ماہ رمضان المبارک کی رحمتیں جوق در جوق نازل ہو رہی ہیں۔ جیسے جیسے یہ ماہ رمضان المبارک آگے بڑھ رہا ہے، مومن کی دعاؤں کا معیار بھی بلند ہوتا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے تین عظیم ترین چیزوں کا سوال کرتا ہے: "استغفار”، "صالحیت” اور "قربِ الٰہی”۔ یہ تینوں چیزیں انسانی زندگی کی معراج ہیں اور یہی وہ زینہ ہے جس کے ذریعے انسان خاک سے افلاک تک کا سفر طے کرتا ہے۔
ماہ رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِيهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِينَ وَ اجْعَلْنِي فِيهِ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ الْقَانِتِينَ وَ اجْعَلْنِي فِيهِ مِنْ أَوْلِيَائِكَ الْمُقَرَّبِينَ بِرَأْفَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
ترجمہ: ”خدایا! اس دن مجھے استغفار کرنے والوں میں شامل کر دے، خدایا! مجھے اپنے نیک بندوں میں قرار دے تاکہ تیرا فرمانبردار ہوں اور تیری اطاعت کروں، اور اپنے لطف و کرم سے ہمیں اپنے اولیاء و مقربین کی بارگاہ میں قرار دے، اے وہ ذات جس کی رحمت سب رحم کرنے والوں پر غالب ہے۔“
استغفار کی حقیقت اور اس کے ثمرات
ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ ہے، اور اس عشرے کے عین وسط میں پانچویں دن کی دعا مومن کو ایک ایسے روحانی مقام پر لے آتی ہے جہاں وہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر کے بلندیوں کا سفر شروع کرتا ہے۔ پانچویں دن کی دعا محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی ”تخلیقِ نو“ (Re-creation) کا ایک عمل ہے۔ اس دعا کے ذریعے بندہ اپنے رب سے تین بنیادی چیزوں کا سوال کرتا ہے: سچا استغفار، نیک بندوں میں شمولیت، اور مقربین کے درجے تک رسائی۔
رمضان المبارک کی اس دعا کا پہلا اور سب سے اہم حصہ استغفار پر مبنی ہے: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِيهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِينَ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں استغفار کرنے والوں میں شامل فرمade)۔ پانچویں دن کی دعا میں جس استغفار کی طلب کی گئی ہے، وہ محض زبان سے "استغفر اللہ” یا "توبہ توبہ” کہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک گہری ”روحانی کیفیت“ ہے جو انسان کی زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے۔
جب انسان پانچویں دن کی دعا کے ذریعے خلوصِ دل سے استغفار کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنے رب سے صلح کر رہا ہوتا ہے۔ گناہ انسان اور خدا کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیتے ہیں، اور استغفار اس دیوار کو گرانے کا ہتھوڑا ہے۔ جو شخص کثرت سے اور شعور کے ساتھ استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے تین ایسے انعامات سے نوازتا ہے جو دنیاوی اور اخروی زندگی کو پرسکون بنا دیتے ہیں:
1. غم سے نجات: اللہ اس کے ہر غم، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو دور کر دیتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ہر دوسرا شخص پریشانی کا شکار ہے، پانچویں دن کی دعا کا یہ پہلو نسخۂ کیمیا ہے۔
2. مشکلات کا حل: وہ ہر تنگی اور بند گلی سے نکلنے کا راستہ (مخرج) بنا دیتا ہے۔
3. غیب سے رزق: اسے ایسی جگہ سے اور ایسے اسباب سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا[1]۔
رزق کا وسیع مفہوم
یہاں یہ نکتہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے، جس کی طرف پانچویں دن کی دعا بھی اشارہ کرتی ہے، کہ رزق سے مراد صرف بینک بیلنس، جائیداد یا مال و دولت نہیں ہے۔ رزق کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ایک نیک اور سمجھدار بیوی، صالح اور فرمانبردار اولاد، مخلص اور خیر خواہ دوست، اور سب سے بڑھ کر ”علم و حکمت“ اور ”ہدایت“ بہترین رزق ہیں۔ پانچویں دن کی دعا کا استغفار ان تمام نعمتوں کے بند دروازے کھول دیتا ہے۔ جب گناہوں کی نحوست ختم ہوتی ہے تو رزق کی برکتیں موسلادھار بارش کی طرح برسنے لگتی ہیں۔
استغفار کی شرائط: امیر المومنین (ع) کی نگاہ میں
لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سا استغفار ہے جو پانچویں دن کی دعا میں مطلوب ہے؟ حقیقی استغفار کیا ہے؟ ایک مرتبہ ایک شخص نے امیر المومنین حضرت علی (ع) کے سامنے سرسری انداز میں "استغفر اللہ” کہا۔ آپ (ع) نے اسے ٹوکا اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو استغفار کیا ہے؟ یہ علیین (بلند مرتبہ لوگوں) کا درجہ ہے۔“ آپ (ع) نے اس کے لیے چھ سخت شرائط بیان فرمائیں، جو پانچویں دن کی دعا کی قبولیت کے لیے کسوٹی ہیں:
-
ماضی کے گناہوں پر دلی ندامت: صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل میں گناہ کا بوجھ اور شرمندگی محسوس ہو۔
-
ہمیشہ کے لیے گناہ چھوڑنے کا پختہ عزم: یہ نیت ہو کہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہیں پلٹوں گا، چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
-
مخلوق کے حقوق کی ادائیگی: اگر کسی کا مالی یا جانی حق مارا ہے، تو اسے واپس کرے یا معافی مانگے۔ صرف خدا سے معافی کافی نہیں ہوگی۔
-
فوت شدہ واجبات کی قضا: جو نمازیں یا روزے قضا ہوئے ہیں، ان کی ادائیگی کا اہتمام کرے۔
-
حرام سے پروان چڑھنے والے گوشت کو پگھلانا: یہ سب سے سخت شرط ہے۔ یعنی حرام کمائی سے جو جسم پلا بڑھا ہے، اسے عبادت اور ریاضت کی بھٹی میں اتنا گھلائے کہ وہ گوشت پگھل جائے اور حلال غذا سے نیا گوشت بنے۔
-
گناہ کی لذت کو عبادت کی مشقت سے بدلنا: جس طرح گناہ کرتے وقت لذت محسوس کی تھی، اب عبادت کی سختی اور کڑواہٹ کو چکھے۔
پانچویں دن کی دعا پڑھتے وقت اگر یہ شرائط پیشِ نظر ہوں، تو انسان کا استغفار محض الفاظ نہیں بلکہ ایک ”انقلاب“ بن جاتا ہے۔
صالحیت اور قنوت: بندگی کا معیار
دعا کا دوسرا اہم حصہ صالح بندوں میں شمولیت کی درخواست ہے: وَ اجْعَلْنِي فِيهِ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ الْقَانِتِينَ۔ پانچویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ استغفار کے بعد اگلا مرحلہ ”اصلاح“ کا ہے۔
”صالحین“ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال درست ہوں اور جن کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہو۔ اور ”قانتین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر حال میں—چاہے خوشی ہو یا غمی، تنگی ہو یا آسانی—خدا کے مطیع، فرمانبردار اور اس کے سامنے کھڑے رہنے والے ہوں۔ قرآن میں حضرت مریم (ع) کو بھی ”قانتین“ میں شمار کیا گیا ہے۔
صالح ہونا بظاہر ہماری ذاتی قابلیت سے بڑھ کر لگتا ہے، کیونکہ ہم خطاکار ہیں۔ لیکن پانچویں دن کی دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ جب کریم میزبان (اللہ) خود دینے پر آمادہ ہو، تو انسان کو مانگنے میں کنجوسی نہیں کرنی چاہیے بلکہ بڑی سے بڑی چیز مانگنی چاہیے۔ اس دن ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی اطاعت اور نیکی کی ایسی توفیق دے کہ ہم گناہوں کی دلدل سے نکل کر اس کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں۔ پانچویں دن کی دعا ہمیں عام مسلمان کے درجے سے اٹھا کر ”صالح مومن“ کے درجے پر فائز کرنا چاہتی ہے۔
قربِ الٰہی: اولیاء کا مقام
تیسرا اور سب سے بلند ترین درجہ جو پانچویں دن کی دعا میں طلب کیا گیا ہے، وہ ”قربِ الٰہی“ ہے: وَ اجْعَلْنِي فِيهِ مِنْ أَوْلِيَائِكَ الْمُقَرَّبِينَ (اور مجھے اپنے مقرب دوستوں میں شامل فرما)۔ یہ انسانیت کی معراج ہے۔
”مقربین“ وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں جو دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف خدا کے ہو جاتے ہیں۔ ان کی دوستی اور دشمنی کا معیار صرف اللہ ہوتا ہے۔ ان کی بندگی کا مقصد جنت کا لالچ (سوداگروں کی عبادت) یا جہنم کا خوف (غلاموں کی عبادت) نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدا کو لائقِ عبادت اور محبوب سمجھ کر اس کی پوجا کرتے ہیں (آزاد لوگوں کی عبادت)۔
امیر المومنین (ع) کا وہ مشہور و معروف فرمان اسی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے: ”الٰہی! میں نے تیری عبادت جہنم کے خوف سے کی اور نہ جنت کی لالچ میں، بلکہ میں نے تجھے عبادت کے لائق پایا، اس لیے تیری عبادت کی“۔ پانچویں دن کی دعا میں ہم اسی عالی شان مقام کی آرزو کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ اور ہمارے درمیان فاصلے ختم ہو جائیں۔
یہاں ”ولی“ (دوست) بننے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اپنی کوئی مرضی باقی نہ رہے۔ وہ وہی دیکھے جو خدا دکھانا چاہے، وہی سنے جو خدا سنانا چاہے، اور وہی کرے جس میں خدا کی رضا ہو۔ پانچویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ یہ مقام ناممکن نہیں ہے۔ اگر ایک گنہگار سچی توبہ (استغفار) کر لے، پھر نیک اعمال (صالحیت) اختیار کرے اور مسلسل اطاعت (قنوت) پر جم جائے، تو اللہ اسے اپنا دوست (ولی) بنا لیتا ہے۔
اس دعا کا اختتام اللہ کی صفتِ ”رأفت“ (انتہائی شفقت) کے واسطے سے ہوتا ہے (بِرَأْفَتِكَ يَا أَرْأَفَ الرَّاحِمِينَ)، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اتنے بلند مقامات—استغفار، صالحیت اور ولایت—انسان اپنی محنت سے نہیں، بلکہ صرف اللہ کی خاص مہربانی سے ہی حاصل کر سکتا ہے۔ پس، پانچویں دن کی دعا مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر قربِ الٰہی کے سورج تک پہنچنے کا ایک مکمل اور جامع راستہ ہے۔
نتیجہ
رمضان المبارک کی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ انسان زبان سے نکلنے والے الفاظ کو اپنے کردار میں ڈھالے۔ توبہ اور استغفار کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لائے۔ پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ تائب (توبہ کرنے والا) کون ہے؟ … جو کوئی توبہ کرے لیکن اپنے رہن سہن اور کھانے پینے کو نہ بدلے وہ تائب نہیں ہے؛ جو کوئی توبہ کرے لیکن گناہ کے دوران کے ساتھیوں کو نہ بدلے، وہ تائب نہیں ہے؛ جو کوئی توبہ کرے لیکن اس کی عبادتوں میں اضافہ نہ ہو تو ایسا شخص بھی تائب نہیں ہے“[2]۔
حوالہ جات
[1] مجلسی، بحار الانوار، ج 74، ص 172؛ ابن ابی جمہور، عوالی اللئالی، ج 1، ص 170۔
[2] نوری، مستدرک الوسائل، ج 12، ص 131؛ مجلسی، بحار الأنوار، ج 6، ص 35۔
فہرست منابع
1۔ ابن ابی جمہور، محمد بن زین الدین، عوالی اللئالی، قم، سید الشہداء، 1405ق۔
2۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
3۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، موسسہ آل البیت، 1408ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔