ماہ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جو کہ مغفرت کا عشرہ ہے، اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔ تیرھویں دن کی دعا انسان کو ظاہری اور باطنی آلودگیوں سے پاک کرنے، تقدیر پر راضی رہنے اور تقویٰ و نیک صحبت اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ دعا مومن کو ایک ایسا روحانی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے جس میں وہ دنیوی مشکلات کے باوجود صراطِ مستقیم پر قائم رہ سکتا ہے۔
ماہ رمضان کے تیرھویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ طَهِّرْنى فيهِ مِنَ الدَّنَسِ وَ الاَقْذارِ وَ صَبِّرْنى فيهِ عَلى كآئِناتِ الاَقْدارِ وَ وَفِّقْنى فيهِ لِلتُّقى وَ صُحْبَةِ الاَبْرارِ بِعَوْنِكَ يا قُرَّةَ عَيْنِ الْمَساكينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج (اس ماہ) مجھے آلودگیوں، ناپاکیوں اور میل کچیل سے پاک کر دے، اور مجھے صبر دے ان چیزوں پر جو میرے لیے مقدر ہوئی ہیں، اور مجھے پرہیزگاری اور نیک لوگوں کی ہم نشینی کی توفیق عطا فرما، تیری مدد کے واسطے اے مسکین و بے چاروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔“
طہارتِ نفس: گناہوں کی بدبو سے نجات
ماہِ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جسے مغفرت کا عشرہ کہا جاتا ہے، اپنے عروج پر ہے۔ اس مقدس سفر کے تیرھویں دن کی دعا انسان کی باطنی کثافتوں کو دھو کر اسے کندن بنانے کا عمل ہے۔ یہ دعا محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی روحانی "ڈی ٹوکس” (Detox) کا ایک مکمل نظام ہے۔ تیرھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے چار بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں مانگتے ہیں: گناہوں کی غلاظت سے پاکیزگی، تقدیر پر صبر و رضا، تقویٰ کی توفیق، اور نیک لوگوں کی ہم نشینی۔
دعا کے پہلے اور انتہائی اہم حصے میں باطنی پاکیزگی مانگی گئی ہے: أَللّـهُمَّ طَهِّرْنى فيهِ مِنَ الدَّنَسِ وَ الاَقْذارِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں گناہوں کے میل کچیل اور باطنی نجاستوں سے پاک کر دے)۔ تیرھویں دن کی دعا یہاں انسان کو ظاہری طہارت سے ہٹا کر باطنی طہارت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
یہاں "دنس” اور "اقذار” دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ "دنس” سے مراد وہ میل کچیل ہے جو کپڑے یا جسم پر لگ جائے، اور "اقذار” سے مراد وہ غلاظتیں ہیں جو طبیعت کو ناگوار گزریں (جیسے حسد، کینہ، تکبر، ریاکاری)۔ تیرھویں دن کی دعا ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ گناہ صرف اللہ کی نافرمانی نہیں، بلکہ یہ روح کی آلودگی ہے۔ جس طرح جسمانی نجاست بدبو پیدا کرتی ہے اور انسان کو لوگوں سے دور کر دیتی ہے، اسی طرح گناہ انسان کی روح کو متعفن کر دیتے ہیں۔
روایات میں آتا ہے کہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے۔ تیرھویں دن کی دعا اسی سیاہی کو دھونے کی فریاد ہے۔ حدیث میں ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ رحمت کے فرشتے اس سے کئی میل دور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایمان اور نیکی میں خوشبو ہوتی ہے۔
جب حضرت اویس قرنی (رض) رسول اللہ (ص) سے ملنے یمن سے آئے لیکن ملاقات نہ ہو سکی، تو ان کے جانے کے بعد جب آپ (ص) تشریف لائے تو فرمایا: ”میں یمن کی جانب سے رحمٰن کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں“۔ یہ خوشبو اویس کی نیکی اور ماں کی خدمت کی تھی۔
امیر المومنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: ”اپنے آپ کو استغفار سے معطر کرو ورنہ گناہوں کی بدبو تمہیں رسوا کر دے گی“[1]۔ تیرھویں دن کی دعا دراصل خوشبوئے استغفار حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ ماہِ رمضان میں صرف بھوکا رہنا کافی نہیں، بلکہ دل سے نفرتوں اور کینوں کا میل نکالنا اصل طہارت ہے۔
صبر علی الاقدار: رضا بالقضا
دعا کا دوسرا اہم اور مشکل ترین جزو تقدیر پر صبر ہے: وَ صَبِّرْنى فيهِ عَلى كآئِناتِ الاَقْدارِ (اور مجھے مقدر شدہ امور/تقدیر کے فیصلوں پر صبر عطا فرما)۔ تیرھویں دن کی دعا انسان کی نفسیاتی تربیت کرتی ہے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر سرِ تسلیم خم کر دے۔
یہاں "کائنات الاقدار” سے مراد وہ حتمی قضا و قدر ہے جو ہو چکی ہے یا ہونے والی ہے۔ زندگی پھولوں کی سیج نہیں، اس میں بیماری، تنگدستی، پیاروں کی جدائی اور ناکامیاں بھی آتی ہیں۔ جب انسان کی مرضی اور خدا کی مرضی میں ٹکراؤ ہوتا ہے، تو مومن اپنی مرضی چھوڑ کر خدا کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے۔ تیرھویں دن کی دعا ہمیں یہی "صبرِ جمیل” سکھاتی ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان روئے دھوئے نہیں، بلکہ صبر یہ ہے کہ زبان پر شکوہ نہ آئے اور دل اللہ سے بدگمان نہ ہو۔
امیر المومنین (ع) مناجاتِ شعبانیہ میں فرماتے ہیں: ”خدایا! تیری تقدیریں میرے بارے میں میری عمر کے آخر تک جاری ہوئی ہیں، میرے ظاہر و باطن پر تیرا ہی حکم چلتا ہے“[2]۔ تیرھویں دن کی دعا ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حکیمِ مطلق کی حکمت کے تحت ہے۔
البتہ، قضا و قدر پر یقین کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں ہے۔ تیرھویں دن کی دعا ہمیں "تدبیر” (کوشش) اور "تقدیر” (نتیجہ) کے درمیان توازن سکھاتی ہے۔ دعا خود تقدیر کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: ”دعا قضا کو ٹال دیتی ہے چاہے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو“[3]۔ شب قدر کی اہمیت بھی یہی ہے کہ انسان اپنی عاجزی اور دعا کے ذریعے اپنے مقدرات کو بہتر بنا سکتا ہے۔ پس، صبر کا مطلب یہ ہے کہ کوشش پوری کرو، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔
تقویٰ: کانٹوں بھری راہ کا سفر
تیسرا تقاضا تقویٰ کی توفیق ہے: وَ وَفِّقْنى فيهِ لِلتُّقى (اور مجھے اس میں پرہیزگاری کی توفیق دے)۔ تیرھویں دن کی دعا کا مرکز و محور تقویٰ ہے۔
تقویٰ کا مطلب ہے "بچنا” اور "حفاظت کرنا”۔ تقویٰ کوئی خاص لباس پہننے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی ایک کیفیت ہے۔ ایک سالک سے پوچھا گیا کہ تقویٰ کیا ہے؟ اس نے کہا: ”کیا تم کبھی کانٹوں بھری جگہ سے گزرے ہو؟“ پوچھنے والے نے کہا: ہاں۔ سالک نے کہا: ”تم وہاں کیسے چلتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں اپنا دامن سمیٹ کر، پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوں تاکہ کانٹا نہ چبھ جائے۔“ سالک نے کہا: ”بس یہی تقویٰ ہے“[4]۔
دنیا گناہوں کے کانٹوں (جھوٹ، غیبت، حرام کمائی، فحاشی) سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں خود کو آلودگی سے بچا کر رکھنا ہی اصل کمال ہے۔ تیرھویں دن کی دعا ہمیں اس کانٹوں بھری راہ پر چلنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار حسب و نسب نہیں، بلکہ یہی تقویٰ ہے: ”بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے“[5]۔
تیرھویں دن کی دعا میں لفظ "توفیق” استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقویٰ بھی اللہ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ انسان کا نفس برائی پر اکساتا ہے (نفسِ امارہ)، لیکن جب اللہ کی توفیق شاملِ حال ہو جائے تو نفسِ لوامہ (ملامت کرنے والا نفس) بیدار ہو جاتا ہے اور انسان گناہ سے رک جاتا ہے۔
صحبتِ ابرار: نیک لوگوں کی سنگت
چوتھا اور آخری عمل نیک لوگوں کی دوستی ہے: وَ صُحْبَةِ الاَبْرارِ (اور مجھے نیکوکاروں کی صحبت عطا فرما)۔ تیرھویں دن کی دعا ماحولیاتی اثرات (Environmental Influence) کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
لفظ "ابرار” (جمع برّ) سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی میں بہت آگے ہوں، وسیع ظرف رکھتے ہوں اور جن کے وجود سے خیر پھوٹتی ہو۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ عربی مقولہ ہے: ”المرء علی دین خلیلہ“ (انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے)۔ اگر آپ کو یہ جاننا ہے کہ آپ کا دین کیسا ہے، تو اپنے دوستوں کو دیکھیں۔
رسول خدا (ص) نے بہترین دوست کی نشانی یہ بتائی کہ: ”جس کو دیکھنے سے تمہیں اللہ یاد آئے، جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے“[6]۔ تیرھویں دن کی دعا ہمیں خبردار کرتی ہے کہ برے دوستوں کی صحبت نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ برے دوست گناہ کو آسان اور نیکی کو مشکل بنا کر پیش کرتے ہیں۔
قرآن بھی نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے: ”اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر پر آمادہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں“[7]۔ تیرھویں دن کی دعا کے ذریعے ہم اللہ سے مانگتے ہیں کہ ہمیں ایسے مخلص دوست مل جائیں جو ہمیں فجر کے لیے جگائیں، جو ہمیں غیبت سے روکیں اور جو ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔
دعا کا اختتام اللہ کی اس صفت پر ہوتا ہے کہ وہ مسکینوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (بِعَوْنِكَ يَا قُرَّةَ عَيْنِ الْمَسَاكِينِ)، یعنی اے وہ ذات جو بے چاروں اور محتاجوں کا سہارا ہے، ہماری مدد فرما۔ الغرض، تیرھویں دن کی دعا ہمیں پاکیزہ زندگی، مضبوط کردار اور مخلص صحبت کا راستہ دکھاتی ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے تیرھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کے لیے صرف گناہوں سے پاک ہونا کافی نہیں، بلکہ تقدیر پر راضی رہنا، کانٹوں بھری دنیا میں دامن بچا کر چلنا (تقویٰ) اور ایسے ساتھیوں کا انتخاب کرنا ضروری ہے جو اللہ کی یاد دلائیں۔ اور یہ سب کچھ اسی "قرة عین المساکین” (مسکینوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک) کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
حوالہ جات
[1] آمدی، غرر الحکم، ح 4545۔
[2] مفاتیح الجنان، مناجاتِ شعبانیہ۔
[3] ری شہری، میزان الحکمہ، ج 4، ص 19۔
[4] قمی، سفینۃ البحار، ج 2، ص 678۔
[5] سورہ حجرات، آیت 13۔
[6] مجلسی، بحار الانوار، ج 71، ص 186۔
[7] سورہ کہف، آیت 28۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1366ش۔
3۔ ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، قم، دار الحدیث، 1416ق۔
4۔ قمی، عباس، سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار، قم، اسوہ، 1414ق۔
5۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
6۔ مفاتیح الجنان (مناجات شعبانیہ)۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔