ماہ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کا اختتام قریب ہے۔ اٹھارھویں دن کی دعا انسان کو "سحر خیزی” کی اہمیت اور "تزکیہ نفس” کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے تین بنیادی چیزوں کا سوال کرتا ہے: سحر کی برکتوں کے لیے بیداری، انوارِ الٰہی سے دل کی روشنی، اور تمام اعضاء و جوارح کا اطاعتِ الٰہی میں استعمال۔ یہ دعا عارفین کے لیے روحانی بلندی کا زینہ ہے۔
ماہ مبارک کے اٹھارھویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ نَبِّهْنى فيهِ لِبَرَكاتِ أَسْحارِهِ وَ نَوِّرْ فيهِ قَلْبى بِضيآءِ أَنْوارِهِ وَ خُذْ بِكُلِّ أَعْضآئى اِلَى اتِّباعِ آثارِهِ بِنُورِكَ يا مُنَـوِّرَ قُلُوبِ الْعارِفينَ۔
ترجمہ: ”خدایا! آج کے دن مجھے سحر کی برکتوں کے لیے بیدار رکھنا، اور میرے دل کو اس کے انوار سے منور کر دینا، اور میرے تمام اعضاء کو اس کے آثار کی پیروی پر آمادہ کر دینا، اپنے نور کے ذریعے، اے عارفوں کے دلوں کو منور کرنے والے۔“
سحر کی برکات: بیداری کا فیضان
ماہِ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ (مغفرت) اپنے اختتامی لمحات میں داخل ہو چکا ہے اور شبِ قدر کی آمد آمد ہے۔ ایسے میں اٹھارھویں دن کی دعا ایک ایسے روحانی "الارم” کی حیثیت رکھتی ہے جو انسان کو غفلت کی گہری نیند سے جگا کر حقیقت کی دنیا میں لاتی ہے۔ یہ دعا محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی تین بڑی جہتوں (Dimensions) کا احاطہ کرتی ہے: وقت کا صحیح استعمال (سحر)، باطنی اصلاح (قلب)، اور عملی اطاعت (اعضاء)۔ اٹھارھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے سحر کی برکتوں کے شعور، دل کے نور اور اعضاء کی مکمل تابع فرمانبرداری کا سوال کرتے ہیں۔
دعا کے پہلے اور بنیادی حصے میں سحر کی برکتوں کے لیے بیداری مانگی گئی ہے: أَللّهُمَّ نَبِّهْنى فيهِ لِبَرَكاتِ أَسْحارِهِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں سحر کی برکتوں کے لیے بیدار کر دے)۔ اٹھارھویں دن کی دعا یہاں صرف آنکھ کھلنے کی بات نہیں کر رہی، بلکہ ”دل کی بیداری“ کی بات کر رہی ہے۔
اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود کے لیے اللہ کی محتاج ہے (فقرِ ذاتی)۔ سحر کا وقت قبولیت، مناجات اور قربت کا وقت ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب اللہ کی رحمت آسمانِ دنیا پر منادی کرتی ہے کہ ”ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں؟“۔ لیکن افسوس کہ آج کل ہمارا طرزِ زندگی (Lifestyle) ایسا ہو گیا ہے کہ ہم رات گئے تک سوشل میڈیا، ڈراموں اور لایعنی سرگرمیوں میں جاگتے ہیں اور صبح کی برکتوں سے محروم رہتے ہیں۔ اٹھارھویں دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ اگر سحری میں صرف پیٹ بھرنے کے لیے جاگے اور روح کو بھوکا رکھا تو یہ حقیقی بیداری نہیں ہے۔
مصنوعی روشنیوں اور دیر سے سونے کی وجہ سے انسانی صحت اور روحانیت دونوں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ اٹھارھویں دن کی دعا ہمیں فطرت کی طرف لوٹنے کا درس دیتی ہے۔ سحر کی برکات میں سے ایک بڑی برکت ”استغفار“ ہے۔ قرآن میں جنتیوں کی صفت بیان کی گئی ہے: ”اور وہ سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں“۔ جبرائیل (ع) نے پیغمبر اکرم (ص) کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اے محمد (ص)! جس قدر چاہو زندگی کر لو، آخر تمہیں مرنا ہے… اور جان لو اور ذہن نشین کر لو کہ مومن کا شرف اس کی سحر خیزی (نمازِ شب) اور لوگوں سے بے نیاز ہونے میں پوشیدہ ہے“[1]۔
اٹھارھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ عزت اور شرف نیند میں نہیں، بلکہ اس وقت جاگنے میں ہے جب دنیا سو رہی ہو۔ امام ہادی (ع) فرماتے ہیں: ”نیند کی لذت کو شب بیداری (سحر خیزی) میں اور کھانے کی لذت کو بھوک میں تلاش کرو“[2]۔۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ سحر کے سناٹے میں اللہ سے کی گئی باتیں دن کے ہنگاموں میں انسان کو پرسکون رکھتی ہیں۔
تنویرِ قلب: باطنی بینائی
دعا کا دوسرا اہم اور عارفانہ جزو دل کی روشنی ہے: وَ نَوِّرْ فيهِ قَلْبى بِضيآءِ أَنْوارِهِ (اور میرے دل کو سحر کے انوار کی روشنی سے منور کر دے)۔ اٹھارھویں دن کی دعا یہاں انسان کے مرکزِ حیات یعنی ”دل“ کو موضوع بناتی ہے۔
یہاں "قلب” سے مراد وہ گوشت کا لوتھڑا نہیں جو خون پمپ کرتا ہے، بلکہ وہ "لطیفہ ربانی” ہے جو اللہ کی معرفت، جذبات اور ایمان کا مرکز ہے۔ قرآن میں دل کی مختلف اقسام (قلبِ سلیم، قلبِ منیب، قلبِ مریض، قلبِ مختوم) کا ذکر ہے۔ جسمانی دل کی بیماریوں کا علاج ڈاکٹر کرتے ہیں، لیکن روحانی دل کی بیماریوں (شرک، حسد، کینہ، تکبر، حبِ دنیا) کا علاج اللہ کے ذکر اور اس کے نور سے ہوتا ہے۔ اٹھارھویں دن کی دعا دراصل دل کی ”اینجیو پلاسٹی“ (Angioplasty) ہے۔
رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہے“۔ اٹھارھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اگر دل اندھیرا ہو تو آنکھیں حق نہیں دیکھ سکتیں اور کان حق نہیں سن سکتے۔ نورِ قلب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ”فرقان“ (حق و باطل میں تمیز) نصیب ہو جائے۔
دل ایک وقت میں دو متضاد چیزوں کا مسکن نہیں ہو سکتا۔ ایک ہی دل میں خدا اور دنیا، یا حق اور باطل اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ قرآن فرماتا ہے: ”خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے“[3]۔ امیر المومنین (ع) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”ہماری محبت اور ہمارے دشمن کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی“[4]۔ پس اٹھارھویں دن کی دعا کے ذریعے دل کو منور کرنے کا مطلب اسے غیر اللہ سے پاک کرنا ہے تاکہ وہاں صرف اللہ کا نور سما سکے۔
اعضاء کی تسخیر: اطاعت مطلق
تیسرا عملی تقاضا تمام اعضاء کا اللہ کی اطاعت میں لگ جانا ہے: وَ خُذْ بِكُلِّ أَعْضآئى اِلَى اتِّباعِ آثارِهِ (اور میرے تمام اعضاء کو سحر کے اثرات اور اپنی اطاعت کی پیروی میں لگا دے)۔ اٹھارھویں دن کی دعا یہاں ”نظریہ“ سے نکل کر ”عمل“ کی دنیا میں قدم رکھتی ہے۔
جب دل روشن ہو جاتا ہے تو اس کا اثر اعضاء پر پڑتا ہے۔ انسان کے ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور کان سب اللہ کی نعمتیں ہیں اور امانت ہیں۔ حقیقی شکر یہ ہے کہ انہیں اسی کی اطاعت میں استعمال کیا جائے۔ آنکھ کا نور یہ ہے کہ وہ قرآن پڑھے اور حرام سے بچے، کان کا نور یہ ہے کہ وہ غیبت نہ سنے، اور ہاتھ کا نور یہ ہے کہ وہ ظلم کے لیے نہ اٹھے۔ اٹھارھویں دن کی دعا میں لفظ ”خُذْ“ (پکڑ لے/لے جا) استعمال ہوا ہے، یعنی اے اللہ! تو خود میرے اعضاء کا کنٹرول سنبھال لے۔
یہ وہی دعا ہے جو ہم اکثر مانگتے ہیں: ”ولا تکلنی الی نفسی طرفة عین ابداً“ (اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا)۔ اٹھارھویں دن کی دعا کا یہ حصہ اس خواہش کا اظہار ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہر حرکت اور ہر سکون اللہ کی رضا کے تابع ہو جائے اور ہم ایک لمحے کے لیے بھی غفلت کا شکار نہ ہوں۔ اگر آنکھ سحر کے وقت روئے گی تو دن میں حرام نہیں دیکھے گی۔ اگر زبان سحر میں استغفار کرے گی تو دن میں جھوٹ نہیں بولے گی۔
عارفین کا نور
دعا کا اختتام اللہ کے نور کے واسطے پر ہوتا ہے: بِنُورِكَ يا مُنَوِّرَ قُلُوبِ الْعارِفينَ (اپنے نور کے واسطے، اے عارفوں کے دلوں کو روشن کرنے والے)۔ اٹھارھویں دن کی دعا کا اختتام انتہائی خوبصورت ہے۔
اللہ ہی وہ ذات ہے جو عارفین کے دلوں کو اپنے نور سے منور کرتی ہے۔ ”عارف“ وہ ہے جو اللہ کو پہچان لے۔ جب یہ نور دل میں آ جاتا ہے تو انسان ظاہری بینائی کے ساتھ ساتھ باطنی بصیرت بھی حاصل کر لیتا ہے۔ اسے چیزوں کی حقیقت نظر آنے لگتی ہے۔ وہ دنیا کی فانی لذتوں کے پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ ابدی سکون تلاش کرتا ہے۔
اٹھارھویں دن کی دعا ہمیں عام انسانوں کی سطح سے اٹھا کر ”عارفین“ کی صف میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ سحر کی تاریکی میں جاگنا دراصل دل کی روشنی کا سبب بنتا ہے۔ اور جب دل روشن ہوتا ہے تو اعضاء خود بخود اطاعت کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے اٹھارھویں دن کی دعا ہمیں سحر خیزی کی طرف بلاتی ہے جو روحانی ترقی کی کلید ہے۔ یہ ہمیں اپنے دلوں کو دنیوی آلائشوں سے پاک کر کے اللہ کے نور سے روشن کرنے کا درس دیتی ہے اور ہمارے اعضاء کو گناہوں سے بچا کر اطاعت کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔
حوالہ جات
[1] عاملی، وسائل الشیعہ، ج 5، ص 269۔
[2] شہید اول، الدرۃ باہرہ، ص 44۔
[3] سورہ احزاب، آیت 4۔
[4] مجلسی، بحار الانوار، ج 24، ص 318۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ شہید اول، محمد بن مکی، الدرۃ باہرہ من الاصداف الطاہرہ، قم، (قدیمی اشاعت)
3۔ عاملی، حر، وسائل الشیعہ، قم، موسسہ آل البیت، 1409ق۔
4۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔