اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک زبان اور قوتِ گویائی کے ساتھ آدابِ سخن ہے، جو انسانی تہذیب و معاشرت کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید، جو خود کلام اور آدابِ سخن کا سب سے بڑا معجزہ ہے، دوسروں سے گفتگو کے آداب یعنی آدابِ سخن پر ایک جامع اور مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ یہ رہنمائی صرف الفاظ کے انتخاب تک محدود نہیں، بلکہ اس میں لہجے کی نرمی، مخاطب کا احترام، اور گفتگو کے سماجی و نفسیاتی اثرات جیسے تمام پہلو شامل ہیں۔ ان قرآنی اصولوں کو سمجھنا اور اپنانا اور آدابِ سخن کی رعایت کرنا نہ صرف انفرادی شخصیت کو نکھارتا ہے بلکہ ایک پرامن، مہذب اور مضبوط معاشرے کی تشکیل کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔
گفتگو کے عمومی اور بنیادی اصول
قرآن مجید نے آدابِ سخن کے چند ایسے جامع اصول بیان کیے ہیں جو ہر قسم کی گفتگو کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آدابِ سخن کے یہ اصول کسی خاص گروہ یا صورتحال کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے ایک عالمگیر ضابطہ اخلاق فراہم کرتے ہیں۔
گفتگو اور ابلاغ انسانی معاشرت کا بنیادی ستون ہیں اور آدابِ سخن وہ فن ہے جو اس ستون کو مضبوط اور پائیدار بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان میں زبان اور قوتِ گویائی کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ آدابِ سخن ایک ایسی نعمت ہے جس کا ذکر خالقِ کائنات نے انسان کی تخلیق کے فوراً بعد کیا، جیسا کہ سورہ رحمٰن میں ارشاد ہے: "اَلرَّحْمٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَیَانَ"[1] "یعنی رحمٰن نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اور اسے بیان سکھایا۔ یہ آدابِ سخن ہی ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے اور اس کے سماجی، علمی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ خود قرآن مجید، جو نبی اکرم (ص) کا سب سے عظیم معجزہ ہے، وہ بھی کلام کی جنس سے ہے اور اس کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ کفارِ مکہ اس کی عظمت و شکوہ سے مبہوت ہو کر اسے "سحر” سے تعبیر کرتے تھے۔[2]
آدابِ سخن میں زبان کی اہمیت اور اس کے صحیح استعمال کا اندازہ حضرت موسیٰ (ع) کی اس دعا سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے منصبِ رسالت پر فائز ہونے کے بعد اپنی ذمہ داری میں کامیابی کے لیے مانگی: "وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ، یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ"[3] یعنی "میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں”۔ گفتگو کی یہی اہمیت ہے کہ قرآن مجید نے آدابِ سخن پر جامع اور مفصل رہنمائی فراہم کی ہے۔ یہ رہنمائی محض الفاظ کے انتخاب تک محدود نہیں، بلکہ اس میں لہجے کا اتار چڑھاؤ، مخاطب کا مقام و مرتبہ، اور گفتگو کے سماجی و نفسیاتی اثرات جیسے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے گفتگو اور آدابِ سخن کے لیے عموماً "قول” کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن اس کا مفہوم عام بول چال سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن نے صرف "کیا کہا جائے” پر زور نہیں دیا، بلکہ "کیسے کہا جائے” یعنی لہجے کو بھی بے حد اہمیت دی ہے۔ قرآن میں منافقین کے بارے میں فرمایا گیا: "وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ"۔[4] "اور تم انہیں ان کے اندازِ گفتگو سے ضرور پہچان لو گے”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا لہجہ اس کی شخصیت اور باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے اور گفتگو کے آداب میں لہجے کی شائستگی ایک لازمی جزو ہے۔
قولِ حَسَن (اچھی اور بھلی بات کہنا)
قرآن کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں سے بات کرتے ہوئے اچھے اور بھلے انداز کو اپنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا"۔[5] "اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے بھلائی کرنا اور تمام لوگوں سے اچھی بات کہنا”۔
اس آیت میں آدابِ سخن یعنی "قولِ حُسن” کو توحید، والدین سے احسان اور نماز و زکوٰۃ جیسے بنیادی احکامات کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس سے اس کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں "لِلنَّاسِ” (تمام لوگوں سے) کا لفظ استعمال ہوا ہے، نہ کہ "لِلْمُؤْمِنِیْنَ” (مومنوں سے)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ گفتگو میں حسنِ سلوک کا دائرہ تمام انسانوں تک وسیع ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا نظریے سے ہو۔
قولِ اَحسَن (بہترین بات کہنا)
قرآن صرف اچھی بات کہنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اہل ایمان کو بہترین بات کہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ارشاد ہے: "وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ، اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ"۔[6] "اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈلوانا چاہتا ہے”۔
یہاں "حَسَن” (اچھی) کے بجائے "اَحسَن” (سب سے اچھی) کا صیغہ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب بات کرنے کے کئی اچھے طریقے ممکن ہوں تو ان میں سے بہترین کا انتخاب کیا جائے۔ آیت کا اگلا حصہ اس کی حکمت بھی بیان کرتا ہے کہ معمولی سخت یا نامناسب بات بھی شیطان کے لیے لوگوں میں دشمنی اور تفرقہ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آدابِ سخن کا یہ اصول سکھاتا ہے کہ ایک مومن کو اپنی گفتگو میں انتہائی محتاط اور حکمت سے کام لینا چاہیے تاکہ تعلقات میں بگاڑ کے بجائے محبت اور استحکام پیدا ہو۔
قولِ سدید (سیدھی اور درست بات کہنا)
آدابِ سخن کا ایک اور اہم پہلو سچائی، دیانت اور مقصدیت ہے۔ اہل ایمان کو تقویٰ کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا: "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا"۔[7] "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی (درست) بات کہو”۔
"قولِ سدید” سے مراد وہ گفتگو ہے جو حق پر مبنی، محکم، منطقی اور ہر قسم کے جھوٹ، مبالغے اور کجی سے پاک ہو۔ یہ وہ بات ہے جو سیدھی دل میں اترے اور کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ چھوڑے۔ قرآن نے اس آدابِ سخن کے اس اصول پر عمل کرنے کا فوری نتیجہ بھی اگلی آیت میں بیان فرما دیا: "یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ"۔[8] "وہ تمہارے اعمال تمہارے لیے سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا”۔ گویا سچی اور درست گفتگو اور آدابِ سخن کی رعایت نہ صرف معاشرتی اصلاح کا ذریعہ ہے، بلکہ انسان کے اعمال کی قبولیت اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی بنتی ہے۔
قولِ معروف (جانی پہچانی اور بھلی بات کہنا)
قرآن میں متعدد مقامات پر "قولِ معروف” کی تلقین کی گئی ہے۔[9] "معروف” سے مراد وہ بات ہے جسے عقلِ سلیم اور معاشرتی اقدار اچھا سمجھتی ہوں اور جس میں کسی کے لیے ناگواری یا تکلیف کا پہلو نہ ہو۔ یہ "منکر” (ناپسندیدہ بات) کی ضد ہے۔ یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری گفتگو معاشرتی حالات اور مخاطب کے فہم کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہ ایک بہت عملی اصول ہے جو روزمرہ کے معاملات، لین دین، اور سماجی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
مختلف افراد اور مواقع کے لیے مخصوص آدابِ گفتگو
قرآن مجید نے عمومی اصولوں کے ساتھ ساتھ مختلف رشتوں اور حالات کے تناظر میں گفتگو کے مخصوص آداب بھی سکھائے ہیں، جو اس ضابطہ اخلاق کی جامعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
والدین کے ساتھ گفتگو
والدین کا مقام اسلام میں سب سے بلند ہے اور ان کے ساتھ آدابِ سخن کا معیار بھی سب سے اعلیٰ ہے۔ جیسا کہ کہ اللہ نے فرمایا: "فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا"۔[10] "انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے عزت و تکریم کے ساتھ بات کرو”۔
یہاں "قولِ کریم” یعنی بزرگانہ اور احترام سے بھرپور گفتگو کا حکم دیا گیا ہے۔ "اُف” جو ناگواری کا ادنیٰ ترین اظہار ہے، اس سے بھی منع کر کے یہ سکھایا گیا کہ والدین کے سامنے لہجے اور الفاظ میں معمولی سی بے ادبی بھی ناقابلِ قبول ہے۔ یہ آیت سکھاتی ہے کہ والدین، خصوصاً بڑھاپے میں، انتہائی نرمی، محبت اور عزت کے مستحق ہیں۔
جاہلوں اور مخالفین سے مکالمہ
جب نادان اور جاہل لوگ الجھنے کی کوشش کریں تو ایک مومن کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ یہاں یہ آیت رہنمائی کرتی ہے: "وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا"۔[11] "اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: سلام”۔
یہاں "سلام” کہنے کا مطلب محض سلام کرنا نہیں، بلکہ یہ بیہودہ بحث سے بچنے اور اعراض کرنے کا ایک حکیمانہ طریقہ ہے۔ یعنی ہم تمہاری جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیں گے، بلکہ سلامتی کا راستہ اختیار کریں گے۔ اسی طرح، گفتگو کی حکمت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مخالفین کے عقائد پر حملہ نہ کیا جائے۔ یہ آدابِ سخن کی ایک عظیم مثال ہے جو دعوتِ دین میں حکمت اور دور اندیشی کی تعلیم دیتی ہے۔
راہنماؤں اور بزرگوں سے گفتگو
بزرگوں اور خصوصاً انبیاء کرام (ع) کے ادب کا تقاضا ہے کہ ان کے سامنے آواز کو پست رکھا جائے۔ اس حوالے سے یہ آیت ایک سخت تنبیہ ہے: "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْاۤ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ … اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ"۔[12] "اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو… کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو”۔
نبی (ص) کے سامنے آواز بلند کرنے کو عمل کی بربادی کا سبب قرار دینا اس بات کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ اس حکم میں تمام اساتذہ، علماء، والدین اور بزرگوں کا احترام بھی شامل ہے کہ ان سے گفتگو کرتے ہوئے تواضع اور ادب کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔
طاقتور اور ظالم سے بات چیت
گفتگو میں نرمی صرف کمزوروں کے لیے نہیں، بلکہ طاقتور ترین اور سرکش ترین فرد سے بات کرتے ہوئے بھی ضروری ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (ع) اور حضرت ہارون (ع) کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کے پاس بھیجا تو انہیں ہدایت فرمائی: "فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی"۔[13] "اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا (اللہ سے) ڈر جائے”۔
یہاں "قولِ لیّن” یعنی نرم اور شائستہ گفتگو کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ سخت اور تلخ لہجہ مخاطب کو مزید سرکشی پر اکسا سکتا ہے، جبکہ نرمی اور محبت سے کی گئی بات کے دل میں اترنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، چاہے مخاطب کتنا ہی بڑا ظالم کیوں نہ ہو۔
خواتین کے لیے مخصوص ہدایت
قرآن مجید نے خواتین کے سماجی مقام اور ان کی عزت و تکریم کے تحفظ کے لیے آدابِ سخن میں ایک خاص ہدایت دی ہے۔ ازواجِ مطہرات (ع) کو مخاطب کرتے ہوئے تمام مومن عورتوں کو یہ تعلیم دی گئی: "فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا"۔[14] "تو تم بات کرنے میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کوئی طمع کرے، اور دستور کے مطابق اچھی بات کہو”۔
اس آیت میں دو باتیں کہی گئی ہیں: اول، "خضوع بالقول” سے منع کیا گیا ہے، یعنی لہجے میں ایسی لچک اور دلکشی پیدا نہ کی جائے جو بیمار ذہنیت والے لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بنے۔ دوم، "قولِ معروف” کا حکم دیا گیا ہے، یعنی بات بھی اچھی اور شائستگی کے دائرے میں ہو۔ آدابِ سخن میں یہ ہدایت خواتین کی عصمت اور وقار کی حفاظت کے لیے ہے اور انہیں غیر ضروری توجہ سے بچاتی ہے۔
گفتگو میں ممنوعات: کن باتوں سے بچا جائے؟
جس طرح قرآن نے اچھی گفتگو کی صفات بیان کی ہیں، اسی طرح اس نے بری اور ناپسندیدہ باتوں سے سختی سے منع بھی فرمایا ہے۔ یہ ممنوعات آدابِ سخن کی تکمیل کرتی ہیں۔
1. قولِ زُور (جھوٹی بات): آدابِ سخن میں جھوٹ اور باطل گوئی کو قرآن نے شرک کے برابر گناہ قرار دیا ہے۔ سورہ حج میں فرمایا: "فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ"۔[15] "پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو”۔
2. غیبت اور تجسس: آدابِ سخن میں کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا ایک انتہائی قبیح عمل ہے۔ قرآن نے اس کی کراہت کو ایک ہولناک مثال سے واضح کیا ہے: "وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا، اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَکَرِهْتُمُوْهُ"۔[16] "اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے”۔
3. تمسخر اور طعنہ زنی: آدابِ سخن میں دوسروں کا مذاق اڑانا اور انہیں برے ناموں سے پکارنا بھی سختی سے منع ہے۔ "یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ"۔[17] "اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے”۔ اسی طرح طعنہ دینے اور عیب جوئی کرنے والوں کے لیے وعید ہے: "وَیْلٌ لِّکُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ”[18]۔ "ہر طعنہ دینے والے، عیب جوئی کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے”۔
4. بے علمی کی بات: آدابِ سخن میں سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھانا ایک بہت بڑی اخلاقی اور سماجی برائی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے ایک جامع اصول دیا گیا: "وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِهٖ عِلْمٌ، اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا"۔[19] "اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں، بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب سے باز پرس کی جائے گی”۔
5. لغو اور بے ہودہ گفتگو: مومن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ آدابِ سخن میں بے کار اور لایعنی باتوں سے پرہیز کرتا ہے۔ "وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ"۔[20] "اور وہ جو بے ہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں”۔
سننے کا ادب: ایک اچھا سامع بننا
گفتگو و آدابِ سخن ایک دو طرفہ عمل ہے۔ ایک اچھا متکلم بننے کے لیے ایک اچھا سامع ہونا بھی ضروری ہے۔ قرآن نے ان بندوں کو خوشخبری دی ہے جو بات کو سن کر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں: "فَبَشِّرْ عِبَادِ، الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ، اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِکَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ"۔[21] "پس میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دیجیے جو بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی اہل عقل ہیں”۔ یہ آیت کھلے ذہن، وسعتِ نظری اور حق کو قبول کرنے کے جذبے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو آدابِ سخن کا ایک لازمی حصہ ہے۔
نتیجہ
قرآن مجید آدابِ سخن کا ایک ایسا جامع اور بے مثال ضابطہ حیات پیش کرتا ہے جو انسانی گفتگو کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ محض الفاظ کی درست ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ اس میں نیت کی پاکیزگی، لہجے کی نرمی، مخاطب کا احترام، سچائی پر استقامت، اور حکمت و دانائی جیسے ان گنت پہلو شامل ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان قرآنی ہدایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ والدین سے "قولِ کریم”، عام لوگوں سے "قولِ حسن”، اور مخالفین سے بھی نرمی اور حکمت سے بات کر کے ہم نہ صرف اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ ایک پُرامن، مہذب اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
[1] سورہ الرحمٰن، آیت۱-۴۔
[2] سورہ المدثر، آیت۲۴۔
[3] سورہ طٰہٰ، آیت۲۷-۲۸۔
[4] سورہ محمد، آیت۳۰۔
[5] سورہ بقرہ، آیت۸۳۔
[6] سورہ اسراء، آیت۵۳۔
[7] سورہ احزاب، آیت۷۰۔
[8] سورہ احزاب، آیت۷۱۔
[9] سورہ محمد، آیت۲۱؛ سورہ نساء، آیت۵؛ سورہ احزاب، آیت۳۲۔
[10] سورہ اسراء، آیت۲۳۔
[11] سورہ فرقان، آیت۶۳۔
[12] سورہ حجرات، آیت۲۔
[13] سورہ طٰہٰ، آیت۴۴۔
[14] سورہ احزاب، آیت۳۲۔
[15] سورہ حج، آیت۳۰۔
[16] سورہ حجرات، آیت۱۲۔
[17] سورہ حجرات، آیت۱۱۔
[18] سورہ الہمزہ، آیت۱۔
[19] سورہ اسراء، آیت۳۶۔
[20] سورہ مؤمنون، آیت۳۔
[21] سورہ زمر، آیت۱۷-۱۸۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
1. زهرا کاشانی ها. «آداب سخن در قرآن.» رشد آموزش قرآن تابستان 1384 – شماره 9 (3 صفحه – از 44 تا 46 )۔
2. زری پیشگر. «آداب سخن در قرآن و روایات.» پژوهشنامه معارف قرآنی بهار 1390 – شماره 4 ISC (26 صفحه – از 1 تا 26 )۔
3. فریبا مؤیدنیا. «آداب سخن گفتن از منظر قرآن کریم.» درسهایی از مکتب اسلام دی 1389 – شماره 596 (5 صفحه – از 61 تا 65 )۔