مثالی ازدواجی زندگی کے اصول اور اسلامی طرز زندگی

مثالی ازدواجی زندگی کے اصول اور اسلامی طرز زندگی

2026-07-09

6 مشاہدات

کپی کردن لینک

ایک مثالی ازدواجی زندگی کا اسلامی تصور، جدید دنیا کے مادی اور سطحی نظریات کے برعکس، انسان کی فطرت، روحانیت اور نفسیات کی گہرائیوں پر مبنی ہے۔ آج انسانی معاشروں میں خاندانی نظام کا بحران اور رشتوں کا ٹوٹنا اس لیے عام ہے کہ جنسی تعلق کو محض ایک حیوانی جبلت سمجھا جاتا ہے اور اس کی تربیت میں وحی الٰہی کی رہنمائی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

یہ سطحی سوچ، خاندان کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے اور اجتماعی اخلاقیات و ذہنی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام، میاں بیوی کے تعلقات کو ایک ایسے مقدس رشتے سمجھتا ہے جو انسان کی فطری ضروریات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی ترقی اور معاشرتی فلاح کا بھی ذریعہ ہے۔ یہ مقالہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان فطری بنیادوں (مبانی) اور ان سے اخذ کردہ تربیتی اصولوں (اصول) کا ایک جامع جائزہ پیش کرے گا، جن پر عمل پیرا ہو کر ایک مستحکم، محبت بھری اور کامیاب ازدواجی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

اسلامی ازدواجی زندگی کی بنیادیں اور اصول

اسلامی نقطہ نظر سے میاں بیوی کے تعلقات کی تربیت کا نظام چند بنیادی حقائق پر قائم ہے، جنہیں "مبانی” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ فطری اور حقیقی خصوصیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی ذات میں رکھی ہیں۔ ازدواجی زندگی کی ان بنیادوں سے وہ عملی اور اخلاقی اصول اخذ ہوتے ہیں جن پر چل کر ازدواجی زندگی اپنے حقیقی مقاصد حاصل کرتی ہے۔ ازدواجی زندگی کی یہ فطری بنیادیں انسان کی وہ فطری خصوصیات، صلاحیتیں اور خواہشات ہیں جو اس کی ذات کا حصہ ہیں جیسے جنسی خواہش کا ہونا، حسن و جمال سے محبت، اور انس و اپنائیت کی ضرورت۔

ازدواجی زندگی کے کچھ تربیتی اصول و عمومی قواعد اور ہدایات ہیں جو ان فطری بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں یعنی انسان کو اپنی فطری خواہشات کو کن حدود میں اور کس طرح پورا کرنا چاہیے تاکہ وہ دنیوی سکون اور اخروی کامیابی حاصل کر سکے۔

ذیل میں ہم ان پانچ فطری بنیادوں اور ان سے نکلنے والے تربیتی اصولوں کا جائزہ لیں گے جو ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پہلی بنیاد: جنسی خواہش ایک فطری تقاضا

اسلامی تعلیمات میں ازدواجی زندگی کی سب سے پہلی اور اہم بنیاد جنسی خواہش کو ایک فطری، صحت مند اور خداداد ضرورت تسلیم کرنا ہے۔ اسلام اس خواہش کو حیوانی سطح پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے انسانی شخصیت کی تکمیل کا ایک لازمی جزو قرار دیتا ہے۔ احادیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ کوئی پست یا بری چیز نہیں ہے۔ جب نبی اکرم (ص) کو معلوم ہوا کہ کچھ صحابہ نے عبادت کے لیے اپنی بیویوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، تو آپ (ص) نے انہیں سختی سے منع فرمایا اور ارشاد کیا: "جو کوئی میری سنت سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔”[۱]

جنسی عمل کی اسلام میں اس لیے بھی تعریف کی گئی ہے کہ یہ محض ایک جسمانی فعل نہیں، بلکہ یہ محبت، انس، الفت اور ایک دوسرے کی نفسیاتی ضروریات کی تکمیل سے جڑا ہوا ہے۔ امام رضا (ع) فرماتے ہیں: "اگر نکاح کے بارے میں قرآن کی کوئی آیت یا نبی کی کوئی سنت نہ بھی ہوتی، تب بھی اس میں رشتہ داروں سے نیکی اور اجنبیوں سے انسیت پیدا کرنے کا جو وصف اللہ نے رکھا ہے، وہ اس بات کے لیے کافی تھا کہ ایک عقلمند شخص اس کی طرف راغب ہو۔”[۲]

اس بنیاد سے اخذ کردہ اصول:

۱۔ جنسی خواہش کا فطری اقرار: اسلامی تربیت کا پہلا اصول یہ ہے کہ اس خواہش کو ایک فطری حقیقت کے طور پر قبول کیا جائے۔ اسے گندا، شرمناک یا روحانیت کے منافی سمجھنے کے بجائے ایک نعمتِ خداوندی سمجھا جائے، جیسا کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "عورتوں سے محبت کرنا انبیائے کرام کے اخلاق میں سے ہے۔”[۳]

۲۔ نکاح کے ذریعے تکمیل کی ضرورت: چونکہ یہ ایک فطری ضرورت ہے، اسلام اس کو دبانے (رهبانیت) کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور نکاح کے ذریعے اس کی تکمیل کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ عثمان بن مظعون کے واقعے میں نبی اکرم (ص) کا یہ فرمانا کہ "نکاح اور ازدواجی تعلقات میری سنت کا حصہ ہیں”، اسی اصول کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔[۴]

۳۔ جنسی تعلقات میں ضابطے کی پابندی: اسلام جنسی خواہش کی تکمیل کو مکمل آزادی نہیں دیتا، بلکہ اسے نکاح کے مقدس رشتے کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ غیر ازدواجی تعلقات، جو صرف شہوت پر مبنی ہوتے ہیں، انسانی شخصیت کو تباہ کر دیتے ہیں اور معاشرے میں فتنہ و فساد کا باعث بنتے ہیں۔ امام علی (ع) نے فرمایا: "فتنوں کی بنیاد تین چیزیں ہیں، جن میں سے ایک عورتوں سے بے ضابطہ محبت ہے، جو شیطان کی تلوار ہے۔”[۵]

۴۔ اعتدال پسندی؛ افراط و تفریط سے گریز: جس طرح اس خواہش کو دبانا نقصان دہ ہے، اسی طرح اس میں زیادتی بھی جسمانی اور روحانی طور پر تباہ کن ہے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ نبی اکرم (ص) نے لمبی عمر کے خواہش مندوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "عورتوں سے ازدواجی تعلقات میں کمی کرو۔”[۶] اسی طرح حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ "اس عمل میں زیادتی بڑھاپے اور کمزوری کا سبب ہے۔”[۷]

دوسری بنیاد: روحانیت اور فضیلت کا رجحان

ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے نیکی، پاکیزگی اور روحانی بلندی کی طرف ایک فطری کشش رکھی ہے۔ قرآن اس فطرت کو "فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا"[۸] (اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا) سے تعبیر کرتا ہے۔ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کا مقصد صرف دنیوی ضروریات پوری کرنا نہیں، بلکہ اس رشتے کو روحانی ترقی کا زینہ بنانا ہے۔

اس بنیاد سے اخذ کردہ اصول:

۱۔ نیک اور دیندار شریکِ حیات کا انتخاب: چونکہ ازدواجی زندگی کا ایک اہم مقصد روحانیت کا حصول ہے، اس لیے شریکِ حیات کا انتخاب کرتے وقت اس کی دینداری اور اخلاق کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص (رشتہ کے لیے) آئے جس کے دین اور امانت داری سے تم مطمئن ہو، تو اس سے (اپنی بیٹی کی) شادی کر دو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین پر بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوگا۔”[۹]

۲۔ روحانی معاملات میں باہمی تعاون: میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو نیکی اور عبادت کے کاموں میں مدد کریں۔ یہ تعاون ان کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "اللہ اس مرد پر رحم کرے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر محبت سے پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔”[۱۰] حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (ع) کی ازدواجی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ شادی کی پہلی رات ہی دونوں نے مل کر عبادتِ الٰہی میں گزاری، اور جب اگلے دن رسول اللہ (ص) نے حضرت علی (ع) سے پوچھا کہ اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ تو آپ (ع) نے جواب دیا: "نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ” (اللہ کی اطاعت پر بہترین مددگار)۔

تیسری بنیاد: انس و محبت کی ضرورت

لفظ "انسان” کی اصل "اُنس” ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان فطرتاً ایک ساتھی اور مونس کا محتاج ہے۔ یہ ضرورت ازدواجی زندگی کی روح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا ساتھی بنایا تاکہ وہ تنہائی کے خوف سے نکل کر ایک دوسرے کے وجود میں سکون اور اطمینان حاصل کریں۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:

"وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً"[۱۱]

"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی۔”

اس بنیاد سے اخذ کردہ اصول:

۱۔ شریکِ حیات کو مونس و غمخوار سمجھنا: میاں بیوی کو ایک دوسرے کو صرف جسمانی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ساتھی سمجھنا چاہیے جس سے دل کی باتیں کی جا سکیں اور جس کے پاس روحانی سکون ملے۔

۲۔ ہم آہنگی (کفو) کی تلاش: چونکہ انس اور محبت کا تعلق روح سے ہے، اس لیے ضروری ہے کہ شریکِ حیات کے انتخاب میں ذہنی، فکری، ثقافتی اور اخلاقی ہم آہنگی کو مدنظر رکھا جائے۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا: "ہر شخص اپنے جیسی طبیعت والے کی طرف مائل ہوتا ہے۔”[۱۲]

۳۔ باہمی رضامندی سے نکاح کا انعقاد: جب انس اور محبت بنیاد ہے تو نکاح بھی لڑکے اور لڑکی کی اپنی رضامندی اور خواہش پر مبنی ہونا چاہیے۔ والدین کو اپنی پسند ان پر مسلط نہیں کرنی چاہیے، جیسا کہ امام محمد باقر (ع) نے فرمایا کہ لڑکی کا نکاح اسی سے کرو جسے وہ خود پسند کرتی ہو۔[۱۳]

چوتھی بنیاد: حسن و جمال سے لگاؤ

خوبصورتی کو پسند کرنا اور اس کی طرف مائل ہونا بھی انسان کی ایک فطری خصوصیت ہے۔ اسلام اس فطری جذبے کو تسلیم کرتا ہے اور ازدواجی زندگی میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ حدیث میں ہے: "إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ"[۱۴] "بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے”

اس بنیاد سے اخذ کردہ اصول:

۱۔ اپنی ذات کی خوبصورتی پر توجہ: ازدواجی زندگی میں ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی جسمانی اور روحانی خوبصورتی کو پہچانے اور اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کرے۔ خود کو صاف ستھرا اور آراستہ رکھنا خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انسان کو احساسِ کمتری سے بچاتا ہے۔

۲۔ شریکِ حیات کے لیے زیب و زینت: ازدواجی زندگی میں یہ اصول انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے خود کو آراستہ کریں۔ یہ عمل نہ صرف ان کی باہمی محبت کو بڑھاتا ہے بلکہ انہیں غیر محرم کی طرف مائل ہونے سے بھی بچاتا ہے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "مرد پر اپنی بیوی کے لیے خود کو اسی طرح آراستہ کرنا واجب ہے جس طرح بیوی پر اپنے شوہر کے لیے آراستہ ہونا واجب ہے۔”[۱۵] امام کاظم (ع) نے فرمایا کہ "مرد کا آراستہ رہنا عورتوں کی عفت کو بڑھاتا ہے، کیونکہ بہت سی عورتیں اس لیے بے راہ روی کا شکار ہوئیں کہ ان کے شوہروں نے اپنی صفائی اور زینت کا خیال نہیں رکھا۔”[۱۶]

پانچویں بنیاد: محبت کرنے اور محبت پانے کی ضرورت

محبت کرنا اور محبت پانا انسان کی ایک بنیادی نفسیاتی ضرورت ہے۔ یہ محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ انسانی شخصیت کی نشوونما کے لیے لازمی ہے۔ امام باقر (ع) نے فرمایا: "ھل الدین الا الحبّ؟” "کیا دین محبت کے سوا کچھ اور ہے؟”[۱۷] ازدواجی زندگی اس فطری ضرورت کی تکمیل کا بہترین اور پاکیزہ ترین ذریعہ ہے۔

اس بنیاد سے اخذ کردہ اصول:

محبت کا عملی اظہار: ازدواجی زندگی میں محبت کا صرف دل میں ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کا عملی اظہار بھی ضروری ہے۔ شوہر کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ "میں تم سے محبت کرتا ہوں” ایک ایسا جملہ ہے جو بیوی کے دل سے کبھی نہیں نکلتا۔ اسی طرح بیوی کا اپنے شوہر کی خدمت اور اطاعت کرنا محبت کا عملی ثبوت ہے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "مرد کا اپنی بیوی کے پاس بیٹھنا اللہ کے نزدیک میری اس مسجد (مسجد نبوی) میں اعتکاف کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔”[۱۸]

نتیجہ

اسلامی طرزِ زندگی میں ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد انسان کی ان فطری خصوصیات پر رکھی گئی ہے جنہیں اللہ نے خود اس کی ذات میں ودیعت کیا ہے۔ ازدواجی زندگی محض چند رسومات یا قانونی ضوابط کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا جامع نظامِ حیات ہے جو انسان کی جنسی، نفسیاتی، روحانی اور سماجی تمام ضروریات کا احاطہ کرتا ہے۔

جب ازدواجی زندگی کو جنسی خواہش کی فطری تکمیل، روحانی ترقی، انس و محبت، جمالیاتی ذوق اور باہمی تعاون کی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے، تو ازدواجی زندگی کا یہ رشتہ نہ صرف میاں بیوی کے لیے دنیوی سکون و راحت کا باعث بنتا ہے، بلکہ ان کی اخروی کامیابی کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔

اس لیے ہمیں اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مغربی نظریات کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے دین کی ان تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو ہماری فطرت سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ ایک دوسرے کی فطری ضروریات کا احترام، محبت کا عملی اظہار اور روحانی مقاصد کا حصول ہی وہ سنہرے اصول ہیں جو ہر ازدواجی زندگی کو جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔

حوالہ جات

[۱] طباطبائی، المیزان، ج۶، ص۱۱۸۔
[۲] ری شہری، میزان الحکمہ، ج۵، ص۲۲۴۸۔
[۳] طبرسی، مکارم الاخلاق، ص۱۹۷۔
[۴] کلینی، الکافی، ج۵، ص۵۰۸، ح۷۔
[۵] ری شہری، میزان الحکمہ، ج۱۱، ص۵۵۰، ح۱۸۶۵۱۔
[۶] ابن ‌شعبہ حرّانی، تحف العقول، ص۳۲۳۔
[۷] مجلسی، بحار الأنوار، ج۱۰۳، ص۲۸۶۔
[۸] سورہ روم آیت ۳۰۔
[۹] ری شہری، میزان الحکمہ، ج۵، ح۷۸۳۷۔
[۱۰] ابی‌ داود، سنن ابی ‌داود، ص۳۰۱۔
[۱۱] سورہ روم آیت ۲۱۔
[۱۲] ری شہری، میزان الحکمہ، ج۵، ص۲۹۸۔
[۱۳] مجلسی، بحار الأنوار، ج۱۰۳، ص۳۳۶۔
[۱۴] کلینی، الکافی، ج۶، ص۴۳۸۔
[۱۵] دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، ج۵، ص۵۲۱۔
[۱۶] کلینی، الکافی، ج۵، ص۵۲۱۔
[۱۷] ورّام، تنبیہ الخواطر و نزهۃ النواظر، ج۲، ص۵۱۔
[۱۸] ری شہری، میزان الحکمہ، ج۵، ح۷۸۸۴۔

فہرست منابع

۱. قرآن کریم
2. ابن شعبہ حرّانی، حسن بن علی؛ تحف العقول؛ تصحیح: علی اکبر غفاری، اسلامیہ، ۱۴۰۰ق۔
3. ابی داود، سلیمان بن اشعث؛ سنن ابی داود؛ بیروت: شرکت دارالارقم، ۱۴۲۰ق۔
4. طبرسی، حسن بن فضل؛ مکارم الاخلاق؛ تہران: فراہانی، ۱۳۶۵ش۔
5. طباطبائی، محمد حسین؛ المیزان فی تفسیر القرآن؛ قم: مؤسسہ النشر الإسلامی، ۱۳۹۲ق۔
6. دیلمی، شیرویہ بن شہردار؛ الفردوس بمأثور الخطاب؛ بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۶ق۔
7. کلینی، محمد بن یعقوب؛ الکافی (الفروع)؛ تہران: دار الکتب الإسلامیہ، بی تا۔
8. مجلسی، محمد باقر؛ بحار الأنوار؛ بیروت: مؤسسہ الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
9. محمدی ری شہری، محمد؛ میزان الحکمہ (با ترجمہ فارسی)؛ قم: دارالحدیث، ۱۳۷۷ش۔
10. ورّام، ابن ابی فراس؛ تنبیہ الخواطر و نزهۃ النواظر (مجموعہ ورّام)؛ بیروت: دارالتعارف و دارالصعب، بی تا۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

فقیهی، علی نقی؛ مبانی و اصول تربیتی در روابط زن و شوهر از منظر قرآن و حدیث (قرآن و حدیث کے تناظر میں زوجین کے تعلقات کے تربیتی اصول و مبادی)، تربیت اسلامی پاییز و زمستان ۱۳۸۵ – شماره ۳ ISC (‎۴۲ صفحه – از ۱۷۵ تا ۲۱۶)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔