ماہ رمضان کے تیسرے دن کی دعا: شعور و آگہی کی طلب

ماہ رمضان کے تیسرے دن کی دعا: شعور و آگہی کی طلب

2026-02-20

35 مشاہدات

کپی کردن لینک

ماہ رمضان کا سفر محض جسمانی ریاضت نہیں بلکہ یہ ذہنی اور فکری ارتقاء کا بھی مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کے تیسرے دن کی دعا انسان کو ذہنی پستی اور غفلت سے نکال کر شعور اور آگہی کی بلندیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ رمضان المبارک کے اس دن دعا کا ڈھانچہ بڑا متوازن ہے؛ اس میں جہاں کچھ مثبت صفات (ذہانت اور بیداری) کے حصول کی تمنا کی گئی ہے، وہیں منفی رویوں (سفاہت اور ملمع سازی) سے دوری کی درخواست بھی شامل ہے۔

ماہ رمضان کے تیسرے دن کی دعا

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي فِيهِ الذِّهْنَ وَ التَّنْبِيهَ وَ بَاعِدْنِي فِيهِ مِنَ السَّفَاهَةِ وَ التَّمْوِيهِ‏ وَ اجْعَلْ لِي نَصِيباً مِنْ كُلِّ خَيْرٍ تُنْزِلُ فِيهِ بِجُودِكَ يَا أَجْوَدَ الْأَجْوَدِينَ‏۔
ترجمہ: ”بارالٰہا! مجھے آج کے دن ہوش و ہواس اور آگہی عنایت فرما، اور مجھے آج کے دن بیکار اور بیہودہ کاموں سے دور رکھ، اور میرا حصہ قرار دے ہر اس نیکی میں جو آج کے دن تیرے فیضِ کرم سے جاری ہو، اے بے پناہ عطا فرمانے والے۔“

ذہانت اور بیداری: کمالِ انسانی کا زینہ

رمضان المبارک کی اس دعا کے پہلے حصے میں دو اہم ترین صفات طلب کی گئی ہیں: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي فِيهِ الذِّهْنَ وَ التَّنْبِيهَ (خدایا مجھے تیزئ ذہن اور بیداری عطا کر)۔

یہاں "ذہن” سے مراد صرف یادداشت نہیں، بلکہ وہ عقل، ہوش، فہم و فراست اور اندرونی طاقت ہے جو انسان کو کمالات کے حصول کے لیے تیار کرتی ہے۔ ہم خدا سے یہ مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں صحیح سمجھ اور بصیرت عطا کرے تاکہ ہم حق اور باطل میں تمیز کر سکیں۔

دوسری چیز "تنبیہ” یعنی بیداری ہے۔ غفلت انسان کی روحانی موت ہے۔ مشہور قول ہے: ”لوگ سوئے ہوئے ہیں، پس جب وہ مر جائیں گے تو بیدار ہوں گے“[1]۔

یہ بیداری حالات و واقعات سے عبرت پکڑنے اور خوابِ غفلت سے جاگنے کا نام ہے، تاکہ انسان اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو پہچان سکے۔

سفاہت اور ملمع سازی سے دوری

ماہ رمضان تربیت کا ایک ایسا ادارہ ہے جہاں انسان کی ظاہری اور باطنی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ تیسرے دن کی دعا کا آغاز شعور اور بیداری کی طلب سے ہوتا ہے اور اس کا دوسرا اہم حصہ انسان کو منفی رویوں اور ذہنی پستیوں سے نکالنے کا درس دیتا ہے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ روزے دار کی زندگی میں دانائی، سنجیدگی اور شفافیت ہونی چاہیے، اور اسے ہر قسم کی کھوکھلی نمائش سے پاک ہونا چاہیے۔

ماہِ رمضان المبارک کی اس دعا کا دوسرا حصہ منفی رویوں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے: وَ بَاعِدْنِي فِيهِ مِنَ السَّفَاهَةِ وَ التَّمْوِيهِ (اور مجھے بیوقوفی اور ملمع سازی سے دور رکھ)۔ تیسرے دن کی دعا میں استعمال ہونے والا لفظ "سفاہت” بہت وسیع معانی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب کم عقلی، حماقت، نادانی اور ہلکا پن ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی با مقصد، سنجیدہ اور وقار سے بھرپور ہونی چاہیے۔ اگر کوئی شخص اپنی قیمتی عمر لغویات، فضولیات اور بے مقصد کاموں میں گزار دے تو یہ سفاہت کی بدترین قسم ہے۔

تیسرے دن کی دعا ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ دورِ حاضر میں میڈیا، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے مقصد اور حد سے زیادہ استعمال، جو انسان کو اپنے فرائض، اپنی آخرت اور اپنے حقیقی مقصد سے غافل کر دے، اسی ”سفاہت“ کے زمرے میں آتا ہے۔ جب انسان گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھ کر دوسروں کی زندگیوں میں جھانکتا رہتا ہے یا لایعنی بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اسی سفاہت کا شکار ہوتا ہے جس سے پناہ مانگنے کی تلقین تیسرے دن کی دعا میں کی گئی ہے۔

سفاہت صرف ذہنی کمزوری کا نام نہیں، بلکہ گناہوں کا ارتکاب بھی ایک طرح کی سفاہت ہے۔ کیا اس سے بڑی حماقت کوئی ہو سکتی ہے کہ انسان فانی لذت کے بدلے اپنی ابدی جنت کا سودا کر لے؟ لہٰذا، تیسرے دن کی دعا دراصل انسان کو روحانی بلوغت (Spiritual Maturity) کی طرف بلاتی ہے۔

دوسرا اہم لفظ جو تیسرے دن کی دعا میں آیا ہے، وہ ”تمویہ“ ہے۔ "تمویہ” کے معنی ہیں دھوکہ دہی، جعلسازی، ملمع سازی اور باطل پر حق کا خول چڑھانا۔ یہ ایک نہایت خطرناک روحانی بیماری ہے۔ تیسرے دن کی دعا مومن کو سکھاتی ہے کہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ سچا، کھرا اور شفاف ہو۔ وہ نہ تو خود دھوکے میں رہے اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ فریب یا ملمع سازی سے کام لے۔ آج کل کے دور میں جہاں ”ظاہری نمائش“ (Show-off) اور خود کو وہ ظاہر کرنا جو انسان حقیقت میں نہیں ہے، ایک عام رویہ بن چکا ہے، وہاں تیسرے دن کی دعا کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

تمویہ کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان نیکی کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو دھوکہ دے، یا اپنی گفتگو میں ایسی چاشنی لائے جس کے پیچھے زہر چھپا ہو۔ تیسرے دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے اور اسے ملمع سازی نہیں بلکہ ”اخلاص“ پسند ہے۔

اگر ہم روزے کی حالت میں بھی جھوٹ، دکھاوے اور بناوٹ سے کام لیں گے، تو ہمارا روزہ محض فاقہ کشی رہ جائے گا۔ تیسرے دن کی دعا مانگنے والا اپنے رب سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ دوغلی پالیسی ترک کر کے یک رخی اور سچی زندگی گزارے گا، جہاں اس کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہوگا۔ یہ دعا ہمیں ”منافقت“ کے زنگ سے پاک کر کے ”صداقت“ کے آئینے کی طرح شفاف بناتی ہے۔

خیر میں حصہ داری اور نیکی کی وسعت

رمضان المبارک کی اس دعا کے تیسرے حصے میں ایک بہت ہی خوبصورت اور عالی ظرف درخواست ہے: وَ اجْعَلْ لِي نَصِيباً مِنْ كُلِّ خَيْرٍ تُنْزِلُ فِيهِ (اور میرے لیے ہر اس خیر میں حصہ قرار دے جو تو نازل کرے)۔ تیسرے دن کی دعا کا یہ جملہ انسان کی سوچ کو وسیع کرتا ہے اور اسے تنگ نظری سے نکالتا ہے۔

یہاں مومن کی عالی ظرفی اور بلند ہمتی کا اظہار ہے کہ وہ صرف اپنی ذاتی، محدود اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ کائنات میں جہاں بھی، جس شکل میں بھی خیر کا چشمہ پھوٹے، وہ اس سے سیراب ہو۔ تیسرے دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے خزانے لامحدود ہیں اور اس ماہِ مقدس میں رحمت کی بارش موسلادھار برس رہی ہے۔ یہ خیر صحت کی صورت میں ہو، رزق کی صورت میں ہو، علم و حکمت کی شکل میں ہو، یا مغفرت اور بخشش کے روپ میں—بندہ مومن تیسرے دن کی دعا کے ذریعے ان سب میں اپنا حصہ مانگتا ہے۔

نیکی ایک سورج کی طرح ہے، اور دعا مانگنے والا یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی روشنی سے محروم نہ رہے۔ تیسرے دن کی دعا کا یہ حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی کے کاموں میں شرکت کرنا اور دوسروں کے اچھے کاموں میں معاون بننا بھی بذاتِ خود ایک نیکی اور سعادت ہے۔ اگر کوئی شخص کہیں افطار کرا رہا ہے، کوئی یتیم کی کفالت کر رہا ہے، یا کوئی قرآن کی تعلیم دے رہا ہے، تو مومن کے دل میں حسد نہیں آتا بلکہ وہ تیسرے دن کی دعا کی برکت سے یہ خواہش کرتا ہے کہ مولا! مجھے بھی اس خیر میں شریک فرما، چاہے میری نیت کے ذریعے ہی سہی۔

مزید برآں، تیسرے دن کی دعا میں ”کُلِّ خَيْرٍ“ (ہر بھلائی) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اللہ سے صرف دنیا کی بھلائی نہیں مانگ رہے، بلکہ دین، دنیا اور آخرت تینوں کی بھلائیاں طلب کر رہے ہیں۔ اس میں سکونِ قلب، اولاد کی نیکوکاری، رزق میں برکت، ایمان کی سلامتی اور قبر و حشر کی آسانیاں سب شامل ہیں۔ تیسرے دن کی دعا انسان کو ”قناعت“ تو سکھاتی ہے لیکن نیکیوں کے معاملے میں ”حرص“ (یعنی زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے کی چاہت) کی ترغیب دیتی ہے۔

اس دعا کا اختتام اللہ کی سب سے بڑی صفتِ سخاوت کے واسطے سے ہوتا ہے (بِجُودِكَ يَا أَجْوَدَ الْأَجْوَدِينَ)۔ یعنی ہم یہ جو خیرِ کثیر اور دانائی مانگ رہے ہیں، یہ اپنے کسی استحقاق کی بنا پر نہیں، بلکہ تیری بے پناہ سخاوت کی امید پر مانگ رہے ہیں۔ تیسرے دن کی دعا ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ مانگنے والا جتنا بھی بڑا سوال کر لے، دینے والے کے خزانے میں کمی نہیں آتی۔

تیسرے دن کی دعا ایک مکمل پیکج ہے۔ یہ ہمیں ذہنی پستی (سفاہت) سے نکال کر شعور کی بلندی تک لے جاتی ہے، ہمیں دکھاوے اور بناوٹ (تمویہ) سے پاک کر کے اخلاص کا پیکر بناتی ہے، اور ہمیں محدود سوچ سے نکال کر خیرِ کثیر کا وارث بناتی ہے۔ جو شخص تیسرے دن کی دعا کو سمجھ کر اور دل کی گہرائی سے پڑھتا ہے، وہ رمضان کے اس ابتدائی مرحلے ہی میں اپنی سمت درست کر لیتا ہے اور ایک ایسے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے جس کی منزل رضائے الٰہی اور جنت الفردوس ہے۔

نتیجہ

رمضان المبارک کی اس دعا کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو بیدار کرے، بیہودہ کاموں سے بچے اور ہر چھوٹی بڑی نیکی میں حصہ لے۔ کسی بھی خیر کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی نیکی کر کے مغرور ہونا چاہیے، کیونکہ اصل چیز خلوص اور نیت ہے۔ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: ”کسی بھی کارِ خیر کو چھوٹا شمار نہ کرنا، کیونکہ کل (قیامت کے دن) وہی تمہاری خوشحالی کا باعث بنے گا“[2]۔ لہٰذا، تیسرے دن کی دعا ہمیں ایک ہوشمند، باوقار اور فعال زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے جہاں ہر لمحہ خیر کے حصول میں صرف ہو۔

حوالہ جات

[1] لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، ص 66۔
[2] مجلسی، بحار الأنوار، ج 71، ص 182۔

فہرست منابع

1۔ لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، 1376ش۔
2۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔