واقعۂ غدیر خم، رسالت کی تکمیل اور ولایت کا اعلان

واقعۂ غدیر خم، رسالت کی تکمیل اور ولایت کا اعلان

کپی کردن لینک

اسلام کی تاریخ میں کئی مواقع اہمیت کے حامل ہیں، لیکن غدیر خم وہ لمحہ ہے جہاں دین کی تکمیل اور امامت کی بنیاد کا باضابطہ اعلان ہوا۔ غدیر خم کا یہ واقعہ نہ صرف ایک قیادت کا تعین تھا بلکہ رسالتِ محمدی ﷺ کی تکمیل کا عظیم مظہر بھی تھا۔

حجة الوداع اور واقعہ غدیر

پیغمبر اسلام (ص) 10 ھ میں وظیفۂ حج اور مناسک حج کی تعلیم کے لئے مکہ معظمہ روانہ ہوئے اور اس مرتبہ یہ حج پیغمبر اسلام (ص) کا آخری حج تھا (اسی وجہ سے اسے ”حجة الوداع” کہتے ہیں)، وہ افراد جو پیغمبر اسلام (ص) کے ہمراہ حج کرنا چاہتے تھے یا حج کی تعلیمات سے روشناس ہونا چاہتے تھے پیغمبر اسلام (ص) کے ہمراہ روانہ ہوئے جن کی تعداد تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔

حج کے مراسم تمام ہوئے، پیغمبر اسلام (ص) مدینے کے لئے روانہ ہوئے جب کہ بہت زیادہ لوگ آپ کی خدا حافظی کے لئے آئے سوائے ان لوگوں کے جو مکہ میں آپ کے ہمراہ ہوئے تھے وہ سب کے سب آپ کے ہمراہ تھے وہ پہلے ہی روانہ ہوگئے۔

جب یہ قافلہ بے آب و گیاہ جنگل بنام غدیر خم، پہنچا جو جحفہ: رابغ سے چند میل دور مدینے کے راستے میں واقع ہے اور حاجیوں کی ایک میقات میں سے ہے، سے تین میل کی دوری پر واقع ہے، وحی کا فرشتہ نازل ہوا اور پیغمبر اسلام (ص) کو ٹھہرنے کا حکم دیا پیغمبر اسلام (ص) نے بھی سب کو ٹھہرنے کا حکم دیدیا تا کہ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی پہنچ جائیں۔

قافلے والے غدیر خم کے اس بے آب و گیاہ اور بے موقع، دوپہر کے وقت، تپتے ہوئے صحرا میں اور گرم و تپتی ہوئی زمین پر پیغمبر اسلام (ص) کے اچانک رک جانے سے متعجب تھے، لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہہ ر ہے تھے:

لگتا ہے خدا کی طرف سے کوئی اہم حکم آگیا ہے اور حکم کی اتنی ہی اہمیت ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو حکم دیا ہے کہ اس سخت حالت میں آگے بڑھنے سے سب کو روک دیں اور خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔

رسول اسلام (ص) پر خد اکا یہ فرمان نازل ہوا:

"يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ”[2]

اے پیغمبر، جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھ لو کہ) تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا اور (تم ڈرو نہیں) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

اگر آیت کے مفہوم پر غور کیا جائے تو چند نکات سامنے میں آتے ہیں:

1۔ وہ حکم جسے پہنچانے کے لئے پیغمبر اسلام (ص) کو حکم دیا گیا وہ اتنا عظیم اور اہم تھا کہ (بر فرض محال) اگر پیغمبر اس کے پہنچانے میں خوف کھاتے اور اسے نہیں پہنچاتے تو گویا آپ نے رسالت الہی کو انجام نہیں دیا بلکہ اس پیغام کے پہنچانے کی وجہ سے آپ کی رسالت مکمل ہوئی۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ”مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ” سے مراد ہرگز قرآن مجید کی تمام آیتیں اور اسلامی احکامات نہیں ہیں کیونکہ اگر پیغمبر اسلام (ص)، خداوند عالم کے تمام احکامات کو نہ پہنچائیں تو اپنی رسالت کو انجام نہیں دیا ہے تو یہ ایک ایسا واضح اور روشن امر آیت کے نزول کا محتاج نہیں ہے.

بلکہ اس حکم سے مراد ایک خاص امر کا پہنچانا ہے تاکہ اس کے پہنچانے سے رسالت مکمل ہوجائے اور اگر یہ حکم نہ پہنچایا جائے تو رسالت عظیم اپنے کمال تک نہیں پہنچ سکتی، اس بنا پر ضروری ہے کہ یہ حکم اسلامی اصول کا ایک اہم پیغام ہو تاکہ دوسرے اصول و فروع سے ارتباط رکھے ہو اور خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام (ص) کی رسالت کے بعد اہم ترین مسئلہ شمار ہو۔

2۔ معاشرے کو دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلام (ص) کو یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے اس پیغام کو پہنچاتے وقت لوگوں کی طرف سے انہیں ضرر پہنچے لیکن خداوند عالم ان کے ارادے کو قوت و طاقت دینے کے لئے ارشاد فرماتا ہے: "وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس” خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

واقعہ غدیر خم کا تجزیه

اب ہم واقعہ غدیر خم کے ان احتمالات کا تجزیہ کریں گے جو ماموریت کے سلسلے میں مفسرین اسلامی نے بیان کئے ہیں کہ کون سا احتمال آیت کے مفہوم سے نزدیک ہے۔

شیعہ محدثین اور اسی طرح اہلسنت کے 30 بزرگ محدثین مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر، ج1، ص196 تا 209 تک ان تیس افراد کے نام و خصوصیات مکمل طریقے سے بیان کئے ہیں۔ جن کے درمیان بہت سے نام مثلاً طبری، ابونعیم اصفہانی، ابن عساکر، ابو اسحاق حموینی، جلال الدین سیوطی وغیرہ شامل ہیں اور پیغمبر اسلام (ص) کے صحابی میں ابن عباس، ابو سعید خدری و براء ابن عازب وغیرہ کے نام پائے جاتے ہیں۔ نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں نازل ہوئی ہے جس میں خدا نے پیغمبر اسلام (ص) کو حکم دیا ہے کہ حضرت علی کو ’’مومنوں کا مولی’‘ بنائیں۔

پیغمبر اسلام (ص) کے بعد ولایت و جانشینی عظیم اور اہم موضوعات میں سے ہے اور اس کے پہنچانے سے رسالت کی تکمیل ہوئی ہے نہ یہ کہ امر رسالت میں نقص شمار کیا جائے۔

اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) اپنے اجتماعی اور سیاسی حالات کی رو سے اپنے اندر رعب و ڈر محسوس کرتے کیونکہ حضرت علی (ع) جیسے شخص کی وصایت اور جانشینی جن کی عمر 33 سے زیادہ نہ تھی، کا اعلان ایسے گروہ کے سامنے جو عمر کے لحاظ سے ان سے بہت بڑے تھے، بہت زیادہ دشوار تھا۔

خصوصاً ان عربوں پر جو اہم منصبوں کو قبیلے کے بزرگوں کے شایان شان سمجھتے تھے اور نوجوانوں کو اس بہانے سے کہ وہ تجربہ نہیں رکھتے ان کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے اسی لئے جب پیغمبر اسلام (ص) نے عتاب بن اسید کو مکہ کا حاکم اور اسامہ بن زید کو فوج کا سپہ سالار بنا کرتبوک بھیجا تو بہت سے اصحاب پیغمبر اور دوستوں نے اعتراض کیا۔

اس کے علاوہ اس مجمع میں پیغمبر اسلام (ص) کے اردگرد بیٹھے لوگوں کے بہت سے رشتہ داروں کا خون مختلف جنگوں میں حضرت علی (ع) کے ہاتھوں بہا تھا اور ایسے کینہ توز افراد پر ایسے شخص کی حکومت بہت دشوار مرحلہ تھا، اس کے علاوہ حضرت علی (ع) پیغمبر اسلام (ص) کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور ایسے شخص کو خلافت کے لئے معین کرنا کم ظرفوں کی نگاہ میں، رشتہ دار کو بڑھاوا دینا تھا۔

لیکن ان تمام سخت حالات کے باوجود خداوند عالم کا حکیمانہ ارادہ یہ تھا کہ اس تحریک کو دوام بخشنے کے لئے حضرت علی (ع) کو خلافت و جانشینی کے لئے منتخب کیا جائے اور اپنے پیغمبر کی رسالت کو رہبر و رہنما کا تعیین کر کے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

واقعہ غدیر خم کی تشریح

18 ذی الحجہ کو غدیر خم کی سرزمین پر دوپہر کا تپتا ہوا سورج چمک رہا تھا اور اکثر مؤرخین نے مجمع جن کی تعداد 70 ہزار سے 120 ہزار تک بیان کی ہے اس جگہ پر پیغمبر اسلام (ص) کے حکم سے ٹہرے ہوئے تھے اور اس روز رونما ہونے والے تاریخی واقعہ کا انتظار کر رہے تھے اور شدید گرمی کی وجہ سے اپنی رداؤں کو دو حصوں میں تہہ کر کے ایک حصے کو سر پر اور دوسرے حصے کو پیر کے نیچے رکھے ہوئے تھے۔

ایسے حساس موقع پر ظہر کی اذان پورے بیابان میں گونج اٹھی اور مؤذن کی تکبیر کی آواز بلند ہوئی، لوگ نماز ظہر ادا کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے اور پیغمبر اسلام (ص) نے اس عظیم الشان مجمع میں جس کی سرزمین غدیر خم پر مثال نہیں ملتی نماز ظہرباجماعت ادا کی، پھر لوگوں کے درمیان اس منبر پر جو اونٹ کے کجاووں سے بنایا گیا تھا تشریف لائے اور بلند آواز سے یہ خطبہ پڑھا۔

تمام تعریفیں خدا سے مخصوص ہیں ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر ہمارا ایمان ہے اور اسی پر بھروسہ ہے اور برے نفس اور خراب کردار سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں کہ اس کے علاوہ گمراہوں کا کوئی ہادی و رہنما نہیں ہے وہ خدا جس نے ہر شخص کی ہدایت کی اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد خدا کا بندہ اور اسی کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔

اے لوگو، عنقریب میں تمہارے درمیان سے خدا کی بارگاہ میں واپس چلا جاؤں گا اور میں مسئول ہوں اور تم بھی مسئول ہو میرے بارے میں کیا فکر کرتے ہو؟

پیغمبر اسلام (ص) کے صحابیوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے خدا کے مذہب کی تبلیغ کی اور ہم لوگوں کے ساتھ نیکی کی اور ہمیشہ نصیحت کی اور اس راہ میں بہت زیادہ زحمتیں برداشت کیں خدا آپ کو جزائے خیر دے۔

پیغمبر اسلام (ص) نے پھر مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا:

کیا تم گواہی نہیں دوگے کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہے؟ جنت و جہنم اور موت حق ہیں اور قیامت بغیر کسی شک و تردید کے ضرور آئے گی اور خداوند عالم ان لوگوں کو جو قبروں میں دفن ہیں دوبارہ زندہ کرے گا؟

پیغمبر اسلام (ص) کے صحابیوں نے کہا: ہاں ہاں ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں بطور یادگار چھوڑ کر جارہا ہوں کس طرح ان کے ساتھ برتاؤ کرو گے؟ کسی نے پوچھا: ان دو گرانقدر چیز سے کیا مراد ہے؟

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: ثقل اکبر جو خدا کی کتاب ہے جس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے اس کو مضبوطی سے پکڑلو تا کہ گمراہ نہ ہوجاؤ۔ اور ثقل اصغر میری عترت اور میرے اہلبیت ہیں میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میری یہ دونوں یادگاریں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی۔

اے لوگو، کتاب خدا اور میری عترت پر سبقت نہ لے جانا بلکہ ہمیشہ اس کی نقش قدم پر چلنا تاکہ تم محفوظ رہ سکو، اس موقع پر پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) کو ہاتھوں پر بلند کیا یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی دیکھائی دینے لگی اور سب نے حضرت علی (ع) کو پیغمبر اسلام (ص) کے ہاتھوں پر دیکھا اور انہیں اچھی طرح سے پہچانا اور جان لیا کہ اس اجتماع اور ٹھہرنے کا مسئلہ حضرت علی (ع) سے مربوط ہے اور سب کے سب پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ آمادہ ہوئے کے پیغمبر اسلام (ص) کی باتوں کو غور سے سنیں۔

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: اے لوگو! تمام مومنین میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ پیغمبر اسلام (ص) کے صحابیوں نے جواب دیا خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتا ہے۔

پیغمبر اسلام (ص) نے پھر فرمایا: خداوند عالم میرا مولا اور میں تم لوگوں کا مولا ہوں اور ان کے نفسوں سے زیادہ ان پر حق تصرف رکھتا ہوں۔ اے لوگو! جس جس کا میں مولا اور رہبر ہوں علی بھی اس کے مولا اور رہبر ہیں۔

رسول اسلام (ص) نے اس آخری جملے کی تین مرتبہ تکرار کی، اور احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند میں نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اس جملے کی چار مرتبہ تکرار کی اور پھر فرمایا: پروردگارا، تو اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھتا ہو اور تو اسے دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھتا ہو۔ خدایا علی کے چاہنے والوں کی مدد کر اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر، خدایا علی کو حق کا محور قرار دے۔

پھر فرمایا: دیکھو جو بھی اس بزم میں شریک نہیں ہے ان تک یہ پیغام الہی پہنچا دینا اور دوسروں کو اس واقعہ کی خبردے دینا۔

ابھی یہ عظیم الشان مجمع اپنی جگہ پر بیٹھا ہی تھا کہ وحی کا فرشتہ نازل ہوا اور پیغمبر اسلام (ص) کو خوشخبری دی کہ "الْیَوْمَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ و تْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی و رَضِیتُ لَکُمْ الْاسْلاَمَ دِینًا۔”[3] خدا نے آج تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت کو مومنین پر تمام کردیا۔

اس وقت پیغمبر اسلام (ص) کی تکبیر بلند ہوئی اور فرمایا: خدا کا شکر کہ اس نے اپنے دین کو کامل کردیا اور نعمتوں کو تمام کردیا اور میری رسالت اور میرے بعد علی کی و لایت سے خوشنود ہوا۔

پیغمبر اسلام (ص) منبر سے اترے اور آپ کے صحابی گروہ در گروہ حضرت علی (ع) کو مبارکباد دیتے رہے اور انہیں اپنا مولا اور تمام مومنین زن و مرد کا مولا مانا اس موقع پر رسول خدا (ص) کا شاعر حسان بن ثابت اپنی جگہ سے اٹھا اور غدیر خم کے اس عظیم و تاریخی واقعہ کو اشعار کی شکل میں سجا کر ہمیشہ کے لئے جاویدان بنا دیا یہاں اس مشہور قصیدے کے دو شعر کا ترجمہ پیش کرتے ہیں:

پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: اٹھو میں نے تمہیں لوگوں کی رہنمائی اور پیشوائی کے لئے منتخب کیا جس شخص کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے۔ اے لوگو! تم پر لازم ہے کہ علی کے سچے پیرو اور ان کے حقیقی چاہنے والے بنو۔

جو کچھ اب تک بیان کیا گیا وہ غدیر خم کے اس عظیم تاریخی واقعہ کا خلاصہ تھا جو اہلسنت کے دانشمندوں نے بیان کیا ہے شیعہ کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مرحوم طبرسی نے اپنی کتاب احتجاج میں پیغمبر اسلام (ص) کا ایک تفصیلی خطبہ نقل کیا ہے تفصیل کے خواہشمند قارئین اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

خاتمہ

غدیر خم صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اسلامی قیادت اور رسالت کی روح کا تسلسل ہے۔ غدیر خم ولایت علی (ع) کا اعلان، دین کے مکمل ہونے کی خوشخبری ہے جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

حوالہ جات

[1] مائدہ: ۶۷۔

[2] مائدہ: ۳۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، دسویں فصل، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔