انسانی معاشرہ میں عدل و انصاف اور حق الناس سب سے بنیادی اصول ہیں۔ ظلم، اور حق الناس کی عدم رعایت اس اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور سب سے سنگین قسم کا ظلم وہ ہے جو بندگانِ خدا پر کیا جائے، یعنی حق الناس کی پامالی۔ قرآن مجید اور احادیث معصومین (ع) میں یہ حق الناس کا مسئلہ نہایت سختی سے بیان ہوا ہے اور آخرت میں حسابِ اعمال کا سب سے نازک مرحلہ یہی حق الناس کا ہوگا۔ نہج البلاغہ اور دیگر اسلامی متون کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ظالم کا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں، جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔
ظلم کی اقسام اور حضرت علی (ع) کا خطبہ
حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (ع) فرماتے ہیں: أَلَا وَإِنَّ الظُّلْمَ ثَلَاثَةٌ: فَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ، وَظُلْمٌ لَا يُتْرَكُ، وَظُلْمٌ مَغْفُورٌ لَا يُطْلَبُ. فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ»، وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ، وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا. الْقِصَاصُ هُنَاكَ شَدِيدٌ، لَيْسَ هُوَ جَرْحًا بِالْمُدَى وَلَا ضَرْبًا بِالسِّيَاطِ، وَلَكِنَّهُ مَا يُسْتَصْغَرُ ذَلِكَ مَعَهُ.[1]
آگاہ رہو! ظلم کی تین قسمیں ہیں:
ایسا ظلم جو ہرگز معاف نہیں کیا جاتا: وہ اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
ایسا ظلم جو معاف ہو سکتا ہے: وہ ظلم جو انسان اپنی جان پر کرتا ہے۔
ایسا ظلم جسے چھوڑا نہیں جاتا: وہ ظلم جو بندے بندوں پر کرتے ہیں۔ وہاں (قیامت میں) قصاص شدید ہوگا۔ یہ چاقو سے زخم یا کوڑے سے مار کی مانند نہ ہوگا بلکہ وہ عذاب ہوگا جس کے مقابل یہ سب چھوٹا لگے گا۔
نہج البلاغہ، امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب (ع) کی حکمت آمیز زندگی کا وہ روشن آئینہ ہے جس میں انسانیت، عدل، سیاست، اخلاق، اور توحید کے تمام پہلو پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتے ہیں۔ ان خطبات، خطوط، اور اقوال کا ایک اہم موضوع "ظلم” کی مذمت اور "حق الناس” کی حفاظت ہے۔
امام علی (ع) نے ظلم کو ہر شکل میں رد کیا اور خاص طور پر لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے والے حق الناس مظالم کو ناقابل معافی جرم قرار دیا۔ نہج البلاغہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ امام (ع) کے نزدیک عدل فقط فردی نہیں بلکہ اجتماعی و سیاسی عدل ہے جو حق الناس سے جڑا ہوا ہے۔
امام علی (ع) نے عثمان بن حُنیف کو خط لکھا، جس میں فرمایا:
"فَوَاللهِ لَوْ أُعْطِيتُ الأقالِيمَ السَّبْعَةَ بِما تَحْتَ أَفْلاكِها عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللهَ في نَمْلَةٍ أَسْلُبُها جِلْبَ شَعِيرَةٍ ما فَعَلْتُهُ"[2]
"خدا کی قسم! اگر مجھے سات اقلیموں کی بادشاہی دے دی جائے کہ میں اللہ کی نافرمانی میں ایک چیونٹی کے منہ سے جَو کا چھلکا چھین لوں، تو میں ایسا ہرگز نہ کروں گا۔”
اس سے واضح ہے کہ امام علی (ع) کے نزدیک حتیٰ معمولی مالی ظلم بھی ناقابل برداشت اور حق الناس کی پامالی ہے۔
امیر المؤمنین (ع) فرماتے ہیں: "وَاللهِ لَأَنْ أَبِيتَ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ مُسَهَّداً، وَأُجَرَّ فِي الأَغْلالِ مُصَفَّداً، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللهَ وَرَسُولَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظَالِماً لِبَعْضِ الْعِبَادِ، وَغَاصِباً لِشَيْءٍ مِنَ الْحُطَامِ”[3]
"خدا کی قسم! اگر مجھے رات کانٹوں پر گزارنی پڑے اور مجھے زنجیروں میں جکڑ کر گھسیٹا جائے، تو وہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں قیامت کے دن اللہ و رسول کے حضور کسی بندے پر ظلم کر کے پیش ہوں۔”
امیر المؤمنین (ع) کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ حق الناس اگر ضائع ہو جائے تو اس کا محاسبہ قیامت میں ضرور ہوگا۔ یہ نہایت بلند پایہ کلامِ امام علی بن ابی طالب (ع) نہ صرف ظلم کی حقیقت کو واضح کرتا ہے، بلکہ اس کی اقسام اور انجام کو بھی نہایت گہرائی اور جامعیت سے بیان کرتا ہے۔ یہ بیان صرف اخلاقی تعلیم نہیں بلکہ ایک مکمل الٰہی قانون ہے جو عدلِ الٰہی اور انسانی ذمہ داری کا عکس پیش کرتا ہے۔
امام علی (ع) ظلم کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:
الف) ایسا ظلم جو ہرگز معاف نہیں کیا جاتا: شرک: یہ وہ ظلم ہے جو انسان خدا کی ربوبیت و یکتائی کو پامال کر کے کرتا ہے۔ قرآن کی صراحت کے مطابق شرک جیسا ظلم اس لیے ناقابل معافی ہے کیونکہ یہ خدا کے عدل و حق کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔
ب) ایسا ظلم جو انسان اپنی جان پر کرتا ہے: قابلِ مغفرت: یہ وہ گناہ ہیں جن میں بندہ اپنی ذات کے خلاف کوتاہی کرتا ہے، جیسے نماز نہ پڑھنا، روزہ چھوڑنا، یا اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہونا۔ چونکہ اس ظلم میں کسی دوسرے انسان کا حق ضائع نہیں ہوتا، اس لیے توبہ کے ذریعے معافی ممکن ہے۔
ج) ایسا ظلم جسے چھوڑا نہیں جاتا: بندوں پر ظلم: یہی وہ ظلم ہے جس پر امام (ع) خاص طور پر توجہ دلاتے ہیں۔ بندے کا بندے پر ظلم صرف دنیا میں فساد کا باعث نہیں بلکہ آخرت میں سخت ترین مواخذے کا سبب بھی ہے۔ اس ظلم کا دائرہ بہت وسیع ہے — مالی خیانت، غیبت، بہتان، کینہ، ناحق سزا، ناانصافی، اور دیگر صورتیں۔ امام (ع) فرماتے ہیں: "وہاں قصاص شدید ہوگا…” یعنی خدا کے ہاں بدلے کا نظام نہایت دقیق اور سخت ہے۔
نہج البلاغہ میں امام علی (ع) نے "حق الناس” کو اتنی اہمیت دی ہے کہ وہ ایک چیونٹی سے بھی جَو کا چھلکا چھیننے کو اللہ کی نافرمانی سمجھتے ہیں۔ یہ بیان انسان کے ہر عمل کو خدائی میزان پر تولنے کا درس دیتا ہے۔ عثمان بن حنیف کو لکھے گئے خط میں فرمایا کہ دنیا کی تمام سلطنتیں مل جائیں تب بھی وہ ایک معمولی ظلم گوارا نہ کریں گے۔ یہ پیغام ہے ہر حکمران، قاضی، تاجر، اور عام انسان کے لیے۔
امیرالمؤمنین (ع) اس فقرے میں آخرت کے حساب کو ایسے بیان فرماتے ہیں کہ: "یہ چاقو سے زخم یا کوڑے سے مار کی مانند نہ ہوگا بلکہ وہ عذاب ہوگا جس کے مقابل یہ سب چھوٹا لگے گا۔”
جس سے واضح ہے کہ دنیا کی جسمانی سزائیں محض اشارہ ہیں اُس درد کی طرف جو قیامت کے دن "حق الناس” کی پامالی پر نازل ہوگا۔ قیامت کا انصاف محض قانونی نہیں، بلکہ روحانی، معنوی اور مکمل ہے۔
امام علی (ع) نہ صرف گفتار میں بلکہ کردار میں بھی عدل کی عظیم مثال ہیں۔ آپ کے ذاتی اعمال، جیسے بیت المال کی حفاظت، مظلوموں کی حمایت، اور ظالموں سے بے نیازی، سب ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ "حق الناس” فقط فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور الٰہی فریضہ ہے۔
امام علی (ع) کا یہ کلام ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ اگر ہم نے کسی انسان کا حق مارا، اس کی عزت پامال کی، مال ہڑپ کیا، یا اس کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی کی، تو وہ ظلم "نہ معاف ہوگا، نہ چھوڑا جائے گا” جب تک مظلوم معاف نہ کرے۔ نہج البلاغہ کے یہ بیانات ہمیں صرف اخلاقی درس نہیں دیتے بلکہ قیامت کی عدالت کے لیے ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ بندوں کے حقوق، اللہ کے حقوق سے بھی زیادہ سخت حساب رکھتے ہیں۔
حق الناس اور پل صراط
حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: "قنطرة على الصراط لا يجوزها عبد بمظلمة.”[4]
” پل صراط پر ایک ایسا پُل ہے جسے کوئی بندہ کسی کا حق دبائے عبور نہیں کر سکتا ۔”
یہ جملہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قیامت کے دن انسان کو پل صراط سے گزرنا ہوگا، لیکن اگر اس کے ذمہ کسی انسان کا حق یعنی حق الناس (یعنی مظلمہ، ظلم کیا ہوا حق) ہوگا تو وہ اس مرحلے کو پار نہیں کر سکے گا۔ یعنی حق الناس کی ادائیگی کے بغیر نجات ممکن نہیں۔
یہ مفہوم متعدد روایات میں وارد ہوا ہے اور امام علی (ع) کے اس قول کی روشنی میں نہج البلاغہ کے عمومی پیغام کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے۔
قیامت کے دن مظلوم کی داد رسی
امام زین العابدین (ع) اپنے والد امام حسین (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین (ع) نے فرمایا:
قیامت کے دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ ان کے چہروں پر ان کے اعمال کے اثرات ہوں گے۔ صرف ایمان روشنی دے رہا ہوگا۔ پھر ایک فرشتہ ندا دے گا: "اے لوگو! سنو! خداوندِ عادل و حکیم کا اعلان ہے کہ آج کوئی ظلم معاف نہیں ہوگا، جب تک صاحبِ حق راضی نہ ہو۔”
خدا فرمائے گا: أنا اللّه لا إله إلّا أنا الحكم العدل الّذي لا يجور، اليوم أحكم بينكم بعدلي و قسطي لا يظلم اليوم عندي أحد، اليوم آخذ للضعيف من القويّ بحقّه و لصاحب المظلمة بالمظلمة…
"میں اللہ، حکمت و عدل والا ہوں۔ میرے حکم میں ظلم کی گنجائش نہیں۔ آج میں ظالموں سے حقوق لوں گا اور مظلوموں کو ان کے ثواب یا ظالم کی نیکیوں کے ذریعے دوں گا۔ اور جو معاف کرے گا، اسے اجر دوں گا۔”
پھر مظلوم آگے بڑھیں گے اور ظالموں کو پہچان لیں گے۔ وہ ان کا گریبان پکڑیں گے، چیخیں گے، دادخواہی کریں گے، اور ان سے اپنا حق طلب کریں گے۔ اگر ظالم کے پاس نیکیاں ہوں تو اتنی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی جتنی اس کے حق کی مقدار ہو۔ اگر نیکیاں نہ ہوں تو مظلوم کے گناہ ظالم پر منتقل کر دیے جائیں گے۔[5]
اسلام میں حق الناس کا معاملہ انتہائی حساس اور شدید اہمیت کا حامل ہے۔ شرک کے بعد سب سے زیادہ مؤاخذہ اسی ظلم کا ہوگا جو انسان نے دوسرے انسان پر کیا ہو، چاہے وہ مال میں ہو، عزت میں ہو، یا جسم و جان میں۔ قرآن و حدیث، نہج البلاغہ، اور معصومین (ع) کے فرامین ہمیں بتاتے ہیں کہ خدا عادل ہے، اور اس کی عدالت کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی مظلوم، ظالم کے ظلم کے بغیر معافی یا عفو کے بغیر، بخشا نہیں جا سکتا۔
لہٰذا دنیا ہی میں انسان کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے، حقوق العباد اور حق الناس ادا کرنے چاہییں، اور کسی پر زیادتی کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچنا چاہیے۔
نتیجہ
نہج البلاغہ کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ ظلم فقط گناہ نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ امام علی (ع) کے نزدیک عدل کا قیام اور ظلم کا خاتمہ دینی زندگی کی اساس ہے، اور بندوں کے حقوق کی پامالی قیامت کے عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔ آج کا مسلمان اگر نہج البلاغہ سے سبق حاصل کرے تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ عبادتیں اُس وقت ثمر آور ہوں گی جب وہ لوگوں کے ساتھ عدل کرے، ان کا مال، عزت اور وقت ضائع نہ کرے، اور ہر حال میں حق الناس کو ادا کرے۔
حوالہ جات
[1] رضی، نہج البلاغہ، ج1، ص394۔
[2] رضی، نہج البلاغہ، ج1، ص555۔
[3] رضی، نہج البلاغہ، ج1، ص553۔
[4] حرّ عاملی، وسائل الشيعہ،ج11، ص339۔
[5] فیض کاشانی، المحجۃ البيضاء، ج8، ص324۔
فہرست منابع
1. حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة، لبنان، دار احياء التراث العربي بيروت، 1409ق۔
2. شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1414ق۔
3. فیض کاشانی، ملا محسن، المحجۃ البیضاء، قم، مؤسسه نشر اسلامی، 1416ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)
1. علیاکبری، نگین و نصیری زرندی، زینب. «دفاع از مظلوم از منظر نهج البلاغه»، پژوهش و مطالعات علوم اسلامی، سال دوم، شماره 11، خرداد 1399، ص13–18۔
2. مكارم شيرازى، ناصر، پيام امام امير المؤمنين (ع)، ج6، ص598–601، تهران، دار الكتب الاسلاميه، 1386ش۔
3. نوری، حسین. «اصول اعتقادی اسلام معاد؛ حق الناس»، پاسدار اسلام، شماره 115، تیر 1370، ص15–17۔