تفسیر المیزان کا علمی مقام اور اس کی اہمیت

علامہ طباطبائی کی تفسیر المیزان کا علمی مقام اور اہمیت

کپی کردن لینک

المیزان فی تفسیر القرآن، بیسویں صدی عیسوی کا ایک ایسا علمی شاہکار ہے جو نہ صرف شیعہ دنیا بلکہ پورے عالمِ اسلام میں قرآن فہمی کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ گرانقدر تصنیف چودھویں صدی ہجری کے عظیم مفکر، مفسرِ قرآن، اور فلسفی علامہ سید محمد حسین طباطبائی (رح) کے قلم کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اپنی سترہ سالہ انتھک محنت سے اس علمی خزانے کو مکمل کیا۔

تفسیر المیزان کی عالمی شہرت کی بنیادی وجہ اس کا منفرد اور مستحکم تفسیری اسلوب "قرآن کی تفسیر قرآن سے” ہے، یعنی قرآنی آیات کی گتھیوں کو خود قرآن کی دیگر آیات کی روشنی میں سلجھانا۔ اپنے علمی انصاف، تحقیقی گہرائی اور عقلی استدلال کی بدولت اس تفسیر نے نہ صرف شیعہ بلکہ سنی علمی حلقوں میں بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے، اور آج اسے قرآن فہمی کے لیے ایک معتبر ترین اور بنیادی ماخذ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر دسیوں کتابیں اور سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔

یہ تفسیر قرآن کے بنیادی موضوعات مثلاً توحید، اخلاق، قصصِ انبیاء، روح و نفس، قبولیت دعا کی شرائط، شفاعت اور جہاد پر عمیق علمی، فلسفی، سماجی اور تاریخی مباحث کا ایک ایسا سمندر ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

صاحبِ المیزان علامہ طباطبائی کا تعارف

سید محمد حسین طباطبائی (۱۹۰۳-۱۹۸۱ عیسوی)، جو دنیائے علم میں علامہ طباطبائی کے نام سے جانے جاتے ہیں، بیک وقت ایک عظیم مفسرِ قرآن، فلسفی اور فقیہ تھے۔ آپ نے تبریز میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے نجف اشرف کا سفر کیا، جو ہمیشہ سے عالمِ تشیع کا سب سے بڑا علمی مرکز رہا ہے۔ وہاں آپ نے محمد حسین غروی اصفہانی (کمپانی)، محمد حسین نائینی، اور بالخصوص عارفِ کامل سید علی قاضی طباطبائی جیسے بے مثال اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور فقہ، اصول، فلسفہ، اخلاق، عرفان اور ریاضی جیسے علوم میں کمال حاصل کیا۔[۱] سید علی قاضی کی روحانی تربیت نے آپ کی شخصیت پر گہرے نقوش مرتب کیے۔

دس سال نجف میں گزارنے کے بعد آپ تبریز واپس آئے اور پھر ١٣٦٥ ہجری قمری میں قم کے حوزہ علمیہ میں تشریف لائے۔ اس وقت حوزہ قم میں فقہ اور اصول کا غلبہ تھا اور تفسیر و فلسفہ جیسے علوم کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔ علامہ نے اس جمود کو توڑا اور روایتی مضامین کے بجائے تفسیرِ قرآن اور فلسفہ کے دروس کا آغاز کر کے ایک فکری انقلاب برپا کر دیا۔ آپ کے اس اقدام سے حوزہ علمیہ میں ان علوم کو ایک نئی زندگی ملی اور آپ کو قم میں عقلی علوم اور تفسیر قرآن کا احیاء کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔[۲] شہید مطہری، عبداللہ جوادی آملی، حسن زادہ آملی، جعفر سبحانی اور ناصر مکارم شیرازی جیسے دورِ حاضر کے جید علماء آپ ہی کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ علامہ طباطبائی نے تقریباً ۱۳۷۴ ہجری قمری میں تفسیر المیزان کی تالیف کا آغاز کیا اور سترہ سال کی مسلسل محنت کے بعد ۱۳۹۲ ہجری قمری کی تئیسویں شبِ رمضان کو اسے مکمل فرمایا۔[۳]

تفسیر المیزان کا علمی مقام

کسی بھی کتاب کے لیے "جامعیت” ایک قابلِ تعریف وصف ہے، لیکن جب بات قرآن کریم کی ہو تو اس کی تفسیر کی جامعیت کے معنی بھی خاص ہو جاتے ہیں۔ قرآن کوئی عام کتاب نہیں جسے کسی انسانی مؤلف نے کسی خاص موضوع پر لکھا ہو۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق، یہ ایک آسمانی کتاب ہے جس کا مؤلف خود اللہ تعالیٰ ہے، اس کا نزول وحی کے ذریعے ہوا، اس کے ناقل پیغمبر اکرم (ص) ہیں، اس کا مقصد تمام زمانوں اور مقامات کے انسانوں کی ہدایت ہے، اور اس نے ہر دور میں اپنی معجزانہ حیثیت کا دعویٰ کیا ہے۔ قرآن کریم نے بارہا چیلنج دیا ہے کہ تمام انسان اور جن مل کر بھی اس جیسی ایک سورت نہیں لا سکتے۔

اس کتاب کا مواد بھی لامحدود وسعت رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسانوں کو پروردگار کی طرف ہدایت دینا ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے اس میں دینی احکام، اخلاقی ارشادات، انبیائے کرام (ع) کی تاریخ، ذاتِ خداوندی کا اثبات، روح، برزخ، معاد، جنت و جہنم، جہاد، تقویٰ، کائنات اور تخلیقِ آدم جیسے ان گنت موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ قرآن کی یہی وسعت ایک مفسر کے کام کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہے، کیونکہ ایک جامع تفسیر لکھنے کے لیے ان تمام شعبوں میں گہری معلومات اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ مزید برآں، گزشتہ چودہ صدیوں میں لکھی گئی تفاسیر کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، اور ایک نئے مفسر کے لیے ان سب کا احاطہ کرنا، ان میں سے درست اور نادرست کی پہچان کرنا اور پھر کوئی نئی بات کہنا ایک عظیم علمی ذمہ داری ہے۔

اگر اس معیار پر پرکھا جائے تو تفسیر المیزان دو اہم پہلوؤں سے ایک جامع تفسیر کہلانے کی مستحق ہے: اول، مواد اور مضامین کی جامعیت، اور دوم، مآخذ اور ذرائع کی جامعیت۔

تفسیر المیزان کو بلاشبہ عالمِ اسلام کی اہم ترین تفاسیر میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے شیعیت کے لیے ایک عظیم علمی افتخار سمجھا جاتا ہے۔ شہید مرتضیٰ مطہری، جو خود ایک عظیم مفکر تھے، کے نزدیک صدرِ اسلام سے لے کر چودھویں صدی تک لکھی جانے والی تمام شیعی اور سنی تفاسیر میں تفسیر المیزان بہترین اور جامع ترین تفسیر ہے۔[۴] بعض دیگر محققین نے اسے شیخ طوسی کی "التبیان” اور علامہ طبرسی کی "مجمع البیان” کے بعد تیسری عظیم ترین شیعی تفسیر قرار دیا ہے، جو اپنے علمی استحکام اور منفرد تفسیری اسلوب میں بے نظیر ہے۔[۵]

آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی، جو خود تفسیر تسنیم جیسی عظیم تفسیر کے مصنف ہیں، تفسیر المیزان کو فقہی کتابوں میں "جواہر الکلام” کی مانند قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جس طرح جواہر الکلام نے گزشتہ فقہی کاموں کی کمی کو پورا کیا اور مستقبل کے محققین کے لیے راہیں ہموار کیں، اسی طرح تفسیر المیزان نے بھی تفسیری میدان میں یہ تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ وہ اسے ایک "قرآنی انسائیکلوپیڈیا” قرار دیتے ہیں جس میں عقائد، اخلاق اور فقہ سے متعلق شاید ہی کوئی ایسا اہم مسئلہ ہو جس پر سیر حاصل بحث نہ کی گئی ہو۔[۶]

قرآن کی تفسیر قرآن سے: المیزان کا بنیادی اصول

تفسیر المیزان کا تفسیری منہج "تفسیر القرآن بالقرآن” کے مستحکم اصول پر قائم ہے۔ علامہ طباطبائی کے نزدیک قرآن کی تفسیر کا سب سے درست، مستند اور محفوظ طریقہ یہی ہے اور یہی طریقہ اہل بیت (ع) کا بھی تھا۔[۷] ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ جب قرآن خود کو "تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ[۸] (ہر چیز کا روشن بیان) کہتا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے معانی و مقاصد کو واضح کرنے کے لیے کسی غیر کا محتاج ہو؟[۹] علامہ طباطبائی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دیگر تفسیری مناہج، جہاں مفسر پہلے سے طے شدہ فلسفی، سائنسی یا کلامی نظریات کو قرآن پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے، دراصل "تفسیر بالرائے” (اپنی رائے سے تفسیر) کے زمرے میں آتے ہیں، جس سے روایات میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔

اس طریقہ کار میں علامہ کسی آیت کی تفسیر کے لیے سب سے پہلے اس کے سیاق و سباق میں موجود دیگر آیات سے مدد لیتے ہیں۔ پھر وہ پورے قرآن میں اس موضوع سے متعلق دیگر آیات کو تلاش کرتے ہیں اور ان سب کو ایک ساتھ رکھ کر ان کے مجموعی پیغام اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح تفسیر المیزان میں قرآن خود اپنی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے اور انسانی آراء کی ملاوٹ سے پاک رہتا ہے۔ علامہ اس طریقے کی سند نہج البلاغہ میں موجود حضرت علی (ع) کے اس قول سے پیش کرتے ہیں کہ "قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصے کی وضاحت کرتا ہے اور اس کا بعض حصہ بعض دوسرے پر گواہ ہے”۔[۱۰]

المیزان کی نمایاں خصوصیات اور جدید طرزِ تحقیق

تفسیر المیزان کو دیگر تفاسیر پر کئی حوالوں سے فوقیت حاصل ہے، جس کی وجہ اس کی متعدد منفرد خصوصیات ہیں:

۱. ترتیبی اور موضوعی تفسیر کا حسین امتزاج: علامہ نے سورتوں اور آیات کی ترتیب کو برقرار رکھتے ہوئے تفسیر کی ہے، لیکن وہ موضوعی تفسیر کے اصول سے بھی غافل نہیں رہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی، انہوں نے ایک موضوع سے متعلق تمام آیات کو، خواہ وہ قرآن میں کہیں بھی ہوں، جمع کر کے ان پر ایک جامع اور مکمل موضوعی بحث کی ہے۔ مثال کے طور پر "احباطِ عمل” یا حضرت موسیٰ (ع) کے قصے سے متعلق تمام بکھری ہوئی آیات کو یکجا کر کے ان کی ایسی تشریح کی ہے جو ایک مربوط داستان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

۲. ہر سورت کے مرکزی ہدف کا تعین: علامہ کا یہ نظریہ تھا کہ ہر سورت صرف آیات کا ایک بکھرا ہوا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کا ایک مرکزی ہدف اور مقصد (غرض) ہوتا ہے جس کے گرد اس کی تمام آیات ایک لڑی میں پروئی ہوتی ہیں۔[۱۱] اسی لیے وہ ہر سورت کے آغاز میں اس کے بنیادی مقصد پر روشنی ڈالتے ہیں، جو قاری کو سورت کے مجموعی پیغام کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ سورہ بقرہ کا مرکزی ہدف یہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام اور دیگر توحیدی ادیان کا سرچشمہ ایک ہی ہے، اور پھر انسانوں کی تین اقسام (مومن، کافر، منافق) اور اسلام کے خلاف اہل کتاب، خصوصاً یہودیوں کی سازشوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

۳. روایات کا تنقیدی اور محققانہ جائزہ: تفسیر المیزان کی ایک انتہائی اہم خصوصیت ہر تفسیری بحث کے آخر میں "بحثِ روائی” کا حصہ ہے۔ علامہ اس موضوع سے متعلق شیعہ اور سنی منابع سے روایات کو نقل کرتے ہیں اور پھر انہیں قرآن کے معیار پر پرکھتے ہیں۔ اگر کوئی روایت قرآن کے صریح مفہوم یا عقلی اصولوں سے ٹکراتی ہو تو وہ اسے قبول کرنے سے اجتناب کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک حتمی حجت اور معیار خود قرآن ہے۔[۱۲]

۴. عقلی، فلسفی اور سماجی مباحث: علامہ طباطبائی چونکہ خود ایک بلند پایہ فلسفی اور مفکر تھے، اس لیے تفسیر المیزان میں قرآنی معارف کو عقلی اور فلسفی دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے توحید، نبوت، معاد، انسان کی سماجی زندگی، تاریخِ اقوام، اور دیگر پیچیدہ موضوعات پر ایسی گہری عقلی اور سماجی بحوث پیش کی ہیں جو اس تفسیر کو ایک منفرد علمی گہرائی عطا کرتی ہیں۔

۵. جدید فکری شبہات کا مدلل جواب: علامہ نے اپنے دور کے فکری چیلنجز، جیسے مادہ پرستی، ڈارونزم، علم اور دین کا ٹکراؤ، اور دیگر مغربی فلسفوں سے پیدا ہونے والے شبہات کو نظرانداز نہیں کیا۔ تفسیر المیزان میں انہوں نے ان تمام شبہات کا نہایت ٹھوس، مدلل اور اطمینان بخش جواب دیا ہے، جس سے یہ تفسیر آج کے جدید ذہن کے لیے بھی انتہائی موزوں اور کارآمد ثابت ہوتی ہے۔

تفسیر المیزان کی جامعیت: مباحث اور منابع

تفسیر المیزان کی جامعیت دو پہلوؤں سے بے مثال ہے: مباحث کا تنوع اور منابع کی وسعت۔

۱. مباحث کا تنوع: یہ تفسیر صرف لغوی اور روایتی تشریح تک محدود نہیں۔ علامہ نے آیات کی مناسبت سے کلامی، فلسفی، سائنسی، تاریخی، سماجی اور اخلاقی موضوعات پر تفصیلی اور مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ انہوں نے انسانی زندگی سے متعلق ہر پہلو پر قرآن کی روشنی میں بحث کی ہے، خواہ اس کا تعلق انسان کی انفرادی روحانی ترقی سے ہو یا اجتماعی سیاسی و سماجی نظام سے۔

۲. منابع کی وسعت: تفسیر المیزان کی ایک اور حیرت انگیز خوبی اس کے وسیع اور متنوع منابع ہیں۔ علامہ نے اس کی تالیف میں صرف شیعہ مآخذ پر انحصار نہیں کیا بلکہ اہل سنت کے اہم ترین تفسیری، حدیثی اور تاریخی منابع سے بھی بھرپور استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے تقریباً ۲۷ سے زائد اہم شیعی و سنی تفاسیر، ۹۹ کے قریب حدیثی مجموعے، اور ۲۲ سے زائد تاریخی کتب کو بطور حوالہ استعمال کیا ہے۔[۱۳] ان منابع میں صحاح ستہ، کتب اربعہ، تفسیر طبری، تفسیر کبیر فخر رازی، الدر المنثور سیوطی اور تاریخ طبری جیسی اہم ترین کتب شامل ہیں۔ منابع کے اس تنوع سے ان کے غیر متعصبانہ اور خالص تحقیقی مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ ہر منقول بات کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتے بلکہ اس کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں۔

ساخت، عالمی اثرات اور متعلقہ کتب

تفسیر المیزان کی ہر بحث عموماً تین حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلے حصے میں زیرِ بحث آیات پیش کی جاتی ہیں۔ دوسرے حصے میں "بیان” کے عنوان سے ان آیات کی لغوی، ادبی اور "قرآن بالقرآن” کے اصول پر تفسیر کی جاتی ہے۔ تیسرے حصے میں "بحثِ روائی”، "بحثِ فلسفی” یا "بحثِ تاریخی” جیسے عنوانات کے تحت موضوع سے متعلق تفصیلی اور گہری گفتگو کی جاتی ہے۔

یہ عظیم تفسیر اصل میں عربی زبان میں ۲۰ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی عالمی اہمیت کے پیش نظر، تفسیر المیزان کا ترجمہ دنیا کی متعدد زبانوں بشمول فارسی، انگریزی، ترکی، ہسپانوی اور انڈونیشیائی میں کیا گیا ہے۔ جہاں تک اس کے اردو ترجمے کا تعلق ہے، تو اس کی متعدد جلدوں کا ترجمہ لندن میں مقیم عالم دین شیخ حسن رضا غدیری (مرحوم) نے انجام دیا ہے[۱۴]۔ اس عالمی مقبولیت کے علاوہ، قارئین اور محققین کی سہولت کے لیے اس تفسیر کے کئی خلاصے (جیسے مختصر المیزان) اور موضوعی فہارس (جیسے مفتاح المیزان) بھی شائع کی جا چکی ہیں تاکہ اس بحرِ ذخار سے استفادہ آسان تر ہو سکے۔

نتیجہ

علامہ طباطبائی نے "تفسیر القرآن بالقرآن” کے فراموش شدہ اصول کو از سرِ نو زندہ کر کے امتِ مسلمہ کو قرآن فہمی کا وہ مستند، محفوظ اور الٰہی طریقہ عطا کیا جو خود قرآن اور اہل بیت (ع) کا عطا کردہ ہے۔ اس کا تحقیقی اور غیر متعصبانہ اسلوب، مباحث کی عقلی گہرائی و جامعیت، اور جدید دور کے فکری چیلنجز سے مکمل مطابقت، اسے ہر دور کے محققین اور قرآن سے سچی محبت کرنے والے عام قارئین کے لیے ایک ناگزیر اور لازوال علمی وسیلہ بناتی ہے۔

حوالہ جات

[۱] حسینی تہرانی، مہر تابان، ص۲۱۔
[۲] طباطبائی، شیعہ در اسلام، پیش گفتار، ص۱۴۔
[۳] حسینی تہرانی، مہر تابان، ص۶۱-۶۳۔
[۴] مطهری، مجموعه آثار، ج۲۵، ص۴۲۹۔
[۵] ایازی، سیر تطور تفاسیر شیعہ، ص۲۰۹۔
[۶] جوادی آملی، مقدمہ ترجمہ تفسیر المیزان، ص۱۶۔
[۷] طباطبائی، المیزان، ج۱، ص۴-۱۴۔
[۸] سورہ نحل آیت ۸۹۔
[۹] جوادی آملی، شمس الوحی تبریزی، ص۹۶۔
[۱۰] طباطبائی، المیزان، ج۱، ص۱۲۔
[۱۱] معرفت، گوشہ ای از ویژگی ہای تفسیر المیزان، ص۱۵۹۔
[۱۲] صحرایی اردکانی، نقد و بررسی حدیث در تفسیر المیزان، ص۱۹۸-۱۹۹۔
[۱۳] طاہری، جامعیت تفسیر المیزان، ص۱۵۷-۱۵۹۔
[۱۴] ہاشم ‌زادہ، کتاب ‌شناسی المیزان و علامہ، ص۱۹۰۔

منابع و مآخذ

  1. ایازی، سید محمد علی۔ سیر تطور تفاسیر شیعہ۔ تہران: آزاد اسلامی یونیورسٹی، ۱۳۸۵ش۔
  2. جوادی آملی، عبدالله۔ "مقدمہ”۔ در ترجمہ تفسیر المیزان، ترجمہ: سید محمدباقر موسوی ہمدانی، قم: دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۴ ش۔
  3. جوادی آملی، عبدالله۔ شمس الوحی تبریزی (سیرۂ عملی علامہ طباطبایی)۔ قم: اسراء، ۱۳۸۶ ش۔
  4. حسینی تہرانی، سید محمد حسین۔ مہر تابان: یادنامۂ علامہ سید محمدحسین طباطبایی۔ مشهد: نور ملکوت قرآن، ۱۴۲۶ ق۔
  5. صحرایی اردکانی، کمال۔ "نقد و بررسی حدیث در تفسیر المیزان”۔ علوم حدیث، نمبر ۳۷ و ۳۸، پاییز و زمستان ۱۳۸۴ ش۔
  6. طاہری، سید محمدرضا۔ "جامعیت تفسیر المیزان”۔ سراج منیر، نمبر ۱۲، پاییز ۱۳۹۲ش۔
  7. طباطبایی، سید محمد حسین۔ المیزان فی تفسیر القرآن۔ بیروت: موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ ق۔
  8. طباطبائی، سید محمد حسین۔ شیعہ در اسلام۔ قم: جامعہ مدرسین، ۱۳۷۸ش۔
  9. مطهری، مرتضیٰ۔ مجموعہ آثار۔ تہران: انتشارات صدرا، ۱۳۸۹ش۔
  10. معرفت، محمدهادی۔ "گوشه‌ای از ویژگی‌های تفسیر المیزان” (تفسیر المیزان کی خصوصیات کا ایک پہلو)۔ در مرزبان وحی و خرد: یادنامہ مرحوم علامہ سید محمدحسین طباطبائی۔ قم: بوستان کتاب، ۱۳۸۱ ش۔
  11. ہاشم زادہ، محمد علی۔ "کتاب شناسی المیزان و علامہ”۔ بینات، نمبر ۳۴، تابستان ۱۳۸۱ ش۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

بهاءالدین خرمشاهی، درباره تفسیر المیزان، نشر دانش، آذر و دی ۱۳۶۰ نمبر ۷، (۱۱ تا ۱۷)۔
طاهری، سید صدرالدین، جامعیّت تفسیر المیزان، سراج منیر سال چهارم پاییز ۱۳۹۲ نمبر ۱۲، (۱۴۹ تا ۱۶۴)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔