رہبر شہید سید علی خامنہ ای کی سیرت اور اخلاقیات

رہبر شہید سید علی خامنہ ای کی سیرت اور اخلاقیات

کپی کردن لینک

رہبر شہید سید علی خامنہ ای عالم اسلام کی وہ عظیم اور نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی کو دین مبین کی سربلندی اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیا۔ آپ اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے قائد ہونے کے ناطے سیاسی اور روحانی بصیرت کا ایک بے مثال نمونہ تھے۔ آپ نے نہ صرف عالمی سطح پر امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا بلکہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اعلیٰ انسانی اقدار کی ترویج بھی کی۔ آپ کی بابرکت حیات اور قیمتی افکار آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن اور واضح راستہ متعین کرتے ہیں۔

خاندانی پس منظر اور ولادت

رہبر شہید ۱۹ اپریل ۱۹۳۹ کو مشہد مقدس کی روحانی فضاؤں میں پیدا ہوئے۔ رہبر شہید کے والد گرامی سید جواد حسینی خامنہ ای نجف اشرف کے نامور اور ممتاز علما میں شمار ہوتے تھے اور ایک زاہدانہ طرز حیات کے حامل تھے۔ وہ مشہد کی مشہور مسجد گوہرشاد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے اور عوام کے دلوں میں بے پناہ احترام رکھتے تھے۔ آپ کا تعلق سادات افطسی سے ہے اور آپ کا شجرہ نسب پانچ واسطوں سے امام زین العابدین (ع) سے جا ملتا ہے [۱]۔

آپ کی والدہ محترمہ خدیجہ میردامادی بھی ایک انتہائی پرہیزگار اور عالمہ خاتون تھیں جن کا شجرہ نسب محمد دیباج کے واسطے سے امام جعفر صادق (ع) تک پہنچتا ہے۔ اس عظیم خاندانی ورثے نے آپ کی شخصیت میں روحانیت اور علم کی گہری بنیادیں فراہم کیں اور رہبر شہید کو حق کی راہ میں ثابت قدم رکھا۔ آپ کے دادا سید حسین خامنہ ای بھی اپنے دور کے ممتاز اور حریت پسند علما میں شامل تھے جنہوں نے مشروطہ کی تحریک میں حصہ لیا۔ آپ کے خاندان نے ہمیشہ حق اور صداقت کی آواز بلند کی اور دین کی خدمت کو اپنا شعار بنایا [۲]۔

ابتدائی تعلیم کا آغاز

رہبر شہید سید علی خامنہ ای نے محض چار سال کی عمر میں مکتب خانے سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور بہت کم عمری میں قرآن مجید کی تلاوت اور تجوید پر عبور حاصل کر لیا۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد رہبر شہید نے مشہد کے مشہور دینی مدارس سلیمان خان اور نواب میں داخلہ لیا اور اپنی علمی تشنگی بجھائی۔ یہاں آپ نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید عصری تعلیم بھی حاصل کی اور ہائی اسکول تک کا سفر نمایاں کامیابی سے مکمل کیا۔ اس دور میں آپ کی علمی پیاس اور لگن دیگر تمام طلبہ کے لیے ایک روشن مثال تھی [۳]۔

اعلی دینی تعلیم اور اساتذہ

رہبر شہید نے سید محمد ہادی میلانی کے درس خارج میں شرکت کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے نجف اشرف کا سفر اختیار کیا۔ وہاں مختصر قیام کے دوران آپ نے نامور علما سے کسب فیض کیا اور پھر قم کی عظیم علمی درسگاہ کا رخ کر لیا۔ قم میں آپ نے امام خمینی اور علامہ طباطبائی جیسے نابغہ روزگار اساتذہ کی شاگردی اختیار کی اور ان کے علمی اور روحانی سرچشموں سے اپنی روح کو سیراب کیا۔ ان عظیم اساتذہ کی صحبت نے آپ کی فکری اور روحانی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کیا [۴]۔

جلاوطنی اور استقامت

۱۹۷۷ میں حکومت نے رہبر شہید کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہو کر آپ کو ایرانشہر کی جانب جلاوطن کر دیا۔ بعد ازاں آپ کو جیرفت منتقل کر دیا گیا جہاں آپ نے تقریباً اڑھائی ماہ کا عرصہ انتہائی کٹھن حالات میں گزارا۔ اس جلاوطنی کے دوران بھی آپ نے مقامی لوگوں کے ساتھ گہرے روابط قائم کیے اور ان کی روحانی اور فکری تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ کی یہ ثابت قدمی اور استقامت دراصل اس عظیم مقصد کی سچائی کی دلیل تھی جس کے لیے آپ جدوجہد کر رہے تھے [۵]۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کی خدمات

اسلامی انقلاب کی شاندار کامیابی کے بعد رہبر شہید کو کونسل آف اسلامک ریوولیوشن کا اہم ترین رکن نامزد کیا گیا جہاں آپ نے ملکی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے اس کونسل کے پلیٹ فارم سے دفاعی معاملات، ملکی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے خدوخال مرتب کرنے میں انتہائی اہم خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے وزارت دفاع میں بھی نمایاں ذمہ داریاں نبھائیں اور پاسداران انقلاب (IRGC) کی تشکیل اور تنظیم نو میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ آپ کی شب و روز کی محنت نے اس نوخیز اسلامی ریاست کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی [۶]۔

۱۹۸۱ میں عوام نے رہبر شہید پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا صدر منتخب کر لیا۔ آپ نے ۱۹۸۵ میں دوسری مرتبہ بھی بھاری اکثریت سے صدارتی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور عوامی خدمت کے اس سفر کو جاری رکھا۔ آپ کی قیادت میں ایران نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر حیران کن کامیابیاں سمیٹیں [۷]۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کا منصب

امام خمینی کی رحلت کے بعد اعلیٰ سطحی ماہرین اسمبلی (مجلس خبرگان) کا تاریخی اجلاس بلایا گیا جو ملک کے سربراہ کا انتخاب کرتی ہے اس نے رہبر شہید کی فقہی اور سیاسی بصیرت کے پیش نظر آپ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ ترین منصب قیادت کے لیے منتخب کیا۔ اس انتخاب کے بعد ملک بھر سے علمائے کرام، اعلیٰ حکام اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ تجدید عہد کیا اور آپ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

آپ نے اس عظیم ذمہ داری کو انتہائی احسن اور مثالی انداز میں نبھایا اور امام خمینی کے روشن کیے ہوئے چراغ کو کبھی مدھم نہیں ہونے دیا۔ آپ نے ہر بحران میں قوم کو ایک مجرب اور دانا رہنما کی طرح سیدھا راستہ دکھایا [۸]۔

محور مقاومت کی بھرپور حمایت اور استقامت

رہبر شہید نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا کسی صورت میں بھی اہل ایمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا لہذا آپ نے محور مقاومت کی کھل کر سرپرستی کی۔ آپ کی مستقل اور غیر متزلزل حمایت کی بدولت فلسطین، لبنان اور یمن کے مظلوم عوام کو ایک نیا حوصلہ ملا اور وہ غاصب قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔

آپ کا یہ پختہ نظریہ تھا کہ غاصب صہیونیوں کے ساتھ کسی قسم کی سودے بازی سے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔ آپ نے ہر عالمی فورم پر اس موقف کا پوری قوت کے ساتھ دفاع کیا [۹]۔

نوجوانوں کے نام پیغامات اور قرآن کی جانب دعوت

مغرب میں اسلام کے خلاف ہونے والے بے بنیاد اور زہریلے پروپیگنڈے کو زائل کرنے کے لیے آپ نے یورپ اور امریکہ کے نوجوانوں کے نام انتہائی فکر انگیز خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میں آپ نے مغربی نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو متعصب میڈیا کی عینک سے دیکھنے کے بجائے براہ راست قرآن مجید اور سیرت پیغمبر (ص) کا مطالعہ کریں۔

اسی طرح امریکی جامعات میں فلسطین کی حمایت کرنے والے طلبہ کے نام بھی آپ نے ایک محبت بھرا خط لکھا اور انہیں مزاحمت کے عالمی محاذ کا حصہ قرار دیا۔ ان کاوشوں نے مغربی دنیا میں اسلام کے حوالے سے ایک انتہائی مثبت اور پرسکون بحث کا آغاز کیا [۱۰]۔

دشمن کے خلاف قاطعیت اور آپریشن وعدہ صادق

جب بھی عالمی استکبار نے ایران یا امت مسلمہ کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو آپ نے اس کا انتہائی سخت اور دندان شکن جواب دیا۔ ۱۴ اپریل ۲۰۲۴ کو دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں آپ کے براہ راست حکم پر انتہائی کامیاب اور تاریخی کارروائی کی گئی۔

اس کارروائی میں ایران نے غاصب ریاست کے اہم ترین عسکری اور دفاعی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دنیا کو پیغام دیا کہ ایران اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ آپ کی اسی دلیری اور شجاعت نے دشمنوں کے دلوں میں ہیبت طاری کر دی اور اسلامی دنیا کا سر فخر سے بلند کر دیا [۱۱]۔

فقہی افکار اور اسلامی بیداری

رہبر شہید سید علی خامنہ ای نے فتوحات اور دینی احکام کے میدان میں بھی نہایت روشن اور واضح افکار پیش کیے جنہوں نے معاشرے کی بے شمار الجھنوں کو سلجھا دیا۔ آپ نے قمہ زنی جیسی رسومات کو دین میں بدعت قرار دیا اور اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو صریحاً حرام قرار دے کر مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کا راستہ روکا۔

اسی طرح آپ نے ایٹمی ہتھیاروں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہر قسم کے ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو شرعاً حرام اور ناجائز قرار دیا۔ آپ کا یہ تاریخی اور جرأت مندانہ فتویٰ اقوام متحدہ میں بھی ایک اہم اور مستند دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا [۱۲]۔

علمی آثار اور کتب بینی کا شوق

آپ ایک بے مثال رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحب طرز ادیب اور بہترین مصنف بھی تھے جن کے قلم سے بے شمار علمی، تاریخی اور تفسیری کتب منصہ شہود پر آئیں۔ آپ کی تصانیف میں انسان دو سو پچاس سالہ اور قرآنی افکار پر مبنی کتابیں دنیا بھر میں مقبول ہوئیں اور انہیں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔

آپ کو جوانی سے ہی مطالعے کا بہت شوق تھا اور آپ نے دنیا کے بڑے بڑے نامور ادیبوں اور مفکرین کی کتابوں کا انتہائی گہرا مطالعہ کر رکھا تھا۔ آپ ہمیشہ نوجوانوں کو مطالعے کی ترغیب دیتے اور کتب بینی کو معاشرے کی تہذیبی اور ثقافتی ترقی کے لیے ازحد ضروری خیال کرتے تھے [۱۳]۔

زندگی کا آخری سفر اور جام شہادت

رہبر شہید نے اپنی تمام عمر خدا کی راہ میں مجاہدانہ انداز میں گزاری اور شہادت کی آرزو ہمیشہ آپ کے قلب میں موج زن رہی جسے آپ نے بارہا اپنی گفتگو میں بھی بیان کیا۔ رہبر شہید سید علی خامنہ ای کی مظلومانہ شہادت کا اندوہناک واقعہ ۲۸ فروری ۲۰۲۴ مطابق ۱۰ رمضان ۱۴۴۷ ہجری کو پیش آیا۔ آپ ہفتے کے دن صبح کے وقت تہران میں اپنی رہائش گاہ پر امریکہ اور غاصب صہیونی ریاست کے ایک مشترکہ اور وحشیانہ فضائی حملے میں جام شہادت نوش کر گئے [۱۴]۔

یہ بزدلانہ حملہ ہفتے کی صبح تہران کے وقت کے مطابق تقریبا ۹ بج کر ۴۰ منٹ پر اس وقت کیا گیا جب غاصب ریاست کو اعلیٰ حکام کے ساتھ رہبر معظم کے ایک اہم اجلاس کی خفیہ اطلاع ملی۔ اس سفاکانہ کارروائی میں پچاس صیہونی جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور بلیو اسپیرو سمیت دسیوں انتہائی تباہ کن اور ہلاکت خیز میزائل داغے گئے۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس حملے میں داغے گئے میزائلوں کی تعداد تیس سے لے کر سو سے زائد تک بتائی گئی ہے۔

اس اندوہناک اور وحشیانہ بمباری میں نہ صرف رہبر معظم شہید ہوئے بلکہ ان کے خاندان کے کئی اہم اور قریبی افراد نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ شہید ہونے والوں میں رہبر شہید کی صاحبزادی، داماد، بہو اور پوتے کے علاوہ دفتر کے کئی اہم اور سرکردہ اراکین بھی شامل تھے جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ مزید برآں، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر اور وزیر دفاع سمیت کئی اعلیٰ عسکری کمانڈرز بھی اس حملے میں شہید ہو گئے [۱۵]۔[۱۶]۔

امریکی استکبار کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے رہبر شہید اکثر تاریخی اور مذہبی حوالوں کا سہارا لیتے تھے اور حق کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے تھے۔ رہبر شہید نے اپنی آخری تقریر میں امام حسین (ع) کے اس عظیم فرمان کا پرجوش حوالہ دیا تھا تاکہ باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی روایت زندہ رہے:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَ يَزِيدَ» "مجھ جیسا شخص یزید جیسے کی ہرگز بیعت نہیں کر سکتا۔” [۱۷]۔ رہبر شہید عالمی سطح پر مزاحمتی محاذ کے غیر متنازعہ قائد اور مغربی تسلط کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر چٹان کی طرح کھڑے رہے [۱۸]۔

انفرادی اخلاقیات اور تہذیب نفس

رہبر شہید کی اخلاقی نصائح کا سب سے اہم اور بنیادی جزو انسان کی اپنی ذات اور نفس امارہ کے خلاف مسلسل اور کٹھن جدوجہد پر مبنی ہے۔ رہبر شہید اس بات پر زور دیتے تھے کہ تقویٰ اختیار کرنا اور گناہوں سے مکمل پرہیز کرنا ہی انسان کو دنیا اور آخرت کی حقیقی سرخروئی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

رہبر شہید نے نماز کو پورے دھیان اور دل کی گہرائیوں سے ادا کرنے کی ہدایت کی اور قرآنی آیات کو زندگی کا حقیقی رہبر اور رہنما بنانے کا درس دیا۔ آپ کے نزدیک تکبر، حسد اور ریاکاری جیسی بیماریاں انسان کے روحانی اور فکری زوال کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب ہیں [۱۹]۔

خاندانی طرز زندگی اور عفت و حیا

معاشرے کی تعمیر میں خاندان کے کردار کو رہبر شہید انتہائی اہمیت دیتے تھے اور اسی بنیاد پر رہبر شہید نے خاندانی نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی تلقین کی۔ رہبر شہید کا ماننا تھا کہ معاشرے کی بقا اور پاکیزگی کے لیے عورتوں اور مردوں کا عفت اور حیا کے دامن کو تھامے رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

رہبر شہید نے شادی بیاہ کے معاملات میں انتہائی سادگی اختیار کرنے اور بھاری بھرکم جہیز اور بے جا رسم و رواج سے گریز کرنے کی بارہا اور پرزور ہدایت کی۔ رہبر شہید کی نظر میں شوہر اور بیوی کے درمیان باہمی احترام، درگزر اور الفت ہی ایک پرسکون اور خوشگوار گھرانے کی ضامن ہے [۲۰]۔

نتیجہ

رہبر شہید سید علی خامنہ ای نے اپنی ذات اور اپنے فرائض کو مکمل طور پر پروردگار کی رضا اور خوشنودی کے تابع کر رکھا تھا۔ رہبر شہید کی قیادت نے امت مسلمہ کو ایک نیا شعور دیا اور اخلاقی تعلیمات نے لاکھوں انسانوں کے تاریک قلوب کو نور ہدایت سے منور کر دیا۔ رہبر شہید کی عظیم شہادت آپ کی صداقت اور حقانیت کی وہ آخری اور سب سے بڑی گواہی ہے جسے تاریخ کے اوراق کبھی بھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ رہبر شہید کا چھوڑا ہوا یہ شاندار ورثہ تاقیامت حق کے متلاشیوں کے لیے ایک مینارہ نور کی حیثیت سے جگمگاتا اور راہ دکھاتا رہے گا۔


حوالہ جات

[۱] شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، ج۷، ص۱۲۸۔

[۲] زنگنہ، مشاہیر مدفون در حرم رضوی، ج۱، ص۴۵۸۔

[۳] بہبودی، شرح اسم، ج۱، ص۴۹۔

[۴] بہبودی، شرح اسم، ج۱، ص۷۸۔

[۵] ہاشمی رفسنجانی، دوران مبارزہ، ج۲، ص۱۵۶۶۔

[۶] قاسم پور، دہہ سرنوشت ساز، ج۱، ص۹۲۔

[۷] ہاشمی رفسنجانی، عبور از بحران، ج۱، ص۲۶۳۔

[۸] ہاشمی، بازسازی، ج۱، ص۱۴۹۔

[۹] صلح میرزائی، فلسطین از منظر حضرت آیت اللہ، ج۱، ص۴۸۷۔

[۱۰] بازتاب پیام آیت اللہ خامنہ ای، ج۱، ص۱۔

[۱۱] خطبہ ہای نماز عید فطر، ج۱، ص۱۔

[۱۲] خامنہ ای، غناء، ج۱، ص۲۶۲۔

[۱۳] خامنہ ای، انسان ۲۵۰ سالہ، ج۱، ص۶۔

[۱۴] دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای، اطلاعیہ شہادت حضرت آیت اللہ العظمی سیدعلی حسینی خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی۔

[۱۵] نورنیوز، شہادت چند نفر از اعضای خانوادہ رہبر معظم انقلاب۔

[۱۶] دفتر حفظ‌ و نشر آثار آیت اللہ العظمی خامنہ ای، بیانات در دیدار اقشار مردم بہ مناسبت چہل‌وہفتمین سالگرد پیروزی انقلاب اسلامی۔

[۱۷] دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ العظمی خامنہ ای، بیانات در دیدار مردم آذربایجان شرقی۔

[۱۸] نخست‌نیوز، آیت اللہ خامنہ ای نماد بزرگی از محور مقاومت است۔

[۱۹] مکارم الأخلاق و رذائلہا، ج۱، ص۱۹۱۔

[۲۰] مطلع عشق، ج۱، ص۱۳۔


فہرست منابع

۱. بازتاب پیام آیت اللہ خامنہ ای در رسانہ ہا، تہران، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، ۱۳۹۳ش۔
2. بہبودی، ہدایت اللہ؛ شرح اسم: زندگی نامہ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای (۱۳۱۸-۱۳۵۷ش)، تہران، مؤسسہ مطالعات و پژوہش ہای سیاسی، ۱۳۹۱ش۔
3. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ انسان ۲۵۰ سالہ، تہران، مؤسسہ فرہنگی ایمان جہادی (صہبا)، ۱۳۹۲ش۔

۴. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ «بیانات در دیدار اقشار مردم بہ مناسبت چہل‌وہفتمین سالگرد پیروزی انقلاب اسلامی»، تہران، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، ۱۴۰۴ش۔
5. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ «بیانات در دیدار مردم آذربایجان شرقی»، تہران، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، ۲۸ بہمن ۱۴۰۴ش۔
6. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ بیانیہ گام دوم انقلاب (خطاب بہ ملت ایران)، تہران، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، ۱۳۹۷ش۔

۷. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ حوزہ و روحانیت در نگاہ رہبری، تہران، انتشارات انقلاب اسلامی، ۱۳۹۰ش۔
8. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ خطبہ ہای نماز عید فطر، تہران، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، ۱۳۹۴ش۔
9. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ غناء، تہران، فقہ روز (انتشارات انقلاب اسلامی)، ۱۳۹۸ش۔
10. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ مطلع عشق: گزیدہ ای از رہنمودہای حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای بہ زوج ہای جوان، تہران، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، ۱۳۸۳ش۔

۱۱. خامنہ ای، سید علی حسینی؛ مکارم الأخلاق و رذائلہا، تہران، انتشارات انقلاب اسلامی، ۱۳۹۵ش۔
12. دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای؛ «اطلاعیہ شہادت حضرت آیت اللہ العظمی سیدعلی حسینی خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی»، تہران، ۱۴۰۴ش۔
13. زنگنہ قاسم آبادی، ابراہیم؛ مشاہیر مدفون در حرم رضوی، مشہد، بنیاد پژوہش ہای آستان قدس رضوی، ۱۳۸۲ش۔
14. شریف رازی، محمد؛ گنجینہ دانشمندان، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، ۱۳۵۴ش۔

۱۵. صلح میرزائی، سعید؛ فلسطین از منظر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، تہران، انتشارات انقلاب اسلامی، ۱۳۹۷ش۔
16. قاسم‌پور، داود؛ دہہ سرنوشت‌ساز، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۸۸ش۔
17. نخست‌نیوز؛ «آیت اللہ خامنہ ای نماد بزرگی از محور مقاومت است»، تہران، ۱۴۰۴ش۔
18. نورنیوز؛ «شہادت چند نفر از اعضای خانوادہ رہبر معظم انقلاب»، تہران، ۱۴۰۴ش۔
19. ہاشمی رفسنجانی، اکبر؛ بازسازی و سازندگی: کارنامہ و خاطرات سال ۱۳۶۸، تہران، دفتر نشر معارف انقلاب، ۱۳۷۶ش۔
20. ہاشمی رفسنجانی، اکبر؛ دوران مبارزہ (بہ کوشش محسن ہاشمی)، تہران، دفتر نشر معارف انقلاب، ۱۳۷۶ش۔
21. ہاشمی رفسنجانی، اکبر؛ عبور از بحران: کارنامہ و خاطرات سال ۱۳۶۰، تہران، دفتر نشر معارف انقلاب، ۱۳۷۸ش۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

خامنہ‌ای، سید علی؛ خون دلی کہ لعل شد: خاطرات حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای (مدّ ظلّہ العالی) از زندان‌ها و تبعید دوران مبارزات انقلاب اسلامی، تہران، مؤسسہ پژوهشی فرہنگی انقلاب اسلامی، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ‌ای، انتشارات انقلاب اسلامی، ۱۳۹۹ھ ش۔


✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔