پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد اسلامی معاشرہ ایک نازک دور سے گزرا، جہاں خلافت کی نزاع نے جنم لیا۔ خلافت کی نزاع نہ صرف سیاسی تھی بلکہ امت مسلمہ کی وحدت کو بھی خطرے میں ڈالنے والی تھی۔
حقیقت ہے کہ اسلامی معاشرہ اور خاندان رسالت کو خلافت کی نزاع نے عجیب مشکلات سے دوچار کردیا تھا اور ہر لمحہ اس بات کا ڈر تھا کہ مسلمانوں کے درمیان خلافت کی نزاع پر جنگ چھڑ جائے اور اسلامی معاشرے کا شیرازہ بکھر جائے اور عرب قبیلوں کے تازہ مسلمان، جاہلیت اور بت پرستی کے دور کی طرف پلٹ جائیں، اسلامی تحریک، ابھی نئی نئی اور جواں سال تحریک تھی اور ابھی اس تحریک نے لوگوں کے دلوں میں جڑ نہیں پکڑی تھی اور ان میں سے اکثریت نے دل کی گہرائیوں سے اس تحریک کو قبول نہیں کیا تھا۔
انصار و مہاجرین کے درمیان خلافت کی نزاع
ابھی حضرت علی (ع) اور پیغمبر اکرم (ص) کے بہت سے باوفا اصحاب پیغمبر اکرم (ص) کے غسل و کفن اور دفن سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ اصحاب کے دو گروہ آپس میں خلافت کی نزاع شروع ہوئی اور خلافت کے مدعی ہوگئے اور اس راہ میں بہت زیادہ مشکلات کھڑی کردیں وہ دو گروہ یہ تھے:
انصار
خصوصاً قبیلۂ خزرج جو مہاجرین سے پہلے ایک مقام پر جسے سقیفہ بنی ساعدہ کہتے ہیں جمع ہوگئے تھے اور چاہا تھا کہ تمام امور کی ذمہ داری سعد بن عبادہ رئیس خزرج کے حوالہ کریں اور اسے پیغمبر اکرم (ص) کا جانشین منتخب کریں۔ لیکن چونکہ انصار کے قبیلے میں اتحاد و اتفاق نہ تھا اور ابھی بھی پرانے کینے ان کے دلوں میں جڑ پکڑے ہوئے تھے خصوصاً اوس و خزرج کے قبیلے والے اپنے اپنے کینوں کو نہیں بھولے تھے۔
انصار کا گروہ داخلی مخالفت کی وجہ سے ایک دوسرے کے مقابلے میں آگیا اور قبیلۂ اوس کے لوگ سعد کی پیشوائی میں جو کہ خزرج سے تھا مخالفت کی اور نہ صرف یہ کہ انھوں نے اس راہ میں ان کی مدد نہ کی بلکہ خواہش ظاہر کی کہ امت کی باگ ڈور مہاجرین میں سے کسی کے ہاتھ میں ہو۔
مہاجرین
ان سب کے رئیس ابوبکر اور ان کے ہم فکر ہیں ان کی تعداد سقیفہ میں بہت کم تھی لیکن اس علت کی بناء پر جس کا اشارہ ہم کرچکے ہیں انہوں نے ابوبکر کے لئے ووٹ جمع کرلیا اور کامیابی کے ساتھ سقیفہ سے باہر آئے اور مسجد تک آتے آتے بہت زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ کرلیا۔ اور ابوبکر خلیفہ رسول کے عنوان سے منبر رسول خدا پر بیٹھے اور لوگوں کو بیعت و اطاعت کی دعوت دی۔
تیسرا گروہ اور خلافت کی نزاع
خلافت کی نزاع میں ان دو گروہوں کے مقابلے میں ایک گروہ اور بھی موجود تھا جو روحانی اور معنوی طاقت سے سرشار تھا اور اس گروہ میں حضرت علی (ع) جیسی شخصیت اور بنی ہاشم کے افراد اور کچھ اسلام کے سچے ماننے والے موجود تھے جو خلافت کو حضرت علی (ع) کا حق سمجھتے تھے اور ان کو دوسرے افراد کے مقابلے میں خلافت و رہبری کے لئے ہر طرح سے لائق و شائستہ جانتے تھے۔
ان لوگوں نے خود مشاہدہ کیا کہ ابھی پیغمبر اکرم (ص) کا جنازہ دفن بھی نہ ہوا تھا کہ گروہ مہاجرین و انصار خلافت کے مسئلے پر جنگ و جدال کرنے لگے۔
اس گروہ نے اپنی مخالفت کی آواز کو مہاجرین و انصار بلکہ تمام مسلمانوں تک پہونچانے کے لئے یہ اعلان کردیا کہ ابوبکر کا انتخاب غیر قانونی اور نص پیغمبر اور اصول مشورہ کے خلاف تھا، اسی وجہ سے وہ لوگ حضرت زہرا (س) کے گھر میں جمع ہوئے اور سقیفہ میں حاضر نہیں ہوئے، لیکن یہ اجتماع آخر کار ختم ہوا اور خلافت ابوبکر کی مخالفت کرنے والے مجبور ہوکر حضرت زہرا (س) کے گھر سے باہر نکل کر مسجد کی طرف چلے گئے۔
خلافت کی نزاع میں امام علی (ع) کا استحقاق اور استدلال
خلافت کی نزاع کے ایسے حالات میں تیسرے گروہ پر بہت اہم ذمہ داری آپڑی، خصوصاً امام (ع) کے لئے کہ آپ نے خود مشاہدہ کیا کہ خلافت و رہبری اپنے اصلی محور سے خارج ہوگئی۔ جس کے نتیجہ میں بہت سے امور اپنے اصلی محور سے خارج ہوجائیں گے اسی وجہ سے امام نے خاموشی اختیار کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ غیر مناسب کام پر خاموش رہنے کی وجہ سے ان کی تائید ہوجاتی، اور امام (ع) جیسی عظیم شخصیت کا ایسی صورت حال میں خاموش رہنے کی وجہ سے ممکن تھا کہ ان لوگوں کے لئے حقانیت کی دلیل بن جاتی اور ان کی خلافت ثابت ہوجاتی۔
لہٰذا آپ نے خاموشی ختم کردی۔ اور اپنا سب سے پہلا وظیفہ انجام دیا یعنی خطبہ کے ذریعے حقانیت کو یاد دلایا اور مسجد نبوی میں جو آپ سے زبردستی بیعت لینا چاہ رہے تھے اس مہاجرین کے گروہ کو مخاطب کر کے کہا: اے گروہ مہاجر، اس حکومت کو حضرت محمد مصطفی (ص) نے جس اساس و بنیاد پر قائم کیا ہے اس سے خارج نہ کرو اور اپنے گھروں میں داخل نہ کرو، خدا کی قسم پیغمبر (ص) کا خاندان اس امر کے لئے زیادہ سزاوار ہے کیونکہ ان کے خاندان میں ایسے افراد موجود ہیں جو مفاہیم قرآن اور دین کے اصول و فروع کی مکمل معلومات رکھتے ہیں۔
اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنتوں سے واقف ہیں اور اسلامی معاشرے کو اچھی طرح سے چلا سکتے ہیں اور ظلم و فساد کو روک سکتے ہیں اور مال غنیمت کو برابر برابر تقسیم کرتے ہیں، ایسے افراد کی موجودگی میں یہ منصب دوسروں تک نہیں پہنچ سکتا، ایسا نہ ہو کہ تم خواہشات نفسانی کی پیروی کرو اور صراط مستقیم سے بھٹک کر حقیقت سے دور ہوجاؤ۔[1]
اس بیان میں امام (ع) نے خلافت کے لئے اپنی لیاقت و شائستگی کو آسمانی کتابوں کا علم رکھنے اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنتوں اور اپنی روحانی طاقت کو معاشرے کی رہبری کے شایان شان جانا ہے اور اگر پیغمبر اکرم (ص) سے اپنے رشتہ کی طرف بھی اشارہ کرتے تو مہاجرین کی طرح کا ایک استدلال ہوجاتا کہ انھوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی طرف خود کو نسبت دی ہے۔
شیعہ روایتوں کے مطابق امیرالمومنین بنی ہاشم کے گروہ کے ساتھ ابوبکر کے پاس گئے اور خلافت کے لئے خود کو سزاوار بتایا اور اپنے ان تمام فضائل و کمالات یعنی علم کتاب و سنت، اسلام قبول کرنے میں سبقت وغیرہ اور جنگ کے میدان میں ثابت قدم اور فصاحت و بلاغت وغیرہ کو بیان کیا اور فرمایا:
میں پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کے مقام و منصب کا حقدار ہوں، میں ان کا وزیر اور وصی اور اسرار کا گنجینہ اور علوم کے خزانے کا مخزن ہوں۔ میں ہی صدیق اکبر اور میں ہی فاروق اعظم ہوں میں پہلا وہ شخص ہوں جو ان پر ایمان لایا۔
میں مشرکوں سے جنگ کرنے میں سب سے زیادہ ثابت قدم، کتاب خدا اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کا سب سے زیادہ جاننے والا، دین کے اصول و فروع پر تم سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والا، اور گفتگو کرنے میں تم سب سے زیادہ فصیح و بلیغ اور ہر معاملے میں تم سب سے زیادہ مستحکم ہوں۔ تو پھر کیوں اس میراث میں ہمارے مقابلے پر اٹھ کھڑے ہو۔[2]
امیرالمومنین (ع) اپنے ایک خطبہ میں خلافت کو اس شخص کا حق جانتے ہیں جو حکومت کو چلانے میں تمام لوگوں سے زیادہ اہلیت رکھتا ہو اور تمام قوانین الہی وغیرہ پر مکمل تسلط رکھتا ہوجیسا کہ آپ فرماتے ہیں:
”اے لوگو، حکومت کی قیادت کے لئے سب سے اچھا شخص وہ ہے جو تمام الہی قوانین کو جانتا ہو۔ اگر کسی شخص کے اندر یہ تمام شرائط موجود نہیں ہوں۔ اور خلافت کی تمنا کرے تو اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنے اس عمل اور فکر سے باز آجا، لیکن اگر وہ اپنی ضد پر باقی رہا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ "ایها الناس ان احق الناس بهذا الامر اقواهم علیه۔۔۔”[3]
یہ منطق فقط حضرت علی (ع) ہی کی نہیں ہے بلکہ آپ کے بعض مخالفین کا بھی یہی نظریہ ہے، اور انہوں نے حضرت علی (ع) کے لئے خلافت کا اعتراف کیا ہے اور ان کا یقین و ایمان بھی یہی ہے کہ کسی غیر کو ان کے اوپر مقدم کرنا گویا ایک بڑے اور اہم حق کو پامال کرنا ہے۔ جب ابوعبیدۂ جراح کو اس بات کی خبر ملی کہ حضرت علی (ع) نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی ہے تو امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے:
”امت کی باگ ڈور کو ابوبکر کے حوالے کردو اور اگر زندہ رہ گئے اور لمبی عمر نصیب ہوئی تو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے تم سب سے زیادہ حقدار ہو کیونکہ تم ہیں تمام فضائل کامل کہ حاصل ہے اور مستحکم ایمان اور عالم علم لدنی اور حقیقتوں کا درک کرنا اور اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنا اور پیغمبر اکرم (ص) کا بھائی و داماد ہونا یہ تمام فضائل و کمالات سب پر واضح و آشکار ہیں۔[4]
امیرالمومنین (ع) نے خلافت کی نزاع میں اپنے حق خلافت کی واپسی کے لئے صرف متوجہ اور متنبہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اکثر مؤرخین کی تحریر کے مطابق اکثر رات میں آپ نے پیغمبر اکرم (ص) کی بیٹی اور اپنے نور چشم حسنین کے ہمراہ انصار کے سرداروں سے ملاقات کی تا کہ خلافت کو اس کے صحیح مقام پر واپس لائیں۔ لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے قابل اطمینان جواب نہیں دیا۔ اور یہ عذر پیش کیا کہ اگر حضرت علی (ع) دوسروں سے پہلے خلافت کی فکر کرتے اور ہم سے بیعت طلب کرتے تو ہم لوگ انہی کے ہاتھ پہ بیعت کرتے اور کبھی بھی دوسروں کی بیعت نہ کرتے۔
امیر المومنین (ع) نے ان کے جواب میں کہا کہ کیا یہ بات درست تھی کہ میں پیغمبر اکرم (ص) کے جنازے کو بغیر غسل و کفن گھر کے ایک گوشہ میں چھوڑ دیتا اور خلافت کی فکر کر کے لوگوں سے بیعت لیتا؟ پیغمبر اسلام (ع) کی بیٹی نے حضرت علی (ع) کی بات کی تائید کرتے ہوئے فرمایا:
علی (ع) اپنے و ظیفہ میں دوسروں سے بہت زیادہ آشنا تھے وہ گروہ جس نے علی کے حق کو ان سے چھین لیا ہے خدا اس کا حساب لے گا۔[5]
امام (ع) کا اس سلسلے میں یہ پہلا کام تھا جو تجاوز کرنے والے گروہ کے مقابلے میں انجام دیا تھا تا کہ تو جہ و تذکر اور گروہ انصار کے بزرگوں کی مدد سے اپنے حق کو غاصبوں سے واپس لے لیں، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس راہ میں امام کو کوئی نتیجہ نہ ملا، اور آپ کا حق پامال کردیا گیا، اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے پرآشوب اور حساس ماحول میں امام کا فریضہ کیا تھا؟
کیا آپ کا فریضہ صرف یہ تھا کہ آپ اپنی نگاہوں سے اس منظر کو دیکھتے رہیں اور خاموش بیٹھ جائیں یا اس کی حفاظت کے لئے قیام کریں؟
خاتمہ
سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، جہاں خلافت کی نزاع نے امت مسلمہ کے اتحاد کو چیلنج کیا۔ خلافت کی نزاع نہ صرف سیاسی تھی بلکہ اس نے امت کی وحدت اور استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔
حوالہ جات
[1] ابنقتیبه، الامامة والسیاسة، ج1، ص11۔
[2] طبرسی، الاحتجاج، ج1، ص95۔
[3] محمد عبدہ، نہج البلاغۃ، خطبہ168۔
[4] ابنقتیبه، الامامة والسیاسة، ج1، ص12۔
[5] ابنقتیبه، الامامة والسیاسة، ج1، ص12؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج2، ص47، معاویہ کے نامہ سے مأخوذ۔
فہرست منابع
۱- ابن ابي الحديد، عبد الحميد بن هبة الله، شرح نهج البلاغة، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، 1375ش۔
۲- ابن قتیبه، عبدالله بن مسلم، الامامة والسیاسة، بیروت، دار الأضواء، 1410ھ ق۔
۳- طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشہد مقدس، نشر المرتضی، 1403ھ ق۔
۴- محمد عبدہ، نہج البلاغۃ، قاہرۃ، مطبعۃ الاستقامۃ، 1420 ھ ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، پہلا باب، چوتھی فصل، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔