قرآن کریم کی تعظیم اور اس کے ظاہری و حقیقی پہلو

قرآن کریم کی تعظیم اور اس کے ظاہری و حقیقی پہلو

کپی کردن لینک

قرآن کریم اللہ کا معجزہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، جو انسانیت کی رہنمائی کے لئے نازل ہوا۔ بد قسمتی سے، آج کے معاشروں میں قرآن کریم کی تعظیم ظاہری آداب تک محدود ہے، جبکہ اس کے حقیقی پیغام اور عملی اطلاق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم کی تعظیم کے متعلق زیادہ تر جو کچھ آج اسلامی معاشروں میں موجود ہے ان کو قرآن کریم کی ظاہری تعظیم اور احترام کہا جاسکتا ہے، جبکہ قرآن کریم ہرگز اس لئے نازل نہیں ہوا ہے کہ اس کے ساتھ ایک خاص (ظاہری) آداب و رسوم اور احترام بجا لائیں۔

قرآن کریم کی ظاہری تعظیم

قرآن کریم فقط حفظ کرنے اور بہترین دھن اور آواز کے ساتھ تلاوت کرنے کے لئے نہیں ہے۔ قرآن کریم زندگی اور الٰہی پیغامات کی کتاب ہے کہ سب کا فریضہ ہے کہ اپنی دنیوی زندگی میں اس پر عمل کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں، خصوصاً اسلامی معاشروں میں حکومت کے عہدہ دار افراد کا فریضہ ہے کہ نظام کی کلی سیاستوں کو اس کتاب الٰہی کی ہدایات کی بنیاد پر تنظیم کر کے ان کا اجرا کریں۔

تاکہ قرآن کریم کے مکتب فکر کے پھلنے پھولنے کا مقدمہ معاشرہ کے افراد کے لئے بہتر طور سے مہیا ہو اور نتیجہ میں نزول قرآن کریم کا مقصد پورا ہو جائے کہ اس کا مقصد یہی ہے کہ روئے زمین پر عدل و انصاف کے زیر سایہ انسان کا تکامل اور اس کی سعادت ممکن ہے۔

افسوس ہے کہ اس امید کے برخلاف، جو کچھ آج ہم قرآن کریم کی تعظیم و تکریم کے عنوان سے مشاہدہ کر رہے ہیں وہ ظاہری احترام کی حد سے آگے نہیں بڑھتا اور قرآن کریم کی مرکزیت کا لازمہ مسلمانوں کی سیاسی و اجتماعی زندگی میں بھلا دیا گیا ہے۔

آج بہت سے اسلامی ممالک میں بہت سے ادارے، ابتدائی کلاسوں سے کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک قرآن کریم کی تعلیم و تعلم کا انتظام کرتے ہیں اور مختلف طریقوں سے قرآن کریم کے ناظرے، حفظ اور قرائت کا اہتمام کرتے ہیں اور ہر سال ہم عالمی پیمانے پر قرآن کریم کے حفظ و قرائت کے مقابلوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مختلف قرآنی علوم جیسے تجوید و ترتیل وغیرہ قرآن کریم کے عقیدتمندوں کے درمیان ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

ان امور کے علاوہ قرآن کریم عام مسلمانوں کے درمیان ایک خاص احترام کا حامل ہے مثلاً اس کے الفاظ و آیات کو بغیر وضو کے مس نہیں کرتے اور قرائت کے وقت ادب کے ساتھ بیٹھتے ہیں، زیادہ تر افراد قرآن کریم کے مقابل اپنا پاؤں نہیں پھیلاتے، اس کو سب سے زیادہ بہتر جلد میں اور سب سے زیادہ مناسب جگہ پر رکھتے ہیں، خلاصہ یہ کہ اس طرح کے ظاہری احترام عام مسلمانوں کے درمیان رائج ہیں۔

واضح ہے کہ مذکورہ امور کی رعایت اس آسمانی کتاب کے احترام کے عنوان سے ایک بڑی فضیلت ہے کہ جس قدر بھی ہم ان کے پابند ہوں بہتر ہے لیکن ہم نے اس آسمانی کتاب کے احترام کا حق کماحقہ ادا نہیں کیا ہے اور خداوند متعال کی اس عظیم نعمت کا شکر جو کہ نعمت ہدایت ہے، بجا نہیں لائے ہیں، لیکن ہر نعمت کا سب سے زیادہ احترام اور شکر اس کی حقیقت کی شناخت اور اس کا اس جگہ استعمال ہے کہ خدا نے جس کے لئے خلق کیا ہے۔

چنانچہ اگر ہم اس نظریہ کے ساتھ چاہیں کہ قرآن کریم کو دیکھیں اور اس کا احترام و اکرام کریں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ قرآن کریم اسلامی معاشروں کے کلچر میں ایک مطلوب منزلت نہیں رکھتا اور اس کا حقیقی طور پر احترام نہیں کیا جاتا۔

قرآن کریم کی تعظیم اور اس کے احترام و اکرام سے متعلق مسلمانوں کا جو عمل بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ ضروری اور لازم ہے، لیکن ان امور کی انجام دہی سے خداوند متعال کے قرآن کریم نازل کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا اور اس آسمانی کتاب کے بارے میں مسلمانوں کا جو فریضہ ہے وہ بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ ظواہر قرآن کریم کی معرفت، آیات الٰہی کی قرائت اور اس نسخۂ شافیہ کی ظاہری تعظیم و تکریم، اس کے مطالب اور احکام پر عمل کرنے کا مقدمہ ہیں۔ قرآن کریم کا واقعی حق، مسلمانوں کی سیاسی و اجتماعی زندگی میں اس کو محور قرار دیئے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔

واضح سی بات ہے کہ ڈاکٹر کے نسخے کو چومنا، اس کا احترام کرنا اور اس کو بہترین دھن اور میٹھی آواز کے ساتھ پڑھنا، بغیر اس کے کہ ڈاکٹر کی ہدایات اور اس کے احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، بیمار کے کسی بھی درد کا مداوا نہیں کرتا۔ ہر عقلمند یقین رکھتا ہے کہ شفا کے لئے ماہر ڈاکٹر کے احکام پر عمل کرنا لازم ہے۔ ڈاکٹر کے نسخہ کا حقیقی احترام اس پر عمل کرنا ہے نہ کہ ڈاکٹر اور اس کے نسخہ کی تعظیم و تکریم کرنا ہے۔

قرآن کریم کی تعظیم کے متعلق بھی کہنا چاہئے کہ اگرچہ اس کا ظاہری احترام کرنا، پسندیدہ امور اور ہر ایک مسلمان کے فرائض میں سے ہے، لیکن یہ اس آسمانی کتاب کے بارے میں مسلمانوں کا سب سے معمولی فریضہ ہے، اس لئے کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کے حیات بخش احکام پر عمل کرنے کے ذریعے اس ہدایت الٰہی کی نعمت کا شکر اور واقعی احترام بجالائیں اور اپنے کو اس پُرفیض امانت سے محروم نہ کریں تاکہ نتیجہ میں اس نور الٰہی کے ذریعے اپنی اندھیری دنیا کو روشنی بخشیں۔

قرآن کریم، حقیقی نور

خداوند متعال کی تجلی کا ایک مظہر نور ہے۔ خداوند تعالی اپنے کو نور سے تشبیہ دیتا ہے اور فرماتا ہے: ”اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَ الأَرْضِ”[1] خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ یہ خداوند متعال کے نور وجود کی تجلی اور چھوٹ ہے کہ جس سے زمین و آسمان اور مخلوقات کی خلقت ہوئی ہے۔ عنایت خدا کی برکت ہے کہ عالم وجود قائم و ثابت ہے اور فیض وجود، ہمیشہ اور مسلسل منبع جود کی جانب سے موجودات پر جاری و ساری ہے نتیجہ میں موجودات و مخلوقات اپنی زندگی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کبھی کبھی کلام خدا کو بھی نور سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس لئے کہ نور ہی کے پرتو میں انسان راستے کو پیدا کرتا ہے، سرگردانی اور بھول بھلیوں میں بھٹکنے سے نجات حاصل کرتا ہے۔ چونکہ سب سے زیادہ بری اور نقصان دہ گمراہی، راہ زندگی کی ضلالت و گمراہی اور انسان کی سعادت کا خطرے میں پڑنا ہے، اس لئے حقیقی اور واقعی نور وہ ہے جو کہ انسانوں کو اور انسانی معاشروں کو ضلالت و گمراہی سے نجات دے اور انسانی کمال کے صحیح راستے کو ان کے لئے روشن کرے تاکہ سعادت و تکامل کے راستے کو سقوط و ضلالت کے راستوں سے تمیز دے سکیں۔

اسی بنیاد پر خداوند متعال نے قرآن کریم کو نور سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے: ”قَد جَائَکُم مِنَ اللّٰہِ نُور وَّ کِتَاب مُبِین”[2] یقینا تمھارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آئی ہے تاکہ تم اس سے استفادہ کر کے راہ سعادت کو شقاوت سے جدا کرسکو۔

امیر المومنین حضرت علی (ع) خطبہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کی توصیف کے بعد قرآن کریم کا وصف بیان فرماتے ہیں: ”ثُمَّ أَنزَلَ عَلَیهِ الْکِتَابَ نُوراً لا تُطْفَأُ مَصَابِیْحُهَ وَ سِرَاجاً لایَخْبُو تَوَقُّدُهُ وَ بَحْراً لایُدْرَکُ قَعْرُهُ”[3] پھر خداوند متعال نے اپنے پیغمبر (ص) پر قرآن کو ایک نور کی صورت میں نازل فرمایا کہ جس کی قندیلیں کبھی بجھ نہیں سکتیں، اور ایسے چراغ کے مانند کہ جس کی لو کبھی مدھم نہیں پڑسکتی اور ایسے سمندر کے مانند جس کی تھاہ مل نہیں سکتی۔

حضرت علی (ع) اس خطبہ میں وصف قرآن کریم کے متعلق پہلے تین نہایت خوبصورت تشبیہوں کے ذریعے چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں کو قرآن کریم کی عظمت سے آشنا کریں اور ان کی توجہ اس عظیم الٰہی سرمایہ کی طرف جو کہ ان کے ہاتھوں میں موجود ہے، زیادہ سے زیادہ مبذول فرمائیں۔

پہلے حضرت علی (ع) قرآن کریم کی توصیف نور کے ذریعہ فرماتے ہیں: ”أَنْزَلَ عَلَیهِ الْکِتَابَ نُوراً لا تُطْفَأُ مَصَابِیحُهُ”[4] خداوند تعالی نے قرآن کریم کو اس حال میں کہ نور ہے، پیغمبر (ص) پر نازل فرمایا، لیکن یہ نور تمام نوروں سے مختلف ہے۔

یہ حقیقت (قرآن کریم) ایک ایسا نور ہے کہ جس کی قندیلیں ہرگز خاموش نہیں ہوسکتیں اور ان کی لو کبھی مدھم نہیں پڑسکتی۔

معقول کی محسوس سے تشبیہ کے عنوان سے قرآن کریم اس برقی انرجی کے عظیم منبع کے مانند ہے جو کہ اندھیری راتوں میں بجلی کے مرکز کے ذریعے قوی اور بڑی بڑی مرکریوں کے وسیلے سے ان راستوں کو روشن کرتا ہے جو کہ منزل مقصود تک منتہی ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو سلامتی کے ساتھ مقصد تک پہنچنا چاہتے ہیں، دو راہوں، چوراہوں یا چند راہوں پر راہنما چراغوں کو نصب کر کے اس شاہراہ کو روشن کرتا ہے جو کہ منزل مقصود تک پہنچتا ہے اور ان دوسرے راستوں سے تمیز دیتا ہے جو کہ سرگردانی اور ہولناک گھاٹیوں میں گرنے کا باعث ہوتے ہیں۔

قرآن کریم بھی دینی اور اسلامی معاشرہ میں اور سعادت و کامیابی تلاش کرنے والوں کی زندگی میں ایسا ہی اثر رکھتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ جو چراغ اس نور کے منبع سے روشنی کسب کرتے ہیں اور راہ سعادت کو روشن کرتے ہیں وہ کبھی بجھ نہیں سکتے نتیجہ میں راہ حق، ہمیشہ مستقیم اور روشن ہے، قرآن کریم اور اس کے روشن چراغ ہمیشہ قرآن کریم کے پیرؤوں کو نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ ہوشیار رہو کہیں راہ حق سے منحرف نہ ہو جاؤ۔

اسی خطبہ میں آگے بڑھ کر حضرت علی (ع) ارشاد فرماتے ہیں: ”نُوْراً لَیسَ مَعَهُ ظُلْمَة” قرآن کریم وہ نور ہے جس کے ہوتے ہوئے ظلمت و تاریکی کا امکان نہیں ہے، اس لئے کہ یہ آسمانی کتاب ایسے چراغ اور قندیلیں رکھتی ہے جو اس سے نور حاصل کرتی ہیں اور ہمیشہ ہدایت و سعادت کی راہوں کو روشن رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ، حضرات ائمۂ معصومین (ع) کہ وہی وحی الٰہی کے مفسر ہیں ان چراغوں اور قندیلوں کے مانند ہیں جو کہ قرآن کریم کے معارف کو لوگوں سے بیان کرتے ہیں اور اپنے خداداد علم کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن کریم کی حقیقت سے آشنا کرتے ہیں۔

قرآنی چراغ اور آئینے

جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ حدیث ثقلین کے مطابق، قرآن کریم و عترت (اہل بیت) یہ دونوں الٰہی امانتیں موحدین کی ہدایت کے راستے میں ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ ہیں کہ ایک سے تمسک کرنے اور دوسرے کو چھوڑنے سے نزول قرآن کریم کا مقصد، جو کہ انسانوں کی ہدایت ہے، پورا نہیں ہوتا۔

حضرات ائمۂ معصومین (ع) وہ چراغ ہیں جو اس الٰہی منبع سے نور اخذ کرتے ہیں اور سعادت کے طلبگار افراد کی راہ زندگی کو روشن کرتے ہیں کیونکہ قرآن کریم اور اس کی حقیقت آپ حضرات (ع) ہی کے پاس ہے۔ یہی ذوات مقدسہ ہیں جو متشابہات کو محکمات کی طرف واپس لے آتے ہیں، راہ کو بیراہی و سرگردانی سے جدا کرتے ہیں اور لوگوں کو کمال و سعادت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ لوگوں کو بھی چاہئے کہ قرآن کریم کے معارف کو فقط آپ حضرات ہی سے حاصل کریں اور ان پر عمل کریں۔

حکمت الٰہی اسی بات کی مقتضی ہے اور سنت الٰہی اسی بات پر قائم ہے کہ لوگ اہل بیت (ع) کے وسیلے سے قرآن کریم کے معارف و علوم حاصل کریں اور ان پر عمل کر کے اپنی دنیوی اور اخروی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

لہٰذا اس مقصد کے تحقق کے لئے خداوند متعال نے امامت کا ایک سلسلہ قائم کر کے معارف قرآن کریم سے استفادہ کا راستہ سعادت کے طلبگاروں کے لئے کھلا رکھا ہے۔ اگر چہ دشمن اور دنیا پرست افراد پوری تاریخ میں اس بات کے درپے رہے ہیں کہ لوگوں کے لئے ہدایت الٰہی کے نور کو جو کہ مکتب اہل بیت (ع) میں مجسم نظر آتا ہے، خاموش کردیں۔

لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہرگز اس کام میں کامیاب نہ ہوں گے: ”یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللّٰهِ بِأَفوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَو کَرِهَ الْکافِرُونَ”[5] وہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا

اسی وجہ سے حضرت علی (ع) قرآن کریم کو اس چراغ سے تشبیہ دیتے ہیں جس کی لَو کبھی مدھم نہیں پڑسکتی اور جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔

قرآن کریم کے معارف اتنے گہرے اور وسیع ہیں کہ جس قدر علوم اہل بیت (ع) سے آشنا لوگ اس کے اندر غور و فکر کرتے ہیں ہر قدم پر ایک نیا نکتہ اور ایک نئی معرفت حاصل کرتے ہیں اور چونکہ یہ آسمانی کتاب، علم الٰہی کا ایک نسخہ ہے جس قدر تشنگان حقیقت اس کی حقیقت کے آب زلال کو نوش کرتے ہیں وہ نہ صرف سیراب نہیں ہوتے بلکہ ان کی تشنگی اور بڑھ جاتی ہے۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اولیاء خدا اور حقیقت قرآن کریم کی معرفت رکھنے والے کوشش کرتے ہیں کہ نماز میں آیات الٰہی کی تلاوت اور ان میں تدبر و تفکر کے ذریعے اپنی روح کو لطیف و پاکیزہ بنائیں اور زیادہ سے زیادہ اپنے کو الہامات خداوندی اور بیکراں معارف الٰہی کی بارش کا مرکز قرار دیں۔

قرآن کریم ایک ایسا دمکتا آفتاب ہے جس کے معارف بے کراں اور جس کی روشنی ابدی ہے، اس لئے کہ یہ آسمانی کتاب اس گہرے سمندر کے مانند ہے جس کی تھاہ تک پہنچنا پیغمبر اور ائمۂ معصومین (ع) کے علاوہ کہ جن کے پاس ”علم کتاب” ہے، کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے اور جو شخص اور جو معاشرہ بھی چاہے کہ قرآن کریم اور کلام الٰہی سے آشنا ہو اور اپنی فردی و اجتماعی زندگی کو اس آسمانی کتاب کی ہدایات کی بنیاد پر قائم اور منظم کرے، اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ پیغمبر (ع) اور ائمہ معصومین (ع) کی تفسیر و توضیح کی بنیاد پر قرآن کریم سے تمسک کرے اور ان حضرات کی سیرت و سنت کو نمونۂ عمل قرار دے۔ اس بات کی تائید کے لئے ہم صرف دو روایتوں کے کچھ حصوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) ارشاد فرماتے ہیں:

”وَ نَحْنُ قَنَادِیْلُ النُّبُوَّةِ وَ مَصَابِیحُ الرِّسَالَةِ وَ نَحْنُ نُورُ الاَنوَارِ وَ کَلِمَةُ الْجَبَّارِ وَ نَحْنُ رَایَةُ الْحَقِّ الَّتِی مَن تَبِعَهَا نَجَیٰ وَ مَن تَأَخَّرَ عَنْهَا هَوَیٰ وَ نَحنُ مَصَابِیْحُ الْمِشْکَاةِ الَّتِی فِیهَا نُورُ النُّورِ”[6]

ہم (اہل بیت) نبوت کی قندیلیں اور رسالت کے چراغ ہیں، یعنی لوگوں کو چاہئے کہ ائمۂ معصومین (ع) کی رہنمائی کے ساتھ نبوت و رسالت کی منزل مقصود کی طرف، کہ وہی حق کی طرف ہدایت ہے، راستہ طے کریں۔ ہم تمام نوروں کے نور ہیں، خدا کی حاکمیت ہماری ولایت کے ذریعے تحقق حاصل کرتی ہے اور ہم ہی وہ حق کا علَم ہیں کہ جو بھی اس کی پیروی کرے گا نجات حاصل کرے گا اور جو اس سے دور ہوا وہ ہلاک ہوجائے گا اور ہم وہ چراغ ہیں کہ جن میں نور در نور ہے۔

ایسا ہی بیان حضرت امام زین العابدین (ع) سے بھی نقل ہوا ہے، چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں:

”إنّ مَثَلَنَا فِی کِتَابِ اللّٰهِ کَمَثَلِ الْمِشْکَاةِ والْمِشْکَاةُ فِی الْقَنْدِیْلِ فَنَحْنُ الْمِشْکَاةُ فِیهَا مِصْبَاح وَ الْمِصْبَاحُ هُوَ مُحَمَّد ۖ اَلْمِصْبَاحُ فِی زُجَاجَةٍ نَحنُ الزُّجَاجَةُ کَأَنَّهَا کَوْکَب دُرِّی یُوقَدُ مِن شَجَرِةٍ مُبَارَکَةٍ زَیتُونَةٍ لاشَرقِیَّةٍ وَ لاغَربِیَّةٍ لامُنکَرَةٍ وَ لادَعْیَةٍ یَکَادُ زَیتُهَا نُوْر یُضِیئُ وَ لَو لَم تَمْسَسْهُ نَارُ نُورُالفُرْقَانِ عَلٰی نُورٍ یَهْدِ اللّٰهُ لِنُورِهِ مَن یَّشآئُ لِوِلَایَتِنَا وَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیم بِأَن یَّهْدِ مَن أَحَبَّ لِوِلایَتِنَا حَقّاً”[7]

حضرت نے اس بیان میں سورۂ نور کی پینتیسویں آیت کی تفسیر پیغمبر (ص) اور اہل بیت اور ائمۂ معصومین (ع) سے کی ہے۔

حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں ہم اہل بیت (ع) کی مثل اس منبع کے مانند ہے جس کے ذریعے ہدایت الٰہی کا نور بندوں کے لئے راستے کو روشن کرتا ہے، ہم اہل بیت (ع) اس شفاف آئینے کے مانند ہیں جو چراغ ہدایت کے نور کو کہ وہی نبوت کا نور ہے، بندوں کے سامنے منعکس کرتے ہیں، اس نور کا سرچشمہ نور الٰہی کا وہ شجرہ طیبہ ہے جس کی روشنی نہایت وسیع اور ناقابل انکار ہے حقیقت میں یہ نہ شرقی ہے نہ غربی، نہ تو غیر معروف ہے اور نہ متروک۔

حضرت امام زین العابدین (ع) ارشاد فرماتے ہیں کہ پیغمبر (ص) اور اہل بیت طاہرین (ع) کی حقیقت اس نہایت شفاف چراغ کے مثل ہے جو شعلہ کے بغیر، نور دیتا ہے، نور قرآن کریم اس نور پر مبتنی ہے کہ خدا جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اسے اس نور (ولایت اہل بیت (ع)) کی ہدایت دیتا ہے۔

خاتمہ

قرآن کریم کی تعظیم اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں ہے۔ ظاہری احترام کے ساتھ، اس کے اصولوں کو اپنی زندگی اور معاشرے کا حصہ بنا کر ہی دنیا و آخرت میں کامیابی ممکن ہے۔

حوالہ جات

[1] سورہ نور، آیۃ35
[2] سورہ مائدہ، آیۃ 15؛ اس آیۂ کریمہ میں نور سے مراد در حقیقت حضرات محمد و آل محمد (ع) ہیں اس لئے کہ قرآن کا ذکر یہاں ”کتاب مبین” کے ذریعہ کیا گیا ہے، اگرچہ قرآن کریم کا بھی نور ہونا اس ”کتاب مبین” (روشن کتاب) کی تعبیر سے نیز دوسری آیات و روایات سے ثابت ہے (مترجم)۔
[3] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۱۹۸
[4] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ ۱۹۸
[5] سورہ صف، آیۃ۸
[6] مجلسی، بحار الانوار، ج۲۶، ص۲۵۹
[7] ۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۲۳، ص۳۱۴

 

فہرست منابع

۱: القرآن الکریم
۲: سید رضی، نَهجُ البَلاغة، قم، دار الهجرة، ۱۴۰۹ھ ق۔
۳: مجلسی، محمد باقر، بِحارُالاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1315 ھ.ق۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

مصباح یزدی، محمد تقی، قرآن نہج البلاغہ کے آئینہ میں؛ مترجم: فیضی ہندی، ہادی حسن، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ص۴۸ الی۵۸۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔