پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح: جاہلی رسم کا الٰہی خاتمہ

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح: جاہلی رسم کا الٰہی خاتمہ

کپی کردن لینک

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح اسلامی تاریخ کے ان واقعات میں سے ایک ہے جسے قرآن کریم نے غیر معمولی اہمیت کے ساتھ نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ اس کی تفصیلات کو سورہ احزاب میں محفوظ فرما دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک ازدواجی تعلق نہیں تھا، جیسا کہ بعض سطحی مشاہدین گمان کرتے ہیں، بلکہ یہ اللہ رب العزت کے صریح اور براہِ راست حکم سے ایک انتہائی اہم اور عرب کے جاہلی معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والی فرسودہ روایت کو ختم کرنے اور ایک نئے، واضح اسلامی قانون کی عملی بنیاد رکھنے کے لیے وقوع پذیر ہوا۔

پس منظر: دو جاہلی بتوں کی شکست

قرآن کریم نے پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کے واقعے کو نظر انداز نہیں کیا، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کا ذکر فرمایا تاکہ ایک اہم قانونی اور معاشرتی مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا جائے۔ مفسرینِ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح اللہ تعالیٰ کے براہِ راست حکم سے انجام پایا اور پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کا بنیادی اور اعلانیہ مقصد جاہلیت کی اس فرسودہ سنت کو عملی طور پر توڑنا تھا جس کے تحت لے پالک (متبنیٰ/پسرخواندہ) کی مطلقہ بیوی سے شادی کو حقیقی بیٹے کی مطلقہ بیوی کی طرح حرام، گناہِ کبیرہ اور انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔

حضرت زینب بنت جحش پہلے حضرت زید بن حارثہ کی زوجیت میں تھیں، جنہیں رسول اللہ (ص) نے اپنا لے پالک بنایا ہوا تھا اور عرب معاشرہ انہیں "زید بن محمد” (محمد کا بیٹا) کہہ کر پکارتا تھا۔ پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کا الٰہی منصوبہ درحقیقت دو مختلف جاہلی بتوں کو توڑنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ پہلا بت طبقاتی غرور، نسلی تفاخر اور خاندانی اونچ نیچ کا تھا، اور دوسرا بت لے پالک کے حرام رشتوں کا باطل تصور تھا۔

پہلا مرحلہ: طبقاتی بت کی شکست (زید و زینب کا نکاح)

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کے واقعے کی تمہید حضرت زینب بنت جحش کے پہلے نکاح سے شروع ہوتی ہے۔ زینب امویہ بنت عبد المطلب کی بیٹی، یعنی حضرت عبدالمطلب کی نواسی اور رسول اللہ (ص) کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کے اعلیٰ خاندان سے تھا۔ اس کے برعکس، حضرت زید بن حارثہ تھے، جو حضرت خدیجہ (س) کے غلام تھے، پھر آپ (س) نے انہیں رسول اللہ (ص) کو ہبہ کر دیا، اور آپ (ص) نے انہیں فوری آزاد کر کے اپنا لے پالک (منہ بولا بیٹا) بنا لیا۔ [۱]

پہلے جاہلی بت کو توڑنے کے لیے، رسول اللہ (ص) نے خود زینب بنت جحش کے گھر جا کر ان کے لیے حضرت زید بن حارثہ کا رشتہ مانگا۔ زینب بنت جحش اور ان کے اہل خانہ کا ابتدائی گمان یہ تھا کہ پیغمبرِ خدا (ص) اپنی ذات کے لیے رشتہ طلب فرما رہے ہیں، جس پر وہ بہت خوش ہوئے۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ رشتہ ان کے آزاد کردہ غلام زید کے لیے ہے، تو انہوں نے واضح طور پر اس سے انکار کر دیا۔ [۲] ان کا یہ انکار اس جاہلی قبائلی غرور اور نسلی تفاخر کی بنیاد پر تھا، جہاں قریش کی ایک معزز، آزاد اور ہاشمی خاتون کا نکاح ایک سابقہ غلام سے ہونا ناقابلِ تصور اور خاندانی توہین سمجھا جاتا تھا۔ بعض روایات کے مطابق، زینب نے اس موقع پر خود رسول اللہ (ص) کو اپنے ساتھ نکاح کی پیشکش بھی کی۔ [۳]

الٰہی مداخلت اور طبقاتی نظام پر ضرب

حضرت زینب بنت جحش کے اس انکار پر، جو خالصتاً جاہلی تفاخر پر مبنی تھا، اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا۔ اکثر شیعہ و سنی مفسرین کے مطابق اسی موقع پر سورہ احزاب کی آیت ۳۶ نازل ہوئی:

﴿وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗا[۴]

ترجمہ: اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول (ص) کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں، تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (ص) کی نافرمانی کرے گا، وہ صریح گمراہی میں جا پڑا۔

یہ آیت ایک واضح الٰہی فرمان اور اسلامی مساوات کا منشور تھا۔ جیسے ہی یہ آیت نازل ہوئی، حضرت زینب بنت جحش نے، جو ایک سچی مومنہ تھیں، اپنے نسلی تفاخر اور خاندانی روایات کو اللہ کے حکم پر قربان کر دیا اور فوراً اپنا سارا معاملہ رسول اللہ (ص) کے سپرد کر دیا۔ [۵] چنانچہ، آپ (ص) نے حضرت زینب (ع) کا نکاح حضرت زید (ع) سے کر دیا۔ یوں اسلام نے پہلا اور سب سے بڑا جاہلی بت (طبقاتی نظام) پاش پاش کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ اسلام میں تقویٰ کے سوا فضیلت کا کوئی اور معیار نہیں ہے۔

طلاق کا مرحلہ اور دوسرا الٰہی منصوبہ

یہ نکاح، جو طبقاتی نظام کو توڑنے کے لیے ایک الٰہی تدبیر کے تحت عمل میں آیا تھا، زیادہ دیر پا ثابت نہ ہو سکا۔ زینب اور زید کی ازدواجی زندگی میں مشکلات پیدا ہونے لگیں۔ زید کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ اگر وہ طلاق دیں گے تو رسول اللہ (ص) ان سے ناراض ہوں گے، کیونکہ یہ نکاح خود آپ (ص) نے اصرار کر کے کروایا تھا۔ [۶]

زید اس رشتے سے خوش نہیں تھے اور کئی مرتبہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور زینب کے رویے کی شکایت کی اور انہیں طلاق دینے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ لیکن ہر بار، پیغمبر اکرم (ص) نے، جو رشتوں کو جوڑنے اور گھروں کو بچانے کے لیے مبعوث ہوئے تھے، انہیں صبر کی تلقین کی اور رشتہ بچانے کا حکم دیا۔ قرآن نے اس مکالمے کو سورہ احزاب کی آیت ۳۷ میں یوں نقل کیا ہے:

﴿وَإِذۡ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَأَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ أَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ[۷]

ترجمہ: اور یاد کرو جب آپ (ص) اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا (یعنی اسلام کی دولت دی) اور آپ (ص) نے بھی انعام کیا تھا (یعنی آزاد کر کے بیٹا بنایا) کہ: ‘اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو’۔

طلاق کی حقیقی وجہ

بعض لوگوں نے اس طلاق کی وجہ زینب کے مزاج اور ان کے خاندانی غرور کو قرار دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے اپنے حسب و نسب پر فخر کرتی تھیں اور انہیں کم تر سمجھتی تھیں، جس سے نباہ نہ ہو سکا۔ البتہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ طلاق کا اصل سبب خود زید کا مخصوص مزاج ہو کیونکہ حضرت زید کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بار بار شادیاں کیں اور تقریباً سب کو طلاق دی، سوائے اپنی آخری بیوی کے (جن سے وہ اپنی شہادت تک ساتھ رہے)۔

اس بات کی دوسری اور قوی ترین دلیل خود رسول اللہ (ص) کا زید کو یہ فرمانا ہے کہ "اللہ سے ڈرو” (وَاتَّقِ اللَّهَ)۔ یہ جملہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ زید کا طلاق کا فیصلہ تقویٰ کے خلاف تھا اور وہ اس معاملے میں ممکنہ طور پر زیادتی کر رہے تھے، جس پر وہ سرزنش کے مستحق ٹھہرے۔ اگر غلطی بنیادی طور پر زینب کی ہوتی تو آپ (ص) کبھی بھی زید کو اس انداز میں تقویٰ کا حکم نہ دیتے۔

تمام تر مصالحتی کوششوں کے باوجود، زینب بنت جحش کا رشتہ قائم نہ رہ سکا اور بالآخر زید نے زینب بنت جحش کو طلاق دے دی۔ [۸]

الٰہی حکم اور پیغمبر کا زینب سے نکاح

جب زینب بنت جحش کی طلاق کی عدت پوری ہو گئی، تب اللہ تعالیٰ نے دوسرے اور زیادہ بڑے جاہلی بت کو توڑنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کا مرحلہ تھا۔ یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ زینب بنت جحش سے نکاح آپ (ص) کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کا صریح اور براہِ راست حکم تھا۔

اس کی سب سے بڑی دلیل خود قرآنِ کریم کے الفاظ ہیں۔ سورہ احزاب، آیت ۳۷ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "…فَلَمَّا قَضَىٰ زَیْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاکَهَا…”[۹]

ترجمہ: پھر جب زید نے اس (زینب) سے اپنی حاجت پوری کر لی (یعنی طلاق دے دی) تو ہم نے اس کا نکاح آپ (ص) سے کر دیا… ۔

مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ "زَوَّجْنَاکَهَا” کا لفظ اس معاملے میں کسی شک و شبہ کی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ "ہم نے آپ (ص) کو اجازت دی” یا "آپ (ص) نکاح کر لیں”، بلکہ فرمایا "ہم نے نکاح کر دیا”۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ یہ نکاح زمین پر نہیں، بلکہ آسمانوں پر طے پایا تھا اور اس کا مقصد ذاتی نہیں بلکہ خالصتاً تشریعی (قانونی) تھا۔

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح اتنا منفرد اور الٰہی تھا کہ خود زینب بنت جحش اس پر فخر فرمایا کرتی تھیں اور دوسری ازواجِ سے کہتی تھیں: "زَوَّجَکُنَّ أَهَالِیکُنَّ وَ زَوَّجَنِیَ اللَّهُ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ” (تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا، جبکہ میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا ہے)۔ [۱۰]

بعض محققین نے اس کا خوبصورت تجزیہ کیا ہے کہ زینب جو مکہ کے معزز خاندان سے تھیں اور مہاجرہ تھیں، انہوں نے محض اللہ اور اس کے رسول (ص) کے حکم پر ایک ایسے شخص (زید) سے شادی قبول کی جو جاہلی معاشرے کے معیار پر ان سے کم تر تھا۔ جب یہ رشتہ ٹوٹا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی اور اطاعت کا صلہ انہیں دنیا میں ہی عطا فرمایا اور پیغمبر (ص) کا زینب سے نکاح کرا کے انہیں "ام المومنین” کا ابدی شرف بخشا۔ [۱۱]

جاہلی معاشرے کا ردِ عمل اور قرآنی جواب

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کا ہونا تھا کہ مکہ اور مدینہ کے منافقین، مشرکین اور یہود کو اسلام اور پیغمبرِ اسلام (ص) کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا ایک نیا اور ان کے خیال میں انتہائی "مؤثر” موقع مل گیا۔ [۱۲]

انہوں نے فوری طور پر یہ طعنہ زنی شروع کر دی کہ محمد (ص) (نعوذ باللہ) نے اپنے ہی "بیٹے” (یعنی زید) کی بیوی سے شادی کر لی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب کے جاہلی معاشرے میں لے پالک بیٹے (جسے وہ ‘دَعِیّ’ کہتے تھے) کو بالکل حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ وہ حقیقی بیٹے کی طرح وراثت میں حصہ دار ہوتا تھا اور اس کی مطلقہ بیوی کو حقیقی بہو کی طرح باپ (منہ بولے باپ) کے لیے ابدی طور پر حرام سمجھا جاتا تھا۔

یہ ایک باطل، غیر فطری اور خود ساختہ قانون تھا جسے ختم کرنا ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (ص) کا زینب سے نکاح کے اس عملی اقدام کے ذریعے اس باطل نظریے پر کاری ضرب لگائی اور اس منافقانہ پروپیگنڈے کا جواب قرآن میں خود نازل فرمایا۔

قرآنی جواب: دو ٹوک اور فیصلہ کن

اللہ تعالیٰ نے اس جاہلی تصور کی جڑ کاٹتے ہوئے سورہ احزاب، آیت ۴ میں ارشاد فرمایا:

"وَمَا جَعَلَ أَدْعِیَاءَکُمْ أَبْنَاءَکُمْ ۚ ذَٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِأَفْوَاهِکُمْ ۖ وَاللَّهُ یَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ یَهْدِی السَّبِیلَ"[۱۳]

ترجمہ: اور نہ اس نے تمہارے لے پالکوں کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا ہے۔ یہ تو محض تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے (جس کی کوئی شرعی و حقیقی حیثیت نہیں)، اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

اس آیت نے واضح کر دیا کہ لے پالک کو بیٹا "کہنے” سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا۔ اس کے تمام احکام، بشمول نسب اور وراثت، اس کے حقیقی باپ سے ہی وابستہ رہیں گے۔ [۱۴]

اس کے بعد، پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کے اسی واقعے کے سیاق و سباق میں، سورہ احزاب کی آیت ۴۰ میں اللہ نے ایک فیصلہ کن اعلان فرمایا جو اس باطل رسم پر آخری ضرب تھی:

"مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَٰکِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ"[۱۵] یعنی: محمد (ص) تمہارے مردوں میں سے کسی کے (حقیقی) باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول (ص) اور خاتم النبیین ہیں۔ [۱۶]

یہ آیت اس بات کا اعلان تھی کہ "زید بن محمد” کا تصور آج سے ختم کیا جاتا ہے اور آئندہ انہیں ان کے حقیقی باپ "حارثہ” کی نسبت سے "زید بن حارثہ” پکارا جائے۔ یوں لے پالک کے احکام حقیقی بیٹے سے مکمل طور پر الگ کر دیے گئے اور پیغمبر (ص) کا زینب سے نکاح اس نئے قانون کا پہلا اور ابدی عملی نمونہ بن گیا۔

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کی بنیادی حکمت، خود آیت ۳۷ میں بیان کر دی گئی:

"لِکَیْ لَا یَکُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِی أَزْوَاجِ أَدْعِیَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَکَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا"[۱۷] ترجمہ: تاکہ مومنوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے، جب وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکیں (یعنی طلاق دے دیں)۔ اور اللہ کا حکم تو نافذ ہو کر ہی رہنے والا تھا۔

نتیجہ

پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کا واقعہ، جسے مخالفین نے ہمیشہ منفی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی، درحقیقت اسلامی تاریخ کا ایک روشن، انقلابی اور قانون ساز باب ہے۔ پیغمبر (ص) کا زینب بنت جحش سے نکاح کوئی ذاتی، جذباتی یا اتفاقی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک عمیق تشریعی عمل تھا جو اول تا آخر براہِ راست اللہ رب العزت کے حکم اور نگرانی میں نافذ کیا گیا۔

اس الٰہی اقدام کے دو بنیادی اور واضح مقاصد تھے:

  1. طبقاتی بت کی شکست: ایک قریشی اور معزز خاتون (زینب) کا نکاح ایک سابقہ غلام (زید) سے کروا کر یہ ثابت کیا گیا کہ اسلام میں فضیلت کی بنیاد صرف اور صرف تقویٰ ہے، نہ کہ نسب، خاندان یا دولت۔
  2. جاہلی قانون کا خاتمہ: لے پالک (منہ بولے بیٹے) کے جھوٹے اور خود ساختہ تقدس کو ختم کرنا اور یہ واضح کرنا کہ وہ حقیقی بیٹا نہیں ہے، لہٰذا اس کی مطلقہ بیوی سے نکاح مکمل طور پر جائز اور حلال ہے۔

حوالہ جات

[۱] ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج ۴، ص ۱۶۶۔
[۲] طبرسی، مجمع البیان، ج۸، ص۵۶۳۔
[۳] عاملی، الصحیح من سیرة النبی الأعظم، ج۱۴، ص۵۱۔
[۴] سورہ احزاب آیت۳۶۔
[۵] طوسی، التبیان، ج۸، ص۳۴۳۔
[۶] ملا حویش آل غازی، بیان المعانی، ج۵، ص۴۷۷۔
[۷] سورہ احزاب آیت ۳۷۔
[۸] مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۱۷، ص۳۲۰۔
[۹] سورہ احزاب، آیت۳۷۔
[۱۰] سیوطی، الدر المنثور، ج۵، ص۲۰۱؛ مجلسی بحار الانوار، ج ۱۱، ص ۱۷۸۔
[۱۱] باقری، زنان اسوه زینب بنت جحش، ص۱۴۔
[۱۲] طبرسی، مجمع البیان، ج۸، ص۵۲۷۔
[۱۳] سورہ احزاب، آیت ۴۔
[۱۴] طبرسی، مجمع البیان، ج۸، ص۵۲۷۔
[۱۵] سورہ احزاب، آیت ۴۰۔
[۱۶] مجلسی، بحار الأنوار، ج۲۲، ص۱۸۱۔
[۱۷] سورہ احزاب، آیت ۳۷۔


فہرست منابع

۱. القرآن الکریم
2. ابن کثیر، اسماعیل بن عمر۔ البدایة و النهایة۔ بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۸ق۔
3. باقری، محمدرضا۔ زنان اسوہ زینب بنت جحش۔ تہران: مشعر، ۱۳۹۴ش۔
4. سیوطی، جلال الدین۔ الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور۔ بیروت: دارالفکر، ۱۴۱۴ق۔
5. شیخ طوسی، محمد بن حسن۔ التبیان فی تفسیر القرآن۔ بیروت: دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
6. طبرسی، فضل بن حسن۔ مجمع البیان فی تفسیر القرآن۔ تہران: ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش۔
7. عاملی، سید جعفر مرتضی۔ الصحیح من سیرة النبی الأعظم(ص)۔ قم: دارالحدیث، ۱۴۲۶ق۔
8. مجلسی، محمد باقر۔ بحار الانوار۔ بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
9. مکارم شیرازی، ناصر۔ تفسیر نمونه۔ تہران: دارالکتب الاسلامیہ، چاپ دہم، ۱۳۷۱ش۔
10. ملاحویش آل غازی، عبدالقادر۔ بیان المعانی۔ دمشق: مطبعہ الترقی، ۱۳۸۲ق۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سید هاشم رسولی محلاتی، زندگانی حضرت محمد(ص)، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، ۱۳۹۷ ہجری قمری، ص۴۹۶۔
محلاتی، ذبیح الله، ریاحین الشریعه در ترجمه بانوان دانشمند شیعه، دارالکتب الاسلامیه، طهران ۱۳۲۹، ص۳۳۶۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔