اسلامی عقائد میں معاد، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا تصور، ایک مرکزی مقام رکھتا ہے۔ اس میں، معاد جسمانی کا پہلو خاص اہمیت کا حامل ہے، جہاں جسم اور روح دونوں کا قیامت کے دن پھر سے اکٹھا ہونا لازمی ہے۔ قرآن و عقل کی روشنی میں، معاد جسمانی ایک ایسی حقیقت ہے جو خدا کی قدرت کاملہ اور عدل کے تقاضوں کی آئینہ دار ہے، اور یہی معاد جسمانی اخروی زندگی کی بنیاد ہے۔
معاد کے متعلق ایک اہم سوال
معاد کی بحث میں پیش آنے والے اہم سوالات یہ ہیں کہ کیا ”معاد“ صرف روحانی پہلو رکھتی ہے یا انسان کا جسم و بدن بھی دوسری دنیا میں لوٹ آئے گا؟ اور انسان اسی دنیوی روح و جسم کے ساتھ صرف بلند تر درجے کے ساتھ دوسری دنیا میں زندگی کو جاری رکھے گا؟
پرانے زمانہ کے بعض فلاسفہ صرف روحانی معاد کے قائل تھے اور جسم کو ایک ایسا مرکب جانتے تھے جو صرف اس دنیا سے مربوط ہے اور موت کے بعد انسان اس کا محتاج نہیں ہوگا، اسے چھوڑ کر عالم ارواح میں پرواز کرے گا۔ لیکن اسلام کے عظیم علماء اور بہت سے فلاسفہ کا عقیدہ یہ ہے کہ معاد دونوں صورتوں میں یعنی ”معاد روحانی“ و ”معاد جسمانی“ ہوگی۔
صحیح ہے کہ یہ جسم خاک بن جائے گا اور یہ خاک زمین میں پراگندہ ہو کر گم ہو جائے گا، لیکن پروردگار قادر و عالم ان تمام ذرات کو قیامت کے دن دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں زندگی بخشے گا اور اس موضوع کو “معاد جسمانی“ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ روح کے پھر سے لوٹنے کو قطعی سمجھا گیا ہے اور چونکہ بحث صرف جسم کے لوٹنے کی ہے، یہ نام اسی عقیدہ کےلئے رکھا گیا ہے۔ بہر حال معاد سے متعلق، قرآن مجید میں مختلف اور کافی تعداد میں موجود آیات بھی ”معاد جسمانی“ پر دلالت کرتی ہیں۔
معاد جسمانی پر قرآنی شواہد
جس طرح ایک صحرائی عرب نے ایک بوسیدہ ہڈی کو پیغمبر اسلام ﷺ کی خدمت میں پیش کر کے سوال کیا تھا کہ کون اسے پھر سے زندہ کر سکتا ہے؟ اور پیغمبر اکرم ﷺ نے خدا کے حکم سے جواب دیا تھا کہ وہی خدا اسے پھر سے زندہ کر سکتا ہے جس نے اسے پہلے خلق کیا ہے، وہی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور سبز درخت سے آگ نکالی ہے۔ اس واقعہ سے مربوط آیات سورہ یس کے آخر میں آئی ہیں۔
قرآن مجید کا دوسری جگہ پر ارشاد ہے: ’’وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ‘‘ [1]
اور جب صور میں پھونک ماری جائے گی تو وہ اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
اسی طرح ایک اور جگہ پر فرمایا ہے: ’’خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ‘‘[2]
تو وہ آنکھیں نیچی کر کے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ قبریں خاک شدہ جسموں کی جگہ ہیں نہ روح کی۔ بنیادی طور پر معاد کے منکروں کا تعجب اس بات پر تھا کہ وہ کہتے تھے: ”جب ہم خاک میں تبدیل ہو جائیں گے اور یہ خاک پراگندہ ہوجائے گی تو ہم کیسے پھر سے زندہ ہو جائیں گے؟“
’’وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ‘‘[3]
اور وہ کہتے ہیں: جب ہم زمین میں ناپید ہو جائیں گے تو کیا ہم نئی خلقت میں آئیں گے؟
قرآن مجید جواب میں ارشاد فر ماتا ہے: ’’أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ‘‘[4]
کیا انہوں نے (کبھی) غور نہیں کیا کہ اللہ خلقت کی ابتداء کیسے کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے، یقینا اللہ کےلئے یہ آسان ہے۔
ایک عرب جاہل کا اعتراض قرآن میں اس طرح ذکر ہوا ہے: ’’أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُم مُّخْرَجُونَ‘‘[5]
کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور ہڈی ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے؟
قرآن مجید کی مذکورہ تمام تعبیرات اور اس موضوع سے متعلق دوسری آیات واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ ہر جگہ پر ”معاد جسمانی“ کی بات کرتے تھے اور تنگ نظر مشرکین کا تعجب بھی اسی بات پر تھا۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ قرآن مجید اسی معاد جسمانی کے چند نمونوں کو نباتات وغیرہ کے سلسلے میں پیش کر کے ان کےلئے تشریح فرماتا ہے اور ابتدائی خلقت اور خدا کی قدرت کو شاہد کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اس لئے ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص مسلمان ہو اور قرآن مجید سے تھوڑی سی واقفیت رکھتے ہوئے معاد جسمانی کا منکر ہو۔ قرآن مجید کی نظر میں معاد جسمانی کا انکار اصل معاد کے انکار کے برابر ہے۔
معاد جسمانی پر عقلی شواہد
اس کے علاوہ عقل بھی کہتی ہے کہ روح اور بدن الگ الگ حقیقتیں نہیں ہیں، یہ دونوں مستقل ہونے کے باوجود آپس میں پیوند اور رابطہ رکھتے ہیں، دونوں ایک ساتھ نشو و نما پاتے ہیں، اور یقیناً ابدی اور جاودانی زندگی کےلئے ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔
اگرچہ دونوں (روح اور بدن) برزخی مدت (دنیا و آخرت کے درمیان فاصلہ) کے دوران کچھ مدت تک ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں، لیکن ہمیشہ کےلئے یہ دوری ممکن نہیں ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم ناقص ہے اسی طرح روح بھی جسم کے بغیر ناقص ہے۔ روح حکم فرما ہے اور عامل حرکت ہے اور بدن فرمانبردار اور وسیلہ عمل ہے، کوئی بھی حکم فرما، فرمانبردار سے اور کوئی بھی ہنر مند وسیلہ عمل سے بے نیاز نہیں ہوتا ہے۔
چونکہ آخرت میں روح اس دنیا کی نسبت ایک ہنر مند سطح پر قرار پائے گی اس لئے اسی نسبت سے جسم کو بھی کمال حاصل کرنا چاہئے، اور ضرور ایسا ہی ہوگا، یعنی انسان کا جسم قیامت کے دن اس دنیا کی فرسودگی، عیوب اور نقائص سے خالی ہوگا۔
بہرحال جسم و روح ایک دوسرے کے ہم زاد اور مکمل کرنے والے ہیں اور معاد صرف روحانی معاد یا صرف معاد جسمانی نہیں ہوسکتی۔ دوسرے الفاظ میں جسم و روح کی خلقت اور ان کے آپسی رابطہ اور پیوند کی حالت کا مطالعہ اس بات کی ایک واضح دلیل ہے کہ معاد جسمانی و روحانی دونوں صورتوں میں واقع ہوگی۔
دوسری طرف انصاف و عدالت کا قانون بھی یہی کہتا ہے: معاد دونوں پہلوؤں سے (معاد جسمانی و روحانی معاد) ہونی چاہئے۔ کیونکہ اگر انسان کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔ تو اس نے اس گناہ کو اس روح اور جسم کے ذریعے انجام دیا ہے، اور اگر اس نے کوئی نیک کام انجام دیا ہے تو وہ بھی اس جسم و روح سے انجام دیا ہے اس لئے اس کی جزا اور سزا بھی اسی روح اور بدن کو ملنی چاہئے۔ اگر صرف جسم ہی پلٹے گا یا صرف روح ہی پلٹے گی اور ان میں سے صرف ایک ہی کو جزا یا سزا ملے گی، تو عدل و انصاف کا قانون نافذ نہیں ہوگا۔
معاد جسمانی کے متعلق چند سوالات
دانشوروں نے اس سلسلے میں متعدد سوالات پیش کئے ہیں کہ بحث کو مکمل کرنے کےلئے ان میں سے بعض کا ذکر جواب کے ساتھ درج ذیل ہے۔
قیامت کے دن کون سا جسم لوٹے گا؟
علوم طبیعیات (natural sciences) کے دانشوروں کی تحقیقات کے مطابق، انسان کا بدن اس کی پوری عمر کے دوران کئی بار تبدیل ہوتا ہے۔ اس کی مثال اس پانی کے حوض جیسی ہے، جس میں ایک طرف سے پانی داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف سے رفتہ رفتہ باہر نکلتا ہے ظاہر ہے کہ ایک مدت کے بعد اس حوض کا پورا پانی تبدیل ہوجاتا ہے۔
انسان کے بدن میں یہ صورت احتمالاً ہر سات سال کے بعد ایک بار پیش آتی ہے، اس لئے انسان کا بدن اس کی پوری حیات کے دوران کئی بار تبدیل ہوتا ہے! اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے جسموں میں سے کون سا جسم قیامت کے دن لوٹے گا؟
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں: ان میں سے انسان کا آخری بدن لوٹے گا، جیسا کہ مذکورہ آیات میں ہم نے پڑھا کہ خداوند متعال انسانوں کو ان ہی بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیوں سے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اور اس بات کے یہ معنی ہیں کہ انسان کا آخری بدن لوٹے گا، اسی طرح قبروں سے مردوں کے اٹھ کر نکلنے سے بھی آخری بدن کے زندہ ہونے کے معنی نکلتے ہیں۔
لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کا آخری بدن اپنے اندر وہ تمام آثار اور خصوصیات محفوظ رکھتا ہے جو اس کی پوری عمر میں مختلف بدن رکھتے تھے۔
دوسرے الفاظ میں: جو بدن تدریجاً نابود ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آثار و خصوصیات کو آنے والے دوسرے بدن میں منتقل کرتے ہیں، اس لئے آخری بدن گزشتہ تمام بدنوں کا وارث ہوتا ہے اور عدل و انصاف کے قانون کے تحت تمام جزا و سزا کا مستحق قرار پا سکتا ہے۔
شبہہ آکل و ماکول کیا ہے؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ: جب ہم خاک میں تبدیل ہوجائیں گے اور ہمارے بدن کے ذرات پودوں میں تبدیل ہوجائیں گے، اور نتیجے کے طور پر دوسرے انسان کے بدن کے جزو بن جائیں گے تو قیامت کے دن کیا ہوگا؟ (یہ وہی چیز ہے جسے فلسفہ و کلام کے علم میں ”شُبهَةُ الآكِلِ وَ المَاكُول“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)۔ اگرچہ اس سوال کا جواب تفصیلی بحث کا حامل ہے، لیکن ہم ایک مختصر عبارت میں ضرورت بھر اس پر بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے: جس انسان کے بدن کے ذرات خاک میں تبدیل ہونے کے بعد دوسرے بدن میں منتقل ہوتے ہیں، وہ یقیناً پہلے بدن میں واپس آجاتے ہیں۔ (مذکورہ آیات بھی اس دعویٰ کی واضح شاہد ہیں)۔ یہاں پر بظاہر جو مشکل نظر آتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ دوسرا بدن ناقص ہوجائے گا۔ لیکن حقیقت میں یہ دوسرا بدن ناقص نہیں ہوتا ہے بلکہ چھوٹا ہوتا ہے، چونکہ یہ ذرات تمام بدن میں پھیلے ہوئے تھے، جب اس سے واپس لئے جاتے ہیں تو وہ بدن اسی نسبت سے ضعیف اور چھوٹا ہوجاتا ہے۔
اس لئے نہ پہلا بدن نابود ہوتا ہے اور نہ دوسرا، صرف جو چیز یہاں پر وجود میں آتی ہے وہ دوسرے بدن کا چھوٹا ہونا ہے اور یہ امر کبھی کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قیامت کے دن تمام بدن کمال حاصل کریں گے، اور نقائص اور کمیاں دور ہوجائیں گی، جس طرح ایک بچہ نشو و نما پاتا ہے۔ یا ایک زخمی کے زخم میں نئے سرے سے گوشت بھر جاتا ہے اور اس کی شخصیت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح قیامت کے دن چھوٹے اور ناقص بدن مکمل صورت میں زندہ ہوں گے، کیونکہ قیامت عالم کمال ہے۔
خاتمہ
قرآن کریم کے واضح شواہد اور ٹھوس عقلی دلائل کی بنا پر، معاد جسمانی اللہ تعالٰی کی لا محدود قدرت اور عدل الٰہی کا حتمی تقاضہ ہے۔ روزِ آخرت اعمال کی مکمل جزا و سزا کےلئے جسم کا روح کے ساتھ دوبارہ جی اٹھنا، یعنی معاد جسمانی، بہت ضروری ہے۔ یہ یقین کہ انسان اپنے کامل جسم کے ساتھ دوبارہ لوٹے گا، ہی اصل معاد جسمانی ہے جو اخروی کامیابی کی ضمانت ہے۔
حوالہ جات
[1] ۔ یس: ۵۱۔
[2] ۔ قمر: ۷۔
[3] ۔ سجدہ: ۱۰۔
[4] ۔ عنکبوت: ۱۹۔
[5] مؤمنون: ۳۵۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مکارم شیرازی، ناصر، نوجوانوں کےلئے اصول عقائد کے پچاس سبق، ترجمہ: سید قلبی حسین رضوی، ص ۱۹۸-۲۰۱، قم، مجمع جهانی اہل بیت (ع)، ۲۰۰۸م۔