دعا انسان اور خالق کے تعلق کی اصل روح ہے۔ اور استجابت دعا اسی تعلق کی سب سے روشن علامت ہے۔ اسلامی تعلیمات بتاتی ہیں کہ دعا کرنا اللہ کی جانب سے توفیق ہے اور استجابت دعا اس کی رحمت کا خاص جلوہ ہے۔ قرآن و حدیث واضح کرتے ہیں کہ بندہ جب دعا کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو یہ خود استجابت دعا کی پہلی نشانی ہے۔ ائمہ اہل بیت (ع) نے دعا کو اللہ کے خزانوں کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر خیر اور ہر کامیابی استجابت دعا ہی کا نتیجہ ہے۔ دعا صرف حاجت طلبی نہیں بلکہ قربِ الٰہی اور روحانی بیداری کا ذریعہ ہے، اور الٰہی قوانین کے مطابق استجابت دعا اسی وقت ہوتی ہے جب دل خدا کی طرف جھک جائے۔
دعا کی توفيق اور استجابت
دعا دو طرف سے الله کی رحمت سے گهری ہوئی ہوتی ہے۔ ایک الله کی طرف سے توفیق کی صورت میں اور دوسری استجابت دعا کی صورت میں۔ بندے کی دعا الله کی دی ہوئی توفیق کے علاوہ قبول نہیں ہوتی، الله اپنے بندے کو دعا کرنے کی توفیق کا رزق عطا کرتا ہے چونکہ بندہ اس توفیق کے بغیر الله کی بارگاہ میں دعا پيش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا لہٰذا دعا سے پہلے اس توفیق کا ہونا ضروری ہے اور جب بندہ خدا سے دعا کرتا ہے تو الله اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔[۱]
مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔
تو پہلے الله سے دعا کرنے کی توفیق لازم ہوتی ہے اور پهر دعا بارگاہ معبود میں قبول ہوتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں دعا کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، یہ دونوں الله کی رحمت کے دروازے ہیں جو بندے کےلئے اس کے دعا کرنے سے پہلے اور دعا کرنے کے بعد کهلے رہتے ہیں۔
حضرت رسول خدا ﷺ سے مروی ہے:
مَن فُتِحَ له مِن الدُّعاءِ مِنكُم فُتِحَت لَهُ أبوابُ الرحمة۔[۲]
تم میں سے جس شخص کےلئے دعا کا دروازہ کهل جائے اس کےلئے ابواب رحمت کهل جاتے ہیں۔
حضرت امام زین العابدین (ع) سے مروی ہے:
فَذَكَروكَ بِمَنِّكَ وشَكَروك۔
پس انہوں نے تیرے فضل کو یاد کیا اور تیرا شکر ادا کیا۔
جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہے تو یہ الله کی عصمت اور اس کے فضل کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے وہ (خدا) بندے کے شکر کا مستحق ہے اور امام زین العابدین (ع) ہی مناجات خمس عشرہ میں فرماتے ہیں:
فَانَّا بِكَ وَلَكَ وَلاوَسيلَةَ لَنا الَيْكَ الَّا انْتَ۔
ہم تيری وجہ سے ہيں اور تیرے لئے ہیں اور ہمارے پاس تیرے علاوہ تیرے پاس آنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
بندہ اپنے پروردگار کو اس کے احسان و فضل کی بنا پر ہی یاد کرتا ہے (پہلے خداوند عالم کا فضل و کرم ہوتا ہے پهر بندہ خدا کو یاد کرتا ہے)، بندے کےلئے الله تک پہنچنے کےلئے اس کے فضل اور رحمت کا ہی وسیلہ ہے، جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہے تو اس کے فضل سے ہی یاد کرتا ہے، جب دعا کرتا ہے تو یہ اس کی دی ہوئی توفیق ہی سے دعا کرتا ہے اور جب اس کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اسی کی دی ہوئی رحمت کی وجہ سے ہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ حضرت امام حسین (ع) دعائے عرفہ میں فرماتے ہيں:
لَم يَمنَعكَ جَهلي وجُرأَتي عَلَيكَ أن دَلَلتَني عَلى ما يُقَرِّبُني إلَيكَ، ووَفَّقتَني لِما يُزلِفُني لَدَيكَ۔
”تو ميری جہالت اور ميری جرات نے تجھے ميری رہنمائی کرنے سے نہیں روکا، اس چیز کی طرف جو مجھے تجھ سے قریب کردے اور تو نے مجھے توفیق دی اس امر کی جانب کہ جو مجھے تجھ سے قرب عطا کرے۔“
دعا کےلئے سب سے نازک چیز دعا کی توفیق ہونا ہے، بندے کو خداوند عالم سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ خداوند عالم اس کو دعا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ صحیفہ سجادیہ کی دعاؤں میں حضرت امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں:
وَاعْمُرْ لَيْلِي بِإِيقَاظِي فِيهِ لِعِبَادَتِكَ، وَإِنْزَالِ حَوَائِجِي بِكَ۔[۳]
اور ميری راتوں کو عبادت کےلئے شب بیداری اور تنہائی میں تہجد اور سب سے الگ ہو کر تجھ سے لو لگانے اور اپنی حاجتوں کو تیرے سامنے پيش کرنے کےلئے آباد رکهنا۔
حضرت امام جعفر صادق (ع)، الله سے دعا کی توفيق طلب کرتے ہوئے عرض کرتے ہيں:
فَأَعِنّي عَلى طاعَتِكَ، ووَفِّقني لِما أوجَبتَ عَلَيَّ مِن كُلِّ ما يُرضيكَ، فَإِنّي لَم أرَ أحَدا بَلَغَ شَيئا مِن طاعَتِكَ إلاّ بِنِعمَتِكَ عَلَيهِ قَبلَ طاعَتِكَ، فَأَنعِم عَلَيَّ بِنِعمَةٍ أنالُ بِها رِضوانَكَ۔[۴]
پس اپنی اطاعت پر ميری مدد کر اور مجهے اپنی ادائیگی کی توفیق دے اس طرح کہ تو مجھ سے راضی ہوجائے ميں نے کسی کو نہيں دیکها جو تيری اطاعت تک پہنچا ہو مگر اطاعت سے پہلے تيری ہی نعمت توفيق کے ذریعے لہٰذا مجھ پر نعمت نازل کر جن کے ذریعے ميں تيری خوشنودی حاصل کرسکوں۔
حضرت امام علی بن الحسين (ع) فرماتے ہيں:
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی أَصُولُ بِک عِنْدَ الضَّرُورَةِ، وَ أَسْأَلُک عِنْدَ الْحَاجَةِ، وَ أَتَضَرَّعُ إِلَیک عِنْدَ الْمَسْکنَةِ، وَ لَا تَفْتِنِّی بِالاسْتِعَانَةِ بِغَیرِک إِذَا اضْطُرِرْتُ[۵]
پروردگار! مجھے ایسا بنا دے کہ ضرورت کے وقت تيرے ذریعے حملہ کروں اور حاجت کے موقع پر تجھ سے سوال کروں، مسکینی ميں تيری بارگاہ ميں گڑگڑاؤں اور مجھے ایسی آزمائش ميں نہ ڈال دینا کہ مجبوری ميں تيرے غیر سے مدد مانگنے لگوں۔
استجابت دعا اور اس کی جزا
بندے کی دعا قبول ہونے کی اہمیت خداوند عالم کے یہاں دو جہتوں سے ہے ایک جہت سے نہیں ہے اور ان ميں سے ایک جہت دوسری جہت سے زیادہ عظیم ہے۔ یعنی انسان سوال کے ذریعے اس مطلب کا اظہار کرے جس کے ذریعے انسان الله سے صرف دنیا یا صرف آخرت یا ان دونوں کو ایک ساتھ طلب کرتا ہے۔ بیش قیمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم بنفس نفيس بندے کی دعا کا جواب دے تو اس کا مطلب خداوند عالم کا اپنے بندے کی دعا قبول کرنا ہی ہے کیونکہ جتنی مرتبہ بهی خداوند عالم قبول کرے گا اتنی ہی مرتبہ گویا بندے کی طرف توجہ کرے گا۔
دنيا کی ہر چيز کی قيمت اور حد ہوتی ہے لیکن خداوند قدوس کا اپنے بندے کی طرف متوجہ ہونے کےلئے نہ کوئی حساب ہے اور نہ کوئی حد ہے۔ لیکن جب بندے پر خدا کی خاص عنایت ہوتی ہے تو اس وقت بندے کی سعادت کی کوئی حد نہیں ہوتی اور اس سعادت سے بلند کوئی اور سعادت نہیں ہوتی جس کو الله اپنے بندوں ميں سے بعض بندوں سے مخصوص کردیتا ہے اور اس کی دعا قبول کرکے یہ نشاندہی کراتا ہے کہ جس چيز کا بندے نے خدا سے سوال کيا ہے وہ کتنی قیمتی اور اہم ہے۔
حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے:
لقد دعوت الله مرة فاستجاب ونسيت الحاجة لان استجابته باقباله على عبده عند دعوته أعظم وأجل مما يريد منه العبد، ولو كانت الجنة ونعيمها الابد، ولكن لا يعقل ذلك إلا العاملون المحبون العابدون العارفون صفوة الله وخاصته[۶]
ميں نے ایک مرتبہ خداوند عالم سے دعا کی اور اس نے قبول کرلی تو ميں اپنی حاجت ہی کو بهول گيا اس لئے کہ اس کا دعا کی قبوليت کے ذریعے بندے کی طرف توجہ کرنا بندے کی حاجت کے مقابلہ ميں بہت عظيم ہے چاہے وہ صاحب حاجت اور اس کی ابدی نعمتوں سے متعلق ہی کيوں نہ ہو ليکن اس بات کو صرف خداوند عالم کے علماء، محبين، عابدین، عرفا اور اس کے مخصوص بندے ہی سمجھ سکتے ہیں۔
پس دعا اور استجابت دعا دونوں الله اور بندے کے مابین ایک تعلق و لگاؤ ہے یعنی سب سے افضل و اشرف تعلق ہے۔ الله اور اس کے بندوں کے درمیان اس سے افضل کون سا تعلق و لگاؤ ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کے حضور ميں اپنی حاجت پيش کرے اور الله اس کو قبول کرے اور اس سے مخصوص قرار دے۔ اس تعلق کی لذت اور نشوونما اور بندے پر خداوند عالم کی توفيق و عنایات ميں اسی وقت مزہ ہے جب انسان اپنی مناجات، ذکر اور دعا کو خدا سے مخصوص کردے۔
آیت الله محمد مہدی آصفی کا کہنا ہے کہ الله سے اس تعلق و لگاؤ کی لذت بندے پر الله کی عنایت ہے کہ بندہ اس طرح خداوند عالم کی یاد ميں غرق ہوجاتا ہے کہ انسان خدا کی بارگاہ ميں اپنی حاجتیں پيش کرنے ميں مشغول ہوجاتا ہے۔ اور کون لذت اس لذت کے مقابل ہوسکتی ہے؟ اور کون سی دولت خداوند عالم کے حضور ميں پيش ہونے، اس سے ملاقات، مناجات اور اس کا تذکرہ کرنے اور اس کے جلال و جمال ميں منہمک ہونے کے مانند ہوسکتی ہے اور دعا کرنے کےلئے الله کے سامنے کهڑا ہونا یہ خدا کے سامنے حاضر ہونے اس سے ملاقات، مناجات اور اس کو یاد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
ایک عارف کا کہنا ہے: الله کے حضور ميں الله کے علاوہ کسی اور سے کوئی سوال کرنا الله کے نزد یک بہت برا ہے اور خدا کے علاوہ اس کے جلال اور جمال ميں منہمک ہوجانا ہے۔
رسول خدا ﷺ سے مروی ہے کہ حدیث قدسی ميں آیا ہے:
مَن شَغَلَهُ ذِكري عن مَسألَتي أعطَيتُهُ أفضَلَ ما اُعطِي السائلينَ[۷]
جو شخص مجھ سے کوئی سوال کرے گا تو ميں اس کو سوال سے زیادہ عطا کروں گا۔
حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے:
إنّ العبد لتكون له الحاجة إلى الله تعالى فيبدأ بالثناء على الله والصلاة على محمّد وآله حتى ينسى حاجته، فيقضيها من غير أن يسأله إيّاها[۸]
اگر بندہ، خدا سے کوئی حاجت رکهتا ہو اور وہ خداوند عالم سے اپنی حاجت کی ابتداء اس کی حمد و ثنا اور محمد و آل محمد ﷺ پر صلوات بهيج کر کرے اور اسی دوران وہ اپنی حاجت بهول جائے تو اس سے پہلے کہ وہ خداوند عالم سے حاجت کا سوال کرے وہ اس کی حاجت پوری کردے گا۔
مناجات محبين ميں حضرت امام زین العابدین (ع) سے مروی ہے:
ہم کو ان ميں سے قرار دے کہ جن کے دلوں کو اپنی چاہت کےلئے گرویدہ کرليا ہے اوراپنے مشاہدے کےلئے انہیں چن ليا ہے اپنی طرف توجہ کی یک سوئی عنایت کی ہے اور اپنی محبت کےلئے ان کے دلوں کو خالی کرليا ہے اور اپنے ثواب کےلئے راغب بنایا ہے۔ اور ہر اس چيز سے الگ کردیا ہے جو بندے کو تجھ سے الگ کرسکے۔
دعا اور استجابت دعا میں ربط
خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔[۹]
اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو ميں قبول کروں گا اور یقیناً جو لوگ ميری عبادت سے اعراض ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم ميں داخل ہوں گے۔
دعا اور استجابت دعا کے درمیان کيا رابطہ ہے؟
استجابت دعا کیسے تمام ہوتی ہے؟
بےشک خداوند عالم کی طرف سے استجابت دعا کے الٰہی سنتوں اور قوانین کے ذریعے انجام پاتی ہے جیسا کہ تمام افعال ميں خدا کا یہی طریقہ رائج ہے۔ منفعل ہونا خدا کی ذات ميں نہیں ہے جیسا کہ ہم انسانوں کی فطرت ہے کہ کبهی ہم غصہ ہوتے ہيں، کبهی خوشحال ہوتے ہيں، کبهی غصہ ہوتے ہيں، کبهی خوش ہوتے ہيں، کبهی چُست رہتے ہيں اور کبهی ملول و رنجيدہ رہتے ہيں۔ اور خداوند عالم کے افعال ایک طرح کے قانون اور سنت ہيں ان ميں خوشی یا غصہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا تمام سنتیں اور قوانین الہیہ اپنی جگہ پر ثابت ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ خداوند عالم خوش ہوگا تو دعا قبول کرے گا اور ناراض ہوگا تو دعا قبول نہیں کرے گا۔ یہ تمام الٰہی سنتیں افق غيب (میڻا فزکس) ميں اس طرح جاری ہوتی ہیں جس طرح فزکس، کيميا، اور مکینک ميں بغیر کسی فرق کے جاری ہوتی ہیں۔
وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا۔[۱۰]
تم خدا کی سنت ميں ہرگز تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا۔[۱۱]
ہرگز خدا کے طریقہ کار ميں کوئی تغیر نہیں ہوسکتا ہے۔
دعا قبول ہونے ميں الله کی سنت کيا ہے؟
دعا اور استجابت دعا کے درمیان رابطے کے سلسلے ميں نصوص اسلامیہ ميں دعا کو اجابت کی کلید کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہی کلمہ دعا اور استجابت دعا کے درمیان رابطے کی نوعیت کو معين و مشخص کرتا ہے۔
حضرت علی (ع) سے مروی ہے:
الدُّعاءُ مِفتاحُ الرَّحمَةِ۔[۱۲]
دعا، رحمت کی کنجی ہے۔
اور امام امیرالمومنین علی بن ابی طالب (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) کو وصیت فرمائی:
ثُمَّ جَعَلَ فِى يَدِكَ مَفاتيحَ خَزائِنِهِ بِما أَذِنَ فِيهِ مِنْ مَسْأَلَتِهِ، فَمَتى شِئْتَ اِسْتَفْتَحْتَ بِالدُّعاءِ أَبْوابَ خَزائِنِهِ۔[۱۳]
”تمہارے ہاتھوں ميں اپنے خزانوں کی کلید قرار دی پس جب تم چاہو تو اس دعا کے ذریعے خزانوں کے دروازے کهول سکتے ہو۔“
دعا اور استجابت دعا کے درميان رابطے کی واضح و روشن تعبیر: ”فَمَتى شِئْتَ اِسْتَفْتَحْتَ بِالدُّعاءِ أَبْوابَ خَزائِنِهِ“ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جس کلید سے ہم الله کی رحمت کے خزانوں کو کهول سکتے ہيں وہ دعا ہے۔
اور اللہ کی رحمت کے خزانے کبهی ختم نہیں ہوتے لیکن ایسا بهی نہیں ہے کہ تمام لوگ الله کی رحمت کے خزانوں کے مالک بن جائیں اور ایسا بهی نہیں ہے کہ تمام لوگ آسانی سے الله کی رحمت کے خزانوں کو حاصل کرسکيں۔
امام جعفر صادق (ع) سے خداوند عالم کے قول:
مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا[۱۴]
(الله انسانوں کےلئے جو رحمت کا دروازہ کهول دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں ہے)، کے بارے ميں روایت کی گئی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: وہ دعا ہے۔[۱۵]
بےشک دعا وہ کلید ہے جس کے ذریعے خداوند عالم لوگوں کےلئے اپنی رحمت کے دروازوں کو کهول دیتا ہے اور اس کليد کو خداوند عالم نے اپنے بندوں کے ہاتهوں ميں قرار دیا ہے۔ رسول الله (ص) سے مروی ہے کہ:
مَن فُتِحَ له مِن الدُّعاءِ مِنكُم فُتِحَت لَهُ أبوابُ الإجابَةِ[۱۶]
تم ميں سے جس شخص کےلئے باب دعا کهل جائے تو اس کےلئے اجابت کے دروازے کهل جاتے ہيں۔
الله تبارک و تعالیٰ جو دعا کے ذریعے بندے کےلئے دروازے کهول دیتا ہے وہ اس کےلئے ابواب اجابت بهی کهول دیتا ہے۔
حضرت امیرالمومنین (ع) سے مروی ہے:
مَن قَرَعَ بابَ اللّه سبحانَهُ فُتِحَ لَهُ[۱۷]
جو الله کے دروازے کو کهڻکهڻاتا ہے تو الله اس کےلئے دروازہ کهول دیتا ہے۔
اور امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے:
فَأَكْثِرْ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ مِفْتَاحُ كُلِّ رَحْمَةٍ ونَجَاحُ كُلِّ حَاجَةٍ، ولَا يُنَالُ مَا عِنْدَ الله عَزَّ وجَلَّ إِلَّا بِالدُّعَاءِ، وإِنَّهُ لَيْسَ بَابٌ يُكْثَرُ قَرْعُهُ إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لِصَاحِبِهِ[۱۸]
زیادہ دعا کرو اس لئے کہ دعا ہر رحمت کی کنجی ہے۔ ہر حاجت کی کامیابی ہے اور الله کے پاس جو کچھ ہے اس کو دعا کے علاوہ کسی اور چيز سے حاصل نہیں کيا جا سکتا اور ایسا کوئی دروازہ نہیں جس کو بہت زیادہ کهڻکهڻایا جائے اور وہ کهڻکهڻانے والے کےلئے نہ کهلے۔
حضرت امیرالمومنین (ع) سے مروی ہے:
اَلدُّعَاءُ مَفَاتِيحُ اَلنَّجَاحِ وَ مَقَالِيدُ اَلْفَلاَحِ وَ خَيْرُ اَلدُّعَاءِ مَا صَدَرَ عَنْ صَدْرٍ نَقِيٍّ وَ قَلْبٍ تَقِيٍّ[۱۹]
دعا کاميابی کی کليد اور رستگاری کے ہار ہيں اور سب سے اچهی دعا وہ ہوتی ہے جو پاک و صاف اور پرہيزگار دل سے کی جاتی ہے۔
پیغمبر اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ:
ألا أدُلُّكُم عَلى سِلاحٍ يُنجِيكُم مِن أَعدائِكُم، وَيُدِرُّ أرزاقَكُم؟ قالوا: بَلى يا رَسولَ اللّهِ. قالَ: تَدعونَ رَبَّكُم بِاللَّيلِ وَالنَّهارِ؛ فَإنّ سِلاحَ المُؤمِنِ الدُّعاءُ.[۲۰]
آگاہ ہو جاؤ کيا ميں تمہاری اس اسلحے کی طرف رہنمائی کروں جو تمہیں تمہارے دشمنوں سے محفوظ رکهے اور تمہارا رزق چلتا رہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: خداوند عالم کو رات دن پکارو اس لئے کہ دعا مو من کا اسلحہ ہے۔
خاتمہ
انسان کی پوری روحانی جدوجہد کا حاصل اس کا اپنے رب سے تعلق ہے، اور اس تعلق کا سب سے واضح ثمر استجابت دعا ہے۔ دعا خدا کے ہاں فقط اپنی خواہش پیش کرنے کا عمل نہیں بلکہ اپنے ارادے، نیت اور باطن کو خدا کے فیصلے کے سپرد کرنا ہے، اور اسی سپردگی سے استجابت دعا کا راستہ کھلتا ہے۔ ائمہ اہل بیت (ع) کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ بندہ جب دعا کے ساتھ اپنے کردار، نیت اور عمل کو پاکیزہ بناتا ہے تو یہی پاکیزگی استجابت دعا کی حقیقی بنیاد بنتی ہے۔ دعا انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے، اور قبولیت سے زیادہ اہم یہ تعلق ہے جو اسے روحانی سکون، یقین اور الٰہی توجہ عطا کرتا ہے۔
حوالہ جات
[۱]۔ مؤمن: ۶۰۔
[۲]۔ درّ منثور کی نقل کے مطابق: طباطبائى، الميزان، ج۲، ص۴۲۔
[۳]۔ على بن الحسين (ع)، صحيفہ سجادیہ، دعا ۴۷۔
[۴]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۳۲۰۔
[۵]۔ على بن الحسين (ع)، صحيفہ سجادیہ، دعا ۲۰۔
[۶]۔ جعفر بن محمد (ع)، مصباح الشریعة، ص۱۴–۱۵؛ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۳۲۳۔
[۷]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۳۲۳۔
[۸]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۳۱۲۔
[۹]۔ مؤمن: ۶۰۔
[۱۰]۔ احزاب: ۶۲۔
[۱۱]۔ فاطر: ۴۳۔
[۱۲]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۳۰۰۔
[۱۳]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۲۹۹۔
[۱۴]۔ فاطر: ۱۔
[۱۵]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۲۹۹
[۱۶]۔ متقی، کنزالعمال، حدیث ۳۱۵۶۔
[۱۷]۔ تميمى آمدى، غررالحکم، حدیث ۸۲۹۲۔
[۱۸]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۹۳، ص۲۹۵؛ حر عاملی، وسائل الشيعہ، ج۴، ص۱۰۸۶، حدیث ۸۶۱۶۔
[۱۹]۔ حر عاملی، وسائل الشيعہ، ج۴، ص۱۰۹۴، حدیث ۸۶۵۷؛ کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۵۱۷۔
[۲۰]۔ حر عاملی، وسائل الشيعہ، ج۴، ص۱۰۹۵، حدیث ۸۶۵۸۔
کتابیات
۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، غرر الحكم و درر الكلم، قم، دار الكتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ق۔
۳۔ جعفر بن محمد (ع)، امام ششم، مصباح الشریعه و مفتاح الحقیقه، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، ۱۴۰۰ق۔
۴۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۶۷ش۔
۵۔ طباطبائى، محمد حسين، الميزان فى تفسير القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامى جامعۀ، ۱۴۱۷ق۔
۶۔ على بن الحسين (ع)، امام چهارم، الصحيفة السجادية، قم، دفتر نشر الهادى، ۱۳۷۶ش۔
۷۔ کلینی، محمد بن يعقوب، الکافی، قم، دارالحديث، ۱۴۲۹ق۔
۸۔ متقی، علی بن حسامالدین، کنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال، بیروت، مؤسسة الرسالة، ۱۴۰۹ق۔
۹۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعة لدُرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)
آصفی، محمد مهدی، الدعا عند أهل البيت (ع) جلد اول، مترجم: نقوی، سید ضرغام، قم، مجمع جهانی اهل بیت (ع)، ۱۴۱۶ق۔