(۲۸)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "المَهْدِيِ مِنْ عِتْرَتي مِنْ وُلدِ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: امام مہدی علیہ السلام میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ہے کہ جو حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی اولاد میں سے ہیں۔ (الصواعق المحرقة ص۲۳۷)
(۲۹)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):” إنّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فَطَمَ ابْنَتِي فاطِمَة وَوُلدَها وَمَنْ أَحَبًّهُمْ مِنَ النّارِ فَلِذلِكَ سُمّيَتْ فاطِمَة۔سلام اللہ علیھا”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:خداوند نے جہنم کی آگ کو میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا ان کی اولاد اور جو بھی ان سے محبت کرتا ہو گا، دور کیا ہے، پس اسی وجہ سے میری بیٹی کا نام فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا رکھا گیا ہے۔ (كنز العمال ج۶ ص۲۱۹)
(۳۰)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "یا فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا انت أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتي لُحُوقاً بِي۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا میرے وصال کے بعد میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ کر ملو گی۔ (حلية الأولياء ج ۲ ص صحيح البخاري كتاب الفضائل كنز العمّال ج ۱۳ ص ۹۳۴۰، منتخب كنز العمّال ج ۵ ص ۹۷)
(۳۱)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا بَضْعَةٌ مِنّي يَسُرُّنِي ما يَسُرُّها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:”سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بھی اس کو خوش کرے گا، اس نے مجھے خوش کیا ہے” (الصواعق المحرقة ص ۱۸۰ و ۲۳۲ / مستدرك الحاكم معرفة ما يجب لآل البيت النبوي من الحق علي من عداهم ص ۷۳ ينابيع المودّة ج ۲ باب ۵۹ ص ۴۶۸)
(۳۲)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا بَضْعَةُ مِنّي فَمَنْ أَغْضَبَها أَغْضَبَنِي۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:” سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا میرے تن کا ٹکڑا ہے، جو بھی اس کو ناراض کرے گا، اس نے مجھے ناراض کیا ہے۔” (صحيح البخاري ج ۳ كتاب الفضائل باب مناقب فاطِمَة ص ۱۳۷۴، خصائص الإمام عليّ للنسائي ص ۱۲۲، الجامع الصغير ج ۲ ص ۶۵۳ ح ۵۸۵۸،كنز العمّال ج ۳ ص ۹۳ ـ ۹۷، منتخب بهامش المسند ج ۵ ص ۹۶، مصابيح السنّة ج ۴ ص۱۸۵، إسعاف الراغبين ص۱۸۸، ذخائر العقبي ص ۳۷، ينابيع المودّة ج ۲ ص ۵۲ ـ ۷۹)
(۳۳)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا خُلِقَتْ حورِيَّةٌ فِيْ صورة إنسيّة۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا انسان کی شکل میں خلق کی گئی، جنت کی حور ہیں۔(مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص۲۹۶)
(۳۴)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):” فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا حَوْراءُ آدَميّةَ لَم تَحضْ وَلَمْ تَطْمِث۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا انسان کی شکل میں جنت کی حور ہیں، کہ جو خون حیض اور نفاس سے دوچار نہیں ہوتیں۔” (الصواعق المحرقة ص ۱۶۰، إسعاف الراغبين ص ۱۸۸، كنز العمّال ج ۱۳ ص ۹۴، منتخب كنز العمّال ج ۵ ص ۹۷)
(۳۵)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):” فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیھا بَضْعَةٌ مِنّي وَهِيَ قَلْبِيْ وَهِيَ روُحِي التي بَيْنَ جَنْبِيّ۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور وہ میرا دل ہے اور وہ میرے بدن میں موجود میری روح ہے۔(نور الأبصار ص ۵۲)
(۳۶)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):”سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا سيِّدَةُ نِساءِ أُمَّتِي۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا میری امت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں۔
(سير أعلام النبلاء ج ۲ ص ۱۲۷، صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب فاطمة، مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۰۱، إسعاف الراغبين ص ۱۸۷)
(۳۷)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):”سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا بَضْعَةٌ مِنّي يُؤلِمُها ما يُؤْلِمُنِي وَيَسَرُّنِي ما يَسُرُّها۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:”سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بھی اس کو تکلیف دے گا، اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور جو بھی اس کو خوش حال کرے گا، اس نے مجھے خوشحال کیا ہے۔”(مناقب الخوارزمي /ص ۳۵۳)
(۳۸)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا بَهْجَةُ قَلْبِي وَابْناها ثَمْرَةُ فُؤادِي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میرے دل کا آرام و قرار ہے اور اس کے دو بیٹے میرے دل کے پیارے ہیں۔(ينابيع الموّدة ج ۱ باب ۱۵ ص ۲۴۳)
(۳۹)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):”سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا لَيْسَتْ كَنِساءِ الآدَميّين۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا عام عورتوں کی طرح ایک عورت نہیں ہے۔(مجمع الزوائد ج ۹ ص ۲۰۲)
(۴۰)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "یا سیدۃ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا! إِنّ اللّهَ يَغْضِبُ لِغَضَبَكِ۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا خداوند تیرے غضب ناک ہونے کی وجہ سے غضب ناک ہوتا ہے۔(الصواعق المحرقة ص ۱۷۵،مستدرك الحاكم، باب مناقب فاطمة، مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص ۳۵۱)
(۴۱)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):”سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا إِنّ اللّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلا أَحَدٍ مِنْ وُلْدِكِ۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:اے سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا بے شک خداوند تجھے اور تیری اولاد پاک میں سے کسی ایک کو بھی عذاب نہیں کرے گا۔(كنز العمّال ج۱۳ ص۹۶ منتخب كنز العمّال بهامش مسند أحمد ج۵ ص۹۷، إسعاف الراغبين بهامش نور الأبصار ص۱۱۸)
(۴۲)
قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "كَمُلَ مِنَ الرِّجال كَثِيرُ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النساءِ إِلاّ أَرْبَع: مَرْيم وَآسِيَة وَخَديجَة وَفاطِمَة۔سلام اللہ علیھم”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: مردوں میں سے بہت کی عقل کامل ہوئی ہے، لیکن عورتوں میں سے فقط چار عورتوں کی عقل کامل ہوئی ہے اور وہ سیدہ مریم، سیدہ آسیہ،سیدہ خدیجہ الکبری اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھن ہیں۔”(نور الأبصار ص ۵۱)
(۴۳)
قال رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "ليلة عرج بي إلي السماء رأيت علي باب الجنّة مكتوبا: لا إله إلا الله، محمّد رسول الله، عليّ حبيب الله، الحسن والحسين صفوة الله، فاطمة خيرة الله، علي مبغضيهم لعنة الله۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جس رات کو مجھے معراج پر لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ: لا إلہ إلا الله، محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علی ولی الله علیہ السلام، حسن و حسین علیھما السلام اورسیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا خداوند کے برگذیدہ انسان ہیں۔ جو بھی ان سے بغض رکھنے والا ہو گا، اس پر خداوند کی لعنت ہو گی۔ (تاريخ بغداد:ج ۱ص،۲۵۹ تاريخ دمشق:ج ۱۴ص۱۷۰، لسان الميزان:ج ۵ص۷۰)
(۴۴)
قال رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): "لو كان الحسن شخصا لكان فاطمة، بل هي أعظم، إن فاطمة ابنتي خير أهل الأرض عنصرا وشرفا وكرما۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:” اگر حسن و خوبصورتی ایک انسان کی شکل میں ہوتے، تو وہ سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا شکل میں ہوتے، بلکہ وہ ان سے بھی بالا تر ہوتی۔ بے شک میری بیٹی فاطمؑہ عنصر (ذات)، شرف اور کرم کے لحاظ سے تمام اہل زمین سے افضل ہے۔”(مقتل الحسين:ج ۱ص۶۰)
(۴۵)
خرج رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):”وهو آخذ بيد فاطمة (سلام الله عليها) فقال: (من عرف هذا فقد عرفها ومن لم يعرفها فهي فاطمة بنت محمّد وهي قلبي وروحي التي بين جنبي”۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر نکلے، اس حالت میں کہ آپ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ زراء سلام اللہ علیھا کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپؑ نے فرمایا کہ: جو بھی اس کو پہچانتا ہے، وہ تو پہچانتا ہی ہے، اور جو نہیں پہچانتاتو وہ اس کو جان لے کہ یہ سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہے، وہ میری دل و جان اور میرے بدن میں موجود میری روح ہے۔”(الفصول المهمّة: ص۱۴۶، نور الأبصار:ص ۵۳)
(۴۶)
قال رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):” أتاني جبرئيل قال: يا محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إنّ ربّك يحبّ فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا فاسجد , فسجدت , ثمّ قال: إنّ الله يحبّ الحسن والحسين فسجدت , ثمّ قال: إنّ الله يحبّ من يحبّهما۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ: اے محمد، مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند تعالٰی سیدہ فاطمۃ زہراء سلام اللہ علیھا سے محبت کرتا ہے،لہذا تم سجدہ کرو، پس میں نے بھی سجدہ کیا، پھر اس نے کہا کہ: بے شک خداوند حسن اور حسین علیھما السلام سے بھی محبت کرتا ہے، پس میں نے دوبارہ سجدہ کیا، پھر اس نے کہا کہ: جو بھی ان دونوں سے محبت کرتا ہے، تو خداوند عالم ان سب سے بھی محبت کرتا ہے۔(لسان الميزان:ج ۳ص۲۷۵)
(۴۷)
قال رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: "يا سلمان ,رضی اللہ عنہ! حبّ فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا ينفع في مئة من المواطن , أيسر تلك المواطن: الموت , والقبر , والميزان , والمحشر , والصراط , والمحاسبة , فمن رضيت عنه ابنتي فاطمة , رضيت عنه , ومن رضيت عنه رضي الله عنه , ومن غضبت عليه ابنتي فاطمة , غضبت عليه , ومن غضبت عليه غضب الله عليه , يا سلمان ويل لمن يظلمها ويظلم بعلها أمير المؤمنين عليا , وويل لمن يظلم ذرّيتها وشيعتها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے سلمان رضی اللہ عنہ! سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کی محبت انسان کو ۱۰۰ مقامات پر فائدہ دیتی ہے، کہ ان مقامات میں سے کم ترین اور آسان ترین مقام، مرتے وقت، قبر میں، میزان پر، محشر میں، پل صراط پر، اعمال کے حساب کتاب کے وقت، پس جس سے بھی میری بیٹی سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا راضی ہو گی، تو میں بھی اس سے راضی ہوں گا اور جس سے میں راضی ہوں گا تو خداوند بھی اس سے راضی ہو گا، اور جس پر بھی میری بیٹی فاطمہ غضب ناک ہو گی تو میں بھی اس پر غضب ناک ہوں گا اور جس پر بھی میں غضب ناک ہوں گا تو خداوند بھی اس پر غضب ناک ہو گا۔
اے سلمان، رضی اللہ تعالی عنہ وہ بدبخت اور اس کا برا حال ہو گا، جو اس (فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیہا) اور اس کے شوہر امیر المؤمنین علی علیہ السلام پر ظلم و ستم کرے گا،اور وہ بھی بدبخت اور اس کا برا حال ہو گا، جو ان کی نسل اور ان کے محبوں پر ظلم و ستم کرے گا۔(فرائد السمطين: ۲ باب ۱۱ ح ۲۱۹، كشف الغمہ:ج ۱ص۴۶۷)
(۴۸)
قرأ رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): هذا الآية: (في بيوت أذن الله أن ترفع ويذكر فيها اسمه) فقام إليه رجل فقال: أي بيوت هذه يا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ قال:” بيوت الأنبياء , فقام إليه أبوبكر فقال: يا رسول الله أهذا البيت منها ؟ -مشيرا إلي بيت علي وفاطمة عليهما السلام-قال:نعم , من أفاضلها۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس آیت کی تلاوت کی: (ہدایت پانے والے) ایسے گھروں میں ہیں جن کی تعظیم کا اللہ نے اذن دیا ہے اور ان میں اس کا نام لینے کا بھی، وہ ان گھروں میں صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہیں
تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کون سے گھر ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ: ان سے مراد انبیاء کے گھر ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کرسیدتنا علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے گھر کی طرف اشارہ کر کے سوال کیا کہ:یا رسول اللہ، کیا یہ گھر بھی ان گھروں میں شامل ہے ؟ رسول خدا نے فرمایا کہ: ہاں، بلکہ یہ گھر ان گھروں سے افضل ہے۔ (الدر المنثور:ج ۶ص۲۰۳، تفسير آية النور , روح المعاني:ج ۱۸ص ۱۷۴، تفسير الثعلبي:ج ۷ص۱۰۷، الكشف والتبيان لللسفوي:صفحہ ۷۲)
(۴۹)
قال رسول اللّه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: "ما رَضِيْتُ حَتّي رَضِيَتْ فاطِمَة۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: میں کبھی بھی کسی سے راضی نہیں ہوا، مگر یہ کہ فاطمؑہ اس سے راضی ہو جائے۔ (مناقب الإمام علي لابن المغازلي: ص ۳۴۲)
(۵۰)
قال رسول اللّه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "أَوَّلُ مَنْ دَخَلَ الجَنَّةَ فاطِمَة۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: سب سے پہلے جنت میں فاطمؑہ داخل ہوں گی۔ (ينابيع المودّة ج۲ ص۳۲۲ باب۵۶)
(۵۱)
قال رسول اللّه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: "فاطِمَة سيِّدَةُ نِساءِ أُمَّتِي۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: فاطمؑہ میری امت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں۔ (سير أعلام النبلاء ج ۲ ص ۱۲۷، صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب فاطمة، مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۰۱، إسعاف الراغبين ص ۱۸۷)
(۵۲)
قال رسول اللّه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "فاطِمَة بَضْعَةٌ مِنّي مَنْ آْذاهَا فَقَدْ آذانِي۔”
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: فاطمؑہ میرا ایک ٹکڑا ہے، جو بھی اس کو اذیت پہنچائے گا، اس نے بے شک مجھ کو اذیت پہنچائی ہے۔ (السنن الكبري ج ۱۰ باب من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده ص ۲۰۱، كنز العمّال ج ۱۳ ص ۹۶، نور الأبصار ص۵۲، ينابيع المودّة ج ۲ ص ۳۲۲)
(۵۳)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
"سُمِّيَت فَاطِمَۃُ بَتُولًا لِاَنَّهَا تَبتَلَت وَتَقَطَّعَت عَمَّا ھُوَامُعتَاذاً العَورَاتِ فِي كُلِّ شَهرِ”
”فاطمہؑ“ کو بتول اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ عورتوں کی عادت سے جو وہ ہر ماہ دیکھتی ہے ان سے پاک ہیں“ (المناقب صالح کشفی، صفحہ ۱۱۹)
(۵۴)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
” انھا سمیت فاطمۃ لِاَنَّ اللہَ فَطَمَھَا وَ ذُرِّیَتَھَا مِنَ النَّارِ،مَن لَقَی اللہَ مِنھُم بِالتَّوحِیدِ وَ الاِیمَانِ لِمَا جِئتَ بِہِ
"ان کا نام اس لیے فاطمہؑ رکھا گیا ہے کیونکہ خداوند تعالی نے انہیں اور اُن کی اولاد کو، جس نے اللہ سے اس حال میں ملاقات کی کہ وہ اس کی وحدانیت پر اور جو کچھ میں نے پیش کیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہوں، جہنم سے محفوظ کر دے گا۔“ (بحار الانوار جلد ۶۳)