ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا: مغفرت ذنوب

ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا: مغفرت ذنوب

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنے اختتام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چھبیسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے اپنی کوششوں کی قبولیت، گناہوں کی بخشش، اعمال کی مقبولیت اور عیبوں کی پردہ پوشی کا سوال کرتا ہے۔ یہ دعا انسان کی روحانی جدوجہد کے ثمرات سمیٹنے اور خدا کی رحمت و کرم پر بھروسہ کرنے کا نام ہے۔

ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اجْعَلْ سَعْيى فيهِ مَشْكُورا وَ ذَنْبى فيهِ مَغْفُوراً وَ عَمَلى فيهِ مَقْبُولاً وَ عَيْبى فيهِ مَسْتُوراً يا أَسْمَعَ السّامِعينَ۔
ترجمہ: ”اے میرے معبود! آج کے دن تیری راہ میں کی گئی میری کوششوں کو کامیابی عطا کر، اور میرے گناہوں پر خطِ عفو کھینچ دے، میرے اعمال کو شرفِ قبولیت بخش دے اور میرے عیوب کو اپنے دامنِ کرم میں چھپا لے، اے ہر ایک پکار پر گوش بر آواز رہنے والے۔“

سعئ مشکور: کوششوں کا ثمر

ماہِ رمضان المبارک اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کے ساتھ رخصت ہونے کے قریب ہے۔ الوداعی عشرے کی یہ قیمتی گھڑیاں ہر حساس دل کو بے چین کر دیتی ہیں کہ نہ جانے اس بابرکت مہینے کے حقوق ادا ہو سکے یا نہیں۔ چھبیسویں دن کی دعا درحقیقت پورے مہینے کی ریاضت، روزوں، قیام اور دعاؤں کا نچوڑ اور حتمی نتیجہ مانگنے کا دن ہے۔

جب انسان ایک طویل اور کٹھن سفر طے کر لیتا ہے، تو اسے اپنے زادِ راہ اور محنت کے صلے کی بجا طور پر فکر لاحق ہوتی ہے۔ چھبیسویں دن کی دعا اسی فکر کا بہترین روحانی علاج ہے۔ اس دعا میں ہم اپنے پروردگار سے چار انتہائی جامع اور حتمی انعامات کا سوال کرتے ہیں: کوششوں کی قدر دانی (سعی مشکور)، گناہوں کی بخشش (ذنب مغفور)، اعمال کی قبولیت (عمل مقبول)، اور عیبوں کی پردہ پوشی (عیب مستور)۔

دعا کے پہلے اور انتہائی خوبصورت حصے میں کوششوں کے "مشکور” ہونے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ اجْعَلْ سَعْيى فيهِ مَشْكُورا (اے اللہ! اس مہینے میں میری کوششوں کو مشکور / مقبول اور قدر کے لائق قرار دے)۔

"سعئ” کا مطلب محض کوئی ایک وقتی کام کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی زندگی کی ان تمام مسلسل اور انتھک کوششوں کا نام ہے جو اس نے کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے کیں۔ دنیا کا دستور یہ ہے کہ انسان ساری زندگی لوگوں کو خوش کرنے اور دنیاوی مقاصد پانے کی سعئ کرتا ہے، مگر لوگ اور دنیا اکثر ناشکرے ثابت ہوتے ہیں اور محنت کا صلہ نہیں دیتے۔

لیکن جب یہ کوششیں اللہ کی مرضی کے مطابق اور خالصتاً اسی کے لیے ہوں، تو اللہ ان کی زبردست قدر کرتا ہے، جسے "مشکور” ہونا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ایک صفاتی نام ہی "شکور” (نہایت قدر دان) ہے۔

چھبیسویں دن کی دعا ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہمارا رب کتنا رحیم و کریم ہے جو خود ہمیں عبادت کی توفیق دیتا ہے، خود ہمت عطا کر کے عمل کرواتا ہے، اور پھر ہماری اس حقیر سی کوشش کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ قرآن کریم میں جنتیوں کے لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”یہ تمہاری جزا ہے اور تمہاری کوشش شکر گزاری کے قابل ہے“[1]۔ یہ کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے کہ خالق اپنی ادنیٰ مخلوق کی محنت کو سراہے۔

چھبیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ ہمیں ہر قسم کی مایوسی سے نکالتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتیں بھی اس کریم کے دربار میں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔

مغفرت ذنوب: گناہوں کا دھلنا

دعا کا دوسرا اہم اور تسلی بخش جزو گناہوں کی کامل بخشش ہے: وَ ذَنْبى فيهِ مَغْفُوراً (اور میرے گناہوں کو اس مہینے میں بخشا ہوا قرار دے)۔

انسان خطاؤں کا پتلا ہے، اور گناہوں کا بوجھ انسان کی روح کو تھکا اور بیمار کر دیتا ہے۔ چھبیسویں دن کی دعا ہمیں اس بوجھ سے آزاد ہونے کا راستہ اور امید دکھاتی ہے۔ گناہوں کی مغفرت اور بخشش کے پانچ بنیادی ذرائع ہیں، جنہیں اس دعا کی برکت سے متحرک کیا جا سکتا ہے:

  • سچی توبہ (توبہ نصوح): دل کی ندامت کے آنسو اور سچی توبہ گناہوں کی سیاہی کو مکمل طور پر دھو دیتی ہے۔ قرآن کا واضح اعلان ہے: ”وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے“[2]۔

  • نیک اعمال کا تسلسل: اللہ کا قانون ہے کہ نیکیاں برائیوں کے اثرات کو مٹا کر ختم کر دیتی ہیں (ان الحسنات یذھبن السیئات)[3]۔ ماہِ رمضان میں کی گئی نیکیاں اور صدقات پچھلے گناہوں کا بہترین کفارہ بن جاتے ہیں۔

  • شفاعتِ اولیاء: انبیاء، ائمہ (ع) اور صالحین کی شفاعت قیامت کے دن ایک بہت بڑا سہارا ہوگی۔ البتہ یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ شفاعت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو دنیا میں ایمان اور توبہ کے راستے پر گامزن ہوں گے، نہ کہ ان کے لیے جو گناہوں پر دیدہ دلیری سے ڈٹے رہیں اور شفاعت کو گناہ کا لائسنس سمجھ لیں۔

  • گناہانِ کبیرہ سے پرہیز: اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر انسان بڑے اور سنگین گناہوں (کبیرہ) سے خود کو بچا لے، تو اس کی برکت سے روزمرہ کی چھوٹی لغزشیں (صغیرہ گناہ) خود بخود معاف کر دی جائیں گی۔

  • عفوِ خداوندی اور فضل: ان سب ذرائع سے بڑھ کر اللہ کی صفتِ عفو ہے، جو اس کی لامحدود مشیت اور بندے کی عاجزی پر منحصر ہے۔ چھبیسویں دن کی دعا اسی عفوِ خداوندی کو پکارنے اور اس کے رحم کو آواز دینے کا نام ہے۔

اعمال کی قبولیت: اخلاص کا معیار اور بندگی کی روح

چھبیسویں دن کی دعا کا تیسرا تقاضا اعمال کی بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت ہے: وَ عَمَلى فيهِ مَقْبُولاً (اور میرے اعمال کو اس مہینے میں شرفِ قبولیت عطا فرما)۔

چھبیسویں دن کی دعا یہاں ایک انتہائی باریک اور اہم فرق واضح کرتی ہے: محض ‘عمل کرنا’ اور عمل کا ‘قبول ہونا’ دو بالکل الگ الگ منازل ہیں۔ بہت سے لوگ راتوں کو جاگتے ہیں اور دن بھر بھوکے پیاسے رہتے ہیں، مگر انہیں تھکاوٹ اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ لوگوں کی نظر میں مقبول ہونا، دنیاوی داد وصول کرنا یا واہ واہ سمیٹنا کوئی کمال نہیں۔ اصل کمال اور حتمی کامیابی تو یہ ہے کہ انسان کا عمل "بارگاہِ الٰہی” میں مقبولیت کا درجہ پا لے۔

ریاکاری، دکھاوے، احسان جتلانے اور تکبر سے بھرپور اعمال خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، اللہ کے ہاں ردی کی طرح ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، سچے اخلاص کے ساتھ چھپ کر کیا گیا ایک چھوٹا سا عمل، جس میں صرف اور صرف اللہ کی رضا شامل ہو، خدا کے ہاں پہاڑ جتنا بڑا درجہ رکھتا ہے۔ ہابیل اور قابیل دونوں نے اللہ کی راہ میں قربانی پیش کی، مگر قبول صرف ہابیل کی ہوئی کیونکہ اس میں خالص تقویٰ تھا۔ چھبیسویں دن کی دعا دراصل اپنے ظاہری اعمال میں اسی اخلاص اور تقویٰ کی مہر لگوانے کی التجا ہے۔

عیبوں کی پردہ پوشی: ستّار العیوب

چھبیسویں دن کی دعا کا چوتھا اور آخری پرسکون تقاضا عیبوں کا چھپ جانا اور مستور رہنا ہے: وَ عَيْبى فيهِ مَسْتُوراً (اور میرے عیبوں کو اس میں چھپا ہوا / مستور قرار دے)۔

یہ چھبیسویں دن کی دعا کا وہ حصہ ہے جو انسان کی عزتِ نفس کی مکمل حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک نہایت شفقت بھری صفت "ستار العیوب” (عیبوں کو چھپانے والا) ہے۔ ہم سب معاشرے میں جو عزت اور شرافت کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں، وہ دراصل ہمارے کمالات نہیں بلکہ اللہ کی ستاری ہے۔ اگر وہ ہمارے دلوں کے برے خیالات اور تنہائی کے پوشیدہ گناہوں کے عیب ظاہر کر دے، تو کوئی ہمیں منہ نہ لگائے اور معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جائے۔

ایک نہایت دلکش روایت میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب سب کے اعمال نامے کھلیں گے، تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب (ص) سے فرمائے گا کہ اے محمد! میں تمہاری امت کا حساب ایسے خفیہ طریقے سے لوں گا کہ تمہارے علاوہ کوئی بھی ان کے گناہوں سے آگاہ نہ ہو، بلکہ میں خود بھی ان کے عیبوں پر پردہ ڈال دوں گا تاکہ تم بھی اپنی امت کے گناہوں پر محشر میں شرمندہ نہ ہو[4]۔ کتنا کریم ہے وہ رب جو مجرم کے جرم پر خود محبت سے پردہ ڈالتا ہے!

امام زین العابدین (ع) صحیفہ سجادیہ میں نہایت رقت انگیز انداز میں فرماتے ہیں: ”اے میرے خدا! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے میرے بے شمار عیوب پر پردہ ڈالا اور مجھے لوگوں کے سامنے ذلیل و خوار نہیں کیا“۔ اس کے ساتھ ہی، چھبیسویں دن کی دعا ہمیں یہ عظیم اخلاقی سبق بھی دیتی ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ ہمارے عیب چھپائے، تو ہمیں دنیا میں لوگوں کے عیب چھپانے ہوں گے۔ رسول خدا (ص) نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے: ”اپنے بھائیوں کے عیوب کو پوشیدہ رکھ تاکہ خدا بھی تیرے عیوب کو پوشیدہ رکھے“[5]۔

چھبیسویں دن کی دعا کا اختتام اللہ کے سننے اور جاننے کی صفت پر ہوتا ہے: يا أَسْمَعَ السّامِعينَ (اے سب سننے والوں سے زیادہ سننے والے)۔ چھبیسویں دن کی دعا پڑھتے ہوئے بندہ یہ کامل یقین رکھتا ہے کہ اس کی یہ چاروں التجائیں اس ذات تک پہنچ رہی ہیں جو دلوں کی خاموش دھڑکنیں بھی سنتی ہے۔

نتیجہ

ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کا دارومدار صرف محنت پر نہیں بلکہ اللہ کی قدردانی (سعی مشکور) پر ہے۔ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ اور نیک اعمال ضروری ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں دوسروں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے تاکہ روز محشر اللہ ہمارے عیبوں پر بھی پردہ ڈال دے، کیونکہ وہ "اسمع السامعین” ہے جو ہر پکار کو سنتا ہے۔

حوالہ جات

[1] سورہ انسان، آیت 22۔
[2] سورہ شوریٰ، آیت 25۔
[3] سورہ ہود، آیت 114۔
[4] مفاتیح الجنان، دعائے جوشن کبیر۔
[5] ہندی، کنز العمال، ح 4415۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ ہندی، علاء الدین علی المتقی، کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال، بیروت، موسسہ الرسالہ، 1409ق۔
3۔ مفاتیح الجنان (دعائے جوشن کبیر)۔
4۔ صحیفہ سجادیہ (دعا نمبر 16)۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔