اسلامی معاشرے کی قیادت اور رہبری ایک نہایت حساس اور عظیم ذمہ داری ہے، جس کے لئے شرائط رہبری کا پورا ہونا ضروری ہے۔ شرائط رہبری نہ صرف رہبر کی ذاتی صفات پر مبنی ہوتی ہیں بلکہ ان کا تعلق معاشرتی، دینی اور اخلاقی پہلو سے بھی ہوتا ہے۔ حضرت علی (ع) کی زندگی اور ان کے فیصلے ہمیں رہبری کی ان شرائط کی عملی مثالیں فراہم کرتے ہیں۔
شرائط رہبری اور اعلیٰ مقصد کی اہمیت
اجتماعی مسئلوں میں بہت کم ہی مسئلے ایسے ہوتے ہیں جو اہمیت اور دقت کے لحاظ سے مدیریت اور رہبری کے مقام تک پہنچتے ہیں۔ شرائط رہبری اتنے زیادہ دقیق اور اہمیت کے حامل ہیں کہ بڑے اجتماع کے درمیان فقط چند ہی لوگ ان شرائط پر پورے اتریں گے۔
ہر طرح کی رہبری کے دوران، آسمانی رہبروں کے مراتب دوسرے رہبروں سے بہت سنگین اور ان کے فرائض بہت عظیم ہوتے ہیں اور دنیاوی رہبر سماج کے انتخاب کرنے کے بعد ایسے مقام و مرتبہ پر پہونچتے ہیں۔
الہی و معنوی رہبری میں شرائط رہبری کی تکمیل محض منصب یا ظاہری اقتدار کے حصول کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل مقصد اعلیٰ اور مقدس اہداف کی تکمیل ہے۔ ایک حقیقی رہبر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان شرائط کو پورا کرتے ہوئے اپنے ذاتی مقام و منصب سے زیادہ اعلیٰ مقصد کو مقدم رکھے۔ اگر رہبر کو دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے—ایک جو اس کے منصب کی بقا کا ضامن ہو اور دوسرا جو اعلیٰ مقصد کی حفاظت کرے۔ تو شرائط رہبری کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے منصب کو قربان کر کے اعلیٰ مقصد کی حفاظت کو ترجیح دے۔
حضرت علی (ع) کی زندگی اس اصول کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے اپنی رہبری کے دوران بارہا ایسے فیصلے کیے جو ان کے ذاتی مقام و منصب کے لیے نقصان دہ تھے، لیکن انہوں نے اعلیٰ مقصد کی تکمیل کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ یہی شرائط رہبری کا اصل تقاضا ہے کہ رہبر اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اعلیٰ مقاصد کے لیے قربانی دے۔
پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد حضرت امیر المومنین (ع) بھی ایسے ہی اہم مسئلہ سے دو چار ہوئے، جب کہ رہبری اور حاکمیت سے ان کا اعلیٰ مقصد اس پودے کی دیکھ بھال تھی جو پیغمبر اسلام (ص) کے ہاتھوں حجاز کی سر زمین پر لگایا گیا تھا اور ضروری تھا کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک تنومند اور اور مضبوط درخت میں تبدیل ہوجائے اور اس کی تمام شاخیں پوری دینا پر چھا جائیں اور لوگ اس کے سائے میں آرام کریں۔ اور اس کے بابرکت پھلوں سے استفادہ کریں۔
پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد امام (ع) اس بات سے بخوبی آگاہ ہوگئے کہ ہم ایسے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ اگر حکومت پر قبضہ کرنے اور اپنے حق و مقام کے لئے اصرار کریں تو ایسے حالات رونما ہوں گے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی تمام زحمتیں اور جو اس مقدس اور اعلیٰ مقصد میں آپ کا خون بہا ہے بے کار ہوجائے گا۔
اسلامی معاشرہ ان دنوں بہت زیادہ مشکلات و اختلافات اور تفرقہ کا شکار تھا کہ ایک چھوٹی سی خانہ جنگی یا معمولی سی خون ریزی مدینہ کے اندر یا باہر ایک زبردست جنگ کا سبب بن جاتی۔ بہت سے قبیلے والے جو مدینہ یا مدینہ سے باہر زندگی بسر کر رہے تھے ان کو حضرت علی (ع) سے کوئی محبت و انسیت نہیں تھی بلکہ ان سے بغض اور حسد و کینہ کو اپنے دل میں رکھے تھے کیونکہ حضرت علی (ع) ہی تھے جنہوں نے ان قبیلوں کے کفر کے پرچم کو سرنگوں کیا تھا اور ان کے پہلوانوں کو ذلت کے ساتھ زمین پر گرایا تھا۔
اگرچہ ان لوگوں نے بعد میں اسلام سے اپنے رشتے کو مضبوط کرلیا تھا۔ اور ظاہراً خدا پرستی اور اسلام کی پیروی کر رہے تھے لیکن اسلام کے جانبازوں سے اپنے دل میں بغض و عداوت کو چھپائے ہوئے تھے۔
شرائط رہبری اور سکوت امام (ع)
ایسے حالات میں اگر امام (ع) اپنی قدرت کاملہ سے اپنا حق لینے کے لئے مسلحانہ قیام کرتے تو اس کے نتیجے میں یہ صورتیں پیش آتیں۔
1۔ اس جنگ میں امام (ع) کے بہت سے عزیز اور ساتھی جو آپ کی امامت و رہبری پر جان و دل سے معتقد تھے۔ شہید ہوجاتے۔ البتہ جب بھی ان افراد کی قربانیوں کی وجہ سے حق اپنی جگہ واپس آجاتا تو اعلیٰ مقصد کے پیش نظر ان کی جانبازی و فداکاری پر اتنا افسوس نہ ہوتا، لیکن جیسا کہ ہم آئندہ بیان کریں گے۔ ان افراد کے شہید ہوجانے کے بعد بھی حق، صاحب حق کے پاس واپس نہیں آپاتا۔
2۔ صرف حضرت علی (ع) ہی اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے نہ بچھڑتے، بلکہ بنی ہاشم اور حضرت علی (ع) کے سچے پیرو اور دوستوں کے قیام کی وجہ سے پیغمبر ﷺ کے بہت زیادہ صحابی جو امام کی خلافت پر راضی نہ تھے ان کا ساتھ نہ دیتے اور قتل ہوجاتے اور نتیجتاً مسلمانوں کی قدرت مرکز میں کمزور ہوجاتی، یہ گروہ اگرچہ رہبری کے مسئلے میں امام کے مقابلے میں کھڑا تھا لیکن دوسرے امور میں امام کے مخالف نہیں تھا اور شرک و بت پرستی، یہودیوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں قدرتمند شمار کیا جاتا تھا۔
3۔ مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے، دور دراز میں رہنے والے قبیلے جن کی سرزمین پر اسلام کا پودا ابھی قاعدے سے ہرا بھرا نہ ہوا تھا وہ اسلام کے مخالفوں اور دشمنوں سے مل جاتے اور ایک طاقت بن کر ابھرتے اور ممکن تھا کہ مخالفوں کی قدرت و طاقت اور مرکز میں صحیح رہبری نہ ہونے کی وجہ سے، توحید کے چراغ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیتے۔
امیر المومنین (ع) نے اس تلخ و دردناک حقیقت کو بہت نزدیک سے محسوس کیا تھا اسی لئے مسلحانہ قیام پر خاموشی کو ترجیح دیا۔ بہتر ہے کہ اس مطلب کو امام (ع) کی زبان مبارک سے سنیں۔
عبد اللہ بن جنادہ کہتا ہے:
میں علی (ع) کی حکومت کے اوائل میں مکہ سے مدینہ آیا میں نے دیکھا کہ تمام لوگ مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے اور امام (ع) کی آمد کے منتظر تھے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ علی (ع) اپنی تلوار لٹکائے ہوئے گھر سے باہر آئے۔ تمام لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف تھیں یہاں تک کہ آپ مسند خطابت پر جلوہ افروز ہوئے اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز اس طرح کیا۔
اے لوگو، آگاہ رہو! جب پیغمبر اسلام (ص) ہمارے درمیان سے اٹھ گئے تو اس وقت ضروری تھا کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ حکومت کے سلسلے میں نزاع و اختلاف نہ کرتا اور اسے لالچی نگاہوں سے نہ دیکھتا کیونکہ ہم ان کی عترت کے وارث اور ان کے ولی ہیں لیکن توقع کے خلاف، قریش کے ایک گروہ نے ہمارے حق کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ خلافت کو ہم سے چھین لیا اور اس پر قابض ہوگئے، خدا کی قسم، اگر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف کا ڈر نہ ہوتا اور پھر ان کے اسلام سے بت پرستی اور کفر کی طرف پلٹ جانے کا خطرہ نہ ہوتا اور اسلام کے مٹ جانے اور ختم ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو نقشہ کچھ اور ہی ہوتا جس کا تم مشاہدہ کرتے۔[1]
کلبی کہتا ہے: جب علی (ع)، طلحہ و زبیر جیسے لوگوں کو بے وفائی اور عہد شکنی پر متنبہ کرنے کے لئے بصرہ کے لئے روانہ ہوئے تو اس وقت آپ (ع) نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا:
جس وقت خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ کی روح قبض کی اس وقت قریش نے اپنے کو محترم سمجھ کر اپنے آپ کو ہم پر مقدم سمجھا اور ہمارے حق کو ہم سے چھین لیا، لیکن میں نے صبر و بردباری کو اس کام سے بہتر سمجھا کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف اور ان کا خون بہہ جائے، کیونکہ لوگوں نے ابھی ابھی اسلام قبول کیا تھا اور دینی بیداری ان کے اندر ابھی ابھی سرایت ہوئی تھی۔ اور تھوڑی سی غفلت انہیں خراب کر دیتی اور ایک معمولی شخص بھی انہیں بدل ڈالتا۔[2]
ابن ابی الحدید جو حضرت علی (ع) سے محبت اور خلفاء سے تعصب رکھتا ہے صحابہ کے بعض گروہ جو حضرت علی (ع) سے کینہ و عداوت رکھتے تھے ان کے بارے میں لکھتا ہے:
تجربہ سے یہ ثابت ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ کینہ اور حسد کی آگ فراموش ہوجاتی ہے اور کینوں سے بھرے ہوئے دل سرد ہو جاتے ہیں اور اسی طرح زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک نسل ختم ہو جاتی ہے تو دوسری نسل اس کی جانشین بن جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیرینہ کینہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو جاتا ہے.
جس دن حضرت علی (ع) مسند خلافت پر بیٹھے پیغمبر ﷺ کو گزرے ہوئے پچیس سال ہو چکے تھے اور امید یہ تھی کہ اس طولانی مدت میں لوگ اپنے دلوں سے کینہ و عداوت کو بھلا بیٹھے ہوں گے لیکن امید کے برخلاف حضرت علی (ع) کے مخالفوں کی روح و مزاج بدلے نہیں تھے اور علی (ع) سے کینہ و عداوت جو پیغمبر ﷺ کے زمانے یا ان کے بعد لئے ہوئے ختم نہیں ہوئے تھے یہاں تک کہ فرزندان قریش، ان کے جوان اور نئی نسلیں جنھوں نے اسلام کے خونین جنگوں، واقعہ کو دیکھا بھی نہ تھا اور امام کی شجاعت و بہادری کو جنگ بدر، احد وغیرہ میں قریش کے خلاف مشاہدہ نہیں کیا تھا اپنے بزرگوں کی طرح حضرت علی (ع) سے بہت سخت دشمنی و عداوت رکھتے تھے اور ان سے کینے کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے۔
چنانچہ امام (ع) ایسے حالات میں پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد مسند خلافت پر بیٹھے اور حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور مخالفین کے دل میں حسد کی آگ بھڑکنے لگی، اور ایسے ایسے حالات رونما ہوئے کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام مٹنے اور مسلمان نابود ہونے لگے اور جاہلیت اسلامی ملکوں سے ختم نہ ہوئی۔[3]
امام (ع) اپنی ایک تقریر میں اپنے مسلحانہ قیام کے نتیجہ کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”فَنَظَرْتُ فَاِذَا لَیْسَ لِیْ مُعِیْن الّٰا اَهْلُ بَیْتِیْ فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَوْتِ و اغْضَیْتُ عَلٰی الْقَذٰیٰ و شَرِبْتُ عَلَی الشّٰجٰی و صَبَرْتُ عَلَی اَخْذِ الْکَظَمِ و عَلَی اَمرَّ مِنْ طَعْمِ الْعَلْقَمِ” پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد میں نے اپنے کام میں بہت غور و فکر کی اور قریش کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے اپنے اہلبیت (ع) کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار و ناصر نہ پایا۔ لہٰذا ان کی موت پر راضی نہ ہوا اور اس آنکھ کو جس میں خس و خاشاک تھے اسے بند کرلیا اور گلے میں جو ہڈی اٹکی تھی اسے نگل گیا اور زہر سے زیادہ تلخ حوادث و واقعات پر صبر کیا۔[4]
خاتمه
حضرت علی (ع) کی زندگی اور طرز حکومت میں، شرائط رہبری کی مکمل اور عملی تفسیر ہے۔ آپ (ع) نے اپنے دور میں انہی شرائط کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے اور امت کو راہِ حق دکھائی۔ آپ (ع) کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رہبری محض ایک منصب نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، جس کے لئے شرائط رہبری کا پورا ہونا ضروری ہے۔
حوالہ جات
[1] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج۱، ص307۔
[2] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج۸، ص30۔
[3] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج۱۱، ص۱۱۴، خطبۃ۳۱۱۔
[4] محمد عبدہ، شرح نہج البلاغۃ، خطبہ۲۶ اور خطبہ ۲۱۲ میں بھی ایساہی مضمون ہے۔
فہرست منابع
۱-ابن ابي الحديد، عبد الحميد بن هبة الله، شرح نهج البلاغة، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، 1375ش۔
۲- محمد عبدہ، شرح نہج البلاغۃ، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1315ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، باب1، فصل4، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔