رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت کا اعلان مقام غدیر خم پر کیا گیا، جس میں آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں پر حضرت علی (ع) کی اطاعت کو واجب قرار دیا۔ یہاں دو اہم سوالات زیر بحث آتے ہیں:
پہلا یہ کہ جب حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت کا واضح اعلان ایک خصوصی مقام پر کیا گیا تو پھر صحابہ نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس الٰہی فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسری سمت کیوں رخ کیا؟
دوسرا یہ کہ خود امیر المومنین (ع) نے اپنی حیات میں اپنی حقانیت کے اثبات کے لئے اس واقعہ کا حوالہ کیوں نہ دیا؟
بلافصل خلافت پر پہلے سوال کا جواب
اگرچہ اصحاب پیغمبر ﷺ کے ایک گروہ نے حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت کو فراموش کرتے ہوئے غدیر کے الٰہی فرمان سے چشم پوشی کرلی اور بہت سے لاتعلق و لاپرواہ لوگوں نے، جن کی مثالیں ہر معاشرے میں بہت زیادہ نظر آتی ہیں، ان لوگوں کی پیروی کی، لیکن ان کے مقابل ایسی نمایاں شخصیتیں اور اہم افراد بھی تھے جو حضرت علی (ع) کی امامت و بلافصل خلافت کے سلسلے میں وفادار رہے۔ اور انہوں نے امام علی (ع) کے علاوہ کسی اور کی پیروی نہیں کی۔
یہ افراد اگرچہ تعداد میں پہلے گروہ سے کم اور اقلیت شمار ہوتے تھے، لیکن کیفیت و شخصیت کے اعتبار سے پیغمبر اکرم ﷺ کے ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے تھے جیسے: سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود، عمار یاسر، ابی بن کعب، ابو ایوب انصاری، خزیمہ بن ثابت، بریدہ اسلمی، ابوہثیم بن التیھان، خالد بن سعید اور ایسے ہی بہت سے افراد کہ تاریخ اسلام نے ان کے نام اور ان کی زندگی کی خصوصیات و نیک صفات، موجودہ خلافت پر ان کی تنقیدیں اور امام علی (ع) سے ان کی وفاداریوں اور بلافصل خلافت کو پوری باریکی کے ساتھ تسلیم اور محفوظ کیا ہے۔
ان افراد اور اس موضوع پر ان کے کردار سے متعلق مزید معلومات کے لئے اس مضمون "خلافت ابوبکر پر اعتراض کرنے والے اصحاب رسول تاریخ کے آئنہ میں” کا مطالعہ کریں۔ یہ مضمون آپ کو اس موضوع پر جامع اور مفصل معلومات فراہم کرے گا۔
سید علی خان مرحوم ”مدنی“ نے اپنی گرانقدر کتاب ”الدرجات الرفیعۃ فی طبقات الشیعۃ الامامیۃ“ میں اصحاب پیغمبر اکرم ﷺ میں سے ایسے افراد کے نام و خصوصیات بیان کئے ہیں جو حضرت علی (ع) کے وفادار رہے۔ مرحوم شرف الدین عاملی نے بھی اپنی تالیف "العقول المہمۃ” میں اپنی تحقیق کے ذریعہ ان میں مزید افراد کا اضافہ کیا ہے۔ یہ سب کے سب امام (ع) کے وفادار تھے اور زندگی کے آخری لمحے تک ان کے دامن سے وابستہ رہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے امام (ع) کی محبت میں شہادت کا شرف بھی حاصل کیا۔
پیغمبر اکرم ﷺ کی نافرمانی کرنے کے چند نمونے
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صرف حضرت علی (ع) کی وصایت و ولایت کا مسئلہ ہی نہیں ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے صریح و صاف حکم کے باوجود پیغمبر اکرم ﷺ کے بعض صحابیوں نے مخالفت اور آنحضرت ﷺ کے حکم سے چشم پوشی کی، بلکہ تاریخ کے صفحات کی گواہی کے مطابق خود پیغمبر ﷺ کے زمانے میں بھی بعض افراد نے آنحضرت ﷺ کے صاف حکم کو ان دیکھا کیا، اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف اپنے نظریے کا اظہار کیا۔
دوسری لفظوں میں پیغمبر اکرم ﷺ کے بعض اصحاب جب آنحضرت ﷺ کے حکم کو اپنی باطنی خواہشات اور سیاسی خیالات کے مخالف نہیں پاتے تھے تو دل سے اسے قبول کرلیتے تھے۔ لیکن اگر پیغمبر اکرم ﷺ کی تعلیمات کے کسی حصے کو اپنے سیاسی افکار و خیالات اور اپنی پسندیدہ خواہشات کے خلاف پاتے تھے تو پیغمبر اکرم ﷺ کو اس کام کی انجام دہی سے روکنے کی کوشش کرتے تھے اور اگر پیغمبر ﷺ اپنی بات پر جمے رہتے تو آنحضرت ﷺ کے حکم سے سرتابی کی کوشش کرتے تھے یا اعتراض کرنے لگتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ خود پیغمبر اکرم ﷺ ان کی پیروی کریں۔
ذیل میں ہم بعض اصحاب کی اس ناپسندیدہ روش کے چند نمونے بیان کرتے ہیں:
کاغذ و قلم کا واقعہ
پیغمبر اکرم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حکم دیا کہ میرے لئے قلم و دوات لے آؤ تاکہ میں ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کی روشنی میں میرے بعد میری امت کبھی گمراہ نہ ہو۔ لیکن وہاں موجود بعض افراد نے اپنی مخصوص سیاسی سوجھ بوجھ سے یہ سمجھ لیا کہ اس تحریر کا مقصد اپنے بعد کے لئے بلافصل خلافت کے تعین کا تحریری اعلان ہے لہٰذا پیغمبر اکرم ﷺ کے صریحی حکم کی مخالفت کربیٹھے اور لوگوں کو قلم و کاغذ لانے سے روک دیا!
ابن عباس نے اپنی آنکھوں سے اشک بہاتے ہوئے کہا: مسلمانوں کی مصیبت اور بدبختی اسی روز سے شروع ہوئی جب پیغمبر اکرم ﷺ بیمار تھے اور آپ نے اس وقت قلم اور کاغذ لانے کا حکم دیا تاکہ ایسی چیز لکھ دیں کہ ان کے بعد امت اسلام گمراہ نہ ہو۔ لیکن اس موقع پر بعض حاضرین نے جھگڑا اور اختلاف شروع کردیا۔ بعض لوگوں نے کہا: قلم، کاغذ لے آؤ بعض نے کہا نہ لاؤ۔ آخرکار پیغمبر ﷺ نے جب یہ جھگڑا اور اختلاف دیکھا تو جو کام انجام دینا چاہتے تھے نہ کرسکے۔[1]
جنگ کے موقع پر پیغمبر ﷺ کی مخالفت
مسلمانوں کے لشکر کے سردار ”زید بن حارثہ‘‘ رومیوں کے ساتھ، جنگ موتہ میں قتل ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک فوج تشکیل دی اور مہاجرین و انصار کی تمام شخصیتوں کو اس میں شرکت کا حکم دیا اور لشکر کا علم اپنے ہاتھوں سے ”اسامۃ ابن زید“ کے حوالے کیا۔ ناگہاں اسی روز آنحضرت ﷺ کو شدید بخار آیا جس نے آنحضرت ﷺ کو سخت مریض کردیا۔ اس دوران پیغمبر ﷺ کے بعض اصحاب کی جانب سے اختلاف، جھگڑے اور پیغمبر خدا ﷺ کے صاف حکم سے سرتابی کا آغاز ہوا۔
بعض لوگوں نے ”اسامہ‘‘ جیسے جوان کی سرداری پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا اور آنحضرت ﷺ سے اس کی معزولی کا مطالبہ کیا۔ ایک گروہ جن کے لئے آنحضرت ﷺ کی موت قطعی ہوچکی تھی، جہاد میں جانے سے ٹال مٹول کرنے لگا کہ ایسے حساس موقع پر مدینے سے باہر جانا اسلام اور مسلمانوں کے حق میں اچھا نہیں۔
پیغمبر اسلام ﷺ جب بھی اپنے اصحاب کی اس ٹال مٹول اور لشکر کی روانگی میں تاخیر سے آگاہ ہوتے تھے تو آپ کی پیشانی اور چہرے سے غصے کے آثار ظاہر ہونے لگتے تھے اور اصحاب کو آمادہ کرنے کے لئے دوبارہ تاکید کے ساتھ حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے: جلد از جلد مدینہ ترک کرو اور روم کی طرف روانہ ہوجاؤ۔ لیکن اس قدر تاکیدات کے باوجود ان ہی اسباب کے پیش نظر جو اوپر بیان ہوچکے ہیں، ان افراد نے آنحضرت ﷺ کے صاف و صریح حکم کو ان سنا کردیا اور اپنی ذاتی مرضی کے آگے پیغمبر اکرم ﷺ کی پیہم تاکیدات کو ٹھکرا دیا۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر ﷺ کی مخالفت
پیغمبر اکرم ﷺ کے فرمان سے بعض اصحاب کی مخالفت کے یہی دو مذکورہ نمونے نہیں ہیں۔ اس قسم کے افراد نے سرزمین ”حدیبیہ‘‘ پر بھی، جب آنحضرت ﷺ قریش سے صلح کی قرارداد باندھ رہے تھے، سختی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی اور ان پر اعتراض اور تنقیدیں کیں۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد ان لوگوں کی آنحضرت ﷺ کے دستورات سے مخالفت اس سے زیادہ ہے۔ کیونکہ ان ہی افراد نے بعض اسباب کے تحت نماز اور اذان کی کیفیت میں تبدیلی کردی ”ازدواج موقت“ کی آیت کو ان دیکھا کردیا ماہ رمضان المبارک کی شبوں کے نوافل کو جنہیں فرادیٰ پڑھنا چاہئے ایک خاص کیفیت کے ساتھ جماعت میں تبدیل کردیا اور میراث کے احکام میں بھی تبدیلیاں کیں۔
ان میں سے ہر ایک تبدیلیوں اور تحریفوں اور آنحضرت ﷺ کے حکم سے ان سرتابیوں کے اسباب و علل اور اصطلاحی طور پر ”نص (صریح حکم) کے مقابلہ میں اجتہاد“ کی تشریح اس مختصر مقالے میں ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلے میں کتاب ”المراجعات“ کے صفحات 218-282 تک اور ایک دوسری کتاب ”النص و الاجتھاد“ کا مطالعہ مفید ہوگا، جو اسی موضوع سے متعلق لکھی گئی ہے۔
اصحاب پیغمبر اکرم ﷺ کی مخالفت اور شرارت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ قرآن مجید نے انہیں سخت انداز میں رسول خدا ﷺ کے دستورات سے مخالفت اور ان پر سبقت کرنے سے منع کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’فَلْيَحْذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‘‘[2]
یعنی جو لوگ رسول خدا ﷺ کے فرمان کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ کہیں کسی بلا یا دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہوں۔
اور فرماتا ہے: ’’يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ‘‘[3]
اے ایمان لانے والو! خدا اور اس کے رسول پر سبقت نہ کرو اور اللہ سے ڈرو کہ بلا شبہ اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔
جو لوگ یہ اصرار کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم ﷺ ان کے نظریات و خیالات کی پیروی کریں خداوند عالم انہیں بھی وارننگ دیتا ہے:
’’وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ ٱللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِى كَثِيرٍ مِّنَ ٱلْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ‘‘[4]
اور جان لو کہ تمہارے درمیان رسول خدا ﷺ جیسی شخصیت موجود ہے۔ اگر بہت سے امور میں وہ تمہارے نظریات کی پیروی کریں گے تو تم زحمت میں پڑ جاؤ گے۔
یہ حادثات اور یہ آیات اس بات کی صاف حکایت کرتی ہیں کہ اصحاب پیغمبر ﷺ میں ایک گروہ تھا جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتا تھا، اور جیسی ان کی اطاعت کرنا چاہئے اطاعت نہیں کرتا تھا۔ بلکہ یہ لوگ کوشش کرتے تھے کہ جو احکام الٰہی ان کے افکار اور سلیقہ سے سازگار نہیں تھے، ان کی پیروی نہ کریں۔ حتیٰ یہ کوشش کرتے تھے کہ خود رسول (ص) کو اپنے نظریات کا پیرو بنائیں۔
افسوس رسول خدا ﷺ کی رحلت کے بعد سیاسی میدان میں دوڑنے والے اور سقیفہ میں فرمائشی شوریٰ کی تشکیل دینے والے یہی لوگ جنہوں نے غدیر خم میں پیغمبر اسلام ﷺ کے صاف حکم اور نص (صریح حکم) الٰہی کو اپنی باطنی خواہشات کے مخالف پایا لہٰذا بہت تیزی سے اسے بھلا دیا۔
بلافصل خلافت پر دوسرے سوال کا جواب
جیسا کہ اس سوال میں درپردہ ادعا کیا گیا ہے، یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ حضرت علی (ع) نے اپنی زندگی میں متعدد موقعوں پر حدیث غدیر کے ذریعے اپنی حقانیت اور اپنی بلافصل خلافت پر استدلال کیا ہے۔ حضرت امیرالمومنین جب بھی موقع مناسب دیکھتے تھے مخالفوں کو حدیث غدیر یاد دلاتے اور اپنی بلافصل خلافت کا ذکر کرتے تھے۔ اس طرح سے اپنی حیثیت لوگوں کے دلوں میں محکم فرماتے تھے اور حقیقت کے طالب افراد پر حق کو آشکار کردیتے تھے۔
نہ صرف حضرت امام علی (ع) بلکہ بنت رسول خدا ﷺ حضرت فاطمہ زہرا (س) اور ان کے دونوں صاحب زادوں امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) اور اسلام کی بہت سی عظیم شخصیتوں مثلاً عبداللہ بن جعفر، عمار یاسر، اصبغ بن نباتہ، قیس بن سعد، حتیٰ کچھ اموی اور عباسی خلفاء مثلاً عمر بن عبد العزیز اور مامون الرشید اور ان سے بھی بالاتر حضرت علی (ع) کے مشہور مخالفوں مثلا عمرو بن عاص وغیرہ نے بھی حدیث غدیر سے احتجاج و استدلال کیا اور آپ کی بلافصل خلافت کو بیان کیا۔
حدیث غدیر سے استدلال حضرت علی (ع) کے زمانے سے لے کر آج تک جاری ہے اور ہر زمانے و ہر صدی میں حضرت علی (ع) کے دوستوں نے حدیث غدیر کو، آپ کی امامت و ولایت کے دلائل میں شمار کیا ہے۔ ہم یہاں ان احتجاجات اور استدلالوں کے صرف چند نمونے پیش کرتے ہیں:
قبل از خلافتِ عثمان، بلافصل خلافت پر استدلال
سب جانتے ہیں کہ خلیفہ دوم کے حکم سے بعد کے خلیفہ کے انتخاب کے لئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل پائی تھی کمیٹی کے افراد کی ترکیب ایسی تھی کہ سبھی جانتے تھے کہ بلافصل خلافت اس کے بلافصل خلیفہ، حضرت علی (ع) تک نہیں پہنچے گی کیونکہ عمر نے اس وقت کے سب سے بڑے سرمایہ دار عبدالرحمٰن بن عوف (جو عثمان کے قریبی رشتہ دار تھے) کو ویٹو پاور دے رکھی تھی۔ ان کا حضرت علی (ع) کے مخالف گروہ سے جو رابطہ تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ حضرت علی (ع) کو اس حق سے محروم کردیں گے۔
بہرحال جب خلافت عبد الرحمٰن بن عوف کے ذریعے عثمان کو بخش دی گئی تو حضرت علی (ع) نے شوریٰ کے اس فیصلے کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا: میں تم سے ایک ایسی بات کے ذریعے احتجاج کرتا ہوں جس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا یہاں تک کہ فرمایا:
میں تم لوگوں کو تمہارے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس کے بارے میں پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا ہو: ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِىّ مَوْلَاهُ اللّهُمَ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ لِيَبْلُغَ الشَّاهُدُ الْغائِب“ یعنی میں جس جس کا مولا ہوں یہ علی (ع) بھی اس کے مولا ہیں۔ خدایا تو اسے دوست رکھ اور اس کی مدد فرما جو علی (ع) کی مدد کرے۔ حاضرین ہر بات غائب لوگوں تک پہنچائیں۔
اس موقع پر شوریٰ کے تمام ارکان نے حضرت علی (ع) کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: خدا کی قسم یہ فضیلت آپ کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ [5]
امام علی (ع) کا احتجاج و استدلال اس حدیث سے صرف اسی ایک موقع پر نہیں تھا بلکہ امام نے حدیث غدیر سے دوسرے مقامات پر بھی استدلال فرمایا ہے۔
مسجد کوفہ اور اپنی بلافصل خلافت کا اعلان
ایک روز حضرت علی (ع) کوفہ میں خطبہ دے رہے تھے، تقریر کے دوران آپ نے مجمع سے خطاب کرکے فرمایا: میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، جو شخص بھی غدیر خم میں موجود تھا اور جس نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے مجھے اپنی بلافصل خلافت کے لئے منتخب کیا ہے وہ کھڑے ہوکر گواہی دے۔ لیکن صرف وہی لوگ کھڑے ہوں جنہوں نے خود اپنے کانوں سے پیغمبر ﷺ سے یہ بات سنی ہے۔ وہ نہ اٹھیں جنہوں نے دوسروں سے سنا ہے۔ اس وقت تیس افراد اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے حدیث غدیر کی گواہی دی۔
یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جب یہ بات ہوئی تو غدیر کے واقعے کو گزرے ہوئے پچیس سال ہوچکے تھے۔ اور پیغمبر ﷺ کے بہت سے اصحاب کوفہ میں نہیں تھے، یا اس سے پہلے انتقال کرچکے تھے اور کچھ لوگوں نے بعض اسباب کے تحت گواہی دینے سے کوتاہی کی تھی۔
”علامہ امینی“ مرحوم نے اس احتجاج و استدلال کے بہت سے حوالے اپنی گرانقدر کتاب ”الغدیر“ میں نقل کئے ہیں۔ قارئین اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔[6]
مسجد نبی میں اپنی بلافصل خلافت کا اعلان
عثمان کی خلافت کے زمانے میں مہاجرین و انصار کی دو سو بڑی شخصیتیں مسجد نبی میں جمع ہوئیں۔ ان لوگوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو شروع کی۔ یہاں تک کہ بات قریش کے فضائل ان کے کارناموں اور ان کی ہجرت کی آئی اور قریش کا ہر خاندان اپنی نمایاں شخصیتوں کی تعریف کرنے لگا۔
جلسہ صبح سے ظہر تک چلتا رہا اور لوگ باتیں کرتے رہے حضرت امیر المومنین (ع) پورے جلسے میں صرف لوگوں کی باتیں سنتے رہے۔ اچانک مجمع آپ (ع) کی طرف متوجہ ہوا اور درخواست کرنے لگا کہ آپ بھی کچھ فرمائیے۔ امام (ع) لوگوں کے اصرار پر اٹھے اور اپنی بلافصل خلافت اور خاندان پیغمبر ﷺ سے رابطے اور اپنے درخشاں ماضی سے متعلق تفصیل سے تقریر فرمائی۔ یہاں تک کہ فرمایا:
کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ غدیر کے دن خداوند عالم نے پیغمبر اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا تھا کہ جس طرح تم نے لوگوں کو نماز، زکات اور حج کی تعلیم دی اسی طرح لوگوں کے سامنے علی (ع) کی بلافصل خلافت کا بھی اعلان کرو۔ اسی کام کے لئے پیغمبر ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا:
خداوند عالم نے ایک فریضہ میرے اوپر عائد کیا ہے۔ میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں اس الٰہی پیغام کو پہنچانے میں لوگ میری تکذیب نہ کریں، لیکن خداوند عالم نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ کام انجام دوں اور یہ خوش خبری دی کہ اللہ مجھے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
اے لوگو! تم جانتے ہو کہ خدا میرا مولا ہے اور میں مؤمنین کا مولا ہوں اور ان کے حق میں ان سے زیادہ اولیٰ بالتصرف (جان و مال پر حق رکھتا) ہوں؟ سب نے کہا ہاں۔ اس وقت پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: علی! اٹھو۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے مجمع کی طرف رُخ کرکے فرمایا: ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِىّ مَوْلَاهُ اللّهُمَ وَالِ مَنْ وَالاهُ“ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع) مولا ہیں۔ خدایا! تو اسے دوست رکھ جو علی (ع) کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی (ع) سے دشمنی کرے۔
اس موقع پر سلمان فارسی نے رسول خدا ﷺ سے دریافت کیا: علی (ع) ہم پر کیسی ولایت رکھتے ہیں؟ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: ”ولاء كولائي من كنت أولى به من نفسه فعلي أولى به من نفسه“ یعنی تم پر علی (ع) کی ولایت میری ولایت کے مانند ہے۔ میں جس جس کی جان اور نفس پر اولویت رکھتا ہوں علی (ع) بھی اس کی جان اور اس کے نفس پر اولویت رکھتے ہیں۔
دیگر شخصیات کا آپ (ع) کی بلافصل خلافت کا اقرار
صرف حضرت علی (ع) نے ہی حدیث غدیر سے اپنے مخالفوں کے خلاف احتجاج و استدلال نہیں کیا ہے بلکہ پیغمبر اسلام ﷺ کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا (س) نے ایک تاریخی دن جب آپ اپنے حق کو ثابت کرنے کے لئے مسجد میں خطبہ دے رہی تھیں، تو پیغمبر اکرم ﷺ کے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا:
کیا تم لوگوں نے غدیر کے دن کو فراموش کردیا جس دن پیغمبر اکرم ﷺ نے حضرت علی (ع) کے بارے میں فرمایا تھا:
”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِىّ مَوْلَاهُ” جس کا میں مولا ہوں یہ علی (ع) اس کے مولا ہیں.
1۔ جس وقت امام حسن (ع) نے معاویہ سے صلح کی قرارداد باندھنے کا فیصلہ کیا تو مجمع میں کھڑے ہوکر ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:
”خداوند عالم نے پیغمبر اکرم ﷺ کے اہل بیت (ع) کو اسلام کے ذریعے مکرم اور گرامی قرار دیا ہمیں منتخب کیا اور ہر طرح کی رجس و کثافت کو ہم سے دور رکھا یہاں تک کہ فرمایا: پوری امت نے سنا کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون (ع) کو موسی (ع) سے تھی“
تمام لوگوں نے دیکھا اور سنا کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے غدیر خم میں حضرت علی (ع) کا ہاتھ تھام کر لوگوں سے فرمایا:
’’من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه‘‘[7]
2۔ امام حسین (ع) نے بھی سرزمین مکہ پر حاجیوں کے مجمع میں جس میں اصحاب پیغمبر ﷺ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
”میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہوکہ پیغمبر اسلام ﷺ نے غدیر کے دن حضرت علی (ع) کو اپنی بلافصل خلافت و ولایت کے لئے منتخب کیا اور فرمایا کہ: حاضرین یہ بات غائب لوگوں تک پہنچا دیں؟“ پورے مجمع نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں۔
3۔ ان کے علاوہ پیغمبر اسلام ﷺ کے کئی اصحاب مثلاً عمار یاسر، زید بن ارقم، عبداللہ بن جعفر، اصبغ بن نباتہ اور دوسرے افراد نے بھی حدیث غدیر کے ذریعے حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت و امامت پر استدلال کیا ہے۔ مزید آگاہی اور حوالوں کے لئے ”الغدیر“ کی پہلی جلد میں صفحہ نمبر 146 تا 195 مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
خاتمہ
بلافصل خلافت کا مسئلہ تاریخ اسلام کا ایک اہم موضوع رہا ہے جس پر بے شمار بحثیں ہوئی ہیں۔ حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت کا اعلان خود رسول اکرم ﷺ نے کیا، لیکن بعض لوگوں نے اسے نظر انداز کردیا۔ یہ حقیقت ہے کہ امیر المومنین (ع) کی بلافصل خلافت کے حق میں متعدد دلائل موجود ہیں، جن میں حدیث غدیر، حدیث منزلت اور دیگر احادیث شامل ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علی (ع) کی بلافصل خلافت کو چھیننے کی سازشیں پیغمبر اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی شروع ہوگئی تھیں، جس کا نتیجہ بعد میں امت کی تفریق کی صورت میں سامنے آیا۔
حوالہ جات
[1]۔ بخاری، صحیح بخاری، ج1، ص22، کتاب علم۔
[2]۔ سورہ نور، آیت 63۔
[3]۔ سورہ حجرات، آیت 1۔
[4]۔ سورہ حجرات، آیت 7۔
[5]۔ مناقب خوارزمی، ص217۔
[6]۔ الغدیر، ج1، ص153-171۔
[7]۔ ینابیع المودة، ص482۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنّة و الأدب، تہران، دار الکتب الإسلامیة، ۱۳۶۶ھ ش۔
3۔ بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، المکتبة الاسلامية للنشر و التوزیع، استنبول، ۱۳۱۵ھ ق۔
4۔ الخوارزمي، الموفق بن احمد، مناقب خوارزمی، قم، مؤسسة النشر الإسلامي، ۱۴۱۱ھ ق.
5۔ قندوزی، سلیمان بن ابراهیم، ینابیع المودة، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، ۱۴۱۸ھ ق۔
مضمون کا مآخذ
سبحانی، جعفر، امت کی رہبری؛ ترجمہ سید احتشام عباس زیدی، اکیسویں فصل، قم، مؤسسه امام صادق علیه السلام، ۱۳۷۶ ھ ش۔