حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو قرآن کریم کی متعدد آیات میں بیان کیا گیا ہے، اور انہی آیات میں سے ایک سورت بھی ہے جو قرآن مجید کے ۱۱۴ سورتوں میں حجم کے اعتبار سے سب سے چھوٹی شمار ہونے کے باوجود جامع ترین مفاہیم پر مشتمل ہے۔
پہلی آیت
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
إِنَّآ أَعْطَيْنَٰكَ ٱلْكَوْثَرَ ﴿١﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ ﴿٢﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ ﴿٣﴾
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے۔ بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے (1) لہذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں (2) یقینا آپ کا دشمن بے اولاد رہے گا (3)۔
علامہ ابن حجر عسقلانی نے حضرت رسول خدا (ص) سے روایت کی ہے کہ آپ نے جناب امیر المومنین (ع) سے فرمایا: کہ اے علی (ع)! تم اور تمہارے شیعہ حوض کوثر پر سیراب اور نورانی صورت میں ہونگے جب کہ تمہارا دشمن پیاس سے زرد، وہاں سے نکالے جائیں گے۔[1]
"اس روایت کی بنیاد پر کوثر کا معنی حوض کوثر ہے، نہ کہ حضرت زہراء (س)۔ تاہم دیگر تفاسیر میں اس سورت کے شان نزول کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ابن اسحاق لکھتے ہیں:
”جب پیغمبر (ص) کے فرزند جناب قاسم دنیا سے نو عمری یا نونہالی میں رحلت کر گئے، تو پیغمبر (ص) پریشان ہوئے۔ اس وقت آپ کے دشمنوں میں سے سرسخت دشمن، عاص ابن وائل، نے کہا کہ حضرت محمد (ص) اپنے فرزند قاسم کے انتقال کے بعد بے اولاد اور مقطوع النسل رہیں گے، کیونکہ اس زمانے میں بیٹیوں کو نسل کے بقاء کے لحاظ سے شمار نہیں کیا جاتا تھا۔
اس پر خداوند تعالیٰ نے مشرکین کے اس طعن کا جواب سورہ کوثر کے ذریعے دیا، یعنی یہ سورت آپ پر نازل ہوئی اور فرمایا کہ آپ کی نسل کبھی منقطع نہیں ہوگی، بلکہ آپ کے دشمن ہی بے اولاد اور مقطوع النسل ہوں گے، اور آپ کی نسل قیامت تک حضرت زہراء (س) کے ذریعے باقی رہے گی۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ کوثر حضرت زہراء (س) کی شان میں نازل ہوئی۔ اس سورت کے نزول کی جگہ آج سعودی عرب میں "مسجد کوثر” کے نام سے مشہور ہے، اور حاجی اس مسجد کی زیارت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔“[2]
نیز کوثر کے معنی کے بارے میں جناب فخر الرازی، جو اہل سنت کے مشہور و معروف مفسر ہیں، نے کہا کہ کوثر سے مراد پیغمبر اکرم (ص) کی اولاد ہے، کیونکہ جب مشرکین نے پیغمبر اکرم (ص) سے اولادِ ذکور نہ ہونے پر طعن و عیب جوئی شروع کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ سورت نازل فرمائی۔ لہٰذا، اہل بیت علیہم السلام پر بنی امیہ کی طرف سے ڈھائے گئے بے پناہ مظالم کے باوجود، پیغمبر اکرم (ص) کی نسل سے ایسی ہستیاں وجود میں آئیں جیسے امام باقر، امام صادق، امام کاظم اور امام رضا علیہم السلام۔ [3]
دوسری آیت
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا۟ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰذِبِينَ۔[4]
پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔
اس آیہ شریفہ کے بارے میں جناب فرمان علی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے یوں تفسیر کی ہے کہ حضرت عیسیٰ (ع) کے بارے میں نجران کے نصاریٰ کو حضرت رسول اکرم (ص) لاکھ بار سمجھایا کہ انہیں خدا کا بیٹا نہ کہو۔ حضرت آدم (ع) کی مثال بھی دی، مگر ان لوگوں نے ایک بھی نہ سنی۔ آخرکار، آپ نے حکم خدا کے تحت مباہلہ کی دعوت دی اور یہ قرار ہوا کہ فلاں جگہ، فلاں وقت میں ہم اور تم اپنے اپنے بیٹوں، عورتوں اور نفسوں کو لے کر جمع ہوں اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کرے اور خدا سے عذاب کا خواستگار ہو۔
جس دن یہ مباہلہ ہونے والا تھا، اصحاب پیغمبر (ص) اس امید میں جمع ہوئے کہ شاید آپ ہمیں ہمراہ لے جائیں۔ مگر آپ نے صبح سویرے حضرت سلمان (ع) کو ایک سرخ کمبل اور چار لکڑیاں دے کر اس میدان میں ایک چھوٹا سا خیمہ نصب کرنے کے لیے روانہ کیا، اور خود اس شان سے برآمد ہوئے کہ امام حسین (ع) کو گود میں لیا اور امام حسن (ع) کا ہاتھ تھاما، اور جناب سیدہ فاطمہ زہراء (س) آپ کے پیچھے، اور حضرت علی (ع) پیغمبر اکرم (ص) کی صاحبزادی کے پیچھے نکلے، گویا اپنے بیٹوں کی جگہ نواسوں کو، عورتوں کی جگہ اپنی صاحبزادی جناب زہراء (س) کو، اور اپنی جان کی جگہ حضرت علی (ع) کو لیا اور دعا کی:
”خداوندا! ہر نبی کے اہل بیت ہوتے ہیں، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ انہیں ہر برائی سے محفوظ رکھ اور پاک و پاکیزہ رکھ۔“
جب آپ اس شان سے میدان میں پہنچے تو نصاریٰ کے سردار عاقب نے کہا کہ خدا کی قسم! میں ایسے نورانی چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹ جانے کو کہیں، تو یقیناً ہٹ جائے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ مباہلہ سے باز رہیں، ورنہ قیامت تک نسل نصاریٰ میں سے کوئی بھی نہ بچے گا۔ آخرکار، انہوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا۔ تب آنحضرت (ص) نے فرمایا: ‘واللہ، اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو خدا انہیں بندر اور سور کی صورت میں مسخ کر دیتا اور یہ میدان آگ بن جاتا، اور نجران کا ایک فرد بھی نہ بچتا۔’
یہ واقعہ حضرت علی (ع) کی اعلیٰ فضیلت اور حضرت فاطمہ زہراء (س) کی شان کے لیے کافی دلیل ہے۔[5]
اگرچہ انہوں نے تفسیر بیضاوی، جلد اوّل سے اس بات کو نقل کر کے حضرت علی (ع) کی فضیلت کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ آیہ شریفہ پورے اہل بیت (علیہم السلام) کی فضیلت بیان کرتی ہے، لہٰذا حضرت فاطمہ زہراء (س) کی فضیلت بیان کرنے میں یہ آیہ کافی ہے۔
مرحوم علامہ سید عبدالحسین شرف الدین لکھتے ہیں کہ پورے اہل قبلہ، حتیٰ کہ خوارج، اس بات کے معترف ہیں کہ حضرت پیغمبر اکرم (ص) نے مباہلہ کے وقت خواتین میں سے صرف جناب سیدۃؑ فاطمہ زہراء (س)، احباب میں سے صرف آپ کے دو نواسے امام حسن و امام حسین (ع) اور جانوں میں سے صرف حضرت علی (ع) کو لے کر میدان میں گئے تھے، اور کوئی اور شخص اس مباہلہ میں شریک نہ تھا۔[6]
تیسری آیت
آپ کی فضیلت بیان کرنے والی آیت میں سے آیت مودّة ہے، ارشاد ہوتا ہے:
قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِى ٱلْقُرْبَىٰ–[7]
آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔
اس آیت شریفہ کی تفسیر کے بارے میں جناب فرمان علی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے فرمایا: انصار اپنے ایک بڑے جلسے میں فخر و مباہات کر رہے تھے کہ ہم نے یہ کیا اور وہ کیا۔ جب ان کی باتیں حد ناز سے بھی گزریں، تو ابن عباس (ع) سے نہ رہا گیا اور بے ساختہ بول پڑے کہ ‘تم لوگوں کو فضیلت صحیح، مگر ہم لوگوں پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔’
اس مناظرہ کی خبر حضرت رسول اکرم (ص) کو پہنچی تو آپ (ص) خود ان کے مجمع میں تشریف لائے اور فرمایا:
”اے گروہ انصار! کیا تم ذلیل نہ تھے کہ خداوند نے ہماری بدولت تمہیں معزز کیا؟“ سب نے عرض کیا: بے شک۔
پھر فرمایا: ”کیا تم لوگ گمراہ نہ تھے تو خدا نے میری وجہ سے تمہاری ہدایت کی؟“ سب نے عرض کیا: یقینا۔
پھر فرمایا: ”تو کیا تم لوگ میرے مقابل میں جواب نہیں دیتے؟ وہ بولتے رہے۔ آپ (ص) نے فرمایا: ”کیا تم یہ نہیں کہتے ہو کہ تمہاری قوم نے جھٹلایا؟ ہم نے تصدیق کی کہ تمہاری قوم نے تمہیں ذلیل کیا، تو ہم نے مدد کی“۔
اس قسم کی باتیں فرماتے فرماتے وہ لوگ اپنے زانوؤں کے بل بیٹھ گئے اور عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگے: ‘ہمارا مال اور جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ سب خدا اور رسول (ص) کا ہے۔’
یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ اتنے میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ (ص) نے فرمایا:
”جو شخص آل محمد (ص) کی دوستی پر مر جائے، وہ شہید مرتا ہے؛ جو آل محمد (ص) کی دوستی پر مرے، وہ مغفور ہے؛ جو آل محمد (ص) کی دوستی پر مرے، وہ توبہ کرکے مرا؛ جو آل محمد (ص) کی دوستی پر مرے، وہ کامل الایمان مرا۔ جو آل محمد (ص) کی دوستی پر مرا، اسے ملک الموت اور منکر و نکیر بہشت کی خوشخبری دیتے ہیں؛ جو آل محمد (ص) کی دوستی پر مرا، وہ بہشت میں ایسے بھیجا جائے گا جیسے دلہن اپنے شوہر کے گھر بھیجی جاتی ہے؛ جو آل محمد (ص) کی دوستی پر مرا، وہ سنت اور جماعت کے طریقے پر مرا۔ جو آل محمد (ص) کی دشمنی پر مرا، قیامت میں اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ خدا کی رحمت سے مایوس ہے۔ جو آل محمد (ص) کی دشمنی پر مرا، وہ کافر ہے؛ جو آل محمد (ص) کی دشمنی پر مرا، وہ بہشت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔“
اس وقت کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! (ص) جن کی محبت کو خدا نے واجب کیا ہے وہ کون ہیں؟
فرمایا: ”علی (ع) اور فاطمہ (س) اور ان کے بیٹے حسن (ع) اور حسین (ع)۔“ پھر فرمایا: ”جو شخص میرے اہل بیت (علیہم السلام) پر ظلم کرے اور مجھے میری عترت کے بارے میں اذیت دے، اس پر بہشت حرام ہے۔“
اسی مطلب کو علامہ زمخشری نے، احمد بن حنبل نے مسند احمد میں، اور سیوطی نے الدُرّ المنثور میں بھی نقل کیا ہے۔ [8]
چوتھی آیت
فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ۔[9]
پھر آدم (ع) نے پروردگار سے کلمات کی تعلیم حاصل کی اور ان کی برکت سے خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
اس آیہ شریفہ کی تفسیر کے بارے میں اہل سنت میں سے جناب ابن مغازلی نے ابن عباس سے روایت کی ہے:
”سُئِلَ النبی صلی اللہ وآلہ وسلم عَنِ الکلمات التی تلقی آدم من ربہ فتاب علیہ؛ قال: سَئَلَہُ بحقّ محمّد وعلی وفاطمة والحسن والحسین الا تبت علیّ فتاب علیہ“۔[10]
پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا گیا کہ وہ کلمات کون سے ہیں جن کی برکت سے خدا نے حضرت آدم کی توبہ قبول کی؟ آپ (ص) نے فرمایا: ”وہ پنجتن پاک ہیں، یعنی محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام۔ حضرت آدم نے ان کی برکت سے توبہ کی تو خدا نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا“۔
پانچویں آیت
إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا –[11]
اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت علیہم السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
شان نزول: اہل سنت نے روایات متواترہ کے ساتھ اس آیہ شریفہ کی شان نزول کے بارے میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ یہ آیہ شریفہ جناب ام سلمہ کے گھر نازل ہوئی، جس وقت جناب ام سلمہ کے گھر میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)، حضرت علی (ع)، حضرت فاطمہ زہراء (س) اور امام حسن و امام حسین (ع) کے ساتھ باقی خاندان بھی تشریف فرما تھے۔
مگر جب پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی عبا کو گھر کے کسی گوشے میں بچھایا اور پنجتن پاک کو باقی خاندان سے الگ کر کے فرمایا: ”خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان پر درود و سلام ہو،“ تو آیہ شریفہ نازل ہوئی۔ لیکن جب جناب ام سلمہ عبا کے قریب آنے کی خواہش کرنے لگیں، تو پیغمبر اکرم (ص) نے ان کو منع فرمایا اور کہا: ”اے ام سلمہ! تم خیر پر ہو، لیکن زیر عبا آنے کی اجازت نہیں ہے۔“
اس مطلب کو جناب احمد بن حنبل نے مسند میں، صحیح ترمذی اور خصائص النسائی نے بھی ذکر فرمایا ہے۔
آیہ تطہیر نازل ہونے کے بعد چھ ماہ تک ہر روز جناب پیغمبر اکرم (ص) صبح کی نماز کے وقت حضرت زہراء (س) پر تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”اے میرے اہل بیت! نماز۔ اے میرے اہل بیت! نماز۔“ کیونکہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ میرے خاندان میں سے تمہیں ہر ناپاکی سے دور رکھے اور ہمیشہ پاک و پاکیزہ قرار دے۔[12]
چھٹی آیت
وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا * إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءً وَلَا شُكُورًا–[13]
یہ اس کی محبت میں مسکینً یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ
جناب زمخشری، اہل سنت کے معروف مفسرین میں سے شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تفسیر الکشاف میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت امام حسن و حسین (علیہما السلام) مریض ہو گئے تھے۔ اتنے میں پیغمبر اکرم (ص) چند اصحاب کے ساتھ ان کی عیادت کو تشریف لے گئے اور آپ (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: ”اگر بچوں کی تندرستی اور شفا کے لیے نذر مانگی جائے تو کتنا بہتر ہے۔“
اتنے میں حضرت علی (ع)، حضرت فاطمہ زہراء (س) اور ان کی خادمہ فضہ، تینوں نے نذر مانگی کہ اگر حسنین (ع) کی بیماری ٹھیک ہو جائے، تو ہم تین دن روزہ رکھیں گے۔ جب حسنین (ع) ٹھیک ہو گئے تو حضرت علی (ع)، حضرت زہراء (س) و فضہ نے روزہ رکھنا شروع کیا، لیکن افطاری کے لیے کوئی چیز نہ تھی۔ لہٰذا حضرت علی (ع) نے ایک یہودی سے تین صاع گندم قرض لے کر گھر آئے اور حضرت زہراء (س) کے حوالہ کیا۔
جناب زہراء (س) نے ایک صاع گندم سے روٹی تیار کی اور افطاری کے لیے دسترخوان پر رکھ دی۔ اتنے میں سائل کی طرف سے ندا آئی: ”اے خاندان نبوت! درود و سلام آپ پر ہو، میں ایک مسکین ہوں، میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں، میری مدد کریں، خدا آپ کو جنت کی غذا نصیب فرمائے۔“
اتنے میں کھانا مسکین کو دے دیا گیا۔ فضہ نے بھی ان کی پیروی کی اور اس دن کھانے کے بغیر پانی سے افطار کر کے رات گزاری۔ پھر جب دوسرے دن روزہ رکھا، افطار کا وقت آیا، حضرت زہراء (س) نے دسترخوان پر روٹی رکھی اور افطاری کے منتظر تھے، اتنے میں یتیم کی آواز آئی: ”اے اہل بیت پیغمبر! میں یتیم ہوں، میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں، میری مدد کریں۔“ اس دن کی افطاری کو یتیم کے حوالہ کر دیا گیا۔
تیسرے دن روزہ رکھا، افطاری کے لیے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں آواز آئی: ”میں ایک اسیر ہوں، میری مدد کریں۔“ افطاری کو اسیر کے حوالہ کر دیا گیا، پھر پانی سے افطار کر کے سو گئے۔
لیکن جب دن کی صبح ہوئی، تو حضرت علی (ع) امام حسن و امام حسین (ع) کو لے کر پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں پہنچے۔ پیغمبر اکرم (ص) ان کی بھوک کی حالت دیکھ کر حیران ہوئے اور حسنین (ع) کو لے کر حضرت زہراء (س) کے دیدار کو آئے۔ دیکھا کہ حضرت زہراء (س) محراب عبادت میں خدا سے راز و نیاز کر رہی ہیں، جبکہ بھوک کی وجہ سے آپ کی حالت بھی معمول پر نہ تھی۔ لہٰذا پیغمبر اکرم (ص) پریشان ہوئے۔
اتنے میں جبرئیل (ع) آئے اور فرمایا: ”اے پیغمبر اکرم (ص)! تیرے ایسے فداکار اہل بیت (علیہم السلام) ہونے کی خاطر خدا نے تجھے سورہ ہل أتی کو ہدیہ فرمایا ہے، کہ اس کو لے لیں۔“
لہٰذا حضرت زہراء (س) کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے یہی روایت کافی ہے، جو شیعہ کے معتبر مفسرین، جیسے صاحب مجمع البیان، صاحب المیزان، اور اہل سنت کے معروف تفاسیر، جیسے الدّر المنثور وغیرہ میں بھی نقل کی گئی ہے۔[14]
ساتویں آیت
مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ * بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ۔[15]
اس نے دو دریا بہائے ہیں جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ ان کے درمیان حد فا صلِ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرسکتے۔
خدا نے دو در یا بہا ئے جو با ہم مل جا تے ہیں دونوں کے در میان ایک حد فاصل ہے جس سے تجاوز نہیں کرتے۔[16]
اگرچہ اس آیہ شریفہ کی تفسیر کے متعلق مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن علامہ ابن مردویہ نے ابن عباس اور انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”دو دریا سے مراد حضرت علی اور فاطمہ ہیں، جبکہ حد فاصل سے مراد ان کے دو فرزند، امام حسن و حسین (علیہم السلام) ہیں۔“
اس تفسیر کی بنا پر یہ آیہ شریفہ حضرت زہراء (س) کی فضیلت پر بہترین دلیل ہے۔”
آٹھویں آیت
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ۔ [17]
”اور عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اس قدر عطا کردے گا کہ خوش ہوجاؤ“۔
اس آیہ شریفہ کے شان نزول کو اہل تسنن کے معروف و مشہور محققین میں سے جناب عسکری، ابن لال، ابن تجار اور ابن مردویہ نے جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر اکرم (ص) جناب فاطمہ زہراء (س) کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت زہراء (س) چکی چلا رہی ہیں اور ان کے بدن پر اونٹ کی کھال سے بنی ہوئی ایک چادر زیب تن ہے۔
تو آپ (ص) نے فرمایا: ”اے فاطمہ! آخرت کی نعمتوں کے واسطے دنیا کی تلخی چکھو اور جلدی کرو۔“ اسی وقت خدا نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔[18]
اس روایت کی بناء پر آیہ شریفہ سے حضرت فاطمہ زہراء (س) کی فضیلت اور عظمت بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ آیات کی تفسیر، شان نزول اور دیگر قرائن و شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت زہراء (س) تمام خواتین کائنات میں افضل ہیں، اگرچہ کچھ منقولہ روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ تمام خواتین میں چار خواتین سب سے افضل ہیں:
حضرت خدیجہ (س)، حضرت مریم (س)، حضرت آسیہ (س) اور حضرت زہراء (س)۔
"لیکن آیات سابقہ اور وہ روایات جو حضرت فاطمہ زہراء (س) کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں، ان کی روشنی میں بلا شبہ و تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت زہراء (س) ان بافضیلت خواتین میں سب سے افضل ہیں۔”
خاتمہ
مذکورہ آیات شریفہ، شان نزول اور معتبر روایات کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء (س) کی فضیلت اور مقام تمام خواتین کائنات میں بلند و ممتاز ہے۔ یہی وجوہات ہیں جو ان کی عصمت، پاکیزگی اور اہل بیت (علیہم السلام) میں ان کے اعلی مرتبے کو ثابت کرتی ہیں۔
حوالہ جات
[1] . صواعق المحرقۃ۔
[2] . بحار الانوار، ج٤٣؛ زندگانی فاطمہ زہراء، ص١٢٠۔
[3] . تفسیر کبیر، ج٣٢، ص١٢٤۔
[4] . آل عمران: ا٦۔
[5] . تفسیر فرمان علی نجفی، ص٧٨۔
[6] . صحیح مسلم، ج٧؛ مسند احمد؛ سنن ترمذی؛ ج٤۔
[7] . شوریٰ: ٢٣۔
[8] . تفسیر فرمان علی نجفی؛ صحیح بخاری؛ الدرّ المنثور؛ مسند احمد.
[9] . بقرہ: ٣٧۔
[10] . الدرّ المنثور، ینابیع المودة، مناقب ابن مغازلی۔
[11] . الاحزاب: ٣٣۔
[12] . زندگانی حضرت فاطمہ زہرا (س)، ص٢٢٥؛ مسند احمد؛ خصائص النسائی۔
[13] . الانسان: ٨-٩۔
[14] . مجمع البیان، ج١٠؛ المیزان، ج٣٠؛ الدرّ المنثور؛ الکشاف، ج٤۔
[15] . الرحمٰن: ١٩-٢٠۔۔
[16] . الدرّ المنثور، ج٦؛ تفسیر فرمان علی نجفی۔
[17] . الضحٰی: ٥۔
[18] . الدرّ المنشور، ج٦، ص ٣٣٣؛ تفسیر فرمان علی نجفی۔
مضمون کا مآخذ
مجمع جہانی شیعہ شناسی – shiastudies.com
تمام بھتریں بیاں جزاک اللہ
بہت خوبصورت بیان ہے