرے جاہل و نادان انسانوں سے لی گئی ہیں اور وہ انھیں دینی معارف اور علمی مطالب کے نام سے بیان کرتے ہیں۔

حضرت علی (ع) پوری تاریخ میں ایسے شیطان صفت انسانوں کے وجود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”فَاقْتَبَسَ جَهَائِلَ مِن جُهَّالٍ وَ أَضَالِیلَ مِن ضُلَّالٍ”[3] وہ لوگ ایک گمراہ اور جاہل گروہ سے جاہلانہ اور گمراہ کن باتیں لے لیتے ہیں اور ان کو علمی مطالب کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔ ان کی علمی بات یہ ہے کہ ہر چیز میں شک کرنا چاہئے اور بشر کو کسی چیز میں علم و یقین نہیں پیدا کرنا چاہئے، دینی امور میں ہر شخص جو بھی سمجھتا ہے وہی حق ہے، اس لئے کہ اصلاً کوئی حق و باطل وجود نہیں رکھتا، حق و باطل کے لئے ہر شخص کی ذاتی سمجھ کے علاوہ کوئی معیار نہیں پایا جاتا۔

”وَ نَصَبَ لِلنَّاسِ اَشْرَاکاً مِن حَبَائِلَ غُرُورٍ وَ قَولِ زُورٍ”[4] اس گمراہ و نادان گروہ اور عالم نما جاہلوں نے مکر و فریب اور جھوٹی باتوں کے جال بچھا دیئے ہیں اور لوگوں کو اپنے گمراہ کن اقوال و اعمال سے فریب دیتے ہیں۔

”قَد حَمَلَ الْکِتَابَ عَلٰی آرَائِهِ”[5] یہ لوگ قرآن کریم کی تفسیر اپنی رائے سے کرتے ہیں اور اس کی آیات کو اپنے افکار و خیالات پر حمل کرتے ہیں اور حق کو اپنے نفسانی میلانات و خواہشات کے مطابق قرار دیتے ہیں۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: یہ لوگ بحث و گفتگو میں ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ ہم شبہات کے مواقع پر توقف کرتے ہیں اور مشکوک و مشتبہ احکام اور باتیں کہنے سے پرہیز کرتے ہیں، حالانکہ یہ لوگ دین و شریعت کے احکام و موازین سے بے خبر اور شبہات کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ایسے انسان اگر چہ صورت میں انسان ہیں لیکن ان کا قلب و روح جانوروں کا قلب و روح ہے، کیونکہ یہ نہ تو باب ہدایت کو پہچانتے ہیں کہ اس کا اتباع کر کے ہدایت یافتہ ہو جائیں، اور نہ ضلالت و گمراہی کے دروازے کو پہچانتے ہیں کہ اس سے الگ رہیں، یہ افراد در حقیقت زندوں کے درمیان چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔

قرآن کریم حضرت علی (ع) کے بیان سے بھی زیادہ سخت بیان کے ساتھ ان عالم نما جاہلوں کا نام لیتا ہے اور لوگوں کو ان کی فریب کاریوں سے ڈارتے ہوئے فرماتا ہے:

"وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ”[6]

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انس و جن کے شیاطین کو ان کا دشمن قرار دیا ہے یہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دھوکہ دینے کے لئے مہمل باتوں کے اشارے کرتے ہیں اور اگر خدا چاہ لیتا تو یہ ایسا نہ کرسکتے ، لہذا اب آپ انھیں ان کے افترا کے حال پر چھوڑ دیں۔

قرآن کے ساتھ مسلمان نما دنیا پرستوں کا برتاؤ

جو لوگ خدا پر ایمان اور اس کے لوازم کے اعتبار سے ذرا سا بھی قوی نہیں ہیں اور شائستہ و بائستہ طور سے ایمان ان کے قلب و روح میں رسوخ نہیں کئے ہے، وہ لوگ نفسانی خواہشات اور خدا کی خواہش نیز دینی اقدار کے درمیان تعارض کے موقع پر خوش روئی کا اظہار نہیں کرتے اور روحی اعتبار سے چاہتے ہیں کہ دینی احکام و اقدار کی اپنی نفسانی خواہشات کی جہت میں من مانی طور پر تفسیر و توجیہ کریں۔

اور اگر دین و قرآن کی تفسیر ان کی نفسانی خواہشات سے میل کھاتی ہے تو اس گروہ کو بہت اچھا لگتا ہے، کیونکہ ایک طرف اپنی نفسانی خواہشات کو بھی حاصل کرلیتے ہیں اور دوسری طرف بظاہر اسلام کے دائرہ سے خارج بھی نہیں ہوتے اور اسلامی معاشرہ میں مسلمان ہونے کی خصوصیات اور مراعات سے بھی بہرہ مند ہوتے ہیں۔

بہت افسوس ہے کہ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ دینی متون و کتب کی مختلف قرائتوں کے بہانے سے اس بات کے درپے ہیں کہ اپنے نفسانی میلانات و خواہشات پر دینی رنگ چڑھائیں اور اپنے دنیوی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے دین میں تحریف کر کے دین خدا اور قرآن کریم کے ساتھ کھلواڑ کریں۔

حضرت علی (ع) مذکورہ حالت کی پیشین گوئی کے ساتھ اپنے زمانہ اور آخری زمانہ میں قرآن کی غربت و مہجوریت کے متعلق شکوہ کرتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

 میں خداوند متعال کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں ایسے گروہ کی جو زندہ رہتے ہیں تو جہالت کے ساتھ اور مرجاتے ہیں تو ضلالت کے ساتھ، ان کے نزدیک کوئی متاع، کتابِ خدا سے زیادہ بے قیمت نہیں ہے جبکہ اس کی واقعی تلاوت کی جائے اور اس کی برحق تفسیر کی جائے، اور کوئی متاع اس کتاب سے زیادہ قیمتی اور فائدہ مند نہیں ہے جبکہ اس کے مفاہیم میں تحریف کردی جائے اور اسے اس کے مواضع سے ہٹا دیا جائے۔[7]

اسی طرح حضرت علی (ع) آخری زمانہ کے لوگوں کے درمیان قرآن اور معارف دین کی حیثیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:

یقینا میرے بعد تمھارے سامنے وہ زمانہ آنے والا ہے جس میں کوئی شے حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ نمایاں نہ ہوگی، سب سے زیادہ رواج خدا اور رسول  پر افتراء کا ہوگا اور اس زمانے والوں کے نزدیک کتاب خدا سے زیادہ بے قیمت کوئی متاع نہ ہوگی اگر اس کی واقعی تلاوت کی جائے اور اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند بضاعت نہ ہوگی اگر اس کے مفاہیم کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا جائے، شہروں میں منکَر سے زیادہ معروف اور معروف سے زیادہ منکَر کچھ نہ ہوگا۔

حاملان کتاب، کتاب کو چھوڑ دیں گے اور حافظان قرآن، قرآن کو بھلا دیں گے، کتاب اور اس کے واقعی اہل، شہر بدر کر دیئے جائیں گے اور دونوں ایک ہی راستہ پر اس طرح چلیں گے کہ کوئی پناہ دینے والا نہ ہوگا، کتاب اور اہل کتاب اس دور میں لوگوں کے درمیان رہیں گے لیکن واقعاً نہ رہیں گے، انھیں کے ساتھ رہیں گے لیکن حقیقتاً الگ رہیں گے، اس لئے کہ گمراہی، ہدایت کے ساتھ نہیں چل سکتی ہے چاہے دونوں ایک ہی مقام پر رہیں، لوگوں نے افتراق پر اتحاد اور اتحاد پر افتراق کرلیا ہے جیسے یہی قرآن کے امام اور پیشوا ہیں اور قرآن ان کا امام و پیشوا نہیں ہے۔[8]

نہایت ضروری ہے کہ ہمارا معاشرہ آئندہ کے افراد اور دینی حالات کے متعلق قرآن اور نہج البلاغہ کی ان پیشین گوئیوں کو قابل توجہ قرار دے اور اپنے معاشرہ پر غالب و حاکم ثقافتی اور فکری حالت کو بھی ملاحظہ کریں اور اس کا ان پیشین گوئیوں سے مقائسہ کریں تاکہ خدا نخواستہ اگر معاشرہ کا دینی ماحول غلط سمت میں دیکھیں تو خطرہ کا احساس کریں اور معاشرہ کے دینی ماحول کی اصلاح کریں، ہر زمانہ کے لوگوں کو چاہئے کہ ولی فقیہ اور دینی علماء کی پیروی کے ذریعہ اپنے عقیدتی حدود اور دینی اقدار کی حفاظت و حراست کا انتظام کریں اور قرآن کو نمونہ قرار دیکر اپنے کو آخری زمانہ کے فتنوں سے محفوظ رکھیں اور ان پیشین گوئیوں کا مصداق قرار پانے سے ڈریں اور پرہیز کریں۔

حضرت علی (ع) کی لوگوں کو تنبیہ

جو بات اس خطبہ میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور ایک سخت تنبیہ لوگوں کے لئے سمجھی جاتی ہے یہ ہے کہ آئندہ تمام لوگوں کے ماحول اور روحی کیفیت کی تصویر کشی ہے۔

اس خطبہ میں حضرت علی (ع) معاشرہ کے بعض خواص پر غالب و حاکم روح کی توضیح کے بعد، کہ وہ لوگ اپنے دنیوی اغراض و مقاصد حاصل کرنے کے لئے سب سے زیادہ افترا اور جھوٹ کی نسبت خدا اور پیغمبر (ص) کی طرف دیتے ہیں اور دین و قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کر کے لوگوں کو گمراہی کی طرف کھینچتے ہیں، تمام لوگوں پر غالب و حاکم مکتب فکر اور ماحول کے متعلق اس طرح پیشینگوئی فرماتے ہیں:

اس زمانے کے لوگ بھی ایسے ہیں کہ اگر قرآن اور کتاب خدا کی صحیح اور برحق تفسیر و توضیح کی جائے تو وہ ان کے نزدیک سب سے زیادہ گھٹیا اور بے قیمت چیز ہے، اور اگر ان کے نفسانی خواہشات کے مطابق تفسیر کی جائے تو ان کی نظر میں وہ سب سے زیادہ رائج اور پر رونق چیز ہے۔

اس زمانہ میں دینی تعلیمات اور الٰہی اقدار لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ ناپسند اور برے سمجھے جائیں گے اور مخالف دین چیزیں سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب سمجھی جائیں گی۔

باخبر لوگوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قرآن کے دشمن اور سامراجی طاقتیں آج اس بات کے درپے ہیں کہ ایسے مکتب فکر اور ماحول کو ہمارے معاشرہ پر حاکم کریں۔

وہ لوگ ثقافتی اور فکری حملہ کی سازش کر کے دینی مقدسات پر حملہ اور مخالف دین چیزوں کی تبلیغ کے ساتھ چاہتے ہیں کہ دھیرے دھیرے اسی ماحول کو ہمارے معاشرہ پر غالب و حاکم کردیں کہ جس کی حضرت علی (ع) نے پیشین گوئی کی ہے اور لوگوں کو اس میں مبتلا ہونے سے ڈرایا ہے۔

حضرت علی (ع) اس کے آگے ارشاد فرماتے ہیں: اس زمانہ میں کلام خدا سے آشنا افراد سے بے اعتنائی کے علاوہ، اور حافظان قرآن سے، کہ جن کا فریضہ دینی اقدار کی حفاظت و پاسداری ہے، انجام فریضہ میں غفلت و فراموشی کے علاوہ کوئی تحرک نہیں دیکھا جائے گا۔

اس زمانہ میں قرآن اور اس کے سچے پیرو اور علمائے دین اگرچہ لوگوں کے درمیان ہوں گے لیکن درحقیقت ان سے جدا ہوں گے اور لوگ بھی ان سے دور ہوں گے اس لئے کہ وہ ان کو گوشہ نشین اور کنارہ کش کر کے ان کی پیروی نہیں کریں گے۔ وہ حضرات اگرچہ لوگوں کے درمیان ہی زندگی بسر کریں گے لیکن لوگوں کے دل ان کے ساتھ نہ ہوں گے کیونکہ جو راستہ لوگ اختیار کریں گے گمراہی ہوگی اور وہ راہ قرآن کے ساتھ، جو کہ راہ ہدایت ہے، جمع نہیں ہوسکتا۔

آخر میں حضرت علی (ع) ارشاد فرماتے ہیں:

 ”فَاجْتَمَعَ الْقَومُ عَلٰی الْفُرقَةِ وَ افْتَرَقُوا عَلیٰ الْجَمَاعَةِ کَأَنَّهُم أَئِمَّةُ الْکِتَابِ وَ لَیْسَ الْکِتَابُ اِمَامَهُمْ”[9]

لوگ اس زمانہ میں افتراق و اختلاف پر اجتماع کریں گے۔ گویا اس بات پر توافق کرلیں گے کہ قرآن اور حقیقی مفسرین سے موافقت نہ کریں، اور اس حال میں کہ گویا خود کو قرآن کا رہبر سمجھیں گے اور قرآن کی تفسیر و توجیہ اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق کریں گے، عالم نما جاہلوں کی پیروی کر کے، حقیقی مفسرین، دینی علماء اور سچے مسلمانوں سے جدا ہو جائیں گے اور ان سے فاصلہ اختیار کرلیں گے، بجائے اس کے کہ فکر و عمل میں قرآن کو اپنا امام، رہبر اور رہنما قرار دیں، قرآن کو پیچھے چھوڑ کر اس کی امامت و رہبری سے روگردانی کریں گے اور دین میں تحریف کر کے دین و قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کریں گے۔

اس وقت دین و قرآن کے دشمنوں نے مسلمان قوم کو ان کی دینی شخصیت سے کھوکھلا کرنے کے لئے اپنی تمام قوتیں صرف کردی ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ ان کے دینی عقائد کمزور کر کے ان کی شخصیت، آزادی اور استقلال کو چھین لیں۔

ان حالات کی اہمیت اور حساسیت کے پیش نظر بہت ضروری ہے کہ ملت مسلمان خصوصاً دینی علماء خطرہ کو سمجھیں اور ہوش میں آجائیں اور اپنے کو ہرگز اسلام و قرآن کے دشمنوں کے خطرے سے محفوظ نہ سمجھیں۔

 حضرت علی (ع) کی نظر میں دین میں تحریف کے اسباب

قرآن کریم اسلامی معاشرہ میں ایسے انسانوں کی کارستانیوں کا نام "فتنہ” رکھتا ہے اور جو لوگ قرآن اور دین کے معارف و حقائق میں تحریف کرنے کے درپے ہوتے ہیں انھیں ایسا فتنہ پرداز سمجھتا ہے جو دین میں تحریف کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے میں شیطان کا ساتھ دیتے ہیں۔

اب ممکن ہے یہ سوال پیش کیا جائے کہ ایسے لوگ باوجودیکہ حق کو جانتے ہیں اور ان اوہام اور جہالتوں سے جو کہ دوسروں سے عاریت میں لئے ہیں، واقف ہیں، تو پھر کیوں اپنی فریب کاریوں کی توجیہ کر کے دوسروں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں؟

دوسری لفظوں میں جو افراد دین میں تحریف کرتے ہیں اور حقائق دین میں تحریف کر کے لوگوں کی گمراہی کے اسباب فراہم کرتے ہیں، وہ نفسیاتی اور روحی اعتبار سے کون سی مشکل رکھتے ہیں کہ جس کے حل کرنے کے لئے دین خدا سے کھلواڑ کر بیٹھتے ہیں؟

حضرت علی (ع) اس سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”إنّمَا بَدْئُ وُقُوْعِ الْفِتَنِ اَهْوَاء تُتَّبَعُ وَ اَحْکَام تُبْتَدَعُ”[10] جو بات روحی اعتبار سے انسان کے اندر ایسے انحراف کا سبب بنتی ہے اور فتنہ کی جڑ سمجھی جاتی ہے اس سے مراد -نفسانی خواہشات- ہیں جو فتنے دین میں پیدا کئے جاتے ہیں ان کا سرچشمہ نفسانی خواہشات اور دنیاوی اغراض و میلانات ہیں۔

جو لوگ دین میں تحریف کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، وہ خدا کے سامنے تسلیم و بندگی کی روح سے عاری ہوتے ہیں یا شیطانی وسوسوں کے زیر اثر اپنی نفسانی خواہشات کو دین پر مقدم کرتے ہیں۔ تسلیم و بندگی کا جذبہ خدا اور اس کے احکام کا سراپا قبول کرنا ہے، جو اس لیے ضروری ہے کہ دینی احکام اکثر نفسانی خواہشات کے خلاف ہوتے ہیں اور انسان کو ان پر عمل کرنے کے لیے رغبت سے کام لینا پڑتا ہے۔

ایسے افراد، خاص طور پر جو معاشرتی مرتبے رکھتے ہیں، اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دین میں تحریف کرتے اور وہی تعبیر پیش کرتے ہیں جو ان کے نفسانی میلانات کے مطابق ہو۔ شیطان ان کی نفسانی خواہشات کو بھڑکا کر ان کو فتنہ اور گمراہی کی طرف مڑنے پر اکساتا ہے، اور ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے کہ دین و شریعت کے علمائے دین کے اقوال حق سے ماورا ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ افراد دین کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اس کی صحیح تعلیمات سے انحراف کرتے ہیں کیونکہ ان میں تسلیم و بندگی کی روح کمزور ہوتی ہے۔

حضرت علی (ع) اس سوال کے جواب میں کہ کون سا عامل اس بات کا سبب بنتا ہے کہ یہ افراد اسلامی معاشرہ میں ”دین میں فتنہ” برپا کرتے ہیں، ارشاد فرماتے ہیں کہ ان تمام فتنوں کی جڑ جو کہ دین میں واقع ہوتے ہیں نفسانی خواہشات ہیں کہ مذکورہ اشخاص ان سے صرف نظر نہیں کرسکتے اور ان کو حاصل کرنے کے لئے دینی احکام و تعلیمات کے مقابل نیا راستہ ایجاد کر کے فتنہ پھیلاتے ہیں۔

لیکن جو نیا راستہ وہ لوگ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے پیدا کرتے ہیں وہ کیا ہے؟

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ: وہ لوگ نئے نئے احکام اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق گڑھ کر ایجاد کرلیتے ہیں اور ان کی نسبت اسلام کی طرف دیتے ہیں اور خود ساختہ اور بے بنیاد تفسیروں اور توجیہوں کے ذریعہ حقائق دین میں تحریف کرتے ہیں اور قرآن و آیات الٰہی کی تفسیر اپنی رائے سے کرتے ہیں۔ نتیجہ میں ایسی باتیں کہتے ہیں جو دین اور قرآن کریم کی حقیقت کے موافق نہیں ہے اور لوگوں کو قرآن اور دینی تعلیمات کے خلاف دوسری سمت موڑ دیتے ہیں۔

البتہ واضح ہے کہ یہ افراد اس طرح عمل کرتے ہیں کہ لوگ ان کے شیطانی مقاصد سے باخبر نہ ہوں، اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس صورت میں لوگ ان کی پیروی نہ کریں گے۔

اسی بنا پر حضرت علی (ع) ان تمام فتنوں اور دین میں ایجاد کی جانے والی بدعتوں کی جڑ، تسلیم و بندگی کا فقدان اور خواہش نفس کو قرار دیتے ہیں اور لوگوں کو خصوصاً معاشرہ کے خواص کو ہوا و ہوس کی پیروی سے منع کرتے ہیں نیز اس بات سے باخبر کرتے ہیں کہ کہیں آیۂ "أَرَأَیتَ مَنِ اتَّخَذَ الٰهَهُ هَوٰاهُ”[11] (کیا تم نے اس کو دیکھا ہے جس نے اپنا خدا اپنی خواہش کو بنالیا ہے؟) کا مصداق نہ ٹھہر جائیں۔

ابتدائی طور پر سچے مسلمان اور دین کے مخلص مبلغ ہونے کے باوجود بھی کئی افراد وقت کے ساتھ گمراہی کی طرف مڑ جاتے ہیں اور مخالفین اسلام کے ساتھ مل کر شیطان کی ولایت قبول کر لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ طویل ضلالت کے بعد توبہ کر کے دوبارہ اسلام کی راہ پر آ جاتے ہیں۔ انسانوں میں نظریات کی تبدیلی عام ہے، لیکن قرآن کی نظر میں سب سے بڑا گناہ اور خطرہ فتنہ و گمراہی پھیلانا ہے، یعنی حق جاننے کے بعد بھی دوسروں کو دین اور اس کے احکام سے روکے رکھنا سب سے مذموم عمل سمجھا جاتا ہے۔

بہر صورت ہم جس بات کی طرف آخر میں تمام لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی توفیق عطا فرمائے، وہ حضرت علی (ع) کا یہ گرانقدر ارشاد ہے:

”حَاسِبُوُا أَنْفُسَکُم قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا”[12] تم لوگ خود اپنے عقائد، افکار اور اعمال کا محاسبہ کرو اور اپنا فیصلہ ضمیر و وجدان سے کرو اور قبل اس کے کہ خدا سے توبہ و انابت کا وقت ہاتھ سے نکل جائے، قرآن اور دین حق کے سائے میں واپس آجاؤ، اور خود کو شیطان اور نفس امارہ کے جال سے چھڑا لو، اور سخت انجام اور بری عاقبت سے ڈرو۔

 

خاتمہ

حضرت علی (ع) کی نظر میں دین میں تحریف کے اسباب نفسانی خواہشات اور دنیاوی اغراض ہیں۔ ایسے افراد جو حقائق دین میں تحریف کرتے ہیں، اپنی بے بنیاد تفسیروں اور خود ساختہ احکام کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

 

حوالہ جات

[1] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۸۶

[2] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۸۶

[3] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۸۶

[4] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۸۶

[5] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۸۶

[6] سورۃ انعام، آیۃ۱۱۲

[7] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۱۷

[8] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۱۴۷

[9] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۱۴۷

[10] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۵۰

[11] سورۃ فرقان، آیۃ۴۳

[12] مجلسی، بحار الانوار، ج ۸، ص۱۴۵

 

کتابیات

۱: القرآن الکریم

۲: سید رضی، نَهجُ البَلاغة، قم، دار الهجرة، ۱۴۰۹ھ ق۔

۳: مجلسی، محمد باقر، بِحارُالاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، تہران، دار الکتب الاسلامیة، ۱۳۱۵ ھ.ق۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

مصباح یزدی، محمد تقی، قرآن نہج البلاغہ کے آئینہ میں؛ مترجم: فیضی ہندی، ہادی حسن، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ص۱۵۸ الی۱۸۰۔

 

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔