بنی امیہ کا دور شیعہ تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اور پرآشوب زمانہ تھا۔ بنی امیہ نے شیعوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی، جس کی وجہ سے شیعیت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں شیعوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ بنی امیہ نے شیعوں کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا، لیکن شیعیت کا چراغ ہر حال میں روشن رہا۔
بنی امیہ كے دور كی تاریخی نقشہ كشی
بنی امیہ کا زمانہ شیعوں کے لئے بہت دشوار زمانہ تھا جو چالیس ہجری سے شروع ہوتا ہے اور ایک سو بتیس ہجری تک جاری رہتا ہے، عمر بن عبد العزیز کے علاوہ تمام خلفائے بنی امیہ شیعوں کے سخت ترین دشمن و مخالف تھے؛ البتہ ہشام اموی کے بعد سے وہ داخلی اختلافات و شورش کا شکار ہوگئے تھے اور عباسیوں سے مقابلہ میں لگ گئے تھے اور گذشتہ سختیوں میں کمی آگئی تھی۔
خلفائے بنی امیہ، شام کے علاقہ میں وہاں کے حاکموں کے ذریعہ شیعوں کے اوپر فشار لاتے تھے اور بنی امیہ كے تمام حکام، شیعوں کے دشمنوں میں سے منتخب ہوتے تھے جو شیعوں کو اذیت دینے سے گریز نہیں کرتے تھے لیکن ان کے درمیان زیاد، عبیداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف نے ظلم کرنے میں دوسروں پر سبقت کی۔
اہل تسنن کا مشہور دانشمند ابن ابی الحدید لکھتا ہے: شیعہ جہاں کہیں بھی ہوتے تھے ان کو قتل کر دیا جاتا تھا، بنی امیہ صرف شیعہ ہونے کے شبہ کی وجہ سے لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹ دیا کرتے تھے جو بھی خاندان پیغمبر (ص) سے محبت کرتا تھا اس کو زندان میں ڈال دیتے تھے یا اس کے مال لوٹ لیا کرتے تھے یا اس کا گھر ویران کر دیا جاتا تھا۔
اس ناگفتہ بہ صورت حال کی شدت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ علی (ع) سے دوستی کی تہمت لگانا کفر و بے دینی سے زیادہ بد تر شمار کیا جاتا تھا اور اس کے نتائج بڑے سخت ہوتے تھے۔ اس خشونت آمیز سیاست میں کوفہ کے حالات کچھ زیادہ بدتر تھے۔ کیونکہ کوفہ شیعیان علی (ع) کا مرکز تھا معاویہ نے زیاد بن سمیہ کو کوفہ کا حاکم بنا دیا تھا۔
بعد میں بصرہ کی سپہ سالاری بھی اس کے حوالہ کردی گئی۔ زیاد چونکہ پہلے کبھی علی (ع) کے دوستوں کی صفوں میں تھا جو شیعیان علی (ع) کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔ اس نے شیعوں کا تعاقب کیا، شیعہ جہاں کہیں گوشہ و کنار میں مخفی تھے ان کو ڈھونڈ کر قتل کر دیا۔
ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کو نابینا بنا دیا اور انہیں کھجور کے درخت پر پھانسی دے دی۔ نیز انہیں شہر بدر کر دیا۔ یہاں تک کہ کوئی بھی مشہور شیعہ شخصیت عراق میں باقی نہیں رہی۔ [1]
ابن جوزی کہتا ہے: زیاد منبر پر خطبہ دے رہا تھا۔ کچھ شیعوں نے اس پر اعتراض کیا۔ اس نے حکم دیا٨٠ افراد کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں۔ وہ لوگوں کو مسجد میں جمع کرتا تھا اور ان سے کہتا تھا کہ علی (ع) پر تبرا کرو اور جو بھی تبرا نہیں کرتا تھا، حکم دیتا کہ اس کا گھر کو منہدم کر دیا جائے۔ [2]
زیاد چھ مہینہ کوفہ میں اور چھ مہینہ بصرہ میں حکومت کرتا تھا۔ سمرہ ابن جندب کو بصرہ میں اپنی جگہ رکھتا تھا؛ تاکہ اس کی غیر موجودگی میں وہ امور حکومت کی دیکھ بھال کرتا رہے۔
سمرہ نے اس مدت میں آٹھ ہزار افراد کو قتل کیا تھا۔ زیاد نے اس سے کہا: کیا تجھے خوف نہیں ہوا کہ تو نے ان میں سے کسی ایک بے گناہ کو بھی قتل کیا ہو؟ سمرہ نے جواب دیا: اگر اس کے دو برابر بھی قتل کرتا تب بھی اس طرح کی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ [3]
ابو سوارعدوی کہتا ہے: سمرہ نے ایک دن صبح میں ٤٧ افراد کو قتل کیا جومیرے قبیلہ سے وابستہ تھے اور سب کے سب حافظ قرآن تھے۔ [4]
معاویہ نے خط میں اپنے کارندوں کو لکھا کہ شیعیان اور خاندان علی (ع) میں سے کسی کی گواہی قبول نہ کرنا، اور دوسرے خط میں لکھا کہ اگر دو افراد گواہی دیں کہ اس کا تعلق شیعیان علی (ع) اور دوستداران علی (ع) سے ہے تو اس کا نام بیت المال کے دفتر سے حذف کردو اور اس کے وظائف اور حقوق کو قطع کردو۔ [5]
حجاج بن یوسف؛ بنی امیہ کا ظالم ترین والی
حجاج بن یوسف جو بنی امیہ کا انتہائی درجہ سفاک و بے رحم عامل تھا مکہ و مدینہ میں لوگوں کو بنی امیہ کا مطیع بنانے کے بعد ٧٥ ہجری میں خلیفہ بنی امیہ، عبد الملک بن مروان کی جانب سے عراق کی حکومت پر مامور ہوا جو شیعوں کا مرکز تھا۔ حجاج چہرہ کو چھپائے ہوئے مسجد کوفہ میں داخل ہوا، صفوں کو چیرتا ہوا منبر پر بیٹھ گیا۔
کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں کہ یہ کون ہے؟ ایک نے کہا: نیا حاکم ہے۔ دوسرے نے کہا: اس پر پتھر مارے جائیں۔ کچھ نے کہا: نہیں صبر سے کام لیا جائے، دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کہتا ہے؟
جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو اس نے اپنے چہرہ سے نقاب ہٹائی اور چند جملوں کے ذریعہ سے ایسا ڈرایا کہ جس کے ہاتھ میں مارنے کے لئے پتھر تھے، ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئے اس نے اپنے خطبہ کی ابتدا اس طرح کی:
اے کوفہ والو! برسوں سے آشوب و فتنہ برپا ہے۔ تم نے نافر مانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ میں ایسے سروں کو دیکھ رہا ہوں جو پھلوں کی طرح بالکل تیار ہیں۔ انہیں جسمو ں سے جدا کر دینا چاہئیے۔ میں اتنے سروں کو قلم کروں گا کہ تم فرمانبرداری کا راستہ یاد کرلو گے۔ [6]
حجاج نے پورے عراق میں اپنی حکومت قائم کی اور کوفہ کے نیک اور بے گناہ بہت سے لوگوں کا قتل کیا۔ مسعودی حجاج کے مظالم کے بارے میں لکھتا ہے:
حجاج کی بیس سال کی حکومت میں جو لوگ اس کی شمشیر کے ذریعہ شکنجوں میں رہ کر جاں بحق ہوئے ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔ اس کے علاوہ کچھ وہ افراد ہیں جو حجاج کے ساتھ جنگ میں اس کی فوج کے ہاتھوں قتل کئے گئے۔
حجاج کی موت کے وقت اس کے مشہور زندان میں پچاس ہزار مرد اور تیس ہزار عورتیں قید تھیں، ان میں سولہ ہزار عریاں اور بے لباس تھے۔ حجاج مرد اور عورتوں کو ایک جگہ قید کرتا تھا۔ اس کے تمام زندان بغیر چھت کے تھے اس وجہ سے زندان میں رہنے والے گرمی اور سردی سے امان میں نہیں تھے۔ [7]
حجاج معمولاً شیعوں کو زندانی اور شکنجہ کرتا تھا اور انہیں قتل کرتا تھا شیعوں کی دردناک وضعیت کا پتہ اس سے لگایا جا سکتا ہے جس کو انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کو بنی امیہ كے دور میں امام سجاد (ع) سے بیان کیا ہے۔
مرحوم علامہ مجلسی نے نقل کیاہے: کچھ شیعیان علی (ع)، امام زین العابدین (ع) کے پاس آ ئے اورمصیبتوں پر آہ و گریہ کیا۔ نیز اپنے درد ناک حالات کو بیان کیا: فرزند رسول (ع)، ہم کو ہمارے شہر سے نکال دیا گیا، قتل و غارت کے ذریعہ ہم کو نابود کر دیا گیا۔
امیر المومنین (ع) پر شہروں میں مسجد نبوی میں منبروں سے سب و شتم کیا گیا لیکن کوئی مانع نہیں ہوا، اور اگر ہم میں سے کسی نے اعتراض کیا تو کہتے تھے کہ یہ ترابی ہے۔ جب اس کا علم حاکم کو ہوتا تھا تو اس شخص کے بارے میں حاکم کے پاس لکھ بھیجتے تھے کہ اس نے ابوتراب کی تعریف کی ہے وہ حکم دیتا تھا کہ اس کو زندان میں ڈال دیا جائے اور قتل کردیا جائے۔ [8]
بنی امیہ كے زمانے میں تشیع کی وسعت
بنی امیہ کے دور میں شیعوں پر ظلم و ستم ہونے کے باوجود تشیع کی ترویج و فروغ میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پیغمبر (ص) و خاندان پیغمبر (ص) کی مظلومیت لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف کھینچتی رہی اور نئے نئے لوگ شیعہ ہوتے گئے۔ بنی امیہ كے زمانے میں تشیع کے پھیلنے کے کئی مراحل تھے ہر مرحلہ کی ایک خصوصیت تھی کلی طور پر شیعوں کی کثرت کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
(الف) ٤٠ھ سے ٦١ھ تک؛ دوران امام حسن (ع) اور امام حسین (ع)؛ بنی امیہ كا سفاكانہ دور۔
امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے دور میں شیعیت کا پس منظر شیعوں کی سیاسی اور مذہبی تحریکات سے جڑا ہوا ہے۔ شیعوں کی ان تحریکات نے ان دونوں اماموں کے دور میں ایک خاص شکل اختیار کی۔ امام حسن (ع) کی صلح اور امام حسین (ع) کی شہادت نے شیعیت کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور ان کی رہبری نے شیعوں کو اتحاد اور تحفظ کی راہ دکھائی۔
(ب) ٦١ھ سے ١١٠ ھ تک۔ دورا ن امام سجاد (ع) و امام باقر (ع)؛ بنی امیہ سے بنی مروان كی طرف حكومت كی منتقلی۔
امام سجاد (ع) اور امام باقر (ع) کا دور اموی حکومت کے زوال اور مروانی اقتدار کے عروج کا زمانہ تھا۔ بنی امیہ کے مظالم کے باوجود، ان اماموں نے شیعہ مکتب کو علمی اور فکری بنیادوں پر استوار کیا۔ امام سجاد (ع) کے دور میں شیعی اور غیر شیعی قیام عروج پر تھا۔ چونکہ اسی دور میں توابیں اور مختار کے قیام علاوہ قیام حرہ اور زبیریان کے قیام جیسے واقعات بھی پیش آئے۔ اس عصر میں سیاسی انتشار نے اموی طاقت کو کمزور کیا، یہاں تک کہ بنی مروان نے اقتدار سنبھال لیا۔
(ج) ١١٠ ھ سے ١٣٢ھ؛ دوران امام صادق (ع)؛ بنی امیہ كا زوال اور بنی عباس كی آمد۔
عصر صادقین (ع) جو امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کی امامت پر مشتمل دور ہے۔ وہ زمانہ تھا جس میں بنی امیہ کے زوال اور بنی عباس کی سلطنت کا آغاز کے درمیان ایک علمی انقلاب برپا ہوا جسے ہم عصر صادقین (ع) کے نام کرتے ہیں۔ اس عصر میں شیعہ مکتب کو استحکام ملا۔ فقہ، حدیث، تفسیر اور کلام کے میدان میں بے شمار شاگردوں نے امامین صادقین (ع) کی تعلیمات سے استفادہ کیا اور عصر صادقین (ع) ایک علمی تحریک کا بن کر ابھرا۔
خاتمہ
بنی امیہ کے دور میں شیعوں پر ظلم و ستم کے باوجود، تشیع کا چراغ ہرگز نہ بجھا۔ بنی امیہ کی حکومت کے زوال کے بعد شیعوں نے اپنی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ بنی امیہ کے خلاف شیعوں کے قیام اور اہل بیت (ع) کی محبت نے شیعیت کو ہمیشہ زندہ رکھا۔ بنی امیہ کے مظالم كی وجہ سے بنی امیہ كا وجود ختم ہوا لیكن شیعیت اور مضبوط ہو كر ابھری۔
حوالہ جات
[1]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ص٤٣۔٤٥۔
[2]۔ ابن جوزی، المنتظم فی الامم والملوک، ج٥، ص٢٢٧۔
[3]۔ طبری، تاریخ الامم والملوک، ج٦، ص١٢٣۔
[4]۔ طبری، تاریخ الامم والملوک، ج٦، ص١٣٢۔
[5]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص٤٥۔
[6]۔ زبیر بن بکار،اخبار الموفقیات، ص٩٩-٩٥؛ پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص٢٤٦۔
[7]۔ مسعودی، مروج الذہب، ج٣، ص١٨٧۔
[8]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج٤٦، ص٢٧٥۔
كتابیات
- ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبة الله، شرح نہج البلاغہ، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ۱۳۷۸ھ۔
- ابن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرة الخواص، نجف، المطبعة الحیدریہ، ۱۳۸۳ھ۔
- زبیر بن بکار، اخبار الموفقیات، قم، مکتبہ آیت اللہ المرعشی النجفی، ۱۴۰۰ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۸ھ۔
- مجلسی، محمد باقر، بِحارُ الاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۹۸۳ء۔
- مسعودی، علی بن حسین، مُروجُ الذَّهَب و مَعادنُ الجَوهَر، بیروت، منشورات الاعلمی للمطبوعات، ۱۹۸۹ء۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔