عدل الٰہی کا مفہوم اور چند شبہات کے جوابات

عدل الٰہی کا مفہوم اور چند شبہات کے جوابات

کپی کردن لینک

عدل الٰہی کا مفہوم صرف برابری تک محدود نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حقدار کو اس کا حق دیا جائے۔ عدل الٰہی دراصل ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے اور کسی پر ظلم نہ ہونے دینے کا نام ہے۔ یہ جامع تصور عدل الٰہی کی اس بنیاد پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت، علم اور دیگر کامل صفات سے مربوط ہے۔

عدل کا مفہوم اور معنی

عدل کے لغوی معنی برابری اور مساوی کرنے کے ہیں، اور عرف عام میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کرنے کے معنی میں ہے۔ جسے دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرنے کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پس عدل کی اس طرح تعریف کی جاسکتی ہے ’’اعْطاءُ كُلِّ ذى حَقٍّ حَقَّهُ‘‘ یعنی صاحب حق کے حق کو عطاء کرنا۔ لہٰذا اس تعریف کے تحت ایک ایسے موجود کو فرض کرنا ہوگا جو صاحب حق ہو۔

تاکہ اس کی رعایت کو عدل اور اس پر تجاوز کو ظلم کا نام دیا جاسکے لیکن کبھی مفہوم عدل کو وسعت دیتے ہوئے اس طرح تعریف کی جاتی ہے کہ کسی بھی شی کو اس کے مقام پر رکھنا اور کسی بھی فعل کو شائستہ صورت میں انجام دینا۔ اور پھر اس طرح عدل کی تعریف ’’وضع كل شئ فى موضعه‘‘ یعنی کسی بھی چیز کو اس کے مقام پر رکھنا، کی جاسکتی ہے۔

عدل کی یہ تعریف حکمت کے مساوی اور ایک عادلانہ و حکیمانہ عمل کا مساوی کہلائے گی، لیکن کسی طرح (صاحب حق کا حق)، کسی بھی چیز کا اپنا مقام معین ہو، اس سلسلے میں کافی بحث ہے، جس نے فلسفہ اور کلام کے ایک عظیم مباحث کو خود سے مخصوص کرلیا ہے۔ جنہیں ہم یہاں پر کسی بھی صورت میں بیان نہیں کرسکتے۔ لیکن جس مسئلے کی طرف توجہ ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام عقلا اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یتیم کے دہن سے لقمہ چھیننا یا ناحق کسی کا خون بہانا، ایک قبیح عمل ہے۔

یا یتیم کے دہن سے چھینا گیا لقمہ اس کے منہ میں لوٹا دینا یا ناحق خون بہانے والے کو سزا دینا ایک عادلانہ اور شائستہ عمل ہے، اور یہ خدا کے امر و نہی پر منحصر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملحد بھی اپنے مقام پر یہی قضاوت کرتا ہے لیکن اس فیصلے کا راز کیا ہے؟ اور کون سی طاقت حسن و قبح کے تعین کی صلاحیت رکھتی ہے اسی طرح کے اور دوسرے مسائل کے بارے میں فلسفے کی کتابوں میں بحث کی جاتی رہی ہے۔

حاصل کلام

عدل کےلئے دو مفہوم خاص اور عام فرض کئے جاسکتے ہیں، ایک یہ کہ دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا، اور دوسرا یہ کہ حکیمانہ عمل انجام دینا، کہ جس میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کرنا شامل ہے۔

لہٰذا عدل کا لازمہ تمام انسانوں یا اشیاء کو برابر اور مساوی تقسیم کرنا نہیں ہے جیسا کہ عادل استاد وہ نہیں ہے جو محنتی اور کاہل شاگردوں کو برابری سے تشویق یا انہیں مساوی حیثت سے سزا دے، یا عادل قاضی وہ نہیں ہے جو مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان مورد نزاع مال کو مساوی تقسیم کردے، بلکہ عادل استاد وہ ہے جو ہر شاگرد کو اس کی شائستگی کے مطابق تشویق یا اس کی کاہلی کے اعتبار سے اسے سزا دے، اور عادل قاضی وہ ہے جو مال کو اس کے مالک کے حوالے کردے۔

اسی طرح حکمت الٰہی کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ تمام مخلوقات کو ایک جیسا خلق کرے، جیسے کہ پرندوں کی طرح انسان کو بھی بال و پر عطاء کرے، بلکہ حکمت الٰہی کا تقاضہ یہ ہے کہ جہان کو اسی صورت میں خلق کرے کہ جس سے زیادہ سے زیادہ خیر و کمال مل سکے، اور مختلف موجودات کو انتہائی ہدف کے مطابق خلق کرے اسی طرح حکمت الٰہی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کی استعداد کے مطابق عمل انجام دینے کا حکم دے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے فرمایا:

’’لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا‘‘[1] ’’اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا‘‘ اور پھر اس کی استعداد اور توانائی کے مطابق قضاوت کرے، جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا: ’’وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ‘‘[2] ’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ اور اس کے عمل کے عوض سزا، یا جزا عطاء کرے، جیسا کہ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرما رہا ہے: ’’فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ‘‘[3] ’’اس روز کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بس وہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم عمل کرتے رہے ہو‘‘۔

عدل الٰہی کے دلائل

جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے کہ، عدل ایک تعریف کے مطابق حکمت الٰہی کا حصہ اور دوسری تعریف کے مطابق عین حکمت الٰہی ہے، لہٰذا اس کے اثبات میں دلیل بھی ایسی ہونی چاہئے جو حکمت الٰہی کو ثابت کرسکے ہمیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ خدا بے نہایت قدرت و اختیار کا مالک ہے اور تمام ممکن الوجود امور اسی کی قدرت میں ہیں، اور کسی بھی خارجی طاقت کے سامنے تسلیم اور مغلوب ہوئے بغیر امور کی انجام دہی یا انہیں ترک کرنے پر قادر ہے، لیکن ہر وہ فعل جسے انجام دے سکتا ہے انجام نہیں دیتا بلکہ جس کےلئے ارادہ بناتا ہے اسے انجام دیتا ہے۔

اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے حساب و کتاب نہیں ہے، بلکہ صرف وہ اپنے صفات کمالیہ کے مطابق ارادہ بناتا ہے، اور اگر اس کے صفات کمالیہ کسی فعل کا تقاضہ نہ رکھتے ہوں تو وہ کبھی بھی اسے انجام نہیں دیتا، چونکہ ذات خداوند کمالِِ محض ہے، لہٰذا اس کا ارادہ بھی مخلوقات کے کمال اور ان کے خیر سے متعلق ہوتا ہے، اور اگر کسی مخلوق کے وجود کا لازمہ، جہان میں نقائص کی پیدائش کا سبب ہو تو اس کے نقائص مقصود ’’بالتبع‘‘ ہوں گے۔ یعنی اس لئے کہ وہ خیر فراوان، ناقابل انفکاک (شر) کا لازمہ ہے، لہٰذا اس خیرِ غالب سے ارادہ الٰہی متعلق ہوگا۔

پس الٰہی صفات کمالیہ کا تقاضہ یہ ہے کہ جہاں اس طرح خلق ہو کہ جو مجموعاً زیادہ سے زیادہ خیر و کمال کا سر چشمہ بن سکے لہذا یہیں سے خدا کےلئے صفات کمالیہ ثابت ہو جاتی ہیں اسی بنیاد پر ارادہ الٰہی اسی انسان کی خلقت سے متعلق ہوتا ہے کہ جس میں امکان وجود ہو اور خیر و برکت کا منشاء ہو، اور انسان کے امتیازات میں سے اس کا مختار ہونا اور ارادے کے اعتبار سے آزاد ہونا ہے، بے شک اختیار و انتخاب کی طاقت سے متصف ہونا کمالات وجودی میں سے شمار کیا جاتا ہے، لیکن انسان کے مختار ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ وہ نیک امور انجام دے۔

اور اپنے انتہائی کمال کی جانب قدم بڑھاتا رہے، اور اس میں اتنی طاقت ہو کہ وہ برے امور سے خود کو بچا لے تاکہ خسرانِ عظیم سے محفوظ رہ سکے، البتہ وہ امر جو تنہا ارادہ الٰہی سے متعلق ہوتا ہے وہ صرف تکامل ہے۔ لیکن چونکہ انسان کے تکاملِ اختیاری کے لازمے کے ساتھ امکانِ سقوط بھی ہے، جو نفسانی خواہشوں کی پیروی سے حاصل ہوتا ہے، لہٰذا ایسا سقوط اختیاری بھی ’’بالتبع‘‘ ارادہ الٰہی سے متعلق ہوگا۔ اور چونکہ صحیح انتخاب خیر و شر کی راہوں کی صحیح شناخت کا محتاج ہے، لہٰذا خدا نے انسان کو انہیں امور کے انجام دینے کا حکم دیا ہےجن میں زیادہ سے زیادہ خیر و مصلحت ہو۔

اسی طرح تباہی و بربادی کے عوامل سے بچنے کا حکم بھی دیا ہے، تاکہ اس طرح اس کے تکامل کا وسیلہ فراہم ہو جائے اور چونکہ تکالیف اور احکام اس لئے وضع ہوئے ہیں تاکہ انسان ان پر عمل کرتے ہوئے مفید نتائج تک پہنچ سکے کہ جس میں خدا کےلئے نہ کوئی نفع ہے اور نہ ہی نقصان، اس وجہ سے حکم الٰہی کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ احکام مکلفین کی طاقت کے مطابق ہوں اس لئے کہ وہ احکام جن پر عمل نہیں کیا جاسکتا وہ بے فائدہ اور لغو ہیں۔

پس اس طرح عدل کا پہلا مرحلہ (اپنے خاص معنی میں) یعنی مقامِ تکلیف میں عدالت، اس دلیل سے ثابت ہے کہ اگر خدا بندوں کی طاقت سے ماوراء ان پر کوئی حکم نافد کرے تو وہ چونکہ امکان عمل سے باہر ہے لہٰذا ایک بے فائدہ عمل کہلائے گا۔ لیکن بندوں کے درمیان فیصلے میں عدالت کا مسئلہ اس نکتے کی طرف توجہ دینے کے ذریعے ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا کا ایسا کرنا صرف اس وجہ سے ہے تاکہ سزا و جزا کے اعتبار سے انسان کو مشخص کیا جا سکے، لہذا اگر ایسی صورت میں خدا نے عدل و انصاف سے کام نہیں لیا تو نقص غرض لازم آئیں گی۔

آخر کار سزا اور جزا دینے کا مقصد مقام عدالت ہدفِ خلقت کے پیش نظر ثابت ہو جاتا ہے اس لئے کہ جس نے انسان کو اچھے اور برے امور کے نتائج تک رسائی کےلئے خلق کیا ہے اگر انہیں اس ہدف کے خلاف سزا یا جزا دینا چاہے تو وہ کبھی بھی اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔ لہذا تمام مظاہر کے درمیان عدل الٰہی کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کی صفات ذاتیہ حکیمانہ اور عادلانہ اعمال کا سبب ہیں اور ایسی کوئی صفت بھی اس کی ذات میں نہیں پائی جاتی جس میں ظلم و ستم یا عبث ہونے کا شائبہ پایا جاتا ہو۔

عدل الٰہی اور چند شبہات

عدل الٰہی کے عقیدے کے بارے میں بعض شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان شبہات کا ازالہ عدل الٰہی کے صحیح مفہوم کو سمجھ کر ہی ممکن ہے۔ لہٰذا، یہاں عدل الٰہی سے متعلق چند اہم شبہات کا جواب دینا ضروری ہے تاکہ اس عقیدے کی حقیقت واضح ہو سکے۔

عدل الٰہی کے متعلق پہلا شبہہ

مخلوقات کے درمیان خصوصاً انسانوں میں موجود اختلافات عدل الٰہی سے کس طرح سازگار ہیں؟ اور کیوں خدا نے اپنی تمام مخلوقات کو یکساں خلق نہیں کیا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مخلوقات کے درمیان خلقت کے اعتبار سے موجودہ اختلافات نظام خلقت اور اس پر حاکم قانونِ علت و معلول کا لازمہ ہیں تمام مخلوقات کا اپنی خلقت میں یکساں ہونا ایک خام خیالی ہے اگر اس سلسلے میں ہم تھوڑا بھی غور کرلیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ فرض ترک خلقت کے مساوی ہے اس لئے کہ اگر تمام مخلوقات مرد یا عورت ہوتے تو نسل آگے بڑھ نہیں سکتی تھی۔

اور انسانی نسل کا خاتمہ ہوجاتا، اسی طرح اگر تمام مخلوقات انسان ہوتی تو انہیں اپنی احتیاجات کو برطرف کرنے کےلئے کوئی چیز باقی نہ رہتی اس کے علاوہ اگر تمام حیوانات یا نباتات ایک ہی جیسے اور ایک ہی رنگ سے سرفراز ہوتے تو ایسے دلکش مناظر کے علاوہ مختلف فوائد کا وجود نہ ہوتا، موجودات کا مختلف اشکال میں پیدا ہونا مادے کے تغیرات کا نتیجہ ہے، اورخلقت سے پہلے کسی کا کوئی بھی حق خدا کے ذمے نہیں ہے کہ وہ اسے کیسے اور کس شکل میں خلق کرے، کہاں قرار دے کس مقام میں اتارے، تاکہ اس طرح عدل قائم رہے اور ظلم کا خاتمہ ہو جائے۔

عدل الٰہی کے متعلق دوسرا شبہہ

اگر حکمت و عدل الٰہی کا تقاضہ یہ ہے کہ موجودات کو اس جہان میں خلق کرے، تو پھر اسے موت کیوں دیتا ہے اور کیوں اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے؟

اس شبہے کا جواب یہ ہے کہ: پہلے تو یہ اس جہان میں موجودات کی زندگی اور موت قوانین تکوینی اور علت و معلول روابط کی وجہ سے ہے، اور یہی نظام خلقت کا لازمہ بھی ہے

دوسرا یہ کہ: اگر زندہ موجودات نہیں مرتے اور باقی رہ جاتے تو آئندہ مخلوقات کےلئے خلقت کا کوئی مقام نہیں رہ جاتا اور وہ وجود و حیات کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے۔

تیسرا یہ کہ: اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ تمام انسان خلقت کے بعد ہمیشہ زندہ رہیں تو چند ہی سال کے اندر یہ زمین انسانوں کےلئے تنگ ہو جاتی اور لوگ رنج و الم اور تنگی کی وجہ سے موت کی تمنا کرنے لگتے۔

چوتھا یہ کہ: انسان کی خلقت کا اصل ہدف کمال تک پہنچنا ہے اور جب تک انسان موت کے ذریعے اس جہان سے جہانِ ابدی میں منتقل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے انتہائی ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔

عدل الٰہی کے متعلق تیسرا شبہہ

یہ اس زمین پر بے شمار طبیعی بلاؤں اور رنج و الم (جیسے زلزلہ سیلاب وغیرہ) اور اجتماعی مشکلات (جیسے جنگ، جدال) کیونکر عدل الٰہی سے سازگار ہیں؟

سب سے پہلے، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسے ناگوار حوادث کا وجود مادی تغیرات کا نتیجہ ہے اور جبکہ اس کی حکمت ان کے عیوب پر غالب ہے لہٰذا یہ کسی بھی حال میں مخالف حکمت نہیں ہو سکتے اس کے علاوہ اجتماعی مشکلات کا اٹھنا انسان کے مختار ہونے کا لازمہ ہے جو حکمت الٰہی کا تقاضہ ہے اور زندگی کے مصالح اس کے مفاسد سے کہیں زیادہ ہیں اس لئے کہ اگر صرف مفاسد ہی مفاسد ہوتے تو اس زمین پر کوئی انسان باقی نہ رہتا۔

دوسرا یہ کہ، ایک طرف بے شمار رنج و زحمت کا ہونا اسرار طبیعت کو کشف کر نے کےلئے انسانوں کی حرکت کا سبب اور مختلف علوم و فنون کے ایجاد کا انگیزہ ہے اور دوسری سختیوں سے نبرد آزمانا، نیز اس سے مقابلہ کرنا انسانی صلاحیتوں کو پر ثمر بنانے کےلئے اور راہ تکامل کو طے کرنے کےلئے ایک زبر دست عامل ہے اس کے علاوہ اس جہان میں اگر سختیوں کو تحمل کرنا نیتِ خیر کے ساتھ ہو تو جہانِ ابدی میں عظیم نعمات سے سرفرازی کا سبب ہے۔

عدل الٰہی کے متعلق چوتھا شبہہ

اس زمین پر ہونے والے محدود گناہوں کی سزا عذاب ابدی کی شکل میں کیونکر عدل الٰہی سے ساز گار ہے؟

اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ نیک اور بد اعمال کے درمیان، اور اخروی سزا و جزا کے درمیان ایک قسم کا رابطۂ علیت پایا جاتا ہے جسے وحی الٰہی کے ذریعے لوگوں کو سنا دیا گیا ہے اور جس طرح اس جہان میں بعض حوادث و اشرار، طولانی آثار کا سبب بنتے ہیں جیسے کہ انسان کا اپنی یا دوسروں کی آنکھوں کو پھوڑ دینا ایک لحظے کا عمل ہے لیکن اس کے آثار یعنی نابینائی آخر عمر تک باقی رہتی ہے اس طرح بڑے بڑے گناہ آخرت میں ابدی آثار سے متصف ہیں۔

لہٰذا اگر کوئی اس جہان میں انہیں ان کی تلافی نہ کرے (جیسے کہ توبہ نہ کرے) تو اس کے برے آثار ابد تک، اس کے دامن پر رہیں گے، جس طرح انسانوں کا آخری عمر تک اندھا رہنا تنہا اور تنہا ایک لحظے کی شرارات کا نتیجہ ہے، اور عدل الٰہی سے کوئی منافات نہیں رکھتا، اسی طرح گناہوں کے نتیجے میں عذاب ابدی میں گرفتار ہونا، عدل الٰہی سے منافات نہیں رکھتا، اس لئے کہ جو کچھ بھی دیکھ رہا ہے، وہ ان گناہوں کا نتیجہ ہے، جسے اس نے جانتے ہوئے انجام دیا ہے۔

خاتمہ

عدل الٰہی، اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی کامل صفات کا روشن مظہر ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی مشکلات، حیوانات میں تفاوت اور نا ہمواریاں عدل الٰہی کے اس منظم و متوازن نظام کا اہم حصہ ہیں، جو کسی بھی قسم کے ظلم سے پاک ہے۔ یہی عدل الٰہی انسان کو اس کے کمال اور حقیقی مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

حوالہ جات

[1]۔ بقرہ: ٢٨٦۔

[2]۔ یونس: ٥٤۔

[3]۔ یٰس: ٥٤۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

مصباح، محمد تقی، درس عقائد، مترجم: ضمیر حسین بہاولپوری، بیسواں درس، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، 1427ھ۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔