ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا: رضائے الٰہی کی دلیل

ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا: رضائے الٰہی کی دلیل

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ، جو جہنم سے نجات کا عشرہ ہے، جاری ہے۔ اکیسویں دن کی دعا ایک بندہ مومن کو اپنی منزل (جنت) اور اس تک پہنچنے والے راستے (رضائے الٰہی) کا تعین کراتی ہے، جبکہ اس راستے کے سب سے بڑے دشمن (شیطان) سے بچنے کی تدبیر سکھاتی ہے۔ یہ دعا ہدایت اور حفاظت کی بہترین درخواست ہے۔

ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ اِلى مَرْضاتِكَ دَليلاً وَ لا تَجْعَلْ لِلشَّيْطانِ فيهِ عَلَىَّ سَبيلاً وَ اجْعَلِ الْجَنَّةَ لى مَنْزِلاً وَ مَقيلاً يا قاضِىَ حَوآئِجِ الطّالِبينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! اس مہینے میں میرے لیے تیری خوشنودی کی جانب راہنما نشان قرار دے، اور شیطان کے لیے مجھ پر دسترس پانے کا راستہ قرار نہ دے، اور جنت کو میری منزل اور جائے آرام قرار دے، اے طلبگاروں کی حاجات بر لانے والے۔“

رضائے الٰہی کی دلیل: ہدایت کا نظام

ماہِ رمضان المبارک کا اکیسواں دن ایک انتہائی غمگین اور پرتاثیر دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کی شہادت واقع ہوئی اور آسمان و زمین پر سوگ کا سماں تھا۔ اکیسویں دن کی دعا اس غم کی فضا میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ دعا ہمیں اپنے رہبر (امام) کی معرفت، دشمن (شیطان) کی پہچان، اور اپنی منزل (جنت) کے تعین کی طرف بلاتی ہے۔ اس دعا میں ہم اللہ سے تین بنیادی اور فیصلہ کن چیزوں کا سوال کرتے ہیں: رضائے الٰہی کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل، شیطان کے تسلط سے حفاظت، اور جنت کو اپنا ابدی ٹھکانہ بنانا۔

اکیسویں دن کی دعا کے پہلے اور انتہائی اہم حصے میں خدا کی خوشنودی کی طرف رہنمائی مانگی گئی ہے: أَللّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ اِلى مَرْضاتِكَ دَليلاً (اے اللہ! میرے لیے اس مہینے میں اپنی رضا کی طرف رہنمائی کرنے والی دلیل قرار دے)۔ اکیسویں دن کی دعا یہاں لفظ ”دلیل“ (Guide/Proof) استعمال کر کے یہ بتاتی ہے کہ اللہ کی رضا تک پہنچنا اندھیرے میں تیر چلانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک منظم سفر ہے جس کے لیے رہبر کی ضرورت ہے۔

انسان کے سامنے زندگی کے ہر موڑ پر دو راستے ہیں: ایک رحمان کا (ہدایت) اور دوسرا شیطان کا (گمراہی)۔ اللہ نے انسان کو دونوں راستے دکھا دیے ہیں: ”اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دیے ہیں“[1]۔ راستے کے انتخاب کا اختیار انسان کے پاس ہے، لیکن صحیح راستے پر چلنے کے لیے اور بھٹکنے سے بچنے کے لیے "دلیل” کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دلیل دو طرح کی ہے:

  1. حجتِ باطنی (عقل): جو انسان کے اندر چراغ کی طرح راستہ دکھاتی ہے اور اچھے برے کی تمیز کرتی ہے۔

  2. حجتِ ظاہری (انبیاء و ائمہؑ): جو ہاتھ پکڑ کر منزل تک لے جاتے ہیں اور عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔

امام موسیٰ کاظم (ع) فرماتے ہیں: ”خدا کی لوگوں پر دو حجتیں ہیں: ظاہری اور باطنی۔ ظاہری حجت رسول اور ائمہ (ع) ہیں، اور باطنی حجت عقلیں ہیں“[2]۔ اکیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ عقل آنکھ کی مانند ہے اور امام سورج کی مانند۔ اگر آنکھ ہو مگر سورج نہ ہو تو کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح اگر عقل ہو مگر ہادی (امام) نہ ہو تو انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ آج امیر المومنین (ع) کی شہادت کا دن ہے، جو اللہ کی رضا کی سب سے بڑی ”دلیل“ تھے۔ ان کی پیروی ہی رضائے الٰہی کی ضمانت ہے۔

شیطان کا تسلط: نفسیاتی وار

اکیسویں دن کی دعا کا دوسرا اہم اور اسٹریٹجک جزو شیطان کے تسلط سے بچنا ہے: وَ لا تَجْعَلْ لِلشَّيْطانِ فيهِ عَلَىَّ سَبيلاً (اور میرے اوپر شیطان کا کوئی راستہ/تسلط قرار نہ دے)۔ اکیسویں دن کی دعا میں لفظ ”سبیل“ (راستہ) استعمال ہوا ہے۔ ہم اللہ سے کہہ رہے ہیں کہ یا رب! شیطان کو مجھ تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہ دے، اس کے تمام راستے مسدود کر دے۔

شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس کے پاس انسان کو گمراہ کرنے کا ہزاروں سال کا تجربہ ہے۔ وہ انسان پر زبردستی مسلط نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کو گناہ پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس کا ہتھیار ”وسوسہ“ اور ”تزیین“ (گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا) ہے۔ وہ انسان کے ذہن میں وسوسے ڈال کر گناہ کی لذت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

قیامت کے دن جب گنہگار شیطان کو ملامت کریں گے تو وہ خود کہے گا: ”میرا تمہارے اوپر کوئی زور نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کر لیا، تو اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کو ملامت کرو“[3]۔ اکیسویں دن کی دعا ہمیں اپنی کمزوری کا احساس دلاتی ہے کہ ہم اکیلے اس دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

شیطان سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جونہی کوئی غلط خیال آئے، فوراً اللہ کی پناہ مانگی جائے اور اکیسویں دن کی دعا کا سہارا لیا جائے۔ متقین کا یہی شیوہ ہے: ”جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھونا بھی چاہتا ہے تو وہ خدا کو یاد کرتے ہیں اور فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں“[4]۔ یہ دعا ہمارے گرد ایک ایسا حصار بنا دیتی ہے جسے عبور کرنا شیطان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔

جنت: منزل اور مقیل (ابدی سکون)

اکیسویں دن کی دعا میں تیسرا تقاضا جنت کو ٹھکانہ بنانا ہے: وَ اجْعَلِ الْجَنَّةَ لى مَنْزِلاً وَ مَقيلاً (اور جنت کو میرا گھر اور آرام گاہ قرار دے)۔ اکیسویں دن کی دعا میں جنت کے لیے دو خوبصورت الفاظ استعمال ہوئے ہیں: ”منزل“ اور ”مقیل“۔

"منزل” اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان کا سفر ختم ہوتا ہے اور وہ مستقل قیام کرتا ہے۔ جبکہ "مقیل” دوپہر کے وقت شدید گرمی میں تھوڑی دیر آرام کرنے کی ٹھنڈی اور پرسکون جگہ (قیلولہ کی جگہ) کو کہتے ہیں۔ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا دن ہوگا اور اس کی تپش برداشت سے باہر ہوگی۔ ایسے میں اکیسویں دن کی دعا مانگنے والا اپنے رب سے اس دن کی سخت گرمی سے بچنے کے لیے جنت کی ٹھنڈی چھاؤں (مقیل) مانگ رہا ہے۔

جنت مومنین کے لیے بہترین ٹھکانہ اور آرام گاہ ہے: ”اس دن صرف جنت والے ہوں گے جن کے لیے بہترین ٹھکانہ ہوگا“[5]۔ جب انسان دنیا میں صحیح رہنمائی (دلیل) حاصل کر لیتا ہے اور شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے، تو اس کی تھکاوٹ اتارنے کی واحد جگہ جنت ہی ہوتی ہے۔

دعاؤں کی عدم قبولیت: اسباب اور علاج

اکیسویں دن کی دعا کے آخر میں خدا کو "قاضی الحاجات” (حاجتیں پوری کرنے والا) کہہ کر پکارا گیا ہے (يَا قَاضِيَ حَوَائِجِ الطَّالِبِينَ)۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اکیسویں دن کی دعا اور دیگر دعائیں مانگتے ہیں، مگر اکثر دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ کیا (نعوذ باللہ) اللہ کے خزانے میں کمی ہے یا وہ ہماری نہیں سنتا؟

امیر المومنین حضرت علی (ع) نے، جن کا آج یومِ شہادت ہے، اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ ایک شخص نے آپ (ع) سے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہاری دعائیں اس لیے قبول نہیں ہوتیں کیونکہ تمہارے دل آٹھ چیزوں کی وجہ سے مردہ ہو چکے ہیں (خیانت کر چکے ہیں)“۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

  1. خدا کی معرفت: تم نے خدا کو پہچانا تو ہے، مگر اس کا حق (اطاعت) ادا نہیں کیا، اس لیے یہ پہچان تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔

  2. رسول کی مخالفت: تم اس کے رسول (ص) پر ایمان لائے ہو، مگر ان کی سنت کی مخالفت کرتے ہو اور اسے مار ڈالتے ہو، تو تمہارے ایمان کا کیا فائدہ؟

  3. قرآن پر عدم عمل: تم نے قرآن پڑھا مگر اس پر عمل نہ کیا، بلکہ اسے پسِ پشت ڈال دیا۔

  4. جہنم اور جنت: تم کہتے ہو کہ ہم جہنم سے ڈرتے ہیں مگر اپنے گناہوں کے ذریعے ہر وقت اسی کی طرف بھاگتے ہو، اور کہتے ہو ہمیں جنت چاہیے مگر اپنے اعمال سے اس سے دور ہوتے ہو۔

  5. شیطان سے دوستی: تم زبان سے کہتے ہو کہ شیطان ہمارا دشمن ہے مگر عملاً گناہ کر کے اس کی اطاعت اور دوستی کرتے ہو۔

  6. عیب جوئی: تم نے اپنی آنکھوں میں تو شہتیر ڈال رکھا ہے (اپنے بڑے عیب نہیں دیکھتے) اور دوسروں کی آنکھوں کا تنکا دیکھتے ہو (ان کے چھوٹے عیب اچھالتے ہو)۔

آخر میں آپ (ع) فرماتے ہیں: ”پس تم نے اپنے ہی ہاتھوں سے قبولیت کے دروازے اور راستے بند کر رکھے ہیں۔ تقویٰ اختیار کرو، اپنے کاموں کی اصلاح کرو، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرو تاکہ تمہاری دعائیں قبول ہوں“[6]۔

اکیسویں دن کی دعا ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ اللہ ”قاضی الحاجات“ تو ہے، لیکن ہمیں بھی ”طالبِ صادق“ بننا ہوگا۔ اگر ہمارا برتن گندا ہے (دل میں گناہ ہیں) تو اس میں قبولیت کا پاک پانی نہیں ڈالا جا سکتا۔ آج کی رات ہمیں اپنے دلوں کو دھو کر، علی (ع) کے بتائے ہوئے اصولوں پر چل کر دعائیں مانگنی چاہئیں تاکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پا سکیں۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے اکیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کا راستہ "رضائے الٰہی” ہے، جس پر چلنے کے لیے عقل اور معصومین (ع) کی رہنمائی ضروری ہے۔ اس راستے کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے جس کے وسوسوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ درکار ہے۔ اور ان سب کا حتمی نتیجہ "جنت” ہے، جو صرف ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو اپنی اصلاح کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔

حوالہ جات

[1] سورہ بلد، آیت 10۔
[2] کلینی، الکافی، ج 1، ص 16۔
[3] سورہ ابراہیم، آیت 22۔
[4] سورہ اعراف، آیت 201۔
[5] سورہ فرقان، آیت 24۔
[6] مجلسی، بحار الانوار، ج 93، ص 376۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
3۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔