حضرت علی (ع) کی خلافت پر اہل سنت و شیعہ زاویۂ نظر میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ اہل سنت محققین ان کے اقوال کو ذاتی شائستگی کی دلیل سمجھتے ہیں، جبکہ شیعہ نقطۂ نظر میں یہ اقوال نبوی وصیت اور الٰہی نص پر مبنی حقِ امامت و خلافت کا اعلان ہیں۔
امام علیؑ کی ذاتی شائستگی کی بحث
اہل سنت کے محقق و دانشمند، جنھوں نے نہج البلاغہ کی شرحیں لکھی ہیں امام (ع) کے بیانات کو خلافت کے سلسلے میں اپنی شائستگی کا تجزیہ کیا ہے اور ان تمام چیزوں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ امام (ع) کا مقصد ان بیانوں سے خلافت کے متعلق اپنی شائستگی دکھانا ہے بغیر اس کے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے ان کی خلافت پر نص وارد ہو۔
دوسرے لفظوں میں، چونکہ حضرت علی (ع) پیغمبر اکرم (ص) کے سب سے قریبی رشتہ دار اور داماد تھے اور علم و دانش کے اعتبار سے سب سے بلند تھے اور عدالت کے اجراء کرنے اور سیاست سے باخبر اور حکومت چلانے میں مہارت وغیرہ کی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) کے تمام صحابہ سے افضل تھے اس لئے بہتر تھا کہ امت آپ (ع) کو خلافت کے لئے منتخب کرتی۔
لیکن چونکہ امت کے سرداروں نے ان کے علاوہ دوسروں کو منتخب کیا تھا اسی لئے امام (ع) نے اس طرح شکوہ کیا ہے: میں خلافت و ولایت کے لئے دوسروں سے زیادہ سزاوار ہوں۔ وہ حق جس کا امام (ع) ہمیشہ یا تذکرہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جس دن سے پیغمبر اکرم (ص) کا انتقال ہوا ہے اسی دن سے مجھے لوگوں نے اس حق سے محروم کردیا ہے وہ شرعی حق نہیں تھا جو صاحب شریعت کی طرف سے انہیں دیا گیا تھا کہ دوسروں کو ان پر مقدم کرنا شریعت کے قوانین کی مخالفت کرنا تھا۔
بلکہ یہ حق ایک فطری حق تھا اور ہر شخص پر لازم تھا کہ بہترین فرد کے ہوتے ہوئے دوسروں کو منتخب نہ کریں اور امت کی باگ ڈور کو امت کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے صاحب بصیرت اور لیاقت رکھنے والے کے سپرد کرے لیکن اگر کوئی گروہ مصلحت کی وجہ سے اس فطری قانون کی پیروی نہ کرے اور اس کام کو اس شخص کے حوالے کردے جو علم، قدرت اور روحی و جسمی اعتبار سے کم مرتبہ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں جو شخص ان تمام امور میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان سے گلہ و شکوہ کرے اور کہے:
”فَواللّٰهِ مَازِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّی مُستأَثَراً عَلیّ مُنْذ أن قَبْض اللّٰهُ نَبِیَّهُ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ والهِ و سَلَّمْ حَتّٰی یَوْمَ النّٰاسِ هٰذَا”[1]
خدا کی قسم، جس دن خدا نے پیغمبر اکرم (ص) کی روح کو قبض کیا اس دن سے آج تک میں اپنے حق سے محروم رہا ہوں۔
امام (ع) نے یہ گلہ اس وقت کیا جب طلحہ و زبیر نے آپ (ع) سے لڑنے کے لئے پرچم کو بلند کیا تھا اور بصرہ کو اپنا مورچہ بنایا تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شارحین نہج البلاغہ نے جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خلافت کے لئے حضرت علی (ع) کی شائستگی، ذاتی تھی، یہ ان کی خام خیالی ہے اور امام (ع) کی باتوں کو ذاتی شائستگی پر حمل نہیں کرسکتے کیونکہ ذاتی شائستگی خلفاء پر آپ (ع) کی سخت تنقید کی مجوز نہیں بن سکتی اس لئے کہ:
اولاً: امام نے اپنی تقریر میں بعض موقعوں پر پیغمبر اکرم (ص) کی وصیت پر تکیہ کیا ہے، مثلاً جب آپ خاندان نبوت کا تعارف کراتے ہیں تو فرماتے ہیں:
پیغمبر کی وصیت اور اہل بیت کی ولایت
”هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهِ، وَ لَجَأُ اَمْرِهِ، وَ عَيْبَةُ عِلْمِهِ، وَ مَوْئِلُ حُکْمِهِ، وَ کُهُوفُ کُتُبِهِ، وَ جِبالُ دينِهِ،۔۔۔ لا يُقاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ مِنْ هذِهِ الاْمَّةِ اَحَدٌ، وَ لا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْهِ اَبَدآ. هُمْ اَساسُ الدِّينِ، وَ عِمادُ الْيَقينِ. اِلَيْهِمْ يَفِيىءُ الْغالي، وَ بِهِمْ يَلْحَقُ التَّالي. وَ لَهُمْ خَصائِصُ حَقِّ الْوِلايَةِ، وَ فِيْهِمُ الْوَصِيَّةُ وَ الْوِراثَةُ.”[2]
خاندان نبوت پیغمبر اکرم (ص) کے رازدار اور ان کے فرمان کی پناہ گاہ، ان کے علم و حکمت کا منبع و مخزن ان کی کتاب کی حفاظت کرنے والے، اور ان کے مذہب کو مستحکم کرنے والے ہیں، امت میں سے کسی شخص کا بھی قیاس ان سے نہیں کرسکتے۔ وہ دین کی اساس اور ایمان و یقین کے ستون ہیں راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پناہ لینے والے ان سے ملحق ہوتے ہیں اور امامت کی خصوصیات (علوم و معارف اور دوسرے تمام شرائط امامت) ان کے پاس ہیں اور پیغمبر اکرم (ص) کی وصیت ان کے بارے میں ہے اور یہی لوگ پیغمبر اکرم (ص) کے و ارث ہیں۔
اس جملے سے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی وصیت ان لوگوں کے بارے میں ہے امام (ع) کی مراد کیا ہے؟
لفظ ولایت پر غور کرنے کے بعد "وَ لَهُمْ خَصائِصُ حَقِّ الْوِلايَةِ” واضح ہوتا ہے کہ وصیت سے مراد ان لوگوں کے لئے خلافت کی وصیت اور ولایت کی سفارش ہے جو غدیر کے دن اور دوسرے دنوں میں بطور واضح بیان ہوئے ہیں۔
امام کا حق خلافت پر اعتراض اور قریش کی مخالفت
ثانیاً: لیاقت و صلاحیت اور شائستگی ہی صرف حق کو ثابت نہیں کرتی جب تک کہ دوسرے شرائط بھی موجود نہ ہوں۔ مثلاً لوگوں کا انتخاب کرنا جبکہ امام (ع) نے اپنے بیان میں اپنے حق کے متعلق کہا ہے اور کہا کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد ان کا حق پامال کیا گیا۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہوں کہ اسلام میں رہبری کی مشکل کا حل اگر مشورہ، مذاکرہ، یا عمومی افکار ہو تو ایسی صورت میں وہ شخص (جو گرچہ تمام جہتوں سے دوسروں پر فضیلت و برتری رکھتا ہے) اگر ایسے مقام و منصب کے لئے منتخب نہ ہو تو اپنے کو صاحب حق نہیں کہہ سکتا تاکہ لوگوں کے تجاوز کو ایک قسم کے ظلم و ستم سے تعبیر کرے اور جو اس کی جگہ پر منتخب ہوا ہے اس پر اعتراض کرے۔
جب کہ تمام خطبوں میں امام (ع) کا لہجہ اس کے برخلاف ہے، وہ اپنے کو اس خلافت کا مکمل حقدار سمجھتے تھے اور اس پر تجاوز کرنے کو اپنے اوپر ایک قسم کے ظلم و ستم سے تعبیر کرتے تھے اور قریش کو اپنے حق کا غاصب بتایا، چنانچہ آپ (ع) نے فرمایا:
بار الہا! قریش کے مقابلے میں اور جن لوگوں نے ان کی مدد کی ہے ان کے مقابلے میں میری مدد فرما، کیونکہ ان لوگوں نے مجھ سے قطع تعلق کیا ہے اور میرے عظیم منصب کو حقیر سمجھا ہے اور ان لوگوں نے آپس میں یہ طے کیا ہے کہ خلافت کے سلسلے میں جو کہ میرا حق ہے جنگ کریں۔[3]
کیا ایسے تند جملوں کو ذاتی شائستگی کے حوالے سے توجیہ کرسکتے ہیں؟ اگر مسئلہ خلافت عمومی افکار اور بزرگ اصحاب سے رجوع کر کے حل کیا جاسکتا تو کس طرح امام علی (ع) فرماتے کہ "وہ لوگ میرے مسلّم حق کے بارے میں مجھ سے لڑائی و جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے”؟
جس وقت صفین میں حضرت علی (ع) اور معاویہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی ایک شخص حضرت علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: قریش نے آپ (ع) کو کس طرح سے مقام خلافت سے دور کردیا جبکہ آپ (ع) ان تمام لوگوں سے افضل و برتر تھے؟
امام (ع) اس کے بے وقت سوال سے ناراض ہوگئے لیکن نرمی اور ملایمت سے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا:
ایک گروہ نے بخل سے کام لیا اور ایک گروہ نے چشم پوشی کی اور ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے والا خدا ہے اور سب کو اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔[4]
واقعہ سقیفہ گزرنے کے بعد ایک دن ابوعبیدہ بن جراح نے امام سے کہا: اے ابو طالب کے بیٹے، تم خلافت کو کتنا محبوب رکھتے ہو اور اس کے حریص ہو۔
امام (ع) نے اس کے جواب میں کہا: خدا کی قسم تم ہم سے زیادہ خلافت کے لالچی ہو، جب کہ لیاقت اور شرائط کے اعتبار سے اس سے بہت دور ہو اور میں اس سے بہت نزدیک ہوں میں اپنے حق کو طلب کررہا ہوں۔ اور تم میرے اور میرے حق کے درمیان مانع ہو رہے ہو۔ اور مجھے میرے حق سے روک رہے ہو۔[5]
یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے کہ خلفاء کی خلافت پراس طرح کی تنقیدوں کو ذاتی لیاقت و شائستگی سے توجیہ کریں۔ یہ تمام بیانات اور تعبیریں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ امام (ع) خلافت کو اپنا حقیقی حق سمجھتے تھے۔ اور اپنے سے ہر طرح کے انحراف کو حق سے انحراف جانتے تھے، اور ایسا حق نص اور تعیین الہی کے علاوہ کسی کے لئے ثابت نہیں ہے۔
اس طرح کی تعبیروں کو اصلحیت اور اولویت سے بھی تفسیر نہیں کرسکتے، اور جن لوگوں نے امام (ع) کے کلام کی اس طریقے سے تفسیر کی ہے وہ اپنے غلط نظریے کو بھی صحیح سمجھتے ہیں۔
نص کی روشنی میں شائستگی کا مقابلہ
البتہ بعض موقعوں پر امام (ع) نے اپنی لیاقت و شائستگی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور مسئلہ نص (وہ واضح اور غیر مبہم حکم جو شرعی حق یا حکم کی تعیین کرتی ہے) کو نظر انداز کیا ہے مثلاً آپ فرماتے ہیں:
جب پیغمبر اکرم (ص) کی روح قبض ہوئی تو ان کا سر میرے سینے پر تھا میں نے انہیں غسل دیا۔ اور فرشتے میری مدد کر رہے تھے گھر کے اطراف سے نالہ و فریاد کی آوازیں بلند تھیں، فرشتے گروہ بہ گروہ زمین پر آتے تھے اور نماز جنازہ پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے اور میں ان کی آوازوں کو سنتا تھا پس کون شخص مجھ سے پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی اور موت میں ان کی جانشینی و خلافت کے لئے مجھ سے زیادہ شائستہ ہے؟[6]
خطبہ شقشقیہ جو آپ (ع) کا مشہور خطبہ ہے حضرت اپنی لیاقت و شائستگی کو لوگوں کے سامنے یوں پیش کرتے ہیں:
”اَما وَ اللهِ لَقَدْ تَقَمَّصَها فُلانٌ وَ اِنَّهُ لَيَعْلَمُ اَنَّ مَحَلِّيَ مِنْها مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحا. يَنْحَدِرُ عَنِّي السَّيْلُ، وَ لا يَرْقَى اِلَيَّ الطَّيْرُ۔۔۔ ”[7]
خدا کی قسم! ابوقحافہ کے بیٹے نے خلافت کو لباس کی طرح سے اپنے بدن پر پہن لیا ہے جب کہ وہ جانتا ہے کہ خلافت کی چکی میرے ارد گرد چل رہی ہے ہمارے کوہسار وجود سے بہت سے علوم کے چشمے جاری ہوتے ہیں اور کسی کی فکر بھی ہماری کمترین فکر تک نہیں پہنچ سکتی۔
بعض موقعوں پر آپ (ع) قرابت و رشتہ داری کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ "و نحن الاعلون نسباً و الاشدون برسول الله نوطاً”[8] ہمارا نسب سب سے بلند ہے اور رسول خدا سے ہم بہت قریب ہیں۔
البتہ امام (ع) نے جو یہاں پر پیغمبر اکرم (ص) سے رشتہ داری کو بیان کیا ہے وہ صرف اہل سقیفہ کے مقابلے میں ہے چونکہ ان لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ اپنی رشتہ داری کو بیان کیا تھا اسی وجہ سے امام (ع) جب ان کے طریقہ کار سے آگاہ ہوئے تو ان کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:
”اِحْتَجُّوْا بِالشَّجَرَةِ و اَضٰاعُوْا الثَّمَرَةِ”[9] انہوں نے شجرہ سے تو استدلال کیا ہے مگر پھل کو ضایع کردیا ہے۔
خاتمہ
حضرت علی (ع) کے خطبات و بیانات صرف ذاتی فضیلت نہیں بلکہ خلافت و امامتِ منصوص کی گواہی دیتے ہیں۔ اہلسنت شارحین کی تفسیری حدبندی خلافت کی اس حقیقت کو چھپانے سے قاصر ہے جو نہج البلاغہ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔
حوالہ جات
[1] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۵، نسخه محمد عبدہ، مطبعه الاستقامه، ۱۴۲۰ھ ق۔
[2] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۲۔
[3] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۱۶۷۔
[4] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۱۷۵۔
[5] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۱۶۷۔
[6] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۱۹۲۔
[7] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۳۔
[8] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۱۵۷۔
[9] شریف الرضی، نہج البلاغۃ، خطبۃ۶۴۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، چوتھا باب، دوسری فصل، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔