اطعام کی فضیلت اور اسلامی تعلیمات میں کھانا کھلانے کا ثواب

اطعام کی فضیلت اور اسلامی تعلیمات میں کھانا کھلانے کا ثواب

کپی کردن لینک

اسلامی تعلیمات میں اطعام کی فضیلت ایک ایسا روشن باب ہے جو محض ایک نیکی نہیں، بلکہ عظیم ترین عبادت اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جسے قرآن کریم نے انفاق کی اساس اور پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرنے والا قرار دیا ہے۔ دینِ اسلام نے بھوکے کو کھانا کھلانے یعنی اطعام کو غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے۔ یہ مضمون قرآن و حدیث اور سیرتِ اہل بیت (ع) کی روشنی میں اس عظیم عمل کے روحانی، سماجی اور اخروی فوائد پر ایک علمی و تجزیاتی نظر ڈالے گا اور یہ واضح کرے گا کہ کس طرح ایک لقمہ کھلانا انسان کو جنت کا حقدار بنا سکتا ہے اور کیوں بعض مواقع پر اس کا درجہ غلام آزاد کرنے سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے۔

طعام (غذا) حیاتِ انسانی کی بنیادی نعمت

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت مادی نعمتوں میں طعام (غذا) بلاشبہ سب سے اہم اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پانی کے بعد یا اس کے ہم پلہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انسان کی زندگی کا تسلسل، اس کی جسمانی نشو و نما، صحت و توانائی اور فکری تازگی کا تمام تر انحصار مناسب اور متوازن غذا پر ہے۔ اسی بنیادی اہمیت کے پیشِ نظر، جب حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے رب کی مادی و معنوی نعمتوں کا تذکرہ کیا تو تخلیق و ہدایت جیسی عظیم نعمتوں کے فوراً بعد فرمایا: "وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ"[1] اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔

اسی طرح قرآن کریم نے سورہ قریش میں خانہ کعبہ کے پروردگار کی عبادت کا حکم دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے دو عظیم نعمتوں، یعنی اطعام اور امن، کا ذکر فرمایا: "الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ"[2] وہی جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا۔ اس آیت میں اطعام کو امن جیسی عظیم نعمت پر مقدم ذکر کرنا اس کی غیر معمولی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

غذا کی ضرورت ہر انسان کے لیے ایک مستقل اور دائمی احتیاج ہے۔ بعض روایات میں انسان کو "اجوف” یعنی اندر سے کھوکھلا پیدا کیے جانے کی تعبیر استعمال ہوئی ہے،[3] جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان فطری طور پر محتاجِ غذا ہے اور اسے اپنے جسمانی وجود کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل طعام کی ضرورت رہتی ہے۔ اسی لیے خاندان کے مجموعی اخراجات میں خوراک کا حصہ سب سے نمایاں ہوتا ہے۔

غذاؤں میں بھی گندم اور روٹی کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو تاریخ کے ہر دور میں انسانوں کی غالب خوراک رہی ہے۔ امام جعفر صادق (ع) نے ایک نہایت بلیغ انداز میں اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "إِنَّمَا بُنِيَ الْجَسَدُ عَلَى الْخُبْزِ”[4] بے شک انسانی جسم کی بنیاد روٹی پر رکھی گئی ہے۔ روٹی کے بعد دیگر ضروریات میں پروٹین، شکر، تیل اور حیاتین (وٹامنز) شامل ہیں۔ جب طعام کی اہمیت اس قدر بنیادی ہے تو سخاوت اور انفاق کے میدان میں اطعام یعنی کھانا کھلانے کا عمل بھی سرفہرست اور اولین ترجیح ہونا ایک منطقی نتیجہ ہے۔

قرآن و روایات میں "طعام” کا بنیادی اور یقینی مفہوم گندم، اناج اور دیگر بنیادی غذائی اجناس ہیں۔ اگرچہ اس کا استعمال، بالخصوص اطعام کی صورت میں، ہر اس شے کے لیے ہوتا ہے جو بھوک مٹائے، خواہ وہ گوشت ہو یا پھل۔

دینی تعلیمات میں اطعام کی اہمیت

آیاتِ قرآنی، احادیثِ نبوی (ص) اور سیرتِ ائمہ معصومین (ع) اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ سخاوت اور انفاق کی تمام اقسام میں اطعام کو ایک ممتاز اور سرفہرست مقام حاصل ہے۔

سورہ یس میں قرآن کریم کی ایک تعبیری لطافت اطعام کی مرکزی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَ إِذَا قِیلَ لَهُمْ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللَّهُ قَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِلَّذِینَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ یَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ"[5] اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس میں سے خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے، تو کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں: کیا ہم اسے کھانا کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو خود ہی کھلا دیتا؟ تم تو بس کھلی گمراہی میں ہو۔

اس آیت میں گہرائی سے غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے پہلے حصے میں "انفاق” (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے) کا عمومی حکم دیا گیا ہے۔ لیکن جب کفار اس حکم کے جواب میں حجت بازی کرتے ہیں، تو وہ "انفاق” کے لفظ کو "اطعام” (کھانا کھلانے) سے بدل دیتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک بھی انفاق کا سب سے نمایاں اور بنیادی مصداق ہی اطعام ہے۔ قرآن کریم نے ان کے اس فہم کو رد نہیں کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ کھانا کھلانا ہی انفاق کی روح اور اس کی عملی ترین شکل ہے۔

اطعام کی ستائش اور اس کا بے مثال اجر

قرآن و حدیث میں جگہ جگہ اطعام کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس پر عظیم اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ سورہ دہر (انسان) اس کی سب سے روشن مثال ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے امیرالمومنین علی (ع) اور سیدہ فاطمہ زہرا (س) کے گھرانے کی اس بے مثال قربانی کی تعریف فرمائی جب انہوں نے اپنی شدید ضرورت کے باوجود مسلسل تین دن تک اپنا کھانا ایک مسکین، ایک یتیم اور ایک اسیر کو کھلا دیا۔[6] اس خالص عمل کے بدلے میں اللہ نے ان کے لیے جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ فرمایا۔

احادیث میں بھی اطعام کے اجر کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ امام سجاد (ع) فرماتے ہیں: "مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً مِنْ جُوعِ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّهِ وَ مَنْ سَقَى مُؤْمِناً مِنْ ظَمَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِیقِ الْمَخْتُومِ"[7] جو شخص کسی مومن کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے، اللہ اسے جنت کے پھلوں میں سے کھلائے گا، اور جو کسی مومن کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے، اللہ اسے سربمہر بہشتی شراب سے پلائے گا۔

قرآن کریم نے سورہ بلد میں "اصحابِ میمنہ” (نجات پانے والے خوش نصیب لوگوں) کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس گھاٹی کو عبور کرنے کے اعمال میں غلام آزاد کرنے کے فوراً بعد قحط کے دن کسی رشتہ دار یتیم یا خاک نشین مسکین کو اطعام کرانے کا ذکر ہے۔[8] قحط کے زمانے میں کھانا کھلانا اس لیے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کہ اس وقت انسان کو خود مستقبل میں محتاج ہو جانے کا خوف لاحق ہوتا ہے اور اس کا بخل عروج پر ہوتا ہے۔ اس آیت میں اطعام کو غلام آزاد کرنے جیسے عظیم عمل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہی حقیقت متعدد روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔ امام صادق (ع) سے پوچھا گیا کہ غلام آزاد کرنے کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا: "ایک مسلمان مرد کو کھانا کھلانا”۔[9]

اسی طرح ایک اور روایت میں امام صادق (ع) نے اپنے صحابی عقبہ سے فرمایا: "یَا عُقْبَهُ لإِطْعَامُ مسلّم خَیْرٌ مِنْ صِیَامٍ شَهْرٍ” "اے عقبہ! ایک مسلمان کو کھانا کھلانا ایک مہینے کے [مستحب] روزوں سے بہتر ہے”۔[10] یہ موازنہ واضح کرتا ہے کہ ایک انفرادی عبادت کے مقابلے میں وہ عبادت جو کسی دوسرے انسان کی تکلیف کو دور کرے، اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔

روزانہ اطعام کی تاکید: ایک مستقل عبادت

اسلام نے اطعام کو صرف ایک اختیاری نیکی نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے روزمرہ کی زندگی اور دینی شعائر کا حصہ بنانے کی ترغیب دی ہے۔

ائمہ معصومین (ع) کی تعلیمات میں روزانہ اطعام پر مداومت کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے، چاہے وہ ایک فرد کو ہی کھانا کھلانا ہو۔ سدیر صیرفی سے روایت ہے کہ امام صادق (ع) نے ان سے فرمایا: "تمہیں کیا چیز روکتی ہے کہ ہر روز ایک غلام آزاد کرو؟” میں نے عرض کیا: "میرا مال اس کی اجازت نہیں دیتا۔” آپ (ع) نے فرمایا: "اس کے بدلے ہر روز ایک مسلمان کو طعام دو۔” میں نے پوچھا: "وہ امیر ہو یا غریب؟” آپ (ع) نے فرمایا: "امیر بھی کبھی طعام کی خواہش کرتا ہے”۔[11] اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اطعام صرف بھوک مٹانے کے لیے نہیں، بلکہ محبت اور دلجوئی کے اظہار کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔

امام سجاد (ع) کی سیرت کے بارے میں ان کے فرزند امام باقر (ع) فرماتے ہیں: "ان پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا مگر یہ کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ایک یا زیادہ مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتے تھے”۔[12] امیرالمومنین علی (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) کو اپنی آخری وصیتوں میں فرمایا: "کوئی طعام نہ کھانا جب تک کہ اس میں سے کھانے سے پہلے صدقہ نہ دے دو”۔[13]

اطعام بطورِ دینی شعائر

قرآن کریم نے معاشرے میں اطعام کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اسے کئی دینی احکام اور شعائر کا لازمی جزو بنا دیا ہے:

1. زکاتِ فطرہ: عید الفطر کے دن ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زکاتِ فطرہ واجب ہے، جو درحقیقت مستحق افراد کے لیے اطعام کا ایک اجتماعی نظام ہے۔

2. حج و قربانی: حج کے موقع پر اللہ تعالیٰ قربانی کے جانوروں کے بارے میں حکم دیتا ہے: "فَکُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِیر"[14]؛ پس ان میں سے خود بھی کھاؤ اور بدحال فقیر کو بھی کھلاؤ۔

3. کفارے: دینی احکام میں بعض گناہوں، غلطیوں یا قسم توڑنے کے کفارے کے طور پر بھی مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا گیا ہے، جو اطعام کی اہمیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی انتہائی اہم ہے کہ کئی مواقع پر نقد رقم دینا اطعام کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ عبداللہ بن بکیر کہتے ہیں کہ امام صادق (ع) سے عقیقہ کے جانور نہ ملنے پر اس کی قیمت صدقہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (ع) نے فرمایا: "نہیں! اللہ طعام کھلانے اور خون بہانے (قربانی کرنے) کو دوست رکھتا ہے”۔[15] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض عبادات میں بذات خود کھانا کھلانے کا عمل مطلوب ہے، کیونکہ اس میں جو محبت، اپنائیت اور سماجی تعلق پیدا ہوتا ہے، وہ محض رقم دینے سے حاصل نہیں ہوتا۔

سیرتِ اہل بیت (ع) میں اطعام کی لازوال مثالیں

اہل بیتِ اطہار (ع) کی زندگیاں اطعام کے عملی نمونوں سے بھری پڑی ہیں۔ وہ نہ صرف اس کی تعلیم دیتے تھے بلکہ خود اس پر عمل کرکے دکھاتے تھے۔

سیرتِ امام سجاد (ع): ابو حمزہ ثمالی نقل کرتے ہیں کہ امام زین العابدین (ع) رات کی تاریکی میں روٹیوں کی بوری اپنی پشت پر اٹھا کر مدینہ کے غریبوں میں تقسیم کرتے تھے اور فرماتے تھے: "پوشیدہ صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے”۔[16] آپ (ع) کے وصال کے بعد جب لوگوں کو یہ امداد ملنا بند ہوئی تب انہیں معلوم ہوا کہ یہ شخصیت امام سجاد (ع) تھے۔

سیرتِ امام صادق (ع): ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ امام صادق (ع) کا بھی یہی معمول تھا کہ جب آدھی رات گزر جاتی تو ایک مشکیزہ جس میں روٹی، گوشت اور درہم ہوتے، اپنی گردن پر اٹھا کر مدینہ کے حاجت مندوں کے پاس لے جاتے اور ان میں تقسیم کرتے، جبکہ وہ لوگ آپ (ع) کو پہچانتے نہ تھے۔[17]

سیرتِ امام کاظم (ع): امام موسیٰ کاظم (ع) کی سیرت میں بھی منقول ہے کہ آپ (ع) رات کے وقت مدینہ کے فقراء کی خبر گیری کرتے اور ایک زنبیل میں دینار، درہم، آٹا اور کھجوریں لے کر ان تک اس طرح پہنچاتے کہ انہیں معلوم نہ ہوتا کہ یہ مدد کس کی طرف سے ہے۔[18]

سیرتِ امام رضا (ع): معمر بن خلاد روایت کرتے ہیں کہ جب امام رضا (ع) کے سامنے دسترخوان بچھایا جاتا تو آپ (ع) ایک بڑا پیالہ اپنے قریب رکھوا لیتے۔ پھر دسترخوان پر موجود بہترین کھانوں میں سے تھوڑا تھوڑا نکال کر اس پیالے میں جمع کرتے اور حکم دیتے کہ اسے مسکینوں کو دے دیا جائے۔[19] یہ عمل نہ صرف اطعام ہے بلکہ غرباء کے احترام اور ان کو اپنی نعمتوں میں شریک کرنے کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

جانوروں کو اطعام و کھانا کھلانا

اسلام میں اطعام کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ جانوروں تک وسیع ہے۔ اہل بیت (ع) کی سیرت میں اس کی بھی مثالیں ملتی ہیں۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ امام حسن مجتبیٰ (ع) کھانا کھا رہے تھے اور آپ (ع) کے سامنے ایک کتا بیٹھا تھا۔ آپ (ع) جب بھی ایک لقمہ کھاتے، ویسا ہی ایک لقمہ کتے کے آگے بھی ڈال دیتے۔ کسی نے کہا: "اے فرزندِ رسول خدا! کیا میں اس کتے کو دور نہ کر دوں؟” آپ (ع) نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو! میں اللہ عزوجل سے حیا کرتا ہوں کہ کوئی روح والا میری طرف دیکھے اور میں کھاؤں اور اسے نہ کھلاؤں”۔[20]

یہ عمل شفقت اور رحمت کی انتہا ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی ہر مخلوق ہمدردی کی مستحق ہے۔ اسی طرح امام صادق (ع) سے مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ (ع) نے اپنی روٹی کا ایک ٹکڑا سمندر میں پھینک دیا۔ ایک حواری کے پوچھنے پر آپ (ع) نے فرمایا: "میں نے یہ پانی کے ایک جانور کے لیے کیا ہے جو اسے کھائے گا، اور اس کا ثواب اللہ کے نزدیک عظیم ہے”۔[21]

نتیجہ

اسلام میں اطعام محض ایک مالی صدقہ یا خیرات نہیں، بلکہ یہ ایک جامع، کثیر الجہتی عبادت ہے جو اللہ کی رضا کے حصول، سماجی ہمدردی کے فروغ، غربت کے خاتمے اور روحانی درجات کی بلندی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انفاق کی روح، قربانی کا مظہر اور اہل بیت (ع) کی سیرت کا مستقل باب ہے۔ عملی طور پر ہر مسلمان کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ روزانہ اپنی استطاعت کے مطابق اطعام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ یہ اپنے ہی کھانے میں سے ایک لقمہ کسی ضرورت مند کے لیے نکالنے جتنا آسان بھی ہو سکتا ہے اور کسی بھوکے خاندان کے لیے راشن کا انتظام کرنے جتنا بڑا بھی۔

حوالہ جات

[1] سورہ شعراء، آیت۷۹۔
[2] سورہ قریش، آیت۴۔
[3] کلینی، الکافی؛ ج۶، ص۲۸۶، ح ۲۔
[4] کلینی، الکافی؛ ج۶، ص۲۸۷، ح۷۔
[5] سورہ یس، آیت۴۷۔
[6] سورہ انسان، آیت۸۔
[7] کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۰۱، ح۵۔
[8] سورہ بلد، آیت۱۲-۱۶۔
[9] کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۰۳، ح۱۶۔
[10] کلینی، الکافی، ج۴، ص ۱۴۴، ح۷۔
[11] کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۰۲-۲۰۳، ح۱۲۔
[12] نعمان، دعائم الإسلام؛ ج۱، ص۲۴۱۔
[13] مفید، الامالی، ص۲۲۲۔
[14] سورہ حج، آیت۲۸۔
[15] کلینی، الکافی ج۶، ص۲۵، ح۶۔
[16] ابو نعیم، حلیہ الاولیاء، ج۳، ص۱۳۵-۱۳۶۔
[17] کلینی، الکافی ج۴، ص۸، ح۱۔
[18] مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۱-۲۳۲۔
[19] کلینی، الکافی ج۴، ص۵۲، ح۱۲۔
[20] مجلسی، بحار الانوار ج۴۳، ص۳۵۲۔
[21] کلینی، الکافی، ج۲، ص۱، ح۳۔

فہرست منابع

قرآن کریم.
1. ابونعیم، احمد بن عبدالله، حلیہ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ء۔
2. شیخ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، دارالکتب الاسلامیه، تهران، ۱۴۰۷ق۔
3. قاضی نعمان، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الاسلام، چ۲، موسسه آل البیت، قم، ۱۳۸۵ق۔
4. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
5. مفید، محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، بیروت، مفید، ۱۴۱۴ ق۔
6. مفید، محمد بن نعمان، الامالی، بیروت، دار المفید، ۱۴۱۴ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

1. کاظم دلیری، درآمدی بر سبک بخشندگی، اصول و قواعد انفاق در نظام اخلاقی اسلام، پژوهشگاه علوم و معارف اسلامی، قم، 1398ش۔
2. محمد مهدی فجری، «آثار فردی و اجتماعی اطعام»، مبلغان، مرداد – شهریور 1390، شماره 143، صص 46–64۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔